55

آریائی معاشرہ

رگ وید سے پتہ چلتا ہے کہ آریا قبیلوں میں مستقم تھے اور ان کی زندگی قبائلی طرز کی تھی ۔ ان کی اکثریت خانہ بدوش اور زراعت پیشہ تھے ۔ یہ دیہات میں رہنے والے اور شہروں سے ناواقف تھے ۔ اس لیے انہوں نے شہروں کی تعمیر نہیں کی ۔ یہ لوگ چٹائی اور گارے سے مکان بنا کر رہتے تھے ۔ ان کے سماج کی بنیادی اکائی خاندان تھی ۔ خاندان کا سربراہ مرد ہوتا تھا اور مشترکہ خاندانی نظام کا رواج تھا اور جائداد بھی مشترک ہوتی تھی ۔ شادیاں نوعمری میں ہوتی تھیں اس لیے خاندان کافی وسیع ہوتا تھا ۔ خاندان سماج کی بنیادی اکائی ان معنوں میں تھا کہ فرد کی افرادی ملکیت کوئی نہیں تھی اور نہ انفرادی شاخت تھی ۔ بلکہ ملکیت خاندان کی مشترکہ اور شناخت بھی خاندان کے حوالے سے ہوتی تھی ۔ نیز رشتہ ناتوں میں بھائی اور چچازاد کا فرق نہ ہونے کے برابر تھا ۔ شرادھ کی رسم کے ذریعے خاندان اپنے مرحوم بزرگوں کے ذریعے مظبوط رشتے میں جڑا رہتا تھا ۔ ان میں کسی کے مرنے پر مرحوم کی تین نسلوں تک کی اولاد مشترکہ طور پر پنڈے (چاول کے گولے)کی بھینٹ چڑھائی جاتی تھی اور دوسری رسومات بھی ادا کی جاتی تھیں ۔ یہ رسم نجی اور پوشیدہ تھی ۔ عام لوگوں ، ہجڑوں ، ذات سے بھاہر مذہب سے باہر اور حاملہ عورتوں کو اس رسم کا مشاہدہ کرنے کی اجازت نہ تھی ۔
شجرہ نسب باپ سے چلتا تھا ۔ شادی کے بعد دلہن ماں باپ کو چھوڑ کر دولہا کے گھر جاکر آباد ہوتی تھی ۔ بعد میں یہی خاندان کا ڈھانچہ برصغیر کے خاندانی نظام کی بنیاد بنا ۔ رشتوں اور ناطوں کے لیے ایک وسیع ذخیرہ الفاظ یہاں کی زبانوں میں وجود آیا جس میں رشتوں کے باریک سے باریک فرق کے ساتھ الگ الگ نام رکھے گئے ہیں ۔     فرد کی زندگی بچپن سے لے کر موت تک طرح طرح کے سمسکاروں (اصطبانوں) سے گزرتی تھی ۔ یعنی زندگی کئی حصوں میں منقسم تھی اور ہر مرحلے میں مذہبی عہد و پیمان اور رسومات کے ساتھ داخل ہونا پڑتا تھا ۔ 
آخری ویدی دور میں خاندان کا سربراہ مرد ہوتا تھا لیکن عورت کو کسی صورت میں تذلیل یا تحقیر نہیں کی گئی تھی ۔ یہ کام بعد کی تعلیمات میں انجام دیا گیا ۔ ویدوں میں اور ویدی ادب میں فرد کی زندگی کے بارے میں نہ ممانیت اور ترک لذات کا درس کا درس دیا گیا ہے اور نہ نہ شہوت پرستی کا رجحان ہے بلکہ جینسی ڈسپلن کے تحت رکھنے کو کہا گیا ہے ۔ عام طور پر ایک ہی شادی کا رواج تھا لیکن ایک سے زیادہ بیویوں کا ذکر ملتا ہے ۔ ویدوں کے آخری زمانے میں عورت کا ایک سے زیادہ شوہروں کا ذکر مل جاتا ہے ۔
مرد کی سربراہی میں قبائلی ملکیت کے بجائے خاندانی ملکیت کا اصول پختہ ہوچکا تھا ۔ اسی زمانے میں سب سے بڑے بیٹے کو باپ کی کل جائیداد کا وارث بنانے کا تذکرہ بھی ملتا ہے لیکن یہ رسم عام نہیں ہوسکی ۔ اس لیے کوسمبی کا خیال ہے کہ آریائی معاشرہ پدرسری تو تھا لیکن شروع میں باقاعدہ خاندان یا کنبہ نہیں تھا ، میاں بیوی کے جوڑے نہ تھے ۔ اس خیال کی بنیاد اس خیال پر ہے آریاؤں کے کسی دیوتا سے کوئی مخصوص دیوی بطور بیوی وابستہ نہیں ۔ دیوتاؤں کی بیویاں مجموعی طور پر گن کہلاتی تھیں ۔
آریائی جن (قبائل) کی شکل میں گلہ بانوں کی شکل میں یہاں آئے تھے اور ان کا سب سے بڑا معاش غلہ بانی تھا ۔ لیکن وید کے ابتدائی زمانے میں انہوں نے کاشت کاری شروع کردی تھی ۔ ان کا سماج دو حصوں برہمن اور راجنی یا کشتری میں منقسم ۔ مگر یہ ابتدائی زمانے میں یہ تین حصوں پجاری (برہمن) ، کشتری یا راجنی حکمران طبقہ اور وِشا (عوام) ۔ اسی زمانے میں ان گنت قبائل متحدہ سماج یا چارطبقوں میں تقسیم ہوگیا ۔ آخری ویدی زمانے میں چار ذاتیں بن گئیں ۔ برہمن ، کشتری ، ویش اور شودر ۔ ویش وہی وشا تھے ۔ مگر ان کا ایک کمتر حصہ الگ ہوکر شودر کہلایا ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں