64

آریائی لفظوں کا تجزیہ

روایات کا مشکوک اور مشتبہ سلسلہ صدیوں کے بعد اس وقت شروع ہوا جب تاریخ کا آغاز ہوا اور اس وقت تک آریائی اقوام کئی ممالک پر قابض ہوچکی تھیں ۔ اگرچہ آریاؤں کی ابتدائی زندگیوں کا خاکہ خیالی اور قیاس پر مبنی ہے اور اس کی تصدیق کسی بھی ذرائع سے نہیں ہوتی ہے ۔ اس کی بنیاد آریائی زبانوں میں استعمال ہونے والے لفظوں یا ملتے جلتے الفاظ ہیں جو بعد کی آریائی زبانوں پائے گئے ہیں ۔ یہ الفاظ ان کی تمدنی ، خانہ واری ، خاندانی تعلقات اور ضروریات زندگی کے متعلق ہیں ۔ خاندانی تعلقات ، چیزوں کے نام اور افعال سے ان حرکات و زندگی گزارنے کے طریقہ کا اظہار ہوتا ہے جو ہزاروں سالوں پہلے آریا اپنے وطن میں گزارتے تھے ۔ اس طرح ہم آریاؤں کی قدیمی یا قبل تاریخ کے قابل وثوق اور درست حالات تک پہنچ سکتے ہیں اور اس طرح ان لوگوں کے طرز زندگی کے خیالات اور مشاغل کے متعلق قیاسات قابل ترجیح ہوں ۔ اس طرح ہم ان کی زندگی کا جو خاکہ کھنچا ہے اس کا معیار ان الفاظوں پر ہے جو کہ آریائی زبانوں میں استعمال ہوتے تھے ۔
ان چند مثالوں سے ہم ان کی زبانوں کی ہیئت ترکیبی اور ان کے ارتقا کا ثبوت ملتا ہے اور ان کی قدیمی زندگی اور وسیع پیمانے پر ان کی ہجرتوں کا واضح ثبوت ہمیں ملتا ہے ۔ اس طریقہ کار سے ہمیں بہت سا قبل تاریخ مواد میسر آجاتا ہے ۔ جس پر بہت سے محققین نے تحقیق کی ہے ، اگرچہ ہر ایک کے نتائج مختلف ہیں اور یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ انہوں نے کامیابی سے اس مسلے کو حل کیا ۔ تاہم نتیجہ غلط بھی ہو تو راہ درست ہی معلوم ہوتی ہے اور اس طرح سے بہت سے عقدے خاص طور پر وید کے حل ہوگئے ہیں ۔ 
گائے
گائے کی قدیم آریاؤں کی زندگی کا اہم جزو تھا ان کی گزر بسر کا دار مدار اس پر تھا ۔ گائے کا اہمیت دینے کا مطلب ہے یہ ایک جگہ رہنے کے عادی اور جانور پالنے کے ساتھ زراعت کرنے لگے تھے ۔ کیوں کہ گائے خانہ بدوشی کی عادی نہیں ہے اور مسلسل نقل مکانی کی تکلیف کو برداشت نہیں کرسکتی ہے ۔ 
گائے کو سنسکرت میں گو کہتے ہیں اور اس کی جمع گاؤس Gaus ہے ۔ یہ مادہ خفیف سے تغیر کے ساتھ یورپ کی زبانوں میں اکثر موجود ہیں ۔ مثلاً قدیم جرمن چو Cho ، جدید جرمن میں کر Cer ، انگریزی میں کاؤCow  ، سلاوی میں گودیاGodia  (مویشیوں کا ریوڑ) جدید سروی گوودار (گائے کا چرواہا) روسی گودیادرGovadar  (گائے کا چرواہا) روسی میں گوہ یا دیناGoh or Dina  (گائے کا گوشت) اس طرح گوسوپودینGosopodin  (آقا) گوس پودGospod  (خدا) گوس پووارGospowar  (جنوبی سلاد احکام) جن کے سب کے معنی گایوں کا مالک ہیں جو قدیم سنسکرت گوپ کے ہم معنی ایک مادے سے مشتقات کے نکلنے سے جن کے معافی ہیں اصل مادے سے فرق ہوتا ہے ۔ سنسکرت گوتر پہلے اس احاطے کو کہتے تھے جس میں مویشی کو رکھتے تھے تاکہ وہ چوروں سے اور بھاگنے سے محفوظ رہیں ۔ مگر رفتہ رفتہ اس لفظ کا اطلاق خاندان اور پھر ایک قبیلے پر یعنی ان لوگوں پر جو ایک احاطے کی دیواروں کی پشت پر رہتے تھے ۔ چرواہا جو مویشی کے گلے کا حاکم اور بادشاہ انسانوں کا حاکم ہے ۔ گائوں ، گوٹھ ، گوپ اور گوتر وغیرہ اسی مادے سے نکلے ہیں ۔
سمندر
پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ آریوں کا ابتدائی وطن سمندر سے دور تھا اور انہوں نے سمندر کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ اس لیے ان کی زبان میں سمندر کے لیے کوئی لفظ نہیں تھا اور آریا جہاں گئے وہاں انہوں نے جذبات و احساسات اور تجربات کے مطابق سمندر کا نام رکھا ۔ مختلف آریائی زبانوں میں سمندر کے لیے مختلف الفاظوں کو استعمال کیا ہے ۔ مثلاً لاطینی اور یونانی میں سمندر کو پانٹوس ، پانٹس Pontus, Pontus (شاہراہ) کہتے تھے ۔ اس کا مادہ وہی ہے جو پانس ، پانٹس Pans, Ponts  (پل) کا ہے اور سلاوی میں پانٹیPonti  روسی پوٹی potty (سڑک) کا ہے ۔ مگر سلاوی سمندر کے لیے موری Mori ، لاطینی مار Mar ، اطالوی اور ہسپانی ماری Marie ، فارنسیسی میزMise  ، جرمن میر Mir اور انگریزی میں میرMir  (جھیل کے کے لیے مواز Mawaz) ہے اور یہ تمام الفاظ ویدک کے ایک مادہ جس کے معنی ہلاکت کے ہیں نکلے ہیں ۔ اس اختلاف کی توجیع آسانی سے ہوسکتی ہے ۔ کیوں کہ سلاد اور ٹیوٹن اقوام جن سمندروں سے واقف تھیں وہ بحرہ اسود ، بالٹک اور بحرہ جرمنی تھے ۔ جو اپنے طوفانوں اور طلاطم کے لیے مشہور ہیں ۔ جن میں چھوٹی اور بھدی کشتیوں پر سے گزرتے تھے ۔ اس کے برخلاف لاطینی اور یونانی بحیرہ روم کے پرسکون ساحلوں پر آباد تھے ۔ اس لیے سمندر ان کے لیے ایک شاہراہ تھا جو ان کے سفر اور تجارت کے لیے مدگار تھا ۔     
باپ
پتر (باپ) کے تین معنی ہیں (۱) کھلانے والا (۲) حفاظت کرنے والا (۳) حکومت کرنے والا ۔ ان تینوں معنوں میں باہمی تعلق ہے اور پتر مادہ پا سے نکلا ہے جس کے معنی حفاظت کرنے والے کے ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اخلاقیات کا ان پر گہرا اثر ہوگیا تھا اور قدیم آریائی باپ کو اپنی اولاد کی طرف اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کا پورا احساس تھا ۔ جو شخص کسی خاندان کی پرورش اور حفاظت کرتا وہ حکومت کرنے کا حق بھی رکھتا ہے اور وہ اس مرضی کے پابند ہوتے ہیں ۔ اس لیے لفظ پتی کے معنی آقا کے ہوتے ہیں ۔ اس کا اطلاق پیٹر یا زک Peter or Zak (بطریق) پر بھی اطلاق ہوتا ہے ۔ 
لفظ پتر اکثر آریائی زمانوں میں ملتا ہے ۔ اگرچہ زبان کی تبدیلی سے اس کے لہجے میں بھی تبدیلی ہوگئی ۔ یہ لفظ سنسکرت اور اوستا میں پتر ، یونانی اور لاطینی میں پاتر Patr ، جرمنی اور انگریزی میں فادر Father جو قدیم ٹیوٹن سے مشق ہیں ۔ مگر یہ لفظ ہسپانوی ، اطالوی اور فرانسیسی میں بگڑ کر پادری pastor اور پھر پیٹر peter ہوگیا ، جب کہ کیلٹی زبانوں یعنی گیلک ، ونیش ، آئرش اور آرمویکی آتھر Athar اور آرتھا Artha ہوگیا ۔ 
ماں 
ماں میں آریائی زبانوں میں بہت کم تغیر ہوا ہے ۔ سنسکرت میں ماتا ، اوستا میں ماتر میں صرف لہجے کا فرق ہے ۔ یونانی میں منیتیر  Manitirلاطینی ماتر Matar ، سلاوی ماتر Matar ، روسی میں ماتیMati  ہے ۔ کیلئی ماتھیMathieu  ، جرمن مسٹر Mestar ، انگریزی مدرMother  جو ٹیوٹن مُواُٹَرMutter  سے ماخوذ ہے ، اطالوی اور ہسپانوی کو بگڑ کر مادریMadri  ہوگیا اور فرانسیسی  میں بگڑ کر منیزMinss  ہوگیا اور باپ پنیزPinss  ہوگیا ۔ کیوں قدیم زمانے میں ہم قافیہ الفاظ پسند کیا جاتا تھا ۔ اس لفظ کا مادہ ’ما’ ہے جس کہ معنی بنانا اور ناپنا ہیں ۔ دونوں خیالات قابل لحاظ ہیں ۔ کیوں کہ وجود میں لانے کے علاوہ ماں کا یہ فریضہ تھا کہ وہ غذا ، غلہ اور دیگر ضروریات زندگی ناپ کر دے ۔ اس مادے سے ماس Mass (چاند) بھی ہے جو وقت کا ناپنے والا ہے ۔ اس لیے مہینے کے لیے یہی لفظ مستعمل ہے ۔ جیسے کہ سلاوی لفظ مینیاسManias  ہے ۔  
کچھ اور الفاظ
بیوہ کے لیے سنسکرت میں وِدھدا کا کلمہ آیا ہے اور دوسری زبانوں میں اس سے ملتے جلتے الفاظ ملتے ہیں ۔ جس کے لیے لغوی معنی بغیر شوہر والی کے ہیں ۔ اس لفظ کے وجود سے ثابت ہوتا ہے کہ قدیم زمانے میں بے شوہر کی عورتوں کا وجود ثابت ہوتا تھا اور کئی مرتبہ ان کا آتا ہے کہ قبر یا چھتے سے واپس ہوکر زندہ لوگوں میں آکر رہیں ۔ اس طرح خاندانی رشتہ جو شادیوں سے پیدا ہوتے ہیں ان کا تذکرہ ملتا ہے ۔ مثلاً بھائی بہن دیور وغیرہ ۔
آریا کے معنی
ول درراٹ Will Durantکے مطابق آریاکے ابتدائی معنی کسان کے ہیں ۔ آریا اوئل سے ہی زراعت پیشہ اور گلہ بان تھے ، جانوروں کا پالنا اور کھتی باڑی ان کے خاص پیشہ تھے ۔ اسی پر ان کی دولت کا انحصار تھا ، وہ گھوڑے اور بیل کے ذریعے زمین کو جوتنا اور نہروں کو سیراب کرنا جانتے تھے ۔ یہ لوگ تجارت پیشہ نہیں تھے ۔
آریاکی اس تعریف سے بعض محقیقین نے اختلاف کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ آر اور آریا دونوں منفرد نام ہیں ۔ آر نوک دار چیز کو کہتے ہیں جیسے نیزے کی انی ، تیر کی نوک ، میخ کا نوک دار سرا اور جانوروں کو ہاکنے والی چھڑی یا لکڑی جس کے سرے پر لوہے کی چھوتی سے میخ لگی ہوتی ہے ۔    
کوئی بھی کلمہ جو منفرد ہو اکشر ابتدا میں مرکب ہوتا ہے اور اس میں کسی اختلاف کی ضرورت نہیں ہے ۔ کلمہ آریا بھی اسی طرح آر اور ہائے نسبتی کا مرکب ہے ۔ تاہم میں اس سے اختلاف کرتا ہوں کہ آر کے معنی ہل یا نوک کے ہوتے تھے ۔ اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔ 
یہ کلمے مختلف شکلوں میں ملتا ہے ۔ مثلاَََ ایران ، آئر ، آریانہ ، ارش اور ارسطو وغیرہ ۔ اس کے علاوہ یہ کلمہ آریا ورت Aryavartta ، اریا Aria ، آرکوشیہ Arcosia اور ارکوفہ وغیرہ مختلف علاقوں کے ناموں کی صورت میں یہ ملتا ہے ۔ اوستا میں آرت Aratta اور رگ  وید میں ورت Vartta آیا ہے جس کے معنی خداوند گیتی کے ہیں ۔ 
ایرانیوں کا خداوند گیتی ہی اس کلمہ کی اصل ہے ۔ اس میں ار = زمین اور ت نسبتی ہے ، بمعنی ملک زمین یا زمین کے ملک ہیں ۔ بر صغیر میں کاشکاروں یا زراعت کا کام کرنے والوں کو ہاری کہاجاتا ہے ۔ بمعنی زمین پر کام کرنے والے زراعت پیشہ ۔ یہ کلمہ بھی ’ار‘ سے بنا ہے ۔ غالباََ اس کی ابتدائی شکل اری ہو گی ۔ کیوں کہ بعض اوقات ’ا‘ [ہ] سے بدل جاتا تھا ۔ مثلاََ ہرات کا نام کتبہ بہستون میں اریا لکھا ہے ۔ یہ قدیم زمانے میں ہریا Harya ، پھر یہ ہری Hari اور یہ بعد میں اسی نسبت سے ہرات کہلایا ۔  
 بالاالذکر بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ آریا ار سے نکلا ہے ، جس کے معنی زمین کے ہیں اور اس میں یائے نسبتی لگانے سے اس کے معنی زمین والے یا زمین پر کاشت کرنے والے کے ہیں ۔
ور ۔ بر
رگ وید سے پتا چلتا ہے کہ لڑکیاں اپنی شادی کے لیے لڑکے کا انتخاب خود (ور) کرتی تھیں ۔ ور جس کے معنی چننا ہے اور بعد میں ور کا و ب سے بدل گیا یعنی ور اب بر یعنی دولہا ہوگیا ۔ کیوں کہ شادی کے لیے لڑکا چنا جاتا تھا ۔
اگرچہ بر کے معنی وید میں اونچے یا بلند کے ہیں اور شادی کے موقع پر اس کو سب سے زیادہ اہم ہوتا ہے اس لیے بر غلط نہیں ہے اور یہ کلمہ اوستا میں بھی بر اور فارسی میں بالا آیا ہے ۔ یہ کلمہ بلوچ میں کا جزو ہے ۔ جس پر میں پہلے بحث کر چکا ہوں ۔ اس طرح پہاڑوں پر رہنے والے بھی لگاتے ہیں ۔ مثلاً مہمند جو پہاڑوں پر رہتے ہیں وہ بر مہمند کہلاتے ہیں ۔ برہمن میں یہ کلمہ بر یعنی بلند ۔منش یعنی آدمی = برمنش سے برہمن بنا ہے ۔ یعنی اونچا آدمی بنا ہے ۔ 
بھائی
یہ کلمہ سنسکرت میں بھراتر ، فارسی اور انگریزی میں برادر اور دوسری آریائی زبان میں اسی طرح ملتے جلتے تلفظ ہیں ۔ اس کلمہ کا مادہ بھر یعنی سہارا دینا ہے ۔ کیوں کہ ایک بھائی دوسرے کا مدگار ہوتا ہے ۔ 
گھر 
وید میں یہ کلمہ گرھ ہے اور اس کے معنی وہ جگہ جو قبضہ میں ہو ۔ گھر پر اس کے رہنے والے کا قبضہ ہوتا ہے اس لیے گرد سے رفتہ رفتہ گھر بن گیا ۔  
بیٹی 
اس کو فارسی میں دختر ، انگلش میں Daugtar اور سنسکرت میں دھتر ہے ۔ اس کلمہ کا مادہ ڈھ یعنی دودھ دھونا ۔ چونکہ ابتدا میں بیٹیاں گائے بکریوں وغیرہ کا دودھ دھوتی ہوں گیں اس لیے یہ دھتر کہلاتی ہیں اور اس سے ہی دھی نکلا ہے ۔ سنسکرت میں بیٹی کو پتری پتر کی ضد میں کہا جاتا ہے ۔ 
تل
تل کے معنی چکنائی والا ۔ قدیم آریوں نے دیکھا تل میں سے چکنا محلول نکلتا ہے تو اس میں سے تیل نکالنا شروع کیا تو اس کو تیل کا نام دیا ۔ جس کے معنی تلوں سے نکالا ہوا اور کسی قسم کا تیل ہو وہ تیل ہی کہلاتا ہے ۔ اس تیل میں سیندھور ڈال کر ماتھے پر لگانے کا رواج شروع ہوا تو بھی اسی نسبت سے تلک کہلاتا ہے ۔ 
پنچایت 
قدیم آریا جب ابتدا میں برصغیر میں آئے تو ان کے پانچ بنیادی قبائل پُورو ، آنو ، ، درہیو ، ترش اور یادو تھے ۔ یہ پانچ قبائل پنج جَنا کہلاتے تھے ۔ یہ اپنے فیصلے صلاح مشورہ سے کرتے تھے اور اس نسبت سے پنجایت نکلا ہے ۔

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں