63

آریا کے معنی

آریاکے معنی سنسکرت میں بلند مرتبہ اور معزز کے آئے ہیں ۔ یہ معنی غالباََ آریوں نے برصغیر میں اپنائے ہیں ۔ کیوں کہ وہ مقامی باشندوں کو پشیاجی یعنی کچاگوشت کھانے والے ، داس یعنی غلام اور تشا یعنی حقیر کہتے تھے ۔ جب کہ اس کے مقابلے میں وہ خود کو آریاکہتے تھے ۔ 
میکس ملرMax Mullerکا کہنا ہے کہ کلمہ آریا آر سے مشتق ہے جس کے معنی ہل جوتنے اور زمین کاشت کرنے والے کے ہیں ۔ چنانچہ یہ کلمہ کاشتکاروں پر صادق آتا ہے ۔ تاریخ میں اس سے مراد کاشت کاروں کی وہ قوم جو تقریباََ وسط ایشیا سے نکلی اور یورپ ، ایشیا کوچک اور ہندوستان میں واردد ہوئی ۔ عبدالحئی حبیبی کا کہنا ہے کہ آریا زراعت پیشہ تھے اور آریا مرکب آر اور ہائے نسبتی کا ۔ آر کہتے ہیں نوکدار چیز کو جس سے مراد ہل کی پھال کے ہیں ۔ پس آریاکے معنی زراعت پیشہ یا کاشتکار کے ہیں ۔ 
آریاکی اس تعریف سے بعض محققین نے اختلاف کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ آر منفرد ہے ۔ آر نوک دار چیز کو کہتے ہیں جیسے نیزے کی انی ، تیر کی نوک ، میخ کا نوک دار سرا اور جانوروں کو ہاکنے ولی چھڑی یا لکڑی جس کے سرے پر لوہے کی چھوتی سے میخ لگی ہوتی ہے ۔ 
  عبدالحئی حبیبی اور میکس ملر کہنا ہے کہ آریا زراعت پیشہ تھے ۔ لیکن یہ کلیہ قدیم زمانے میں ہر قوم جس کا تمدن ترقی یافتہ تھا پر صادق آتا ہے اور ابتدائی تہذیبوں میں تین پیشہ یعنی ، سپہ گری ، زراعت اور غلہ بانی معزز ہوتے تھے ۔ جبکہ دستکاری غلام یا عورتیں کرتی تھیں اور یہ پیشے حقیر سمجھے جاتے تھے ۔    
کوئی بھی کلمہ جو منفرد ہو اکشر ابتدا میں مرکب ہوتا ہے اور اس میں کسی اختلاف کی ضرورت نہیں ہے ۔ کلمہ آریا بھی اسی طرح آر اور ہائے نسبتی کا مرکب ہے ۔ تاہم میں اس سے اختلاف کرتا ہوں کہ آریوں کے نزدیک آر کے معنی ہل یا نوک کے ہوتے تھے ۔ اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔ 
ول درراٹ Will Durantکے مطابق آریاکے ابتدائی معنی کسان کے ہیں ۔ آریا اوئل سے ہی زراعت پیشہ اور گلہ بان تھے ، جانوروں کا پالنا اور کھتی باڑی ان کے خاص پیشہ تھے ۔ اسی پر ان کی دولت کا انحصار تھا ، وہ گھوڑے اور بیل کے ذریعے زمین کو جوتنا اور نہروں کو سیراب کرنا جانتے تھے ۔ یہ لوگ تجارت پیشہ نہیں تھے ۔
یہ کلمے مختلف شکلوں میں ملتا ہے ۔ مثلاَََ ایران ، آئر ، آریانہ ، ارش ، اور ارسطو وغیرہ کے علاوہ یہ کلمہ آریا ورت Aryavartta ، اریا Aria ، آرکوشیہ Arcosia اور ارکوفہ وغیرہ مختلف علاقوں کے ناموں کی صورت میں یہ کلمہ ملتا ہے ۔ اوستا میں آرت Arattaجو رگ  وید میں ورت Vartta آیاہے جس کے معنی خداوند گیتی کے ہیں ۔ 
ایرانیوں کا خداوند گیتی ہی اس کلمہ کی اصل ہے ۔ اس میں ار = زمین اور ت نسبتی ہے ، بمعنی مالک زمین یا زمین کے مالک ہیں ۔ بر صغیر میں کاشکاروں یا زراعت کا کام کرنے والوں کو ہاری کہاجاتا ہے ۔ بمعنی زمین پر کام کرنے والے زراعت پیشہ ۔ یہ کلمہ بھی ’ار‘ سے بنا ہے ۔ غالباََ اس کی ابتدائی شکل اری ہو گی ۔ کیوں کہ بعض اوقات ’ا‘ [ہ] سے بدل جاتا تھا ۔ مثلاََ ہرات کو کتبہ بہستون میں اریا لکھا ہے ۔   
برصغیر میں کاشتکاروں کی ایک قوم آرئیں ہے جو مسلمان ہیں ان کا دعویٰ ہے کہ وہ عربی نسل ہیں ۔ لیکن ہم ان کے رسوم رواج اور گو توں کا مطالعہ کریں تومعلوم ہوتا ہے یہ پہلے ہندو تھے اور بعد میں مسلمان ہوئے ہیں ۔ یہ بھی کاشکاری کا کام کرنے کی وجہ سے اری کہلاتے ہوں گے ۔ یعنی زمین پر کام کرنے والے زراعت پیشہ اور بعد میں مسلمان ہونے کے بعد یائے نسبتی ئے میں بدل گیا اور یہ آرئیں کہلانے لگے ۔ 
 بالاالذکر بحث سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ آریا ار سے نکلا ہے ، جس کے معنی زمین کے ہیں اور اس میں یائے نسبتی لگانے سے اس کے معنی زمین والے یا زمین پر کاشت کرنے والے کے ہیں ۔

تہذیب و تدوین
ّ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں