74

آتش کدے

  پیغمبری کے بعد زرتشت کی عمر کا زیادہ تر حصہ مقدس آگ کی حفاظت ، اس کی پوجا اور اپنے مذہب کی اشاعت و ترقی میں گزرا ہے  ۔ گشتاسب نے بھی دین زرتشتی کی اشاعت و ترقی کی کوشش میں مسلسل مصروف رہا ۔ اس نے پورے ملک میں بہت سے آتش کدے تعمیر کرائے اور لوگوں کو آگ کی پوجا کا حکم دیا ۔ اوستا کے ایک باب میں ان آتش کدوں کی تفصیل درج ہے اور شاہنامہ میں بھی گشتاسب کے تعمیر کردہ آتش کدوں کا ذکر ہے ۔ مسعودی نے بھی تفصیل سے ان آتش کدوں کا ذکر کیا ہے ۔ ان آتش کدوں میں بہت سے آتش کدے زرتشت سے بھی پہلے بھی موجود تھے ۔ شہر ستانی نے دس بڑے آتشدوں کی تفصیل درج کی ہے جو زرتشت سے پہلے ایران میں موجود تھے ۔ زرتشت کے بنوائے گئے آتشکدوں میں ایک نیشاپور اور دوسرا نسائیہ کا تھا ۔ شاہ گشتاسپ نے خوارزم کا آتش کدہ جو جمشید کے وقت سے چلا آرہا تھا وہ دارا بجر میں منتقل کروایا تھا ۔ یہی وہ آتش کدہ تھا جو مجوسیوں کے نذدیک سب سے زیادہ مقدس تھا ۔ اس کے علاوہ بہت سے آتش کدے سیستان ، روم ، بغداد ، یونان ، ہندوستان اور چین میں تھے کا حال درج کیا گیا ہے ۔ 
زرتشتی آگ کی پوجا کرتے ہیں ۔ اس لیے زرتشت اور دوسرے زرتشتیوں نے اور بھی بے شمار آتش کدے آگ کی پوجا کرنے کے لیے بنوائے ہوں گے ۔ جیسا کہ باالذکر درج ہوچکا ہے کہ اوستا کے مطابق کچھ آتش کدوں کو دوسرے مقامات پر منتقل کرایا گیا تھا ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ایران میں زرتشت سے بہت پہلے یعنی قدیم زمانے میں بھی آگ کی پوجا کی جاتی تھی اور زرتشتی مذہب نے اسے مزید تقویت بخشی ۔ ساسانیوں کے زمانے میں پورے ملک میں بہت سے آتش کدے تھے ۔ مگر ان میں خاص کر تین آتش کدے بہت قدیم اور مقدس مانے جاتے تھے ۔ یہ تینوں آتش کدے ایک خاص طبقہ کی پرستش کے لیے تھے ۔
اردشیر اول کا دادا اصطخر میں اناہتا کے معبد کا رئیس اور پجاری تھا اور ساسانی خاندان کو اس معبد سے خاص لگاؤ تھا ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خاص خاص دیوتاؤں کے خاص خاص معبد تھے اور یہ قرین قیاس ہے کہ یہ معبد زرتشتی خداؤں کی پرستش کے لیے وقف تھے اور یہ تمام معبد ایک خاص نقشے پر بنے ہوتے تھے ۔ عبادت کی مرکزی جگہ پر آتش گاہ تھی ۔ جس پر آگ جلتی رہتی تھی ۔ عام طور پر ہر آتش کدے کے آٹھ دروازے اور چند ہشت پہلو کمرے ہوا کرتے تھے ۔ اس طرز کی عمارت شہر یزد کا قدیم آٓتش کدہ جو آج بھی موجود ہے ۔ مسعودی نے اصطخر کے قدیم آتش کدے کا حال بیان کیا ہے ۔ جس کو اس زمانے میں لوگ مسجد سلیمان سمجھتے ہیں ۔ مسعوعی لکھتا ہے کہ میں نے اس عمارت کو دیکھا ہے ۔ وہ اصطخر سے تقریباً ایک فرسخ کے فاصلے پر موجود ہے ۔ وہ ایک قابل تعریف معبد اور شاندار عمارت ہے ۔ اس کے ستون پتھر کے ایک ایک ٹکڑے سے تراش کربنائی گئے ہیں ۔ جس کا طول و عرض حیرت انگیز ہے ۔ ان کے ستونوں کے اوپر کے سرے پر گھوڑے اور دوسرے جانوروں کے عجیب و غریب بت نصب ہیں ۔ جن کی جسامت اور جن کی شکلیں حیرت میں ڈالنے والی ہیں ۔ عمارت کے ارد گرد ایک وسیع خندق اور فصیل ہے جو پتھر کی بھاری بھاری سلوں سے بنائی گئی ہیں ۔ نقش رستم میں شاہان ہخامنشی کے مقبروں کی منقت کاری میں چند آتش گاہوں کی برجستہ تصویریں بنی ہوئیں ہیں جن پر آگ جلتی ہوئی دیکھائی گئی ہے ۔ آتش کدے کی شکل ان قربان گاہوں کی نقل ہیں جو اقوام مغربی ایشیا کے معبدوں میں پائی جاتی ہیں ۔ وہ اصل میں میزیں ہوتی تھیں جن پر قربانیاں رکھ دی جاتی تھیں ۔ نقش رستم میں دو بہت بڑی آتش گاہیں ایک صقیل شدہ چبوترے پر ایک چٹان کو تراش کر بنائی گئیں ہیں ۔ ان کا بالائی حصہ جو دندانہ دار ہے چار ستونوں پر دھرا ہوا معلوم ہوتا ہے ۔ جو پھتروں کو تراش کر بنائی گئی ہیں ۔ لیکن آتش سرمدی کی حفاظت کے لیے ضروری تھا کہ اس پر کوئی تعمیر کی جائے جو اسے مردر زمانہ کی آفات سے محفوظ رکھے ۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ پتھر کی وہ عمارت جو نقش رستم میں شاہی مقبروں کے بالمقابل بنی ہوئی ہے اور اس میں مرور زمانے سے گڑھے پڑگئے ہیں آتش گاہ کا ہی نمونہ ہے ۔ یہ عمارت ہخامنشی زمانے میں بنی ہوئی ہے اور ایرانی اسے کعبہ زرتشت کہتے ہیں ۔ اگرچہ بعض لوگوں کا خیال ہے یہ مقبرہ ہے ۔
زرتشتی مذہب میں آتش کدے میں جلنے والی مقدس آگ پر سورج کی روشنی پڑنے کی ممانیت تھی ۔ اس لیے نئی ساخت کے آتش کدے بننے لگے ۔ جن کے عین وسط میں ایک تاریک کمرہ بنایا جاتا تھا اور اس کے اندر آتش دان رکھا جاتا تھا ۔ فارس کے فرترک (گورنر) جو شاہاں سلوکی کے باج گزار تھے ۔ ان کے سکوں کی پشت کی جانب آتش کدہ کی تصویر بنی ہوتی تھی ۔ تین آتش دان جو معمولاً آتش کدے کے اندر رکھے جاتے تھے ۔ وہ اس تصویر میں دروازے کے اوپر دیکھائے گئے ہیں ۔ بائیں طرف ایک پجاری کھڑا ہے اور دائیں جانب ایک جھنڈے کی شکل بنی ہے ۔ اردشیر اول کے سکوں میں آتش گاہ کی جزیات نمایاں طور پر دیکھائی دیتی ہیں ۔ نیچے کے تین پائے جو یقینا دھات کے بنے ہوئے ہیں اور ان پر ایک چبوترے کے اوپر آتش مقدس کے شعلے بھرلتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔ لیکن اس کے جانشین شاپور کے سکوں میں نیچے کے پائے غائب ہیں اور ان کے بجائے ایک مربع ستون ہے ۔ آتش گاہ کے دونوں طرف دو آدمی ہاتھ میں ایک لمبا عضا یا نیزہ لیے کھڑے ہیں ۔ بعد کے تمام ساسانی بادشاہوں کے سکوں پر آتش گاہ کا یہی نمونہ دیکھنے میں آتا ہے ۔ بعض سکوں پر آگ کے شعلوں میں ایک سر بنا ہوا نظر آتا ہے جو غالباً آذر (خدائے آتش) ہے ۔ شروع کے بادشاہوں کے سکوں پر یزدگرد دوم کے زمانے تک اکثر اوقات آتش کدہ اور سکہ کو ضرب کرنے کا نام لکھا ہوا ہے ۔
سلطنت ساسانی میں آتش کدے ہر جگہ موجود تھے ۔ لیکن ان میں سے تین ایسے تھے جن کی خاص حرمت و تعظیم کی جاتی تھی ۔ یہ وہ آتش کدے تھے جن میں تیں آتش ہائے بزرگ محفوظ تھیں ۔ جن کا نام آذر فربگ یا فرن بگ یا فرگ بگ کی قدیم شکل ہے اور پہلوی اترفرن بگ ، سریانی میں آذر فرہوا ہے ۔ دوسرا آذر گنشب تیسرا آذر برزین مہر تھا ۔ 
ایک قدیم زرتشتی افسانے کے مطابق جو بندہشن میں درج ہے چند آدمی افسانوی بادشاہ تخمورب کے زمانے میں ایک عجیب الخلقت گائے سرسوگ کی پیٹھ پر سوار ہو کر کشور خونیرس سے چلے اور باقی چھ کشوروں کو طے کیا جہاں کوئی شخص کسی اور ذریعے سے جا نہیں سکتا تھا ۔ ایک رات جب وہ سمندر سے گزر رہے تھے تو ہوا نے ان تین آگوں کو جو گائے کی بیٹھ پر جل رہی تھیں سمندر میں گرا دیا ۔ لیکن وہ آگیں تین جانداروں کی مانند نئے سرے سے پھر اسی گائے کی بیٹھ پر دوبارہ جل اٹھیں اور ان سے تمام عالم منور ہوگیا ۔ ان تین آگوں میں سے ایک کا نام آتش فربگ تھا ۔ 
کچھ عرصہ بعد شاہ یم جو تخمورب کا جانشین تھا اس آگ کے لیے خوازم میں کوہ خورے ہومند پر ایک آتش کدہ تعمیر کرایا ۔ ہمیں معلوم نہیں ہے کہ کس زمانے میں یہ تین آگیں وجود میں آئیں ۔ ہوفن کا خیال ہے کہ صوبہ استئوئین کے شہر اساک کی آتش جادوانی جس کے سامنے ازشک یا زشک اشکائی خاندان کے بانی نے اپنی تاجپوشی کی تھی آتش برزین مہر کے ساتھ کوئی نہ کوئی تعلق رکھتی ہے ۔ کیوں کہ ساسانیوں کے زمانے میں آتش برزین مہر کا آتش کدہ اس جگہ سے قریب ہے ۔ آزر فربگ علمائے مذہب کی آگ تھی ، آذر گشنپ سپاہیوں یا شاہی خاندان کی آگ تھی ۔ آذر برزین مہر زراعت پیشہ لوگوں کی آگ تھی ۔ عہد ساسانی میں ان تین آگوں کے آتشکدے جس مقام پر بنے ہوئے تھے ان کے متعلق روایت ہے کہ ان کو مقامات کو عہد ہخامشی سے پہلے کے افسانوی بادشاہوں نے معین کیا تھا ۔
آتش فربگ کو البیرنی نے بظاہر آذر فروبہ یا خراد یا خرداد بھی کہا ہے ۔ یہ آتش کدہ جمشید کے زمانے کا بتایا جاتا ہے اور گشتاسپ کے ایما پر اسے کابل منتقل کیا گیا تھا اور یہ مجوس علماء کے لیے مخصوص تھا ۔ 
ہندوستانی ہند ہشن کی روایت کے مطابق آذر فربگ یعنی آتش علمائے مذہب کابل میں کوہ روشن پر تھی ۔ یہ بظاہر کتابت کی غلطی ہے ۔ جب کہ ایرانی بندہشن میں عبارت مختلف اور غیر واضح ہے ۔ جیکسن نے اس کا ترجمہ علاقہ کار کا درخشاں پہاڑ کو ازوند کہا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ یہ صوبہ فارس کا شہر کاریان جو خلیج فارس کے کنارے بندر سیراف اور دار ابجرد کے درمیان واقع ہے ۔ جہاں اب بھی ایک قدیمی آتش کدے کے کھنڈرات موجود ہیں ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ آتش مقدس کو ایک منبع نفت کے ذریعے روشن رکھا جاتا تھا ۔ مسعودی کے مطابق اس آتش کدے کا نام آذر جوی (آگ کی ندی) تھا اور بظاہر یہ وہی آتش کدہ ہے جو البیرونی آذر خورہ کے نام سے ذکر کرتا ہے ۔ پروفیسر کریپسن بھی جیکن سے متفق ہیں ۔ وہ جیسکن کی عرب مصنفین کی شہادتوں کے پیش نظر آتش فربگ کا مقام کاریان کو درست سمجھتے ہیں ۔ دسویں صدی عیسویں تک آتش کدہ کاریان کی آگ دوسرے آتش کدوں میں لے جائی جاتی تھی اور قدیم دور سے یہ رسم رہی ہے کہ کم درجوں کے آتش کدوں کو ان تین بڑے آتش کدوں سے روشن کرتے رہتے تھے ۔ 
افسانوی روایت کے مطابق (بند ہشن) وشتاسپ جو زرتشت کا مربی تھا آتش فرنگ کو خوارزم سے منتقل کر کے اس جگہ لایا تھا جہاں بندہشن کی تصنیف کے وقت موجود تھی ۔ اس مقدس کے کاریان میں منتقل کرنے کے بارے میں عربی کتابوں میں مختلف روایاتیں ہیں ۔ بعض اسے وستاسپ سے اور بعض اسے خسرو اول سے منسوب کرتے ہیں ۔ اس لیے یہ فرض کر لینا چاہیے کہ آتش فربک عہد ساسانی میں اس جگہ پر جاگزین ہوچکی تھی ۔  
دوسرا آذر گشتاسپ یا آتش کدہ سپاہیان یا آتش شاہی کا آتش کدہ شمال میں گنجک (شیز) میں تھا جو صوبہ آذر بائیجان میں واقعہ تھا ۔ بقول زرتشت نامہ گشتاسب کے نقل مذہب کے وقت فرشتگان مقرب اسی آتش کدے سے آگ لائے تھے ۔ یہ آتش کدہ جنگجوں کے لیے مخصوص تھا ۔ یہ آتش کدہ کیخسرو نے بت پرستوں کا قلع و قمع کرنے کے بعد ارومیا کوہ اسنود کے قریب قائم کیا تھا ۔ جیکن نے اس کی جائے وقوع تخت سلیمان کے کھنڈرات میں معین کی ہے جو ارمیہ اور ہمدان کے درمیان واقع ہیں ۔ شاہان ساسانی تکلیف و مصیبت میں اس آتش کدے کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے اور وہاں نہایت فیاضی سے چڑھاوے چڑھاتے ، زمین اور غلام اس کے لیے وقف کرتے تھے ۔ بہرم پنجم نے جو تاج خاقان اور اس کی ملکہ سے چھینا تھا اس کے قیمتی پتھر اس نے آذر گشنسپ میں بھیجوادیے تھے ۔ خسرو اول نے اس آتش کدے کے ساتھ بڑی فیاضی برتی تھیں ۔ خسرو دوم نے منت مانگی تھی کہ اگر اسے بہرام چوبیں کے مقابلے میں فتح حاصل ہوئی تو وہ اس آتش کدے کو سونے چاندی کے تحائف کی نذر پیش کرے گا چنانچہ اس نے اپنی منت پوری کی ۔ دسویں صدی میں مسعودی نے آذر گنشسپ کے کھنڈرات کے بارے میں لکھتا ہے کہ اس شہر (شیز) میں عمارتوں اور تصویروں کے عجیب و غریب آثار موجود ہیں ۔ ان میں کرامات سمادی ، ستارے ، کرہ ارض اور اس کے بحر و بر اس کے آباد حصے ، اس کے درخت اور جانور اور دیگر عجائبات دیکھائے گئے ہیں ۔ شاہاں ایران کا وہاں ایک آتش کدہ تھا جس کی تمام شاہی خاندان تعظیم کرتا تھا ۔ اس کا نام آذر خوش (آذر گنشسپ کا دوسرا نام تھا) آذر فارسی میں آگ کو کہتے ہی خوش کے معنی عمدہ کے ہیں ، ایران کا ہر بادشاہ اپنی تخت نشینی کے وقت نہایت احترام کے ساتھ اس آتش کدے کی زیارت کے لیے پیادہ طیفسون سے اس آتش کدہ آتا تھا اور چڑھاوے پیش کرتا تھا ۔ جس میں نقد و مال اور دوسرے تحفے و تحائف ہوتے تھے ۔ یہ آتش کدہ ساسانیوں کے زمانے میں ان کی قوت اور اتحاد کی نشانی تھا ۔ اس کے برخلاف اشکانیوں کے عہد میں ہر صوبے اور ولایت کا اپنا آتش کدہ تھا ۔ نامہ تنسر کا یہ بیان اس روایت پر مبنی ہے کہ شاہان ولایات کے آتش کدے ایک بدعت تھے اور یہ کہ ساسانیوں کی آتش متحد ان حالات کی دلیل تھی جو داریوش کے زمانے تھے بمعنی برا افسانہ ہے ۔
سوم آژر برژین مہر یا آتش کدہ پیسہ وران ۔ یہ آتش کدہ طوس کے قریب واقع تھا اور اس کا تذکرہ فردوسی نے خاص کر ذکر کیا ہے ۔ یہ نشاپور کے مغرب میں مہر نام کے قصبے میں واقع تھا ۔ بیشتر مسلمان مورخین کا کہنا ہے کہ جو آتش کدے قائم کیے تھے وہ زیادہ تر نیشاپور کے نواح میں تھے اور آخری مذہبی جنگ کا خاتمہ بھی یہیں ہوا تھا ۔ 
آذر برزین مہر یعنی زراعت و پیشہ وران کا آتش کدہ سلطنت کے مشرق میں کوہستان ریوند میں واقع تھا ۔ جو نیشاپور کے شمال مغرب میں تھا ۔ مورخ لازار فرپی نے ریوند کو مغنوں کا گاؤں بتایا ہے ۔ جیکسن نے اس آتش کدے کی جائے وقوع اسی گاؤں کے قریب مہر میں متعین کی ہے ۔ جو میان دشت اور سبزوار کے بیچ میں اس سڑک پر واقع ہے جو نیشاپو جاتی ہے ۔ یہ تین بڑے آتش کدے خاص تعظیم و احترام رکھتے تھے اور دوسرے پانچ گاتھاؤں کے نام پر رکھے ہیں ۔
بہت سے آتش کدے اور بھی تھے جو کہ درجہ میں کم تھے مگر اہمیت رکھتے تھے ۔ خصوصا کسی افسانیوی ہیرو کی طرف منسوب تھے ۔ مثلاً آتش کدہ نیشاپور ، آتش کدہ ارجان (فارس) ، آتش کدہ کرکرا (سیستان) اور آتش کودہ کُوسیہ (فارس اور اصفہان کے درمیان) ، جبال یا قدیم میڈیا کے کئی شہروں میں قزوین ، شیروان (رے کے قریب) کومش (غالباً ہیکاٹم پیلوس) ، اصفہان کے قریب ایک ٹیلے پر آتش کدے کے کھنڈرات ہیں ۔ ارد شیر اول نے ایک آتش ورہران مندر کے کنارے بخت اردشیر میں قائم کیا تھا اور کئی آتش کدے ارد شیر خورہ میں بنوائے تھے ۔ پہلے آگ کے سامنے جاتے وقت منہ پر نقاب پہنا جاتا تھا کہ ان کے سانسوں آگ ناپاک نہ ہوجائے۔ مگر موجودہ دور میں یوٹیوب پر جو فلمیں پیش کی جارہی ہیں ۔ ان میں عموماً  صرف پجاری یہ نقاب پہنے ہیں   ۔ بلکہ بعض  دفعہ پجاری بھی نہیں پہنتے ہیں ۔  

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں