89

آتما

ذات نوع انسانی کا ارفع ترین حصہ ؛ کونیاتی ذات جو نہ صرف اس کرہ ارض پر موجود ہر جاندار اور شے کے اندر بستی ہے بلکہ باقی سب ستاروں اور اجزام فلکی میں حلول کئے ہوئے ہے ۔ احساس اور علم دونوں حوالوں سے یہ عرفان ــــ’’میں ہوں‘‘ کے مساوی ہے ۔ یوں اسے ذات کا مجرد تصور خیال کیا جاسکتا ہے ۔ عرفان ذات کے مدارج سے قطع نظر پوری کائنات میں اسی کی ماہیت ایک سی ہے ۔ ہم اپنے عہد کے اعتبار سے ارتفاع کے ساتوں درجے پر ہیں ۔ لیکن آتما عالمگیر ہونے کے باوجود چوتھے مدارج پر ہے ۔ 
انسان کی خورد کائنات میں آتما کو میں جاری و ساری first-Logos   کا درجہ حاصل ہے آتما مجسم صورت اختیار کرتے ہوئے اپنے مدارج سے کم ترین پر ہوتی ہے ۔ کیوں کہ جسم کا تعلق بدہی سے بدہی کا من سے اور من کا نفسیاتی خواہش سے ہے ۔ 
ہر منفرد شعور کے لیے آتما کائنات میں ظہور کا ایک طریقہ ہے ۔ یوں روح ہمیں کائناتی سلسلہ مدارج Hierarchy میں داخل کرتی ہے ۔ اس لیے روح کو ہماری اصل ذات کا درجہ حاصل ہے ۔ اس کے واسطہ سے آسمانی قوتیں نچلی سطح ظہور پزیر ہو کر سات اصولوں کی شکل اختیار کرتی ہیں ۔ یوں ’روح انفرادی ملکیت نہیں رہتی ہے بلکہ وہ جوہر ہے جو جسم سے ماورا ہے‘ غیر مرئی اور ناقابل تقسیم ہے ‘جس کی کوئی شکل نہیں‘ فکر و فہم سے بالا تر ہے ۔ غیر مرئی اور ناقابل تقسیم ہے ‘جس کا وجود ہی نہیں لیکن وہ موجود ہے ۔ یعنی وہی کچھ جو بدہوں کے نذیک نروان ہے ۔ جسم میں داخل ہوکر اس پر حاوی ہوجاتی ہے اور اپنا اظہار بدہی سے خارج ہونے والی شعاع کی صورت میں کرتی ہے اور روح اس منبع بھی ۔ 
آتما کو بعض اوقات کائناتی ذات یا روح کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے ، جسے برہما یا پر ماتما بھی کہا جاتا ہے ۔ تین ارفع اصول ہیں جو فرد کائنات سے منسلک رکھتے ہیں ۔ یہی اصول روح کا ارفع ترین وظیفہ بھی ہیں ۔ انسانی اصولوں میں آتما کار فرما ہے ۔ کیوں کہ بدہی کا کائناتی مطلق جوہر ہے ، جس میں سے بدہی نکل کر انسان کے باقی اصولوں کو جنم دیتی ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں