53

اپسرا

اپ بمعنی پانی+ سرا یعنی بہتی ہوئی ۔ سرا کے مصدر ’سری‘ کا مطلب تیرتی ہوئی اور ہوا کی سی بہتی ہوئی ہے ۔ 
پابی میں بہنا افلاک مخلوق میں سے ایک جن کا تعلق دیوتاؤں سے ہے ۔ ان کا بسیرا کا عموماً زمین پر یا پانی کے بجائے آسمان پر موجود بادلوں میں ہونا بتایا جاتا ہے ۔ مگر زمین پر اکثر ان کا پھیرا رہتا ہے ۔ (افلاکی مسیقاروں) گندہرؤں کی پری نما بیویاں ۔ یہ اپنی صورت تبدیل کرنے پر قادر ہیں ۔ عموماً پرندوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں ۔ منو میں انہیں ساتوں منوؤں کی تخلیق قرار دیا گیا ہے ۔ لیکن پورانوں اور رامائن کے مطابق انہوں نے کونیاتی پانیوں سے جنم لیا ہے اور یہ دیوتاؤں یا اسروں میں سے کسی کی بیویاں نہیں ہیں ۔ اساطیر کے مطابق چونکہ یہ سب کی مشترکہ بیویاں ہیں ، چنانچہ سمدت مجا کہا جاتا ہے ۔ ان کی تعداد تین کڑور پجاس لاکھ ۰۰۰،۰۰۰،۳۵ بتایا گیا ہے ۔ ان کی سربراہی ’کام‘  کے ہاتھ میں ہے جو محبت کا دیوتا ہے ۔ ان کے فرائض میں سے ایک انہیں گمرہ کرنا ہے ، جو روحانی سرفرازی کے لیے بہت زیادہ کوشش کرتا ہے ۔ روحانی بالیدگی فقط اسے حاصل ہوتی ہے جو ان کی مسحور کن ترغیب کی کامیاب مزاحمت کرتا ہے ۔ یجر وید میں اپسراؤں کو سورج کی کرن قرار دیا گیا ہے ۔ اس وجہ سے گندہرؤں سے ان کا تعلق ، جنہیں دھوپ کی کرن قرار دیا گیا ہے ۔ 
بلافٹسکی Blavqtsky کی رائے میں اپسرائیں کیفئی اور قدری Qualiative and Quantiative دونوں حثیت رکھتی ہیں ۔ انہیں خواب آور اور آبی پودوں اور فطرت کی باطنی قوت سے مشابہ قرار دیا جاتا ہے ۔ 
پرانوں میں اپسراؤں کو بعض جگہ دو قسموں میں بانٹا گیا ہے ۔ ، ایک دیو یعنی دیوتاؤں سے تعلق رکھنے والی نوعیت میں نہایت لطیف ۔ دوسری قسم لاکیک ہے جو مظاہر کے عالم سے متعلق ہیں ۔ لفظ لاکیکا دنیاوی معنوں میں استعمال ہونے والی اسطلاح ’لوک‘ سے مشتق ہے ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں