67

آگہی کی سزا

کل شب تک میں پارسیوں کی دو اور کتابیں ان میں یاسنا جو اوستا میں شامل کی جاتی اور اوستا خورد جو نماز کی کتاب ہے ترجمہ کر چکا ہوں ۔ اس ترجمہ کی مجھے بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑی  ہے ۔ ایک تو قیمت اس صورت میں میں کہ میرے بہت سے ضروری اور اہم کام ان کتابوں کے ترجموں کی وجہ سے رہ جاتے ہیں ۔ مثلاً میری بیٹی نے مجھے شب کو بتادیا تھا کہ صبح یہ سامان نہیں آیا تو ناشتہ نہیں پک سکے گا اور گزشتہ شب کا کھانا بھی اون لائن میری بیٹی نے منگوایا تھا ۔ مگر میں اسے ہر وقت نہیں منگا سکتا ہوں ۔ مگر یہ معمولی قیمت ہے اور جب میں اپنے لیپ ٹاپ میں ہاڈ ویر اور سوفٹ ویر کی خرابیاں کے باجود اس کو کام کو کسی نہ طرح انجام دے ہی رہا ہوں ۔ 
مگر اس سے زیادہ بڑی قیمت مجھے آگہی کی صورت میں ادا کرنی پڑی ۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ میں لکیر کا فقیر نہیں ہوں اور شہادتوں اور ماخذ پر اپنا موقف تبدیل کرلیتا ہوں ۔ کیوں کی میں حقیقت کی جستجو میں رہتا ہوں اور میں جو کچھ پارسیوں اور زرتشت کے بارے جانتا تھا وہ بہت کم اور ناقص جانتا تھا ۔ جب میں نے زرتشت پر کتاب لکھی تو مجھے پتہ چلا پارسیوں کے بارے میں جو کچھ جانتا ہوں وہ ناقص اور غلط ہے اور پارسی مذہب دو خدائوں پر (جیسا کی ہم جانتے ہیں) پر نہیں مشتمل بلکہ اس میں پانچ خدا ہیں ۔ مگر اوستا میں ویندارد کے ترجمہ کچھ اور خداؤں سے روشناس ہوا ۔ مگر یاسنا میں ان کے خداؤں کی تعداد تو سیکڑوں تک بڑھ گئی اور یہ بھی ہندوؤں کی طرح بے شمار خدا رکھتے ہیں جس میں مظاہر فطرت یعنی پہاڑ ، درخت اور دریا وغیرہ اور دوسری ہستیوں کے وغیرہ جانور جن میں گائے وغیرہ اور دوسری بہت سی ہستیاں شامل ہیں ۔ یعنی میں نے زرتشتی مذہب کے بارے میں کتاب لکھی ہے وہ ناقص ہوچکی ہے اور اسے دوبارہ لکھنا پڑے گا ۔ یاد رہے انگلش میں اوستا کا ترجمہ کرنے والے جیمس اور میکس ملر نے اسلام کا ماخذ زرتشتی مذہب کو قرار دیا ہے ۔ مگر یہ وہ عقائد اور رسومات ہیں جن کا ذکر قران میں نہیں ملتا ہے اور حدیثوں میں اس بارے میں ملتا ہے جو کے پارسیوں کے اسلام لانے کے بعد وضع کی گئیں ۔ 
کہنے کا مقصد ہے اچھا ہی ہوا میری کتاب نہیں چھپی ۔ ورنہ اس میں بہت کچھ غلط ہے ۔ اب اسے دوبارہ لکھنے کی مزید مجھے سزا بھگتنی پڑے گے ۔ 
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں