66

آریاؤں کا تمدن

آریا زمانہ قدیم میں اپنے وطن میں ایک قوم کی شکل میں آباد تھے ۔ یہ بالکل وحشی یا جنگلی نہ تھے بلکہ تمدن سے ایک حد تک آشنا ہوچکے تھے ۔ ان کی بستیوں اور طرز زندگی کے حالات سے پتہ چلتا ہے کہ یہ مدنیت کے بعض ابتدائی اصول سے واقف تھے اور یہ لوگ پہاڑوں اور گھاٹیوں میں ایک دوسرے سے فاصلے پر جنگلے یا باڑے بنا کر تھوڑے فاصلے کھیتوں کے درمیان گھروں میں رہتے تھے ۔ کہیں کہیں حسب ضرورت دیوار (کوٹ) بھی بنالیتے تھے ۔ ان کے مکانوں میں دروازے اور مویشیوں اور جانوروں کے لیے اصطبل ہوتے تھے ۔ ان کے پالتوں جانوروں میں گھوڑے ، گدھے ، بکریاں ، بھیڑیں ، سور قاز اور کتا بھی حفاظت کے ہوتا تھا ۔ آریا آٹا پیسنا اور روٹی پکانا بھی جانتے تھے اور کچے گوشت سے سخت نفرت کرتے تھے ۔ یعنی وہ خانہ بدوشی یعنی تمدن کی ابتدائی منزل طہ کرچکے تھے اور ان میں مدنیت آگئی تھی ۔ ان کے روز مرہ کے بڑے مشغلوں میں زراعت اور مویشیوں کی پرورش شامل تھی ۔ جنہیں یہ مجموعی طور پر کاشت کاری کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ تفریح کے لیے شکار کا مشغلہ بھی تھا اور اس کے ذریعے انہیں گوشت حاصل ہوتا تھا ۔ جنگلوں اور صحراؤں کے درندوں کو اپنی بستیوں سے ان کو نکالنا اور ان کو مارنا بھی ان کا اہم مشغلہ تھا ۔ انہیں اپنی چراگاہوں اور درختوں کے جھنڈوں سے بڑی محبت کرتے تھے ۔ 
ان کی ابتدائی بستیوں سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ان میں خاندان کے باہمی تعلقات و فرائض کا تعین ہوچکا تھا اور ان کا احترام کیا جاتا تھا ۔ باپ اپنی اولاد کا محافظ اور پرورش کرتا تھا ۔ بھائی بہن ایک دوسرے کی مدد کرتے اور گھر اور کھیتی کے کاموں میں اپنے باپ کا ہاتھ بٹاتے تھے ۔ شادی بیاہ کا رواج ہوچکا تھا اور مختلف خاندانوں کے درمیان شادی بیاہ ان کے درمیان تعلقات مظبوط ہوتے تھے ۔ خاندان کا سربراہ باپ اور قبیلہ کا سردار راجن کہلاتا تھا ۔ ایک قبیلے کے لوگ آپس میں قرابت اور اتحاد رکھتے تھے ۔ اگرچہ آپس میں کبھی جھگڑے بھی ہوتے تھے اور لڑائی کی نوبت آجاتی تھی ۔ یہ جھگڑے عموماً موشیوں اور زمینوں پر قبضہ کا نزاع ہوتا تھا ۔ رفتہ رفتہ قبائلیوں میں سیادت یا مزید اراضی حاصل کرنے کے سلسلے میں لڑائیوں کا سلسلہ شروع ہوتا تھا ۔ ان لڑائیوں سے خون کا رشتہ مزید مظبوط ہوتا ۔ کیوں کہ یہ لڑائیاں مدافعت میں ہوتیں یا خانہ بدوشوں کی یورشوں سے اراضی کو محفوظ رکھنے کے لیے ہوتی تھیں ۔ یہ لٹیرے خانہ بدوش زیادہ تر غیر آریائی تھے جو تیز و مظبوط گھوڑوں میں بیٹھ کر آریاؤں کے کھیتوں اور گھروں کو لوٹنے کی فکر میں رہتے تھے ۔ 
بعض ماخذوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آریا قد آور اور طاقت ور تھے اور ان کے رنگ سفید اور بھورے تھے ۔ آنکھیں غالباً نیلی ہوتی تھیں اور عرصہ دراز تک یکجا رہنے کی وجہ ان میں یہ خصائض مستقل ہوگئے ۔ یہ حسن صورت غالباً ان کی طرز زندگی اور بعض خارجی اسباب کی وجہ سے تھے ۔ جن میں اعتدال کے ساتھ کام کرنا اور آب و ہوا کا سرد و معتدل ہونا تھا ۔ ان کے علاقہ میں جنگل اور میدان اور صحرا بھی تھا ۔ ان کا پیشہ کاشتکاری اور مویشی پالنا تھا ۔ اس لیے گہیوں ، دودھ ، گوشت اور گھی کثرت سے تھا ۔ 
دوسری قدیم اقوام کی طرح آریا بھی جب تمدن کی اس منزل پر پہنچے ہوں گے تو انہوں نے اپنی تمدنی تنظیم میں جلد سے جلد ترقی کی ہوگی ۔ کیوں کہ یہ قدم سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیاوی فلاح کے ساتھ ان کا فہم بھی ترقی کرگیا تھا ۔ ہمیں منتشر اور غیر مکمل حالات جن کا ہمیں علم ہے ان سے ان کے تمدنی حالات معلوم کرنے کی کوشش کرسکتے ہیں ۔ ان کا دھرم سیدھا سادہ تھا اور اس کی گہرائی میں نہیں گئے تھے لیکن وہ مانتے تھے کہ اس دنیا سے ہٹ ایک اور دنیا (لوک) ہے ۔ اگرچہ انہوں نے اس لوک کے کئی نام رکھنے کی کوشش کی اور اس طرح سے دہرم کو ایک محدود مذہبی خیالات پر پابند کرنا چاہا ۔ پرتما کے لیے اور دیوتاؤں کے لیے کوئی خاص نام انہوں نے مقرر نہیں کیا تھا انہوں نے بیرونی ظاہری نظاروں کو دیکھ کر ان شکتیوں کے جمود کو نہ تو وہ آنکھ سے دیکھ سکتے تھے اور نہ سمجھ سکتے تھے ۔ تاہم وہ قدرت کے کرشموں پر وہ غور و فکر کرنے لگے تھے ۔ اگرچہ دماغی تخیلات میں وہ ابھی طفل مکتب تھے اور سو سے زیادہ نہیں گن نہیں سکتے تھے ۔ مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ ان کے ذہنوں میں ہزار یا اس سے زیادہ کا تخیل نہیں آیا یا اتنی کثیر تعداد انہوں نے نہیں دیکھی تھی ۔ وہ غالباً ہزار کو دس سو کہتے ہوں گے ۔ جیسا کہ ہم بھی بارہ سو ، پچیس سو کہتے ہیں ۔
ہتھیاروں کے استعمال میں آریا ماہر اور لڑاکے تھے ۔ مگر ان کے ہتھیار زیادہ تر چکنے پتھر کے بنے ہوتے تھے ۔ وہ بعد میں تین دھاتوں چاندی ، سونا غالباً لوہا سے واقف ہوئے تھے ۔ انہوں نے ایک بھدا اور بھونڈا سا ہل بھی بنالیا تھا ۔ ان کے کپڑے چمڑے یا اون کی ہوتے تھے ۔ وہ کشتیاں بنانا بھی وہ جانتے ہوں گے ۔ کیوں کہ ان کہ علاقہ میں ندیاں اور جھیلوں بھی تھیں ۔ گو ان کا سامنا سمندر سے نہیں ہوا تھا ۔

تہذیب و تدوین
ّ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں