61

اُشاس اور سوریا کا فسانہ عشق

ہم نے بہت سے افسانے یونانی دیومالا کے سنے ہیں ۔ لیکن حقیقت میں یہ دیومالائی افسانے صرف یونانیوں نے پیش نہیں کیے ہیں بلکہ دنیا کے ہر حصہ میں اس قسم کے دیومالائی فسانے ملتے ہیں ۔ کیوں کہ ان افسانوں کی بدولت یہ دیوی اور دیوتاؤں کی تخلیق ہوتی ہے ۔ جن کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں ۔ جن کی رنگینی اور منظر کشی یونانیوں سے کم نہیں ہیں ۔ مگر یورپی محققین نے یونانی فسانوں کو خوب اچھالا ہے اس لیے ہم دوسروں سے زیادہ یونانی دیو مالا کے بارے میں جانتے ہیں اور مختلف دیومالائی کے فسانوں کے بارے میں ہم بہت کم یا بالکل نہیں جانتے ہیں ۔ ان میں ایک وید کا سوریا اور اُشاس کا فسانہ بھی ہے ۔ یہ فسانہ عشق و رنگینی سے بھر پور ہے اور اس کے بارے میں وید لکھنے والے والوں نے بہت کچھ لکھا ہے ۔ 
یہ فسانہ نرم مزاج اور حسین سوریا (سورج) جو نور اور زندگی بخشنے والا ہے اور اُساش (سفید صبح) جو آسمان (دیاؤس) کی سب سے حسین و نرم مزاج بیٹی کے درمیان ہے ۔ اس فسانے کا مقام عالم وسطیٰ (کرہ ہوائی) میں ہے اس کے علاہ سب سے اونچے آسمان پر ہے ۔ جہاں تمام دیوتا شوق و اشتیاق سے انہیں دیکھتے ہیں ۔ اس میں عشق و جنگ دونوں شریک ہیں اور یہ جنگ ایسی ہستیوں سے ہے جو مخالف خواص کی یعنی تاریکی اور اس کی مختلف اشکال اور اندھیرا کرنے والے بادل اور کہر جو اندر (طوفانوں کا دیوتا) اور ماروتوں (آندھیاں) کے بھی دشمن ہیں ۔     
یہ خیال رہے جس طرح اساش دیاؤس کی بیٹی ہے اس طرح سوریا بھی دیاؤس کا بیٹا ہے ۔ اس طرح اساش اور سوریا دونوں بھائی بہن بھی ہیں ۔ اندر جو بارش کا دیوتا ہے اور اس سے درخواست کی جاتی تھی کہ سورج کو چھپالے اور شُشنا یعنی خشک سالی کے دیوتا پر بجلی گرائے ۔ یعنی اندر انسان کا محافظ ہونے کی وجہ سے سوریا کو دشمن خیال کرتا ہے ۔ خاص کر جب بڑے مہیب دیو (خشک سالی) سے جنگ ہو ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اندر نے سوریا کے رتھ کا ایک پہیہ توڑ دیا اور وہ پہاڑ کے نیچے گرگیا اور وہ بڑا ساحر (سوریا) لنگڑا ہوگیا ۔
اشاس کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے یہ وید کی واحد دیوی ہے جو دیوی کہلانی کی مستحق ہے ۔ ورنہ دوسری نسوانی کردار اس قدر محدود ہیں کہ انہیں محض سایہ ہی کہا جاسکتا ہے ۔ اگرچہ اس دیوی کے ساتھ وید کے شعرا نے اس کر ذکر سوائے ایک جگہ کے ہر جگہ انتہا کی محبت اور عقیدت سے ذکر اور تعریفوں کے پل باندھے ہیں ۔ وید میں بیس بھجن اس تعریف میں کہے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ دوسرے بھجنوں میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے ۔ جس میں اس کی تعریف میں آسمان و زمین کو ملا دیا ہے ۔ اکثر مقامات پر اس کو ایک حسین عورت یا دوشیزہ بتایا گیا ہے جو اپنے حسن جھلک مشتاق آنکھوں سوریا کو رجھاتی ہے ۔ اشاس جس کے معنی جلنے اور دہکنے کے ہیں اور ان بھجنوں اس کے حسن کو جس طرح پیش کیا ہے ان میں حرم سراؤں کی جھلک آتی ہے اور اس کے خط و خال کو جس طرح نمایاں کیا گیا ہے وہ بالکل عامیانہ اور جینس زدہ معلوم ہوتا ہے ۔ 
’’وہ ایک حسین دوشیزہ کی طرح جسے اس کی ماں سنواتی ہے یا ایک رقاصہ جو قیمتی کپڑے پہنے ہو یا ایک سہاگن جو بن سنور کر اپنے شوہر کے سامنے آئے یا کسی عورت کے جس کا حسن نہانے سے دو بالا ہوجائے وہ مسکراتی ہوئی اور اپنے حسن پر ناز کرتی ہوئی عاشق کے منتظر آنکھوں کو اپنے حسن کا جلوہ دیکھا کر مسرور کرتی ہے’’۔
اس کے دشمنوں میں تاریکی کے علاوہ چور ، دوسرے بدکردار بھی شامل ہیں جنھیں تاریکی سے پناہ ملتی ہے ، بدخوابی بھوت پریت اور سحر میں داخل ہیں ۔ ان دشمنوں کو بھگانے لیے وہ کن ہتھیاروں سے کام لیتی ہے اس کا ذکر وید کے شعرا نے ذکر نہیں کیا ۔ غالباً اس کا نمودار ہونا ہی سب سے بڑا ہتھیار تھا ۔ کیوں کہ یہ خود صبح کی سفید روشنی ہے اور اس کے حسن اور حسرت ناک انجام کا ذکر کیا ہے ۔ اسے حسین اور نیک سیرت ہستی بتایا گیا ہے کہ وہ روز ازل سے موجود ہے اور زندگی کو طویل دیتی ہے اور کم بھی کرتی ہے ۔ کیوں ہر نئے دن کی آمد اس کی بڑھتی عمر اور اس کے ساتھ اس کی زندگی میں کمی کا بھی اعلان ہے ۔ لیکن اُشاس رزق اور شادمانی ، حیات و ممات کی مالک ہونے کے خود بھی فانی ہے اور اس کی زندگی صرف ایک روز یا ایک گھنٹہ کی ہے ۔ کیوں کہ ہر روز ایک نئی اشاس (سپید صبح) پیدا ہوتی ہے اور یوں اس کا انجام حسرت ناک ہوتا ہے ۔ ایک بھجن یہ کہا گیا ہے کہ وہ بار بار پیدا ہوتی ہے اور وہ ایک بے پایاں سلسلے کی کڑی ہے ۔ 
اندر بعض وقت حسین اور فرخندہ خال دیوی اشاس کے ساتھ سختی سے پیش آتا ہے ۔ کیوں کہ خشک سالی کے زمانے میں اساش کی آمد دن اور جلا ڈالنے والے آفتاب کا پیش خیمہ ہوتی ہے ۔ اس لیے اساش کو ایک خبیث ساحرہ بھی کہا گیا ہے جو بنی نوع انسان اور دیوتاؤں کی دشمن ہے ۔ گرجنے والا اندر سوما (شراب) سے مخمور ہوکر اپنے دوست ماروتوں مداد سے آسمان کے اصطبلوں پر حملہ کرکے وہاں دودھ (بارش) کی گایوں کو رہا کراتا ہے جو وہاں مقید ہیں اور اس لیے سوریا کی ساتھی ہونے کی وجہ اندر اساش کا مخالف ہے ۔ اگرچہ بعض موقعوں پر یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ اندر نے اس کا راستہ صاف کرتا ہے ، اس کو چمکاتا ہے اور اس کو روشن کرتا ہے ۔ 
سوریا اور اُساش کے ڈرامے میں واقعات کی کثرت ہے ۔ کیوں کہ شاعرانہ تخیل کے لیے ان دونوں کی ذات کی مختلف کیفیتوں کو مختلف طرح بیان کیا گیا ہے اور ان کا آپس میں اور دوسری قوتوں کے ساتھ نئے نئے تعلقات کا اشارہ ملتا ہے ۔ مثلاً اگر اُساش تاریکی کی پیدائشی دشمن ہے اور اس کو دور کرنا اس کا فرض منصبی ہے تو وہ رات کی توام بہن بھی ہے ۔ کیوں کہ یہ دونوں آسمان (دیاؤس)کی بیٹیاں ہیں اور دونوں میں ہم آہنگی کے ساتھ یکے بعد دیگر اپنا فرض ادا کرتی ہیں اور ریت اور ادیتاؤں کے قوانین کی پابندی کرتی ہیں ۔ اُساش کی ایک بہن سرائیو (شفق شام) جو اس سے زیادہ درخشاں ہے مگر سن میں اس زیادہ اور پرغم جسے تاریکی کا وہی دیو کھا جایا کرتا ہے ۔ جس کو اس کی چھوٹی بہن صبح کو زیر کیا تھا ۔ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ سپید صبح اور شفیق شام ایک ہی ہیں ۔ یہ دوشیزہ (اُساش) جس کا حسن آنکھوں کو خیزہ کر دیتا ہے ۔ زعفرانی اور گلابی پیراہن زیب تن کرکے اپنے سنہرے رتھ پر بیٹھ کر مشرق کے دروازوں سے نکلتی ہے اور اس کا عاشق زاد سورج اس کے تعاقب میں رہتا ہے جس کے اظہار عشق کو وہ محبت بھری آنکھوں سے دیکھتی ہے مگر اس کا ہوائی جسم آفتاب کی تمازت کو برداشت نہیں کرسکتا ہے اور وہ اپنے عاشق کو داغ ہجراں دے کر آسمان کی دوسری جانب غائب ہوجاتی ہے ۔ مگر سورج پر ریت (قانون) کی پابندی ضروری ہے اور وہ اپنے مقررہ راہ پر چلے جاتا ہے ۔ دشمنوں یعنی بادل کے عفریتوں اور کہرے کے ساتھیوں سے مقابلہ کرتا ہے اور ان کو اپنے سنہرے نیزے سے علاک کر دیتا ہے ۔ عشق و محبت کے دوسرے واقعات میں خصوصاً دوشزگان آبی (اَبُساراَ) جو ہلکے بادلوں پر سوار ادھر ادھر پھرتی رہتی ہیں اور اس کو اپنے دام فریب میں لانا چاہتی ہیں مگر وہ راستہ سے مڑتا نہیں ۔ یہاں تک وہ تھک کر اور دُھندلا ہوکر غروب ہونے لگتا ہے ۔ کبھی دشمنوں پر اسے غلبہ ہوتا ہے ، کبھی وہ ان سے لڑتا ہوا نظر آتا ہے اور پھر ایک مرتے ہوئے سورما کی طرح اپنا پورا زور لگا کر انہیں پامال کر دیتا ہے ۔ غروب ہوتے ہوتے پھر اپنی معشوقہ سے دوچار ہوتا ہے ۔ مگر درخشاں اُساش نہیں بلکہ غمزدہ شفق شام ہے ۔ ایک لمحے کے لیے یوں معلوم ہوتا ے کہ دونوں عاشق و معشوق اپنی زندگی کے آخر لمحوں میں ایک دوسرے کی آغوش میں ہیں اور ان کے وصال کی خوشی سے مغرب میں روشنی نظر آنے لگتی ہے اور پھر اسی طرح ایک دوسرے کی آغوش میں آرام کرتے ہیں اور تاریکی جو ان کی جانی دشمن ہے انہیں گھیر لیتی ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں