59

آریاؤں کی پیش قدمی

رگ وید نہ تو تاریخ ہے اور نہ رزمیہ نظم ۔ اس میں واقعات منتشر اور مبہم طریقے سے بیان کیے گئے ہیں اور اس سے صرف  اندرونی شہادت سے کام لیا جاسکتا ہے ۔ کیوں کہ اس میں تمدن کی جس منزل کا خاکہ کھنچا گیا ہے وہ ابتدائی نہیں بلکہ خاصہ ترقی یافتہ اور پیچیدہ ہے اور اس وقت کا ہے جب کہ عرصہ دراز کی ترقی کے بعد ملکیت ، اشرافیت اور پجاریوں کا وجود عمل میں آچکا تھا ۔ اس میں مختلف واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور ہم ان بھجنوں کو تاریخی کہہ سکتے ہیں ۔ اس میں جن واقعات اور ناموں سے افسانوں کا تعلق تھا وہ اس زمانے میں بخوبی سمجھے جاتے تھے اور اس کی تشریح کی اس زمانے میں ضرورت نہیں تھی ۔ مگر محقیقین کے لیے ان کا واقعات کی حقیقت تک پہنچنا سخت دشوار ہے اور روایات کا کوئی ایسا سلسلہ نہیں جس سے مدد مل سکے ۔ اگرچہ تحقیق سے بہت سے واقعات کی حقیقت تک پہنچ چکے ہیں اور پنجاب سے مشرق کی طرف آریاؤں کی پیش قدمی کا ایک خاکہ کھنچ سکتے ہیں ۔ یعنی مشرقی سرزمین جو گنگا جمنا کے درمیان ہے عہد ویدک ختم ہونے کے بعد اور برہمنوں کا عہد کے شروع میں آریاؤں کے تمدن کا مرکز ہوگئی تھی ۔ 
اس میں کوئی شک نہیں ہے آریاؤں نے اپنا تفوض بزور شمشیر قائم کیا تھا اور ان کے مختلف گروہوں نے مقامی قبائل کو بھی اپنے اندر بھی شامل کیا ۔ تاہم اس اثر و رسوخ کو اپنی کم تعداد کے باوجود برقرار رکھا یہی ان کا بڑا کارنامہ ہے ۔ انہوں نے حسن تدبیز ، تبلغ مذہب اور مقامی افراد کی ضرورتوں کے مطابق تبدیلیاں کرکے وید کے دیوتاؤں کو طاق نیسان پر رکھ کر مقامی دیوی اور دیوتاؤں کو اپنے مذہب میں شامل کرکے برہمنی یا ہندو مذہب کی بنیاد رکھی ۔ دوسری طرف انہوں برصغیر کی اقوام کو ہندو دھرم میں اپنی شرطوں پر شامل کر اپنی بالادستی کو قائم کیا بلکہ اس کو استحکام بخشا ۔ 
قبیلے اور ریاستیں
رگ وید میں ناموں کی کثیر تعداد سے محققین سخت پریشان ہیں ۔ کیوں کہ بھول بھلیوں کے پیچدار راستوں کا کھرا دریافت کرنا یعنی ان ناموں سے دیوتاؤں ، بھوتوں ، انسانوں اور قوموں میں تفریق اور معلوم کرنا دشوار تھا کہ یہ کس نسل ہیں اور کہاں آباد تھیں ؟ اگرچہ کچھ مدد اندرونی شہادت سے ملی ، کچھ مختلف اشلوکوں کے تقابل سے ، کچھ زرمیہ نظموں کے مطالعے سے ، کچھ یونانی اور عرب مصنفین کی منتشر تحریروں سے ۔ ان ذرائع معلومات سے عہد قدیم کی تاریخ پر جو تاریکی کا نقاب پڑا کچھ اٹھ جاتا ہے اور بعض اہم معلومات کی جھلک نظر آتی ہے ۔ مختلف نام جن جن اشلوکوں میں وہ مذکور ہیں ان کو یکجا کرنے بھی قابل قدر معلومات حاصل ہوئیں اور واقعات میں ربط پیدا ہوا ۔ اسی طرح کچھ سربر آور جماعتوں اور بعض شاہی خاندانوں کی پشتوں کے نسب نامے معلوم ہوئے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ رگ وید کی تدویں سیکڑوں برس تک ہوتی رہی ۔ ان میں سے دو ہم عصر خاندان اہم ہیں ۔ ایک تو خاندان ترت سو ہے جس کے پروہت قدامت پرست وسٹشھا تھا اور دوسرا خاندان پورو ۔ ان دونوں میں خاص ربط و اتحاد تھا اور ان خاندانوں کی عظمت ان کے سورماؤں کی کی وجہ سے تھی ۔ ترت سو کا سورما دیووداس تھا اور پورو کا کُت سا یا پورو کت سا تھا ۔ قبائل مذکورہ کو مع قبائل یادو ، ترواسو ، دآنو کو رگ وید میں پنج جنا پانچ قبائل یا پانچ قوم کے نام سے یاد کیا گیا ہے ۔ 
بھرت اور دوسرے اہم قبائل
بھرت قبیلہ میں شاہی خاندان ترسو گوت سے تعلق رکھتا تھا اور ویدک زمانے کا سرآور آریائی قبیلہ تھا ۔ اس نے پہلے پنجاب پر حملہ کیا تھا اور بعد میں ہندوستان کا نام اسی قبیلے کے نام سے بھارت رکھا گیا ۔ اس کی فتوحات زیادہ تر بزور شمشیر حاصل ہوئی ہوئیں تھیں اور بعض جگہ بتایا گیا کہ داسیوں سے اس کا اتحاد تھا ۔ مگر داسیوں اقوام رفتہ رفتہ ترت سو سے الگ ہوگئیں اور ایک زبردست اتحاد ترت سو کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے بنالیا ۔ کیوں کہ ترت سو تیزی سے مشرق کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے اور یکے بعد دیگے پنجاب کی ندیوں پر قبضہ کر رہے تھے ۔ ان کے نام آور بادشاہوں میں پہلا دیوؤ داس تھا ۔ جو شمال کی جنگجو پہاڑی اقوام بادشاہ شمبر سے اکثر برسر پیکار رہتا تھا ۔ شمبرنے بہت سے قلعے ہمالیہ کے دروں کے راستوں کی حفاظت کے لیے بنوائے تھے ۔ یہ لکڑی کے بنے ہوئے قلعے تھے اس لیے زیادہ تر ان کو جلانے کی کوشش کی جاتی تھیں ۔ اس لیے دیوؤ داس کے کارنامے کو بیان کرتے ہوئے اس کے خاندان کے بھاٹ وسشتھا نے فتح دینے والے دیوتاؤں میں اندر کے ساتھ اگنی کو بھی شامل کرلیا گیا ۔ ان قلعوں کی تعداد ۹۰ یا ۹۹ بیان کی جاتی ہے ۔ غالباً اس تعداد سے کثرت تعداد مراد ہے ۔ شاعر ایک مقام پر لکھتا ہے کہ ’’اے صاحب برق ! تیرا کام یہ ہے کہ تو ۹۹ قلعے دن میں نیست و نابود کردیتا ہے اور سوویں قلعے کو رات کے وقت’’۔ ترت سو کی ان شمالی معرکہ آرائیوں کے علاوہ جنوب میں بھی جنگجوئی کا سلسلہ جاری تھا ۔ ترت سو کبھی پیش قدمی کرتے اور کبھی دفاع کرتے اور ان کو ایک ندی سے سے دوسری ندی پر پہنچنے سے روکنا چاہتے تھے ۔ 
بہ حثیت مجموعی ترت سو کو کامیابی حاصل ہوئی اور ان کی فتوحات کا ذکر بھی ہے جو اس کے بیٹے یا پوتے سوداس کو اقوام یادو وتر واسو پر حاصل ہوئیں ۔ یہ پنجاب کے جنوب میں جمنا ندی تک آباد تھیں ۔ مگر یہ دونوں اقوام زیادہ تر آریا نسل سے تھیں اور سندھ اور سرسوتی کے آریاؤں کے ہم نسل تھیں ۔ ان قبائل کا مقابلہ کرنے کے لیے ترت سو نے ایک طاقت ور قوم پورو سے اتحاد کرلیا تھا ۔ پورو ڈراویڈی تھے اور وادی کابل کی گندھارا قوم سے برسر خاش رہا کرتی تھی اور یہ گھوڑوں کی بھی پرورش کرتے تھے ۔ بیان کیا گیا ہے کہ یہ اندر اور اگنی ان قوموں کے محافظ تھے اور ان کے دشمنوں کے خلاف ان کی مدد کرتے تھے ۔ وسشٹھا کے ایک بھجن میں جو اگنی کی تعریف میں لکھا ہوا ہے کہ ’’کالے لوگ تیرے خوف سے بھاگئے اے اگنی ! جب تو نے پورو کے لیے روشن ہو کر ان کے قلعے جلا دیئے تو وہ اپنا مال اور متاع چھوڑ کر منتشر ہوگئے’’۔ (رگ وید ہفتم ۳۷۶) اسی کتاب کے ایک دوسرے بھجن (رگ وید ہفتم ۱۹) میں اندر کی تعریف کی گئی ہے کہ ’’اس نے ترت سو کو یادو اور ترداسو قبائل پر فتح دی ۔ پورو کے بادشاہ کت سا کو جنگ میں فتح دی اور اس کے دشمن کو اس کے پنجے میں کر دیاـــــ’’۔ یہ دوستی دیوو داس کے مرنے کے بعد بھی قائم رہی ہوگئی ۔ کیوں کہ ایک دوسرے بھجن (رگ وید اول ۶۳،۷) میں مذکور ہے کہ ’’تو نے اے اندر ! ساتویں قلعے تباہ کر دیے ۔ اے برق کے دیوتا ! تو پوروکت سا کے لیے لڑا ۔ تو نے ان کو سو داس کے مقابلے میں خس و خاشاک کی طرح منتشر کر دیا اور پورو قوم کو مشکلوں سے نجات دی’’۔ مگر بعض محققین اس کے ایک دوسرے معنی بیان کرتے ہیں ۔ جس سے مفہوم بدل جاتا ہے یعنی ’’تو نے سوداس پر فتح حاصل کی نہ کہ اس کی مصیبت میں فتح حاصل کی ۔ 
اگر یہ تشریح درست ہے جسے روتھ اور لڈوگ جیسے محققین نے پیش کیا ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ دس بادشاہوں کی زبردست جنگ کے قبل بھی پور گت سا اور اس کے سابقا حلفا یعنی ترت سو میں نزاع کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ اس سے یہ بھی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پورو کے بادشاہ کو ترت سو پر جو عارضی فوقیت حاصل ہوگئی تھی ۔ اس سے دوسرے غیر آریا قبائل کی جو ترت سو پر عارضی فوقیت حاصل ہوگئی تھی ۔ اس سے دوسرے غیر آریا قبائل جو ترت سو کی پیش قدمی سے ناراض تھے ہمت بڑھ گئی تھی اور انہوں نے مدافعت اور اولعزم آریا قبائل کی پیش قدمی کو روکنے کے لیے ایک زبردست جتھا قائم کر لیا ہو ۔ جو یادو اور تر داسو کے اتحاد کے مماثل ہو ۔ عبارت مذکورہ بالا کے معنی خواہ کچھ بھی ہوں مگر سلسلہ واقعات پر اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا ۔   
بھرت قبیلے کے بعد آریاؤں کا اہم سیاسی قبیلہ پُورو تھا ۔ پُورو قبیلہ کا چار آریائی قبیلوں آنو ، ، درہیو ، ترش اور یادو قبیلہ سے اتحاد تھا ۔ ان پانچ قبیلوں کو پنج جَن کہتے تھے اور ان کی مشترکہ سلطنت کرشتایہ کہلاتی تھی ۔ یہ گویا سپتا سندھوا سلطنت سے علحیدہ ایک ریاست تھی ، اس کا علاقہ سرسوتی کے قریب تھا ۔ اس کا مطلب ہے یہ قبیلہ بھرت کے مشرق میں شاید ہماچل پردیش کے میں ۔
پورو قبیلہ کے چار بادشاہوں کا ذکر رگ وید میں آیا ہے ۔ یہ چاروں یکے بعد دیگر راجہ بنے ۔ پہلا راجہ درگا ، پھر اس کا بیٹا گرگشت اور اس کے بعد پُورو کُتس بادشاہ بنا ۔ پُورو کُتس نے پہلے داسوں سے جنگ جیتی ، مگر بعد میں دس راجاؤں کی لڑائی میں سداس کے خلاف فوج کشی کی اور شکست کھا گیا ۔ اسی زمانے میں اس کا بیٹا ترس داسیو پیدا ہوا قبیلہ نے اسے راجہ مان لیا اور اس کے جوان ہونے کے قبائلی یکجہتی کو قائم رکھا ۔ جب جوان ہوا تو اس نے داسیو قبائل سے جنگیں لڑیں ۔ اسی وجہ سے اسے ترس داسیو (داسیو کا جلاد) کا خطاب دیا گیا ۔ اس کے علاوہ رگ وید میں کئی پُورو بادشاہوں کے نام آئے ہیں ۔ مثلاً تریارن ، کوروکُرن ، اتراتھتَی ، تردویش ، تری واتو ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے راجہ پورس جس نے سکندر جنگ کی تھی اسی خاندان سے تھا ۔ 
ایک راجہ اَربُد کو اندر نے صرف اس لیے کچل دیا تھا کہ وہ داس تھا ۔ ایک دفعہ اندر کی لڑائی ’کویو’ سے ہوتی ہے ۔ کویا ’ک’ کے معنی تبرے کے ہیں اور یو جو کو کہتے ہیں ۔ اس کے معنی خراب فضل کے ہیں ۔ لیکن لڑائی کا بیان ایسا ہے کہ اسے جو کی خراب فضل کاٹنے سے نہیں مانا جاسکتا ہے ۔ اندر کی یہ لڑائی بڑی سخت تھی ۔ کوسمبی کا کہنا ہے کہ یو سے مراد داس بادشاہ نموچی تھا جو کہ کوہستان نمک کا حکمران تھا ۔ نموچی کی فوج عورتوں پر مشتمل تھی اور اندر اسے دیکھ کر ہنستا تھا ۔ لیکن اندر اسے شکست نہ دے سکا تو اس سے صلح کرلی ۔ بعد میں نموچی کو دھوکہ دے کر شکست دینے میں کامیاب ہوگیا اور اس کا سر قلم کردیا ۔ ایک اور جگہ اندر نے داس ’ارش سانس’ کا پیارا سا سر کاٹ لیا ۔ یہ سر پیارا اس لیے تھا کہ رشی گِرت سُمند کو ارش سانس سے کچھ ملتا رہتا تھا ۔ اندر اور بھی کئی موقعوں پر اپنے پیارے جانوروں ، انسانوں اور دیوتاؤں کا سر کاٹتا رہتا تھا ۔ شاید یہ قربانیاں تھیں یا اختلافات ۔ ایک جگہ اندر نے شیطان پِپِِِِِِرو کا پور توڑا اور اس سے بہت سی دولت (رِجیش وَن) اکھٹی کی جو کہ آریا تھا ۔ اندر کا سب سے برا دشمن شام برار یا شامبر یا شمبر تھا ۔ یہ ایک دوسرے راجہ وڑچن یا وڑچی کے ساتھ اتحاد تھا ۔ شامبرا کے کئی قلعے تھے ۔ دیوداس کا دشمن تھا ۔ شامبر اور دیوداس کی جنگ ہوئی ۔
رگ وید عین اس زمانے کی تخلیق نہیں ہے جب مقامی آبادی سے آریاؤں کی بڑی فیصلہ کن جنگیں جاری تھیں ،  اگرچہ بعض نے داس اور داسیو میں فرق کیا ہے اور کہا یہ دونوں ہم معنی الفاظ نہیں ہیں ۔  
رگ وید میں اندر کی فتحوحات کا بار بار ذکر آیا ہے ۔ (اندر پُورم دریا پورن در) یعنی شہروں کو تباہ کرنے والا ہے ۔ اندر نے داس بادشاہ شام برا کے یکے دیگر بعد ئی قلعے تباہ کیے ۔ رگ وید میں ہے کہ اگنی دیوتا کے خوف سے کالے رنگ کے لوگ اپنا بھرا پرا شہر چھوڑ کر بھاگ گئے ۔ اس طرح تیتریہ برہمن میں قدیم باشندوں جن کو شہروں سے بھگایا گیا ہے ان کے سامان بطور سوغات کا ذکر ہے ۔
رگ وید میں اندر کی ایک بڑی خوبی پورم ور (قلعوں کو تباہ کرنے والا) مگر آریاؤں کے بارے  میں کہیں نہیں یہ آیا ہے کہ انہوں نے شہر بسائے یا قلعے تعمیر کرے ۔ 

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں