80

اڑمڑ

  نعمت اللہ ہروی شرجنون بن سربنی کا پانچواں لڑکا امردین تھا اس کا لڑکا اورمڑ تھا ۔ وہ مال دولت و سلطنت کا بانی بنا اور اسی نام سے شہرت پائی اور دنیا میں مشہور ہوا ۔ اس کا باپ امردین کا نام چنداں شہرت حاصل نہ کرسکا ۔

یہ کلمہ دوحصوں پر مشتمل ہے اڑ + مڑ = اڑمڑ ۔ اڑ کے معنی آریائی زبان میں زمین کے ہیں اور یہ قدیم زمانے میں اکثر آریائی ناموں میں استعمال ہوا ہے ۔ اس کلمہ کا دوسرا جز مڑ ہے اور یہ اس کلمہ کا پشتو لہجہ ہے ۔ یہ کلمہ ہند آریائی میں مر اور میر کی شکل میں ملتا ہے اور اس کے معنی پہاڑ یا اونچی جگہ کے ہیں ۔ برصغیر کے بہت سے شہر علاقے اور قبائیل اس نام سے بنے ہیں ۔ مثلاً اجمیر ، کشمیر ، جسلمیر وغیرہ ۔ راجپوتوں کا ایک قبیلہ اومر ہے جو یہ زمانہ قدم سے ریگستان میں آباد ہیں اور امر کوٹ ان کا دارلریاست تھا ۔ یہ پرمار یا پنوار کی ایک شاخ ہیں اور ان کا تعلق اگنی کل سے ہے ۔  غالباً یہ اومڑوں کے ہم نسل ہیں

یہ کلمہ ماری کی شکل میں بھی ملتا ہے ۔ ماری انڈس صوبہ سرحد میں ایک جگہ ہے ۔ سندھ کی مشہور داستان عمر ماروی ہے ۔ یہ کہانی جس میں بتایا گیا ہے کہ ماری ایک لڑکی ہوتی ہے جو اپنے منگیتر کھیت جو اس کا قریبی عزیز ہوتا ہے سے محبت کرتی ہے ، مگر اسے اس کی مرضی خلاف عمر سے شادی کرنی پرتی ہے ۔ مگر وہ اس شادی سے خوش نہیں ہوتی ہے اور اسے کھیت کی یاد آتی ۔ ادھر جب عمر اس کی محبت حاصل نہیں کرسکتا ہے تو اسے واپس اپنے عزیزوں میں بھیج دیتا ہے ۔ ماروی کھیت سے شادی کرلیتی ہے اور ہنسی خوشی رہنے لگتی ہے ۔ اس کہانی کو سندھ کے مشہور شاعر شاہ عبدا لطیف نے بھی منظوم کیا ہے ۔

ماروی جس کا اصل تلفظ ماری ہے جس کے معنی پہاڑ یا بلندی کے ہیں ۔ غالباً یہ کوئی علاقہ تھا جو بلندی پر واقع تھا اور اس کو کھیت قبیلہ نے آباد کیا تھا اور بعد میں اس اومڑ (جسے معرب کرکے عمر کرلیا گیا) قبیلہ نے اس پر قبضہ کرلیا تھا ۔ کھیت قبیلہ مزاحمت نہیں کرسکا کیوں کی وہ جنگجو نہیں تھے ۔ مگر زمین کچھ موسم کی خرابی اور کچھ کھیت قبیلہ کی خفیہ رکاوٹوں کی بنا پر اومڑ اس کو آباد نہیں کرسکے اور اس زمین کو خالی کرنے پر مجبور ہوگئے اور یہ زمین انہیوں نے کھیت قبیلہ کو واپس کردی ۔ جس نے بعد میں رومانی کی صورت میں کہانی کا جنم لے لیا ۔ کھتیران قبیلہ بلوچتان میں ہے اور سندھ میں کٹھیان قبیلہ ہے جو کہ کسان ہیں ۔ اس کی تائید اس طرح ہوتی کہ یہ کہانی کا محل وقوع تھر کا ریگستان ہے ۔

کلمہ میر کا لائقہ بلوچ سرداروں کے لئے استعمال ہوتا ہے بمعنی بلند مرتبہ ۔ اس طرح برصغیر میں سیّد خاص کر شیعہ حضرات کے لئے بھی احتراماً میر کا لائقہ استعمال کیا جاتا ہے ۔ اور مرجس کے معنی پہاڑ والے یا پہاڑ کے مالک کے ہیں ۔ بہرحال یہ ایک آریائی نام ہے اور اسے استعمال کرنے والے آریائی ہیں اور اڑمڑ قبیلہ بھی یقینا نسلاً آریائی ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں