95

آریاؤں کے ترانے

اس علاقے سب سے پہلا ذکر رگ وید ملتا ہے ۔ آریا جب ہندو کش کے راستے برصغیر میں آتے ہوئے جب وہ سندھ ندی کے کنارے پہنچے ۔ جس کی وسعت اور پانی کے ذخیرے نے ان پر بہت گہرا اثر کیا اور وہ ہیبت زدہ ہوگئے ۔ اس کے وسیع و عریض پانی کے ذخیرہ کو دیکھ کر اسے سمندر کے نام سے پکارا ۔ آریا سمندر سے واقف نہیں تھے اور وہ بادلوں کو سمندر کہتے تھے یعنی پانی کا ذخیرہ ۔ کیوں کہ بادلوں میں پانی کا ذخیرہ ہوتا تھا اور اس دریا میں پانی کا بہت بڑا ذخیرہ تھا اور وہ اسے بھی سمندر کہتے تھے ۔ رگ وید میں بہت سی ندیوں کے نام اور اشلوک ملتے ہیں مگر ان میں سے نصف سے زیادہ اشلوک سندھ دریا کی تعریف میں ہیں ۔

دریائے سندھ کو وید میں سرسوتی بھی کہا گیا ہے ۔ یعنی فصاحت کی دیوی اور رگ وید میں دو اور سرسوتیوں کا ذکر ملتا ہے ۔ ان میں پہلی افغانستان کا دریائے ہلمند ، دوسرا دریائے سندھ اور تیسری سرسوتی جو کہ پنجاب کے مشرق میں پہلے بہتی تھی مگر اب خشک ہوکر غائب ہوچکی ہے ۔ 

سندھ گھوڑوں سے مالا مال ، رتھوں سے مالا مال ، کپڑے بستر سے مالا مال اور ہمیشہ عمدہ اون سے مالا مال ، سلما پودا جس سے بان اور رسیاں بنتی ہیں سندھ میں بہت ہیں اور خوش قسمت سندھو کے کنارے شہد دینے والے پھولوں سے آرستہ ہیں ۔ (رگ وید ، دسواں منڈل سوکت 75)

ٰایک رشی نے رگ وید میں گنگا ، جمنا ، سرسوتی ، درشدنی اور پنجاب کی پانچ ندیوں کا ایک ہی سوکت (75) کا جائزہ لیا ہے ۔ لیکن سندھو ندی کی تعریف کرتے ہوئے اس کا جی نہیں بھرتا ہے ۔ وہ کہتا ہے ، سندھو ندی تو اجیت ہے (کسی کے جیتنے والی نہیں) وہ سیدھی بہتی ہے ۔ اس کے پانی میں تیزی بہت ہے ۔ اس کا رنگ سفید و روشن ہے (پانی سا میلا نہیں ) اور وہ بڑی ندی ہے اس کے پانی میں تیزی بہت ہے اور چاروں طرف سیلاب لاتی ہے ۔ جو بھی محترک چیزیں ہیں اتنی تیز رفتار نہیں ہیں جس طرح یہ یہ سندھو ہے ۔

ٰٓوہ رشی مزید لکھتا ہے کہ اے سندھو تو میدانوں میں بہتی ہے تب اپنے ساتھ بے شمار کھانا لاتی ہے (یعنی تیرے پانی سے بے شمار فضلیں ہوتی ہیں) ۔ تیرا پانی اتم ہے اے سندھو تیری خوبصورتی کا موازنہ کیا جائے تو نویلی دلہن جیسی ہے ۔ سندھو تم سدا جوان سدا خوبصورت ہو ۔

رگ وید کے زمانے میں اس دریا میں بہت سے ندیاں گرتی تھیں اور ان کے نام رک وید میں آہیں اور ان سب کی پہچان مشکل ہے ۔ وہ کہتا ہے اے سندھو ، پہلے ترشتما Trishtama سے مل کر بہتی ہے پھر تو سسرتو Susartu اور رسا ، سویتی (سوات) سے ، کھبا (دریائے کابل) ، گومتی (گومل) میتہوMehtanu اور کرموں (کرم) کے ساتھ مل کر بہتی ہے ۔

وہ مزید لکھتا ہے سندھو کی گرج سے زمین کانپ اٹھتی ہے اور اس سے آسمان بھر جاتا ہے ۔ سندھو نہایت زور سے بہتی ہے وہ سندر دیکھتی ہے ۔ اس کے پانی کی آواز آتی ہے جو دل کو یوں لگتی ہے جیسے گویا برسات کے پرنالے گرج کر برس رہے ہوں ۔ دیکھو سندھ بیل کی طرح دکاڑتی ہے ۔

اے سندھو جس طرح دودھ دیتی گائیں دودھ سے بھرے تھنوں کے ساتھ اپنے بچھڑے کی طرف ڈورتی ہیں ، اس طرح دوسری ندیاں علحیدہ علحیدہ جگہوں سے پانی لے کر تمہاری طرف ڈکارتیں ہوئی آتی ہیں ۔ 

اے سندھو ، جس طرح کوئی راجہ جنگ کرنے کے لیے نکلتا ہے اور اس کے پیچھے لشکر ہوتا ہے ۔ اس طرح تو بھی ( شان و شوکت سے) ندیوں کے آگے پیشوا بن کر چلتی ہے اور دوسروں ندیاں ایک قطار میں تیرے پیچھے اس طرح چلتی ہیں گویا ایک ہی رتھ میں سوار ہو ۔

اس وقت دریائے سندھ مٹھن کوٹ کے مقام پر پنجاب کے دریاؤں کے ساتھ مل کر ایک دریا کی صورت میں آتی ہے ۔ لیکن رگ وید کے زمانے میں اس کی بہت سی شاخیں بن جاتی تھیں ۔ اس لیے اسی دسویں منڈل میں سوکت 75 میں کہا گیا ہے کہ سندھو ورن دیوتا نے تیرے لیے بہت سارے راستے بنائے ہیں ۔ ان راستوں کا تذکرہ پارسی پستکوں میں بھی ملتا ہے ۔

پارسیوں کی زند اوستا میں ہمالیہ کو البورز (بالائی پہاڑ) کہا گیا ہے اور وہاں بہنے والی دو ندیوں کو اہم بتایا گیا ہے ایک وہ Veh اور دوسری ارنگ کہا گیا ہے ۔ یہ وہ وہی ہے جس کا موجودہ فارسی زبان میں تلفظ بہہ بمعنی اچھا یا دوسروں سے اچھا ۔ یہ سندھ کا صفاتی نام ہے جو قدیم نام ہے جو قدیم ایران میں رائج تھا ۔ پارسیوں کی بندہش کتاب میں سندھو کا دوسرا نام مہرا لکھا ہوا ہے ۔

دریائے سندھ کا ایک اور نام کاسک بھی ملتاہے ۔ ہندو پرانوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاشی (بنارس) جن کا نام کاسیوں کی وجہ سے مشہور ہوا ان کا جد امجد کاسک تھا ۔ جس کی وجہ سے بنارس کو کاسکا اور کاشی بھی کہتے ہیں ۔   

رگ وید کے مطابق قدیم آریا سات دریاؤں کے کنارے آباد ہوئے تھے ۔ اس لیے یہ علاقہ سپت سندھو یعنی سات دریاؤں کی سرزمین کہلاتا تھا ۔ بعض کا خیال ہے کہ ان سات دریاؤں میں پانچ دریا پنجاب کے ، چھٹا سرسوتی اور ساتواں دریا سندھ ہے ۔ اس میں گرنے والے دوسرے دریا جن میں دریائے کابل ، دریائے گومل ، سوات اور دریائے کرموں (کرم ) دریا شامل تھے ۔ دریاؤں کے یہ نام رگ وید کے منڈل دس میں درج ہیں ۔ ان میں گنگا اور جمنا بھی شامل ہیں ۔ پہلے دریائے سندھ بہت اہم تھا اور دریائے سرسوتی مقدس سمجھا جاتا تھا ۔ اس لیے رگ وید میں صرف ان دونوں دریاؤں کی تعریفیں کیں گئیں ہیں ۔ دریاے جمنا کے پار آریاؤں کے سندھو دیش میں شامل نہیں کیے جاتے تھے ۔ بعد میں آریاؤں کے وہاں نفوذ کرنے کے بعد سندھو ہندو سے بدل گیا جس سے ہندوستان بنا ۔ جو کہ پورے برصغیر کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ دریائے سندھ اور سرسوتی کے درمیانی علاقہ رگ وید کے تیسرے (33۔4) منڈل میں دیونی کرت یونی Devkrtayoni کہا گیا ہے ۔ جس کہ معنی دیو یا بھگوان کا بنایا ہوا ملک ۔ 

رگ وید میں درج ہے کہ اس زمانے میں سندھ کا راجہ سونیہ بھاوییہ Svanya Bhavya جس کی رانی کا نام روماسا تھا ۔ شتھ برہمن میں درج ہے کہ یہ راجہ آریاؤں کے قبیلے کروی Krivi میں سے تھا ۔ ان میں سے کچھ دریائے سندھ کے کنارے رہتے تھے اور کچھ اسکنی Healing ندی کے کنارے رہتے جو سکندر اعظم کے زمانے میں چندر بھاگا کہلاتی تھی اور اب اسے چناب کہلاتی ہے ۔ ان کے دور کے رشتہ دار پرو اور بھرت آریا ہے ۔ جن کے ساتھ راجہ سوداس نے لڑائی کی تھی ۔ کہا جاتا ہے کہ راجہ سورداس اور اس کے دادا دووداس کے درمیان سندھ کا راجہ سونیہ بھاوییہ اور دس راجاؤں کے لڑائی اس کے بعد کی ہے ۔ جو کہ راوی کے کنارے لڑی گئی تھی ۔ راجہ ترسو داس کا تعلق آریائی قبیلے ترسو سے تھا ۔ پرانوں کے مطابق بعد میں یہ پنجال کہلائے ۔ سونیہ بھاوییہ بھی پنجالوں میں سے تھا ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وادی سندھ پر پنجالوں کی حکومت تھی ۔

سونیہ بھاوییہ کا بڑا بیٹا بڑا ہی دھرماتما تھا ۔ اس کی تعریف ایک رشی کشون نے کی ہے ۔ کشون پیدائشی اندھا تھا ۔ مگر اسے دیوتاؤں کی پوجا کے بعد اس کی آنکھیں درست ہوگئیں تو اس نے دیوتاؤں کی تعریف بہت سے گیت کہے جو کہ رگ وید میں درج ہیں ۔ سونیہ بھاوییہ نے اس رشی سے اپنی دس بیٹیوں کو بیاہ دیا اور اسے بہت مال و دولت دی تھی ۔ کشون نے راجہ کی تعریف میں قصیدے کہے جو رگ وید کے پہلے منڈل میں درج ہیں ۔

کشون نے لکھا کہ اس راجہ نے مجھے سو سونے نشک (سکے) ، سو گھوڑے ، سو بیل ایک ہزار ساٹھ گائیں اور گیارہ رتھ دیئے ۔ ہر رتھ میں چار چار گھوڑے جوتے ہوئے تھے ۔ جن پر موتیوں سے جڑی ہوئی زین ہوتی تھی ۔

رگ وید اسی منڈل میں کچھ مصرائیں اس کی رانی روماسا کے متعلق ہیں ۔ جن میں کہا گیا ہے کہ یہ رانی ایک دفعہ ایسا لباس پہن کر آئی کہ یہ گندھارن لگ رہی تھی ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں