45

آل فریغوں (افریغوں)

نامعلوم جغرافیہ نویس حدود عالم کا مولف لکھتا ہے ’گورگان (جوزجان) ایک آباد شہر ہے ۔ جس میں بہت سی نعمتیں ہیں اور عدل و انصاف ہے ۔ اس کی حدود میں جنوب میں بامیان سے غور تک اور مغرب میں غرجستان اور قصبہ بشین سے مرو تک شامل تھے ۔ اس کے شمال میں اس کی سرحد جیحوں ہے ۔ اس ناحیت کا بادشاہ ملوک و اطراف میں سے ہے ۔ وہ افریدوں کی اولاد سے ہے اور وہ تمام سردار جو حدود غرجستان اور غور کے اندر ہیں ، وہ سب اس کے فرمانبردار اور اس کے ماتحت ہیں ۔ وہ اطراف کے بادشاہوں سے اپنی بادشاہت ، عزت اور مرتبہ سیاست و سخاوت ، دوست برداری اور دانش میں بڑھا ہوا ہے ۔ 
گورگان کے بادشاہ کا لقب قدیم زمانے میں ’گوور گان خداۃ‘ تھا ۔ دسویں صدی میں یہاں آل فریغوں حکومت کرتے تھے ۔ اس خانداں کو محمود غزنوی نے ختم کیا تھا ۔ خاندان فریغونیاں ۳۰۰ھ کے لگ بھگ اس ملک پر حکمران تھے اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خاندان اسی ملک کے نواح کے باشندے تھے ۔ ان کے دور کو تاریخ نگاروں نے اس خاندان کو نہایت عمدہ قرار دیا ہے ۔ بارتولید لکھتا ہے اس خاندان کے عہد میں حکومت جوزجان کی حدود مضافات غور بست اور ہلمند کے کنارے تک پہنچ گئی تھی ۔ 
ابونصر بن عبدالجبار العتبی جس نے ۳۱۵ھ میں تاریخ لکھی ہے ، وہ بھی آل افریغوں کو سلطان محمود کی جانب سے جوزجان کا حاکم سمجھتا تھا اور ان کی عالی ہمتی میں مثل آسمان کے فراغ دلی ، بخشش اور جواں مردی میں مثل جیحوں کہتا ہے ۔ آل سبکتگین کے مشہور شاعر ابولفتع اور حکیم ناصر خسروی نے اس خاندان کی ستائش میں مدایح لکھیں ہیں ۔
فریغوں خاندان اپنی شریفانہ عادات و خصال ، دانش پروری اور علم دوستی میں مشہو تھا ۔ ان کا دربار ہمیشہ فضلا اور شعرا کا مرجمع اور اپنے عہد کا دانش مندوں اور خر مندوں کا مسکن تھا ۔ معاصر شعرا نے ان کی تعریف میں قصائد اور تعریفی اشعار کہے ہیں ۔ 
آل فریغوں(۲۵۰ھ تا ۴۱۰ھ) افغانستان میں حکمران رہے ہیں ۔ تاریخی کتب مثلاً تاریخ یمنی ، آثار الباقیہ ، کامل ابن کثیر ، تاریخ بہقی ، حدود العالم ، یمنتہ الدہر ، قابوس نامہ ، زین الاخبار ، تاریخ بخارا جوامع الحکایات ، اصطخری ، حیات سلطان محمود (ڈاکٹر محمد ناظم) میں معلومات ناکافی اور تشنہ ہیں ۔
اس خاندا ن کا پہلا حکمران تقریباً ۲۵۰ھ میں حکمران ہوا ۔ دوسرا حکمران احمد بن فریغوں تھا ۔ جس کو بروایت نرشیخی تقریباً ۲۸۵ھ میں اسماعیل سامانی کی اطاعت اختیار کی اور اس کے بعد اس کا بیٹا ابو الحارث محمد بن احمد ۳۴۰ھ میں حکمران ہوا ۔ جیسا کہ ابوسعید عبدالحئی بن الضحاک گردیزی لکھتا ہے کہ نوح بن منصور سامانی نے ابو الحارث محمد بن احمد فریغوں کے ساتھ دامادی کا رشتہ ۳۶۵ھ میں قائم کیا تھا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محمد ۳۲۵ھ کے بعد بھی زندہ تھا اور جس زمانے میں خاندان غزنوی کا موئس و بانی علم شاہی و جہانگیری بلند کئے ہوئے تھا ۔
۳۷۲ھ کے لگ بھگ حدود العالم کا نامعلوم مصنف جوزجان میں اپنی کتاب لکھ رہا تھا ۔ اس خاندان کا حکمران یہی محمد بن احمد الحرث یا الحارث تھا ۔ جس کانام العتبی اور گردیزی نے بھی لیا ہے ۔ اس کے بعد اس کا بیٹا ابو الحارث احمد ۳۸۹ھ میں اپنے باپ کا جانشین ہوا ۔ اس نے (غالباً اپنی ولیہدی میں) ۳۸۰ھ اور پھر ۳۸۴ھ امیر منصور کی امداد کی اور ابوعلی سمیجور کے ساتھ خوب مقابلے اور مجاولے کئے اور سبکتگین کے ساتھ دوستانہ روابط قائم کئے تھے ۔ ۳۸۵ھ میں اس نے ابو علی سمیجوری کو خراسان سے نکالنے میں اس کی مدد کی تھی اور احمد نے بعد میں اپنی ایک بیٹی سبکتگین کے بیٹے محمود کے عقد میں دی ، اور سبکتگین نے اپنے بیٹیوں  میں سے ایک بیٹی احمد کی بیٹی احمد کے بیٹے ابونصر محمد کے عقد میں دے دی تھی ۔ اس کشمکش میںجو سبکتگین کے مرنے بعد تخت و تاج کے لئے ہوئی تھی ، احمد نے اپنے داماد محمود کی طرف داری کی اور اسماعیل کی مخالفت کی اور کچھ مدت گزرنے کے بعد قدرت نے اسباب پیدا کئے کہ لوگوں نے محمود کو شہنشاہ تسلیم کر لیا ۔ 
احمد نے ۳۹۰ھ تا ۳۹۸ھ کے درمیان وفات پائی ۔ اس کے بعد اس کا بیٹا ابونصر محمد اس کا جانشین ہوا ۔ سلطان محمود کے بعض جنگی سفروں میں جو اس نے ہندوستان میں کئے ، اس نے سلطان کی مواقت کی اور حق رفاقت ادا کیا اور اپنی ایک بیٹی سلطان کے بیٹے ابو احمد کے عقد میں دی ۔ ابو نصر محمد نے ۴۱۰ھ میں وفات پائی اور ایک لڑکا حسن نامی پیچھے چھوڑا ۔ جو بہت چھوٹا تھا ۔ اس لئے سلطان محمود نے ولایت جوزجان اپنے بیٹے محمد کے سپرد کردی ۔ اس طرح جوزجان کے اس شاہی خاندان کی حکومت ختم ہوگئی ۔ 
فریغون محمد کا ذکر ملتا ہے جو ۳۹۴ھ کے لگ بھگ تھا ۔ یہ معلوم نہیں یہ حکمران ہوا کے نہیں ۔ اس طرح اس خاندان کے ابن فریغوں کا ذکر ملتا ہے جس نے عربی میں جوامع العلوم لکھی تھی جو یورپ میں شائع ہوچکی ہے ۔      

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں