45

آرینانی

آرینانی (صحرا کی دیوی یعنی صحرائے) بھی واچ کی طرح اہمیت نہیں رکھتی ہے ۔ غالباً کسی شاعر نے اسے ایجاد کیا یہ ۔ اگرچہ اس  میں جنگلوں کی زندگی کا خاکہ نظر آتا ہے ۔ برہمن دور میں صحرا نشینی عام تھی اور اس کا سرا رگ وید میں ملتا ہے ۔ اس نظم کو پڑھتے ہوئے ان آوازوں اور توہمات کا خیال رکھنا چاہیے ۔ جن سے جنگل میں رہنے والا عابد متاثر ہوتا ۔
’’آرنیانی ! معلوم ہوتا ہے کہ تو اپنی راہ بھول گئی ۔ تو گاؤں کا راستہ کیوں نہیں پوچھتی ؟ کیا تو ڈرتی نہیں’’۔
’’جب الو کی چیخ کا جواب طوطا دیتا ہے جو ادھر اُدھر پھدکتا رہتا ہے ، تب آرنیانی کا دل خوش ہوتا ہے’’۔
’’ایک طرف چرنے والی گایوں کی آواز آرہی ہے ۔ ادھر مکان نظر آتے ہیں ، شام کو جب کھر کھرانے کی آواز آتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ گویا آرنیانی گاڑیوں میں سامان اتار رہی ہے’’۔
کوئی آدمی اپنی گائے کو بلاتا ہے ۔ دوسرا درخت کاٹ کر گراتا ہے ۔ جنگل میں رہنے والا سمجھتا ہے کہ کوئی چیخ رہا ہے’’۔
’’آرنیانی خود قتل نہیں کرتی ہے ۔ البتہ اگر کوئی دوسرا (شیر وغیرہ) قتل نہ کرے اور میٹھے پھلوں کے کھانے کے بعد آدمی آرام سے سو سکتا ہے’’۔ 
’’میں آرنیانی کی توصیف کرتا ہوں جو جنگلی درندوں کی ماں ہے ، خشبودار ہے ، بے پایا غذا دیتی ہے گو اس یہاں کوئی کام کرنے والے مزدور نہیں ہیں’’۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں