104

آریا کون ہیں ؟

آریا تقریباً ایک ہی زبان بولتے تھے اور عبادت اور زندگی کا طریقہ گزارنے کا طریقہ بھی ایک ہی تھا ۔تقریباً ایک ہی زبان بولتے تھے اور عبادت اور زندگی کا طریقہ گزارنے کا طریقہ بھی ایک ہی تھا ۔تقریباً ایک ہی زبان بولتے تھے اور عبادت اور زندگی کا طریقہ گزارنے کا طریقہ بھی ایک ہی تھا ۔
آریا نہ کسی نسل انسانی کا نام ہے نہ کسی واحد گروہ کا بلکہ بے شمار قبائل کو مشترکہ طور پر آریا کہا جاتا ہے ۔ ان کی زبان بھی ایک نہیں تھی بلکہ آریائی لسانی گروہ کی بے شمار زبانیں اور بولیاں تھیں ۔ جو ایک دوسرے سے ملتی جلتی تھیں اور ہر گروہ دوسرے کی زبان کو سمجھ سکتا تھا ۔ یعنی آریا متفرق قبائل تھے اور ان کی متفرق بولیوں کے علاوہ ان کی ثقافتیں بھی مختلف تھیں ۔ یعنی عبادت اور زندگی کا طریقہ گزارنے کا طریقہ تقریباً ایک ہی تھا ۔ یہ خود کو آریا کہتے تھے اس لیے انہیں آریا کہا جاتا ہے ۔ آریائی زبانوں جو آپس میں ملتی جلتی ہیں اور انہی زبانوں کو بولنے والے آریا سمجھے جاتے ہیں ۔ آریاؤں کی ایک شاخ ہند آرہائی تھی جو ایران و برصغیر آئے تھے اور دوسری شاخ یورپی آرین جو یورپ میں جاکر آباد ہوئے ۔ 
برصغیر میں آنے والے آریاؤں کے ابتدا میں پانچ بنیادی قبائل تھے ۔ جو پنج جن یا پنج کرشتایہ کے نام رگ وید میں آریاؤں کے لیے استعمال ہوا ہے ۔ بعد میں رفتہ رفتہ ان قبائل کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا ۔        
برصغیر میں آنے والے آریاؤں کی مذہبی زبان ویدک تھی اور یہ قدیم ایرانی زبان اوستا سے قدر ملتی جلتی تھی ۔ جسے بعد میں غلط نام سنسکرت کہا جاتا ہے ۔ جب کہ سنسکرت بہت بعد کی زبان تھی اور اس کی مشابہت قدیم فارسی سے ہے ۔ آریا دیوتاؤں کے ایک طویل سلسلہ جس کا اختتام جنگجو اندر دیوتا پر ہوا ہے کو پوجتے تھے اور ہجرت کے انہوں نے افغانستان کے جنوبی علاقہ اور موجودہ پاکستان میں مقدس وید لکھی جسے یہ الہامی کتاب کہتے ہیں ۔ 
قبل تاریخ کے آریا جنگجو ، لوٹ مار کرنے والے پدسری قبائل گھڑ سوار تھے اور لاشوں کو جلاتے تھے ۔ ان کے یہاں اگنی (آگ) سب سے بڑا دیوتا تھا ۔ ایرانی اپنی لاشوں کو مردار پرندوں کے حوالے کرتے تھے اور لاش کو رکھنے کی جگہ دخمہ کے معنی لاشوں کے جلانے کی جگہ کے ہیں ۔ گو ابتدا میں جلانے کا رواج صرف آتش پرست پجاریوں تک محدود تھا ۔ بعد ان کے پیروکاروں نے بھی اسے اپنالیا ۔ 
برصغیر میں آریاؤں کی آمد کا واحد ثبوت اب تک رگ وید ہے اور مختلف اثری کھدائیوں میں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے جسے فیصلہ کن کہا جاسکے ۔ حقیقت میں آریاؤں کی ہجرت ۲۰۰۰ ق م میں شروع ہوئی تھی اور ان کی آمد لشکر کی صورت میں ہوئی تھی ۔ اگرچہ کئی آثار کے بارے میں کہا گیا کہ یہ آریاؤں کے آثار ہیں ۔ 
رگ وید سے معلوم ہوتا ہے کہ آریہ جس خطہ میں آباد ہوئے تھے وہاں داسیو کثرت سے تھے ۔ ان داسیوں کی آریاؤں سے کشمکش مسلسل جاری تھی ۔ گویا وہ ایک دشمن دیس میں آباد ہوئے تھے ۔ داس کلمہ کا رشتہ ایرانی لفظ دیہی یا دیہہ سے جوڑا گیا ۔ جس کا مطلب دیہاتی ، گنوار اور گاؤں کا رہنے والا ہوسکتا ہے ۔ یہ لفظ عام دیہاتیوں کے لیے یا کسی بڑے کاشتکار قبیلے کے لیے بولا جاتا تھا ۔ بہرحال یہ کلمہ کا مطلب مفتوحہ لوگ یا قرار پایا گیا ۔ 

تہذیب و تدوین
ّ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں