79

آریائی مذہب

ابتدائی مذہب
آریاؤں کے ابتدائی مذہب کی تفصیل نہیں ملتی ہے پھر بھی ایسے ذرائع موجود ہیں جن سے ان کی مذہبی حالت کا اندازہ ہوتا ہے اور یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کا ابتدائی مذپب ایشیائے کوچک میں آباد ہونے ولے متیانیوں Mittaniones ، ایرانیوں اور برصغیر میں آباد ہونے والے آریاؤں سے مختلف نہیں ہوگا ۔    
برصغیر میں آباد ہونے والے آریاؤں کے متعلق ہمیں معلوم ہے کہ وہ اوائل میں مناظر فطرت یعنی آب ، و آتش ، خاک و باد اور مناظر قدرت آفتاب و ماہتاب ، برق و رعد کی پرستش کرتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ برائیوں اور آلام کے دیوتاؤں کا تصور رکھتے تھے ۔ متانیوںکے بارے میں جو کچھ معلوم ہوا ہے کہ وہ یہی ہے کہ ان کے عقائد ہندی آریوں سے ملتے جلتے تھے ۔ ایسی حالت میں ایرانیوں کے بھی متعلق یہی رائے ہے کہ ان کا مذہب بھی اسی نوعیت کا تھا اور ساتھ ساتھ منشر طور پر ایسے شواہد بھی ملتے ہیں جن سے اس کی تصدیق بھی ہو تی ہے ۔
سوال یہ ہوتا ہے کہ ایرانی و ہندی ہم مذہب تھے تو ایرانیوں کے پاس وید ہونا چاہیے تھی یا کم از اتناحصہ ضرور ہونا چاہیے تھا جو ان کے ذیلی براعظم میں ورد سے پہلے لکھا گیا تھا ۔ مگر ایرانیوںکے پاس کسی ویدکا نشان نہیں ملتا ہے ۔ اس سے بہر حال یہ نتیجہ نکالاجاسکتا ہے کہ تمام ویدوں کی تصنیف اسی ذیلی براعظم میں ہوئی ہے ۔ کیوں کہ ویدوں کا گو نشان ایران میں نہیں ملتا ہے مگر ایرانیوں کا مذہب ہندیوں کے مذہب سے ملتا جلتا تھا اور ویدی دیوتاؤں کا پتہ چلتا ہے ۔ ایسی صورت میں یہی قیاص کیا جاسکتاہے کہ ایرانیوں کے پاس وید کا جو حصہ تھا وہ تلف ہوچکا ہے اور اس کی کوئی نقل باقی نہیں رہی ہے ۔  
برصغیر میں آریوں کے قدیم ترین حالات رگ وید کے ابتدائی بھجنوں میں ملتے ہیں ۔ اس دور میں ہمیں آریاؤں کے اپنے ایرانی ساتھیوںکا کوئی حوالہ نہیں ملتا ہے یا تو ان لوگوں نے دانستہ اس عہد کو فراموش کردیا یا انہیں ہجرت کئے ہوئے اتنا عرسہ گزر چکا تھا کہ اس کی کوئی یاد باقی نہیں رہی ۔ رگ ویدمیں جو جغرافیائی حوالے ملتے ہیں اس سے ہمیں اندازہ ہوتاہے کہ یہ بھجن پنجاب و کابل کے درمیانی علاقے میں ترتیب دیئے گئے ہیں ۔ کابل ، سوات ، کرم ، گومل اور پنجاب کے اہم دریاؤں کے ناموں کا ذکر ہے ۔ چونکہ جمنا (یمنا) کا حوالہ صرف تین بار اور گنگا کا تذکرہ ایک بار ہے ۔ لہذا کہا جاسکتا ہے کہ یہ ان کے سرحدی علاقے تھے اور وادی گنگا ان کے اقتدار سے باہر تھی ۔ 
کشرت پرستی
آریا ایک معبود پر ایمان نہیں رکھتے تھے ۔ ان کے بے انتہا دیوتا اور دیویاں تھیں جن کی وہ پوجا کرتے تھے ۔ گو پوجا کا طریقہ ابتدا میں سادہ تھا ۔ منتروں کا پڑھنا ، سوم رس چڑھانا اور قربانی کرنا عبادت تھیں ۔ اس وقت نہ مندر تھے نہ اصنام پرستی رواج ۔ بہرکیف ویدوں کے مطالعہ سے ان کے مذہب کے متعلق جو رائے قائم کی جاسکتی ہے وہ درج ذیل ہے ۔ 
(۱) وہ متعد دیوتاؤں پر ایمان رکھتے تھے ۔ 
(۲) آبا اجداد کی روحوں کو پوجتے تھے ۔
(۳) مناظر فطرت کی پوجا کرتے تھے اور انہیں دیوتا قرار دے کر ان کو مختلف ناموں سے یاد کرتے اور ان سے مرادیں مانگا کرتے تھے ۔  
(۴) بعض حیوان بھی مقدس تھے اور اس طرح پہاڑ دریا بھی مقدس سمجھے جاتے تھے ۔
(۵) کبھی کبھی وہ وحدانیت کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے ۔
الغرض یہ بتانا مشکل ہے کہ معبود کے متعلق ان کا کیا عقیدہ تھا اور ان کی تعداد کیا تھی ۔ چند دیوی دیوتاؤں کا نام کثرت سے رگ وید میں آیا ہے ۔ تمام دیوتاؤں میں اندرا Andra کو زیادہ قوی خیال کرتے تھے اور وہ ایک مثالی جنگو تھا جو لڑائی کے رتھ پر سوار ہوکر برق و رعد سے مسلح اپنے پرستاروں کی مدد کے لئے داسیوں کے خلاف ان ساتھ جنگ میں شریک ہوتا تھا اور اپنے پرستاروں کے پیش کردا سوما رس کے پیالے چڑھاتا تھا ۔ اس کا سب سے بڑا کارنا مہ درتا اژدہے کو ہلاک کرنا تھا ۔ جس نے طوفانی بادلوں کو جو کھیتوں کو سیراب کرتے تھے پہاڑ کی گپاؤں میں بند کردیا تھا ۔ یہ دیوتا ان کے خیال میں بارش عطا کرتا تھا ۔   
دیاؤس Dyaus یعنی آسمان پرتھوی Prthuis یعنی زمین دونوں آریاؤں کے قدیم دیوتا تھے ۔ جن کے درمیان انہوں نے ذوجین کا رشتہ پیدا کردیا تھا اور یہ عقیدہ قائم کر لیا تھا کہ اختلاط سے تمام مخلوق پیدا ہوئی ہے ۔ بعد میں ان کی عظمت کم کردی گئی اور دارونا یعنی فلک محیط اور اندرا یعنی کڑک بارش و جنگ اور مترا یعنی آفتاب یا نور کو ان پر فوقیت دے دی گئی ۔
ورانا جس کا لقب آسورہ Asura تھا ۔ یہ مادی و اخلاقی قوانین یا ریت کا نگران یا محافظ ہے ۔ رگ وید میں اس کی مدح کی گئی ہے ۔ یہ ایرانیوں کا متھرا Mithra ہے جو اوستا میں مشرہ Mithra آیا ہے اور فارسی میں مہر Sun بن گیا اور ایرانی اسے چشم فلک کہتے تھے ۔ رگ وید میں ان دونوں کو آدینیا یا آدیتی Aditya or Adti کا بیٹا بتایا گیا ہے ۔ آدیتی Adti دیوی ازل کی دیوی ہے اور بعض مقامات پر اسے کرہ زمہر اور زمتقا بیط کی دیوی کہا گیا ہے ۔ دیوا Dowa قدیم آریائی دیوتا ہے ۔ ویدی زبان میں یہ کلمہ دیاؤہ Dyauh آیا ہے ۔ جس کے معنی خدا سماداتGod of Heavens  کے ہیں ۔ آخری ویدی دور میں دیاوہ یا دیوا Dyauh or Dowa کو بہت طاقت ور مانا گیا اور آسورہ Asura پر اس کی برتری دیکھائی گئی ہے ۔ شایدیہی دیوتا ہندی دیوتا شیوا Shivaہے جس کو مہا دیوا کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ کلمہ شوا بن گیا ہو ۔ ایران میں اس کے برعکس دیوا Dowa برائیوں کا دیوتا سمجھا گیا ہے اور اسے اہورا سے سرپیکار بتایا جاتا ہے ۔ یہ کلمہ فارسی میں دیو Dowa یعنی شیطان بن گیا ۔ 
دوسرے اہم دیوتا
ان اہم دیوتاؤں کے علاوہ ایرانیوں کا آرت Arta سنسکرت کا ورت Vartta یعنی خدائے گیتی ۔ آذروان Adervan یا آذر سنسکرت کا اوردان Attervan یعنی برق دیوتا ۔ ایرانیوں کا اترگنی Atragni اور سنسکرت کا اگنی Agni یعنی آگ کی دیوی ۔ ایرانیوںکا ایندراہ Andra سنسکرت کا اندر اAndra یعنی کڑک دیوتاgod of Thander  ہے ۔ یہ وہ دیوتا ہے جو ایرانیوں اور ویدوں میں مشترک تھے ۔  (9) (ڈاکٹر معین الدین ، قدیم مشرق جلد دؤم ، ۱۳۵)
 ویدوں کے دوسرے اہم دیوتا دایو Vayu یعنی ہوا ، رور Rudra یعنی وبا و طوفان ، یوشا Usha یعنی سپید و صبح ، سوریا Surya یعنی سورج ، پرجانیہ Parjanya یعنی بارش ، یاما Yama مالک ممات اور ودسوت Vivasvat چمک وغیرہ ہیں جو مختلف طاقتوں کے مالک ہیں اور مختلف فرائض ادا کرتے ہیں ۔ مگر ان میں اندرا Andra سب سے قوی ہے جو مردتوں Maruts یعنی طوفان و وبا کی روحوں کے ساتھ دشمنوں کا مقابلہ کرتا ہے اور اپنے دوستوں کو غالب کرتا ہے ۔ اس کو دشمنوں کو قتل کرنے میں بڑا مزا آتا ہے ۔ یہ سیم و زر اور مویشوں کا مالک ہے ۔  (10) 
اس کے علاوہ متعدد چھوٹے دیوتا ہیں جو بڑے دیوتاؤں کے ماتحت ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جن کا اضافہ آخری ویدی دور میں بھی ہوا ۔ ان میں ساوتر یا سوتیار Savitr or Savitar زندگی بخشنے والا ، پوشن Pushan محافظ و رہنما ، ربھو Rbhu ، موسم کا دیوتا ، برہمنپتی Brahmanaspati عبادت کا دیوتا ، وش دروپ Vishvarupa روپ عطا کرنے والا دیوتا ، توشتار Tvastar صناعی کا دیوتا ، اشون Ashvin شفق صبح ، مروت Maruta طوفان و وبا ، اریامن Aryaman شادی کا دیوتا ، گندھرو اGandhrva ساز و ترنم کا دیوتا اور سرسوستی Sarasvatt فصاحت و روانی کی دیوی قابل ذکر ہے ۔  (11)
خیر وشر کی طاقتیں 
قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایران میں خیر و شر کی دو طاقتوں کا تصور پیدا ہوگیا جس نے ان کے مذہبی عقائد پر کہرا اثر ڈالا ۔ انگرامنو Angra Mainyu یا ہر من Ahriman بدی کا دیوتا اور ہورا Ahura کے ساتھ ایک صفت مزدہ بمعنی عاقل کا اضافہ ہوا ۔ اس کے بعد ایرانیوں کے مذہبی تصورات انہی دو خداؤں یعنی خداون خیر و شر کے گرد چکر کھانے لگے ۔ ہندی آریاؤں کی طرح ایرانیوں کے درمیان بھی پرہتوں کا ایک طبقہ موجود تھا جو مغ Muge یا مجسوس کہلاتا تھا ۔ مذہبی رسوم کی ادائیگی اسی طبقہ کے متعلق تھی ۔ اس طبقہ نے بھی مذہب کے اندر بہت پیچیدگیاں پیدا کردیں تھیں ۔ قربانی کے وقت ایک مقدس گھاس کا رس پینا عبادت میں شامل تھا ۔ اس گھاس کا نام سوما Soma اور اوستا میں ہوما Haoma بتایا گیا ہے ۔ یہ غالباََ بھنگ ہے جس کا عرق آج بھی پاک و ہند میں استعمال ہوتا ہے ۔   
مورخین نے بالعموم آریائی دور کو تین حصوں میں تقسیم کیا ہے ۔ 
(۱) سابق ویدی دور 
(۲) آخری ویدی دور یا زرمیہ دور 
(۳) ہندو دور یعنی پران و سمرتی ہے ۔
آریائی دور اس عہد سے تعلق رکھتا ہے جب کہ وہ پاک ہند پر حملہ آور ہوئے تھے اور یہاں کے باشندوں سے برسر جنگ تھے ۔ 
آریوں کی مذہبی کتابیں
آریوں کی مذہبی کتابیں تعداد میں چار ہیں جو چار ویدسے نام سے مشہور ہیں ۔
(۱) رگ ویدRaf veda  
(۲) سام ویدSama veda  
(۳) یجر وید Yajur veda  
(۴) اتھرو وید Atharva veda 

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں