60

آریا اور عربوں کی زبان دانی

پروفیسر اجمل صدیقی صاحب آریا اور عربوں کو اکثر مورخین انہیں وحشی کہتے ہیں عرب اسلام سے پہلے اور آریا ہند میں داخل ہونے کے پہلے دونوں کی زباں دانی پر سب متفق ہیں اور ایک وحشی قوم اعلی زبان کیسے تخلیق کرسکتی ہے ؟
صدیقی صاحب آپ نے آریائوں اور عربوں کی زبان دانی اور بلاغت کے بارے میں سوال اٹھایا ہے ۔ اگرآپ کے بجائے کوئی اور سوال کرتا تھا تو میں اسے نظر انداز کردیتا ۔ کیوں کے جواب ان کے فہم سے بالاتر ہوتا ۔ مگر آپ جیسا اہل علم سوال کرے تو جواب دینا لازم ہوجاتا ہے ۔ لہذا اس سوال کا جواب دینا لازم ہوجاتا ۔ 
سب سے پہلے کچھ آریاؤں کی زبان دانی کے متعلق کچھ باتیں ہوجائیں ۔  
آریائوں کی بلاغت اور زبان دانی طور پر یہ ہماری لاعلمی اور پروپیگینڈہ پر مبنی ہے اور آریائی زبانوں کے اس خیال کی بنیاد اس کی بلاغت پر نہیں بلکہ ان کے پھیلائو کی وجہ سے ہے جو یورپ سے برصغیر تک پھیلی زبانیں ہیں ۔ جس کی وجہ سے یہ تصور کرلیا گیا کہ اتنی وسیع زبان کی بنیاد فصیح و بلیغ زبان ہوگی ہے ۔ آریائی زبان کی سب سے قدیم دستاویز وید ہے ، جسے لوگ سنسکرت سمجھتے ہیں ۔ حقیقت میں وید کی زبان سنسکرت سے بہت مختلف ہے اور اس کے بہت سے الفاظ اب بھی ہمارے فہم سے بالاتر ہیں اور اس لیے وید کے بہت سے حصے اب تک سمجھ سے بالاتر ہیں ۔ یہی وجہ ہے وید کی تفہیم و تفسیر پانچویں صدی قبل مسیح سے پندویں صدی عیسوی تک لکھی جاتی رہیں ۔ اب وید کا ہندی ترجمہ گیا ہے اور اس میں بعد کے عقائد اور مذہب کو ملانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یعنی قدیم تعبیروں سے مختلف یا مغربی مفکرین نے کیا ہے اس سے بہت مختلف ہے ۔ 
میں اوپر لکھ چکا ہوں ویدی زبان سنسکرت نہیں تھی ۔ اگرچہ سنسکرت ویدی زبان سے ہیں نکلی ہے کہ مگر ویدوں میں الفاظ کا خزانہ بہت محدود تھا اور اس میں مذہبی خیالات کو ادا نہیں کیا جاسکتا تھا ۔ لہذا ویدوں کے بہت سے حصے فہم سے بالا تر ہوگئے ہیں لہذا یہ زبان عام بول چال میں اوستا کی طرح کبھی بھی کسی طبقہ میں مروج نہی رہی ہے ۔ لہذا یہ ہمیشہ عام لوگوں سے بہت دور رہی ۔ یہاں تک اس کی وارث سنسکرت پر ہمیشہ ایک پروہتانہ چھاپ رہی ہے ۔ یہ زبان سب کے قدیم سے سکوں میں ملْی ہے جو پہلی صدی عیسوی کے ہیں ۔ مگر اس میں عبارتیں درج نہیں ہیں بلکہ ایک آدھ لفظ لکھا ملتا ہے اور باقی عبارت پالی یا کسی اور مقامی زبان میں ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ ان لفظوں کو لکھنے کا مطلب عقیدت یا حصول برکت تھا اور یہ سکے بنانے ڈھالنے والوں کی کارستانیاں ہیں ۔ پھر دوسری صدی عیسوی میں مختصر عبارتوں کے کتبے ملنا شروع ہوئے ۔ یہ زیادہ تر برتنوں یا کسی پجاری کو دان کے بارے میں ہیں ۔ مگر ان کی زبان سخت ناقص اور اس میں نحویوں غلطیاں کثرت سے ہیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ لکھنے والے کی زبان سخت ناقص ہے ۔ لیکن تیسری صدی عیسویں سے ان کتبوں کی زبان بہتر اور ان میں غلطیاں کم ہونا شروع ہوگئیں اور ان میں بہت سے پالی یا دوسری زبان کے الفاظوں کو سنسکرت میں دھالا گیا یا شامل کیا گیا ۔ جس سے سنسکرت کے الفاظوں کا خزانہ بڑھا اور چوتھی صدی میں یہ اس قابل ہوئی کہ ادبی زبان بن سکے ۔ تاہم یہ عوامی زبان کبھی بن سکی ۔ اس کی بلاغت کا کے معیار کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ چوتھی صدی عیسوی کا گپتا خاندان کا مشہور ڈرامہ نگار لکھتا ہے اس کے راجہ کا شجرہ نسب ہمارے وزیر کی ناک سے لمبا ہے ۔ تاہم اس میں تصیف و تالیف کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ لیکن اس طرح موجودہ رسم الخط دیوناگری (دیوتاؤں کا رسم الخط) دسویں صدی سے پہلے وجود نہیں آیا تھا اور اس رسم الخط کے ابتدئی کتبے گیاویں صدی کے ہیں ۔ 
آپ شاید کچھ مشہور ناموں مثلا ناموں مثلاً پانی اور چانکیہ کا نام لیں کے ۔ پانی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے سنسکرت کی گرائمر کو ترتیب دے کر اس کو ایک مکمل زبان زبان بنایا ۔ اس کی مشہور کتاب دیا کرن ہے اور یہ پانچویں ق م صدی عیسوی کی بتائی جاتی ہے اور اس طرح چانکیہ جو چوتھی صدی ق م کی شخصیت بتائی جاتی ہے اور اس کی کتاب ارتھ شاستر بہت مشہور ہے ۔ میں سنسکرت اور ان کے حوالے سے پہلے بہت کچھ لکھ چکا ہوں ۔ جن کا ماحاصل یہ ہے کہ یہ جعلی شخصیتیں تھیں ۔ کیوں کہ اس وقت سنسکرت وجود میں نہیں آئی تھی اور چوتھی صدی عیسوی میں اس قابل ہوئی کہ ادبی زبان بن سکے تو اس کو پانچویں صدی قبل مسیح میں پانی نے اسے کیسے فصیح و بلیغ زبان بنا دیا تھا ۔ اس طرح چانکیہ کی زبان دانی کو ایک طرف رکھیں اور اس کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے اس کی مدد سے چندرا گپت نے موریہ سلطنت کی بنیاد رکھی ۔ مگر اس طاقتور شخصیت نے جس نے  موریہ راجہ کو ایک عظیم سلطنت کا مالک بنادیا تھا ۔ مگر نہ اس کا یونانیوں نے ذکر کیا اور کسی اور ماخذ سے سوراخ ملتا ہے اور ارتھ شاستر میں چانکیہ نے اپنے بارے میں یا موریہ راجہ یا کسی علاقہ کے بارے میں ایک لفظ لکھتا ہے ۔ اس طرح وہ جن علوم کی بات کرتا ہے اس زمانے میں وجود میں نہیں آئے تھے اور نہ اس زمانے میں کسی شخص کے لیے ممکن تھا کہ وہ ان تمام علوم پر حاوی ہوسکے ۔ لہذا میرا خیال ہے ہے یہ کتب پندویں صدی عیسیویں کے بعد لکھی گئیں ہیں ۔ لہذا آریاؤں کی زبان دانی میں میں حقیقت نہیں ہے ۔
اب عربوں کی زبان دانی کی کچھ بات ہوجائے ۔ عربوں کا دور آریائوں سے دو ہزار سال بعد کا ہے اور ان کے علاقہ کا محل وقوع ایسا تھا ان کے آس پاس بہت عظیم شان سلطنیں اور تہذیبوں نے جنم لیا تھا اور وہ خود بھی تاجر پیشہ تھے ۔ اس لیے ان کی زبان دانی کی صلاحیتیں عجیب نہیں تھیں ۔ کیوں کے عربوں میں دو چیزوں پر فخر کیا اجاتا تھا ایک بلاغت اور دوسری دلاوری پر ۔ اس لیے وہ بہترین شاعر بھی تھے اور ان کے بہترین کلام زیادہ تر ان ہی چیزوں پر مشتمل تھا اور اب تک ان کا کلام زندہ ہے اور اب بھی انہیں بلاغت کا شکار سمجھا جاتا تھا ۔ خیال رہے الفاظ پہلے وجود میں نہیں آتے ہیں بلکہ وہ خیالات اور ضرورتوں کے زیر اثر ہوتے ہیں ۔ لہذا عربی میں وہ چیزیں جو ان میں مروج تھیں ان کے لیے سیکڑوں الفاظ تھے ۔ مثلاً تلوار ، کھجور اور اونٹ وغیرہ کے لیے ہزاروں الفاظ تھے ۔ لیکن چراغ اور پاجاما وغیرہ کے لیے کوئی الفاظ نہیں تھا ۔ لہذا بلاغت کا تعلق بھی استعمال اور ضرورتوں سے ہے اور میں وہی الفاظ اور خیالات استعمال کرتے ہی جو آپ کے ئیہاں مروج ہوتے ہیں اور اس کا تعلق آپ کے اخلاقیات رویوں سے نہیں ہے اور انہوں نے اپنی شاعری میں چیزوں اور رویوں کو استعمال کیا ہے جو ان کے یہاں مروج تھیں ۔  
تحریر و تدوین 
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں