84

آریا


    قدیمی وطن
عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ ان لوگوں کا قدیمی مشترکہ وطن روس کے جنوبی گھانس کے میدان ہیں ۔ لیکن اس پر ماہرین میں بہت اختلافات تھے اور اس سلسلے میں مختلف نظریات ہیں ۔ اس سلسلے میں برصغیر ، وسط ایشاء ، یورپ میں ہنگری کے میدان ، شمالی یورپ اور ایشیاء میں ٹنڈا کے میدان کا نام لیا جاتا ہے ، لہذا اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔ 
چونکہ انڈویورپین زبانوں کی بڑی تعدادیورپ میں پائی جاتی ہیں اور یورپ سے باہر بکھری حالت میں برصغیر پاک و ہند تک ملتی ہیں ۔ لہذا سرسری مطالعہ سے یہی نتیجہ اخذکیا جاسکتا ہے کہ انڈویورپین قوم کا قدیمی وطن یورپ میں تھا ۔ تقابلی لسانیت کی رو سے لتھونیا کی زبان کے بنیادی محاورات اور انڈو یورپین زبان کے مطالعہ سے تیار کردہ مشترکہ محاورات سے قریب ہیں ۔ ان دو حقائق کے پیش نظر ہم برصغیر کو انڈویورپین قوم کو وطن قرار نہیں دے سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ انڈویورپین اگر برصغیر کے رہنے والے ہوتے تو وہ پہلے پورے برصغیر کو آریائی تمذن کے زیر اثر لے آتے ۔ چونکہ آریائی تمذن برصغیر میں نہ ہونے کے برابر پایا جاتا ہے ۔ اس لئے اس نظریہ میں کوئی وزن نہیں ہے ۔ 
ہجرت   
قوموں اور افراد میں تمدن کے ایک درجہ پر پہنچ کر ترک وطن کا خیال پیدا ہوجاتا ہے ۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ اراضی کی کمی یا خاندانی جھگڑوں یا قوت کے بڑھنے کی وجہ سے ایک دوسرے سے علحیدہ ہونا شروع ہوتے ہیں ۔ ان میں سے ایک جماعت قوم سے علحیدہ ہوکر اپنے وطن سے ہجرت کرتی ہے اور پھر نہ کبھی واپس آتے ہیں ۔ اس طرح علحیدہ ہونے والی جماعت اور قدیمی قبائل اگر کبھی صدیوں کے بعد بھی ملتے ہیں تو بطور دشمنوں کے اور ان کے درمیان وقت بہت فاصلے پیدا کردیتا ہے ۔ 
کوئی چار ہزار پہلے آریائی اقوام اپنے مسکن سے نکلیں ۔ ان کی دو بڑی شاخیں تھیں ۔ ایک شاخ نے یورپ کا رخ کیا اور دوسری ایران کی طرف آئی ۔ یورپ جانے ولی شاخ کو ہند یورپی اور ایران کی طرف جانے والی شاخ کو ہندآریائی کہا گیا ۔ ہند یورپی شاخ اٹلی ،کلٹ اور ٹیوٹان کی طرف بڑھ گئے ۔ ان کا سفر خاصہ لمبا تھا ۔ یورپ پہنچتے انہیں کئی صدیاں بیت گئیں ۔ البتہ ہند آریائی تھوڑی مدت میں اپنے نئے وطن جو آرمینا ، صغدیہ ، فارس اور برصغیر پر مشتمل تھا پہنچ گئے ۔ ان ملکوں میں انہوں نے اپنا تمذن اور زبان چھوڑی ۔ لیکن مقامی لوگوں کے ساتھ شادی بیاہ نہیں کیا اور خود کو الگ ٹھلک رکھا ۔ 
ہربرٹ کے مطابق اندو ایرانی ایشیاء میں براہ کوہ کاف داخل ہوئے ۔ ایڈورڈ نیروس کا کہنا ہے کہ اندوایرانی گروہ نے پامیر پلیٹو سے مختلف سمتوں میں ہجرت کی ۔ کہا جاتا ہے کہ ۱۹۵۰ ق م انڈویورپین کی شاخ جسے ہم فل حال اندویورپین کہیںگے اپنے مشترکہ وطن پامیر پنہچی اور حتی جو انڈویورپین زبان بولنے والوں کی قدیم ترین قوم تھی تقریباََ ۱۹۵۰ ق م میں اپنے نئے وطن کپادوشہ پنہچے ۔ لہذا ان دوباتوں سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ حتی اور اندو ایرانی جو انڈو یورپین کی دو شاخیں ہیں ۔ تقریباََ ایک عرصہ میں اتنے دور افتادہ مقامات یعنی کپادوشہ اور پامیرسے یکساں فاصلے پر رہتی ہوں گی اور یہ مقام وسط ایشاء کے سوا دوسرا نہیں ہوسکتا ہے ۔ لیتھونیائی زبان کی یہ توجیہہ پیش کی جاسکتی ہے کہ یہ ایک ایسی انڈویورپین گروہ کی زبان ہے ، جو اصل قوم سے الگ ہوکر ایک ایسے علاقے میں آباد ہوگئے ، جہاں عرصہ دراز تک اس پر خارجی عناصر اثرانداز نہیں ہو سکے ۔ یورپ کی دوسری قدیم زبان یونانی ہے ۔ پامیر پلیٹو سے ان کی ایک شاخ ایران مین داخل ہوئی ، دوسری شاخ براہ افغانستان برصغیر میں داخل ہوئی ۔ 
آریوں کا اصل وطن طہ ہوچکا ہے کہ یہ لوگ خوازم سے سے نکل کر براستہ ایران برصغیر پہنچے تھے ۔ آریائی قبائل ۲۰۰۰ ق م کے لگ بھگ تاریخ میں نمودار ہوئے تھے اور عام خیال ہے کہ یہ پانی کی لہروں کی طرح مسلسل آتے رہے ہیں اور بڑی لہروں کی شکل میں تین مرتبہ ان کی آمد ہوئی اور پھر مزید مشرق کو ان کی روانگی نظر آتی ہے ۔ یہ پہلے چراگاہوں کی تلاش میں پھرتے اور ان کی معیشت کا دارومدار مویشی پالنے پر تھا ۔ بعد میں انہوں نے جنگل صاف کرکے گاؤں بسا کر کھیتی باڑی کرنے لگے ۔ 
آبادکاری   
ایران میں داخل ہونے والی شاخ کوہ البز و کردستان کی پہاڑیوں کے درمیان اسی سطح مرتفع میں بسی جو اس کی طرف سے منسوب ہو کر ایرانہ یا ایران کے نام سے موسوم ہوا ۔ ایرانی سطح مرتفع کے اندر آباد ہونے والے قبائل میں قبیلہ ماد نے شمالی مغربی گوشہ میں ، پارس نے جنوبی حصہ میں اور پارت نے شمال مشرقی حصہ میں سکونت اختیار کی ۔ یہی وجہ ہے اول الذکر خطہ میدیا ، ثانی الذکر خظہ فارس اور ثالث الذکر خطہ پارت یا پارتھیا کہلایا ۔ آریوں کی دوسری شاخیں مغربی دروں کو غبور کرتی ہوئی پاک و ہند کی سرزمین میں داخل ہوئیں اور اسے آریہ ورت کے نام سے موسوم کیا ۔ یہ گھڑ سوار گورے رنگ کے دراز قد لوگ تھے جو متھرا ، ورنا اور اندرا کی جے جے نعرے لگاتے تھے ، گوشت کھاتے اور سوم رس پیتے ہوئے اس ذیلی براعظم میں داخل ہونے سے پہلے صدیوں پہلے اپنے آبائی وطن کو چھور کر نئے وطن کی تلاش میں نکلے اور مختلف سمتوں میں پھیل گئے ۔ 
آریاؤں کواپنے نئے وطن میں دو جماتوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ۔ رگ وید میں ان کا نام داسو اور داسا نام ملتا ہے اور دوسرے کو نشاد کا لقب دیا گیا ہے ۔ لفظ داسا ایران میں بھی ملتا ہے ۔ دارا کے کتبہ میں ایک قوم بنام داہا کا ذکر ہے ، جو کہ بحیرہ خزر کے ارد گرد آباد تھے ۔ قدیم ایرانی میں داہا کے معنی دیہاتی کے ہیں اور اسی کلمہ سے بنا ہے جس کے معنی دیہات کے ہیں ۔ کیوں کہ قدیم ایرانی کا  ’ہ ‘ سنسکرت کے ’س‘ سے بدل جاتا ہے ۔ مثلاََ سنسکرت میں سورہ قدیم ایرانی میں أہورہ آیا ہے ۔ اس طرح سنسکرت کا داسا ایرانی میں داہا بن گیا ۔ گو یہ اشارہ خفیف سا ہے مگر اس سے نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ آریاؤں کو ایک ایسی جماعت سے جنگ کرنی پڑی جو دیہات میں آباد تھی ۔ یہ دیہات کے معنوں میں شاید حملہ آور تھے اور بعد میںاپنے معنی کھو کر ڈاکوں اور غلاموں کے لئے استعمال ہونے لگا ۔ برصغیر کے قدیم ترین حالات رگ ویدکے ابتدائی بھجنوں میں ملتے ہیں ۔ اسی دورمیں ہمیں آریاؤں کے ایرانی نژاد بھائیوں کا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے ۔ غالباََ انہیں ہجرت کئے ہوئے اتنا عرصہ گزر گیا تھا کہ ان کی کوئی یاد باقی نہ رہی ۔ اس لئے ہمیں اس سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ وہ سمندر سے دور کہیں آباد تھے اور مدنیت کے بعض اصولوں سے نہ واقف تھے ۔ زراعت پیشہ اور جانوروں کو پالتے تھے اور مختلف دھاتوں کے استعمال سے بخوبی واقف تھے ۔ اس طرح چند اشیاء و آثار اور نیز لسانی مماثلت کے ذریعے ان کے وطن تک پہچنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ 
آریاؤں کے بارے میں ماہرین آثار کے انکشافات سے مدد نہیں مل سکتی ہے ۔ قدیم آثار میں مندروں کے کھنڈر چٹانوں کے کتبہ اور مٹی کے برتنوں اور مجسموں کے حصے شامل ہیں ۔ ۱۷۰۰ ق م تا ۶۰۰ ق م کے دوران کے کسی قسم کے آثار دریافت نہیں ہوئے اور ایک ہزار سال کا خلا واقع ہوا ہے ۔ یعنی برصغیر کے آریاؤں کے بارے میں صرف وید سے ہی جان سکتے ہیں اور اس کا قدیم سے قدیم مخطوطہ پندویں صدی عیسوی سے زیادہ قدیم نہیں ملا ہے ۔ 
برصغیر میں آمد
برصغیر میں ہجرت کی تاریخ ۱۵۰۰ ق م بتائی جاتی ہے ۔ یہاں اس سرزمین پر ان کی آباد کاری میں قدرتی اور معاشرتی عناصر کا بڑا ہاتھ تھا ۔ آریابرصغیر میں فوج کی صورت میں نہیں حملہ آور ہوئے ، بلکہ قبیلے اور خاندان ایک کے بعد ایک آتے رہے ۔ گویا آریا سیلاب کی وہ لہریں تھیں جو ایک کے بعد ایک آرہی تھیں اور ان کا ترک وطن کا سلسلہ صدیوں تک جاری رہا ۔ یہ گرہ در گروہ کی شکل میں مختلف اوقات میں مختلف سمتوں میں پھیل گئے ۔ پاک وہند کی سرزمین پر ان کا ورد صدیوں تک جاری رہا اور ان کے مختلف قبیلے مختلف اوقات میں یہاں آئے ۔ 
یہاں آباد ہونے والے چند قبایل کے نام رگ ویدمیں ملتے ہیں ۔ ان سب سے مشہور قبیلہ بھارت ہے ، جس کے نام پر اس ملک کا نام بھارت پڑا ، جو سروتی اور جمنا کے کنارے آباد ہوا تھا ۔ اس کا حلیف سر یجنی تھا ۔ اس کے علاوہ پورو ، یادو ، تروسا ، انو اور درینیو قبائل کے نام ملتے ہیں ، جن کو قبائیلی اہمیت حاصل تھی ۔ انہوں نے بھارت اور اس کے حلیف سرنجنی قبیلے سے خوفناک جنگ کی اور شکست کھائی ۔ اس جنگ کی تفصیل رگ ویدمیں ملتی ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان قبائل میں پرانی عداوت تھی ، جو یہاں آنے کے بعد شدت اختیار کرگئی ۔ یعنی وہ اوئل سے ہی دو مخالف گروہ میں بٹے ہوئے تھے اور آپس میں لڑتے رہتے تھے ۔ شاید یہی وجہ ہے وہ یہاں کے باشندوں کو مغلوب کرنے کے بعد بھی سیاسی اتحاد قائم نہیں کرسکے اور ہمیشہ ٹولیوں اور جاتوں میں مستقیم رہے ۔ اس باہمی کشمکش کے ساتھ انہیں یہاں کے باشندوں کے ساتھ مزید جنگیں کرنی پڑیں ۔ جن کا سلسلہ عرصہ دراز تک جاری رہا ۔ جس کی کچھ تفصیل ویدوں میں ملتی ہے ۔ 
آریا ترک وطن کرکے نئے وطن کی تلاش میں نکلے تھے ۔ اس لئے وہ آباد شدہ لوگوں کی نسبت پرجوش اور بے باک تھے ۔ آشوریوں کی طرح وہ بھی اپنے دشمنوں پر رحم کرنا نہیں جانتے تھے ۔ وہ اپنے دشمنوں کو داسا یعنی چور و غلام ، پشا یعنی کچا گوشت کھانے والے درندہ صفت ، راکش یعنی دیو و بھوت ، دھات یعنی خبیث روح ، آسورہ یعنی بھوت پریت ، جیسے توہین آمیز القاب سے پکارتے تھے اور ان سے اس قدر نفرت کرتے تھے کہ جنگ ختم ہوجانے کے بعد بھی ان سے معاشرتی تعلقات قائم کرنا پسند نہیں کرتے تھے ۔           
رگ ویدمیں ایک ہزار سے زائد بھجن ہیں ، جنہیں دس کتابوں میں تقسیم کیا گیا ہے ۔ یہ بھجن مختلف دیوتاؤں کی شان میں کہے گئے ہیں ، یہ مختلف اوقات میں مختلف لوگوں نے تشکیل دیئے تھے ۔ پھر بھی ان کے ذریعے آریاؤں کی زندگی کے بارے میں کافی معلومات ملتی ہیں ۔ رگ ویدمیں جو جغرافیائی حوالے ملتے ہیں ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ بھجن کن علاقوں میں تصنیف کئے گئے تھے ۔ کابل ، سوات ، کرم ، گومل اور پنجاب کے اہم دریاؤں کے تزکرے سے اندازہ ہوتا ہے ان لوگوں نے افغانستان اور پنجاب پر قبضہ کرلیا تھا ۔ چونکہ جمنا ( یمنا ) کا حوالہ صرف ایک بار اور گنگا کا تذکرہ تین بار ہے ، لہذا کہا جاسکتا ہے کہ یہ ان کے سرحدی علاقے تھے اور وادی گنگا ان کے اقتدار سے باہر تھی ۔ دریا ئے کھیاد (کابل) ، سواکتو (سوات) ، ششوماں (سواہاں) ، وناستا (جہلم) ، وشکنی (چناب) ، پرم شری (راوی) ، ویاس (بیاس) ، سوردی (ستلج) ، کا ذکر رگ ویدمیں ملتا ہے ۔ 

ٍٍٍٍ آریاؤں نے پنجاب و شمالی مغربی علاقے کو رگ ویدمیں سندھو کہا ہے ۔ جب کہ اوستا میں اس سر زمین کو ھپتہ ہندو یعنی سات دریاؤں کی سرزمین پکارا گیا ہے ۔ اسی نسبت سے ایرانی اس سرزمین کو ایرانی ہند پکارتے ہیں ۔ سنسکرت کے ’س‘ کو ایرانی ’ہ‘ بولتے تھے ۔ قدیم آریائی دریاکو سین اور سون کہتے تھے اور آج بھی پاکستان اور شمالی مند وراجپوتانہ کے بہت سے دریا سندھ اور سون کے نام سے موسوم ہیں ۔
تنظیم و معاشرہ
آریاؤں میں خاندان اور معاشرے کی بنیاد تھی اور کوئی درمیانی تفریق فرد یا حکومت نہیں تھی ۔ خاندان کے اوپر حکومت تھی اور خاندان کے نیچے کوئی اور چیز نہیں تھی ۔ کیوں کہ اس وقت شخصی حکومت کا وجود نہیں تھا اور خاندان کا کوئی فرد اپنے آبااجداد سے جدا نہیں سمجھا جاتا تھا ۔ فرد کوئی چیز نہیں تھا ، فرد کوئی خالص انسان نہیں تھا ، بلکہ وہ ماں باپ کی اولاد اور اس کے پیچھے کی پشتیں ، جن سے وہ پیدا ہوا ہے اور اس کے آگے کی وہ جھولیں جو اس کے بعد آنے والی ہیں ۔ آریوں میں باپ کا احترام اس لئے نہیں کیا جاتا تھا کہ وہ باپ ہے بلکہ اس احترام کے پیچھے وہ پرکھے بھی شامل ہیں ، جن سے یہ خاندان وجود میں آیا ۔
آریاؤں میں مذہب سے مراد گویا قوم اور خاندان کی پرستش تھی ۔ آبا اجداد دیوتاؤں کا درجہ رکھتے تھے ۔ شادی اور توالد وتناسل مذہبی و متبرک افعال تھے ۔ باپ کا ماں کے ذریعے بچے میں جانا ، گویا اگنی یعنی پوتر آگ کا جو مادہ اخلاق اور عالم کا بنانے والا ہے ۔ انسانی جسم سے گزر کر نسل کی بقا دائمی سے گزر نا ہے ۔ اپنے آپ کو غیر قوم سے ملانا یا بلا بیٹا چھوڑے مر جانا آریوں میں مصیبت عظمیٰ سمجھا جاتا تھا ۔ قوم سے بے قوم ہونا گویا سلسلہ آبا اجداد کو قطع کردینا جو کل آریوں کو اگنی سے ملاتا ہے وہ ہمیشہ کے لئے مردود ہوجاتا تھا اور دیوتا کبھی اس کی التجا نہیں سنتے ہیں ۔ گویا دوسری قوم سے تعلق پیدا کرنا دائمی لعنت کا طوق اپنی گردن میں پہنا ہے ۔
آریوں میں وارث وہی بنتے ہیں جو نسلاً درست ہوتے ہیں ۔ بلا بیٹا چھوڑے مرجانا نہایت دردناک نتائج پیدا کرتا تھا ۔ بیٹے کے ذریعے آبا اجداد کی روح کو حیات جاویدانی ملتی تھی ۔ کیوں کے وہ ان کی پرستش کرتا تھا اور انہیں چڑھاوے چرھاتا تھا ۔ اگر یہ پرستش نہ کی جائے اور چڑھاوے نہیں چڑھائے جائیں تو متروں یعنی مرنے والوں کی روح تلف ہوجاتی ہیں اور خاندان مٹ جاتا ہے ۔ لڑکیاں تو دوسرے خاندانوں کے دیوتاؤں کی پرستش کرنے لگتی ہیں ۔ وہ جن پرکھوں کو مانتی ہیں وہ ان کے شوہر کے پرکھے ہوتے تھے اور ماں باپ کے خاندان کے قیام سے ان پر کوئی اثر نہیں ہوتاہے ۔ پس بیٹا چھوڑے مرجانا نہ صرف حیات جاویدانی کھو دیتا ہے بلکہ اپنے ساتھ پر کھوں کے دور دراز سلسلے کو لے مرتا ہے ۔ یہ اتر اگنی جو خاندان کا خالق ہے ، قوم کا خالق ہے اور مرنے کے بعد بیٹا چھوڑنا جزا دینے کے لئے ضروری ہے ۔
آریوںکی سماجی تنظیم کی بنیاد گھرانوں پر قائم تھی ۔ ہر خاندان مکان کے اندر آباد ہوتا تھا ۔ جو عموماََ بانس اور لکڑیوں کا بنا ہوتا تھا ۔ مگر راجہ اور امراء کے لئے گھڑیاں بنی ہوتی تھیں خاندان کی سربراہی باپ کو تھی ۔ بچے اسی سے منسوب سمجھے جاتے تھے ۔ مرد عموماََ ایک ہی بیاہ کرتے تھے ۔ گو کثرت اذواج کی اجازت تھی ۔ بیوی کو ہر طرح سے شوہر کا مطیع ہونا پڑتا تھا ۔ شادی بیاہ پر کوئی پابندی نہیں تھی ۔ البتہ بھائی بہن کی شادی ممنوع قرار دے دی گئی تھی ۔ جہز کی رسم بھی تھی اور بیویوں کی قیمت بھی دی جاتی تھی ۔ کسی عورت کا شوہر مرجاتا تھا تو اسے جلدی شادی کرنی پڑتی تھی ۔ گویا بیواہ کی شادی ممنوع نہ تھی ۔
جو شخص خاندان کا سربراہ ہوتا تھا ۔ وہی ملکیتوں کی دیکھ بھال کرتا تھا ۔ باپ کی زندگی میں بیٹے وارث نہیں سمجھے جاتے تھے ۔ خاندانی امور بیوی کے متعلق تھے جو گھر کی ملکہ سمجھی جاتی تھی ۔ اسے عموماََ عزت سے دیکھا جاتا تھا ۔ غلہ پیسنا ، کھانا پکانا ، برتن دھونا ، مکان کو لیپنا ، صاف کرنا اور کھاتے وقت شوہر کے قریب بیٹھنا اس کی زمہ داری تھی ۔ بعض حالتوں میں خصوصاََ اولاد نہ ہونے کی صورت میں دوسری شادی مذہباََ ضروری سمجھی جاتی تھی ۔ مذہب نے اس کی اجازت دی ہوئی تھی ۔ اگر مرد اس کااہل نہ ہو تو عورت نیوگ کی رسم کے ذریعے کسی دوسرے مرد سے اولاد پیدا کرلیتی تھی ۔ بیک وقت کئی شوہروں کا رواج بھی تھا ۔
شادی عموماََ باپ کی پسند سے کی جاتی تھی ۔ وہی بیٹیوں کے رشتے طے کرتا تھا ۔ مگر اونچے طبقے کی لڑکیوں کو شوہر کے انتخاب کی آزادی تھی اور سوئمبر کے موقع پر اپنی پسندیگی کے مطابق شوہر چن لیتی تھیں ۔ شادی کے بالا طریقہ کو گندھردا شادی کہتے تھے ۔ شادی کے بالاالذکر طریقہ کے علاوہ چھ اور طریقے رائج تھے ۔ (۱) آسر شادی بذریعہ خریداری (۲) راکشہ شادی بذریعہ گرفتاری (۳) دان شادی بذریعہ بخشش (۴) آرشہ شادی بذریعہ بالجبر (۵) پراجا پتیہ شادی بغیر جہز کے (۶) پسیاچہ شادی بذریعہ اغوا ۔ شادی کے یہ بالاالذکر طریقے رائج تھے ۔
سیاسی و عسکری تنظیم
آریا خاندانی وحدت کو گراما اور گھر کے بزرگ کو گرامنی کہتے تھے پنجابی کا گرائیں اور اردو کا گھرانا اسی سے مشتق ہے ۔ گراما سے بڑی وحدت ویش تھی ۔ اس کے سربراہ کو ویش پتیکہا جاتا تھا ۔ اس سے بڑی وحدت گنا یا جن تھی جس کا سربراہ گن پتی کہلاتا تھا ۔ پورے قبیلے کا نظم و ضبط ایک سمتا کے سپرد ہوتے تھے ۔جس میںقبیلے کے تمام بالغ مرد شریک ہوتے تھے ۔ لیکن روزمرہ کے امور ایک سبھا کے سپرد تھے جس میں فقط گاؤں کے بزرگ شریک ہوتے تھے ۔ گاؤں کا مکھیا بھی گرامنی کہلاتا تھا ۔
ان کی بنیادی تنظیم قبائیلی تھی جو متعدد خاندانوں پر مشتمل ہوتی تھی ۔ اس کی سرداری مورثی تھی جو کسی خاص خاندان کے افراد میں نسلاََ ہوتے تھے ۔ ان سرداروں کو راجن کہا جاتا تھا ۔ یہ راجن حیقیقتاََ سیا سی تنظیم کے سربرہ نہیں تھے بلکہ عسکری تنظیم کے سردار تھے اور اوائل میں ان سے مراد سپہ سالار ہوا کرتی تھی ۔ مگر بعد میں انہواں نے اپنے حلقہ اختیارات کو وسیع کرکے اپنے مقبوضات کو ریاستوں میں تبدیل کردیا تو وہ صحیح معنوں میں راجہ بن گئے ۔ مگر وسعت کے لحاظ سے پھر بھی ان کی ریاستیں مختصر رہیں اور یہ مملکت کے درجہ کو نہیں پہنچ سکیں ۔ ان راجاؤں کا پہلا فرض اپنے قبیلے کا تحفظ اور اس کے لئے خورد و نوش کا سامان مہیا کرنا تھا ۔ قبیلے ان کی سرداری میں جنگ اور قتل غارت گری کیا کرتے تھے اور بیرونی حملے کی صورت میں ان کی زیر نگرانی اپنا دفاع کرتے تھے ۔
راجاؤں کے بعد پرہتوں کا طبقہ تھا جو مذہبی امورکے علاوہ سیاسی امور بھی انجام دیتا تھا ۔ راجاؤں پرہتوں کا کافی اثر ہوتا تھا ۔ پھر بھی وہ سیاست پر چھائے ہوئے نہیں تھے ۔ ان کے اثرات بعد کے برہمنوں کی نسبت بہت کم تھے ۔ پروہت کے علاوہ آریوں کی سیاسی تنظیم کا دوسرا اہم سردار سنائی تھا ۔ یعنی فوج (سینا) کا سردار ۔ جس کے ماتحت دوسرے عہدے دار تھے ۔ فوج تین حصوں میں بٹی ہوئی تھی ، پیادہ ، گھڑ سوار اور رتھ سوار ۔ ان میں رتھ سواروں کا دستہ سب سے اہم اور کار آمد تھا ۔ ان کے جنگی اسلحہ میں تیر کمان ، بھالے ، برچھے ، کلہاڑے اور تلواریں شامل تھیں ۔
آریوں کی ابتدائی زندگی نہایت سادہ تھی ، اس میں ذات پارت کے گنجلک کی گنجائش نہیں تھی ۔ اس میں شک نہیں ہے کہ انہوں نے قدیم باشندوں پر فاتحانہ انداز انتہائی اقتدار پرستی کا برتاؤ کیا ۔ ان سے زمین چھین لی اور انہیں دربدر کردیا ۔ لیکن شروع میں ان میں ذات پارت کی کوئی تفریق نہیں تھی ۔ لیکن جیسے جیسے وہ آباد ہوتے گئے ان کی زندگی پیچیدہ ہوتی گئی ۔ سماجی تنظیم زیادہ سخت ہوتی گئی ۔ پرش سکتا بھجن میں اس کا ثبوت ملتا ہے کہ رگ ویدکے عہد میں چار ذاتیں ہوگئیں تھیں ۔ (۱) براہمن (۲) راجاتیہ (۳) ویشہ (۴) شودر مستقل زات پارت کے نظام کی بنیاد بن گئیں ۔ لیکن سماج کی ابتدائی تنظیم معاشی تھی اور پیشوں پر مبنی تھی ۔ یہ بنیادی طور پر مستقل ذات پات کے نظام سے مختلف تھیں ، کیوں کہ یہ ذاتیں مورثی نہیں تھیں ۔
زات کی سختیوں نے مدت تک مفتوع قوموں سے ملنے نہ دیا ۔ یا اقلاً ان کے میل کو ست کردیا ۔ لیکن میل کتنا ہی ست ہو بالاآخر بہرو و زمان قوم فاتح کو مفتوع میں غائب کردیا ۔ ایک مدت دراز سے ہرچند ہندوستان میں آریوں کا وجود ہی نہیں ہے اور جب ہم محض بیان کی آسانی کے مطابق کہتے ہیں کہ کوئی قوم آریا ہے تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ ان کا رنگ سفید ہے اور یہ یورپیوں سے ملتے ہیں ۔ مگر ان کی سفیدی یورپیوں تک نہیں پہنچتی ہے ۔ آریوں کا رنگ سفید اور بال سیاہ ہوتے تھے ۔ مگر ایک اقلیت سرخ بالوں کی پائی جاتی ہے ، یہ سرخ بالوں والی اقلیت آریوں کے زمانے میں موجود تھی ، کیوں کہ منو نے انہیں نیچ قوم اقرار دیا ہے اور ان کے ساتھ اعلیٰ طبقات کے ہنود کا شادی بیاہ ممنوع تھا ۔
ابتدائی مذہب
آریاؤں کے ابتدائی مذہب کی تفصیل نہیں ملتی ہے پھر بھی ایسے ذرائع موجود ہیں جن سے ان کی مذہبی حالت کا اندازہ ہوتا ہے اور یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ ان کا ابتدائی مذپب ایشیائے کوچک میں آباد ہونے ولے متیانیوں Mittaniones ، ایرانیوں اور برصغیر میں آباد ہونے والے آریاؤں سے مختلف نہیں ہوگا ۔
برصغیر میں آباد ہونے والے آریاؤں کے متعلق ہمیں معلوم ہے کہ وہ اوائل میں مناظر فطرت یعنی آب ، و آتش ، خاک و باد اور مناظر قدرت آفتاب و ماہتاب ، برق و رعد کی پرستش کرتے تھے اور ساتھ ہی ساتھ برائیوں اور آلام کے دیوتاؤں کا تصور رکھتے تھے ۔ متانیوںکے بارے میں جو کچھ معلوم ہوا ہے کہ وہ یہی ہے کہ ان کے عقائد ہندی آریوں سے ملتے جلتے تھے ۔ ایسی حالت میں ایرانیوں کے بھی متعلق یہی رائے ہے کہ ان کا مذہب بھی اسی نوعیت کا تھا اور ساتھ ساتھ منشر طور پر ایسے شواہد بھی ملتے ہیں جن سے اس کی تصدیق بھی ہو تی ہے ۔
سوال یہ ہوتا ہے کہ ایرانی و ہندی ہم مذہب تھے تو ایرانیوں کے پاس وید ہونا چاہیے تھی یا کم از اتناحصہ ضرور ہونا چاہیے تھا جو ان کے ذیلی براعظم میں ورد سے پہلے لکھا گیا تھا ۔ مگر ایرانیوںکے پاس کسی ویدکا نشان نہیں ملتا ہے ۔ اس سے بہر حال یہ نتیجہ نکالاجاسکتا ہے کہ تمام ویدوں کی تصنیف اسی ذیلی براعظم میں ہوئی ہے ۔ کیوں کہ ویدوں کا گو نشان ایران میں نہیں ملتا ہے مگر ایرانیوں کا مذہب ہندیوں کے مذہب سے ملتا جلتا تھا اور ویدی دیوتاؤں کا پتہ چلتا ہے ۔ ایسی صورت میں یہی قیاص کیا جاسکتاہے کہ ایرانیوں کے پاس وید کا جو حصہ تھا وہ تلف ہوچکا ہے اور اس کی کوئی نقل باقی نہیں رہی ہے ۔
برصغیر میں آریوں کے قدیم ترین حالات رگ وید کے ابتدائی بھجنوں میں ملتے ہیں ۔ اس دور میں ہمیں آریاؤں کے اپنے ایرانی ساتھیوںکا کوئی حوالہ نہیں ملتا ہے یا تو ان لوگوں نے دانستہ اس عہد کو فراموش کردیا یا انہیں ہجرت کئے ہوئے اتنا عرسہ گزر چکا تھا کہ اس کی کوئی یاد باقی نہیں رہی ۔ رگ ویدمیں جو جغرافیائی حوالے ملتے ہیں اس سے ہمیں اندازہ ہوتاہے کہ یہ بھجن پنجاب و کابل کے درمیانی علاقے میں ترتیب دیئے گئے ہیں ۔ کابل ، سوات ، کرم ، گومل اور پنجاب کے اہم دریاؤں کے ناموں کا ذکر ہے ۔ چونکہ جمنا (یمنا) کا حوالہ صرف تین بار اور گنگا کا تذکرہ ایک بار ہے ۔ لہذا کہا جاسکتا ہے کہ یہ ان کے سرحدی علاقے تھے اور وادی گنگا ان کے اقتدار سے باہر تھی ۔
تہذیب و تدوین
ّ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں