47

اہرمن

قدیم ایرانی ہمیشہ بادیہ نشین قبائل کے حملوں کے خطرے میں رہتے تھے اور یہ سیاسی دشمنی مذہب میں بھی آگئی اور زرتشت کے نذدیک دٗئے وَ (دیو) سے مراد شیاطین بدکردار تھے ۔ زرتشت جن دیوتاؤں کا مخالف تھا اس نے انہیں اپنے مذہب کا شیطان بناڈالا ۔ اس طرح دو جماعتوں نے مذہب زرتشت کے اس عقیدے کے مطابق روز ازل سے دو مخالف روحوں میں جنگ جاری ہے ۔ یعنی روح توانا یا روح خیر (سپَنَتَ مینیوُُ) مزد کی حقیقت ہے اور روح شر( اکامینیو) اور اہرمن اسی کی بگڑی شکل ہے ۔ یہ نام اوستا کے جدید حصوں میں انگرمینیو ہے ۔ تخریب و ہلاکت کے دیوؤں میں سے جو روح شر کے معاون ہیں سب سے مستند اَئیشم (فارسی کا خشم بمعنی غصہ اسی سے مشتق ہے)َ ہے جو غارت گروں بادیہ نشینوں کی بے رحمی کا مظہر ہے ۔ قدیم ایرانی کتبوں میں کہیں بھی اہرمن کا نام تک نہیں آیا ہے اور صرف اہورا مزد کا نام دارا کے کتبوں میں ملتا ہے اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت تک پارسیوں میں ہرمزد کی مخالف طاقت کا تصور بہت مبہم تھا ۔ لیکن اس کو تقویت زروانی فلسفہ نے دی ۔

عہد ساسانی میں زوانیت کا فلسفہ مقبول تھا ۔ جس کے مطابق زروان کے توام بیٹے اہرمن اور اہور مزد یعنی روح خیر و روح شر یا نور ظلمت پیدا ہوئے ۔ لیکن چونکہ اہرمن پہلے پیدا ہوا تھا اس لیے وہ ابتدا میں ہی دنیا کی سلطنت کا مالک بن گیا اور مجبوراً ہورا مزد سلطنت حاصل کرنے کے لیے اہرمن سے جنگ کرنے پر مجبور ہوا ۔ روح شر کے تقدم اور اولیت کا عقیدہ قنوطیت پر مبنی ہے اور عرفانیوں کے عقیدے سے مشابہ اور زرتشت کی اصولی نوعیت کے خلاف ہے جو ہمیں گاتھا میں ملتی ہے ۔

اہرمن کا کام انسانوں میں برے برے خیالات پیدا کرتا ہے اور انہوں گناہوں میں ملوث کرتا ہے یعنی یہ بہمن کا ضد اور مخالف ہے اور وہی اس کا مقابلہ کرتا ہے ۔ اس کے شہوت ، غضب ، کذب ، ظلمت اور زہرہ موکل ہیں ۔ ہرمزد اور اس کے امشاسپندوں کی کوشش ہوتی ہے کہ دنیا میں نیکیاں پھیلائیں اور برائیاں ختم کریں ۔ وہ اس کے لیے اہرمن اور اس کے دیوؤں سے لڑتے رہتے ہیں اور ان کے کاموں میں رکاوٹ ڈالتے ہیں ۔ یہ جنگ ازل سے شروع ہوکر ابد تک جاری رہے گی ۔ اس لیے پہلوں کی ثنا کرنے اور دوسروں سے پناہ مانگے میں آدمی کی بریت ہے ۔ 

دبستان مذہب میں لکھا ہے ہزمزد کو تنہاہی سے وحشت ہوئی تو اس نے اہرمن پیدا کیا اور اہرمن نے جب ہرمزد کا جاہ و جلال دیکھا تو اسے حسد ہوا اور وہ شر و فساد پھیلانے لگا ۔ ہرمزد نے اس کے مقابلے کے لیے فرشتوں کو پیدا کیاکہ وہ اس کے لشکری بن جائیں اور مگر اہورا اہرمن کو شکست دے نہ سکا اور صلح کرلی ۔ جس کے مطابق اہرمن ایک مقررہ مدت تک دنیا میں رہے گا اور جب اہرمن دنیا سے نکل جائے گا تو دنیا محض خیر رہ جائے گی ۔ یہ بات ابن حزم نے بھی کچھ مختلف کہی ہے ۔ وہ کہتے ہیں مجوسیوں کا کہنا ہے جب باری تعالیٰ (اہورا مزدا) کی تنہائی دراز ہوگئی تو وہ گھبرانے لگا اور گھبرانے میں کوئی بری فکر مجسم ہوگئی اور ظلمت میں بدل گئی ۔ اس سے اہرمن پیدا ہوا اور ابلیس یہی ہے ۔ باری تعالیٰ (اہورا مزدا) نے اسے اپنی ذات سے دور رکھنا چاہا مگر وہ اس پر قادر نہیں ہوا تو اس نے نیکیاں پیدا کرکے اس سے اس سے کنارہ کشی کی اور اہرمن نے بدیاں و شر پیدا کرنا شروع کریا ۔ ابن حزم نے اس پر اعتراض کیا ہے اس امر میں خیر اور شر دونوں ہیں ۔  

یہاں بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے اگر اہورا خالق ہے تو اہریمن پر اسے قدرت کیوں نہیں حاصل کی ؟ اور اہرمن کی ہستی کو مان لیا جائے تو اہورا کے خالق ہونے پر کئی سوال پیدا ہوجائیں گے کہ کیا واقع اہورا ہی اہرمن کا خالق ہے ؟ اس لیے اس تاویلات کی گئیں ہیں ۔ مثلاً حکیم جاماسب نے دنیا کو بدن بتایا ہے اور یہاں اہورا سے مراد روح ہے اور اہرمن سے مراد طبعیت عنصری ہے ، فکر سے مراد نفس کے ہیں اور وہ برے خیالات ہیں جن کا مادی اشیا کی طرح میلان ہے اور جو کہا گیا ہے کہ اہرمن شر و فساد پیدا کیا ۔ اس سے مراد روح کی ذات وہ غلبہ ہے جو اسے عالم اسفلی کی طرف کھینچتا رہتا ہے اور اس جنگ میں جو بھی قوی ہوتا ہے اس کا روح پر غلبہ ہوجاتا ہے ۔ فرشتوں کی پیدائش سے مراد اچھی صفات کی پیدائش ہے ، پسندیدہ اخلاق اختیار کرنا یعنی قوی ریاضتوں سے ذریعہ روح کو اپنا تابع کرنا اور تابع قوتیں ہی روح کی لشکری ہیں ۔ یہاں صلح سے مراد وہ مزہوم صفات جو اہرمن کا ہتھیار ہیں اور یہ یکبارگی دور نہیں ہوتیں ہیں بلکہ ان سے رفتہ رفتہ کنارہ کش ہوکر اعتدال کے راستہ پر چلنا چاہیے ۔ جسمانی قوتوں کا تسلط اور غلبہ سے مراد اہرمن کا مقررہ مدت تک دنیا میں رہنا ہے ۔ پچپن سے بالغ ہونے تک اور بعض لوگوں میں ان قوتوں کا غلبہ رہتا ہے ۔ اہرمن کے دنیا سے نکلنے سے مراد اختیاری موت اور طریقت سلوک یا اضطراری موت فطری ہوتی ہے اور جب روح آزاد ہوجاتی ہے تو خود کمالات سے متصف ہوتی ہے اور اپنی مخصوص دنیا میں پہنچ جاتی ہے جو محض خیر ہے ۔

دنیا کی تمام بیماریاں ، سانپ ، بچھو وغیرہ کا خالق اہرمن ہے ۔ بیماریاں جیسے جہالت ، حماقت ، غفلت ، غرور ، لاپروائی اور اذیت رساں بیماریاں جیسے غضب ، شہوت ، لالچ ، حرص ، حسد ، کینہ ، بخل ، فریب ، و مکر وغیرہ یقینی طور پر روح سے نہیں پیدا ہوتی ہیں بلکہ طبعیت عنصری کی پیداوار ہیں ۔ جب کہ اہورا اچھائیاں اور فائدہ مندہ مخلوق کا خالق ہے اور لوگ جب اچھائیوں کی طرف جاتے ہیں تو اس سے اہورا کو طاقت حاصل ہوتی ہے اور وہ اہرمن کمزور ہوکر مغلوب ہوگا ۔ 

دبستان مذہب میں ہے کہ تاری یعنی تاریکی روشنی کے برے خیال سے پیدا ہوئی اور تاریکی نے شید یعنی روشنی کو مقید کردیا تو فرشتے مدد کو آئے ۔ تاریکی نے اپنے سرچشمے اہرمن سے مدد مانگی ۔ فرشتوں نے اسے بھی مغلوب کردیا لیکن اسے مہلت دی ۔ جاماسپ اس کی تاویل اس طرح کرتا ہے کہ روح نورانی جوہر ہے اور تاریکی جسمانی قوتیں ہیں ۔ محاصرہ اور قید سے مراد وہ تسلط اور غلبہ جس نے روح کو عالم سفلی کے ویرانہ کی طرف مائل کر رکھا ہے ۔ فرشتوں کی مدد سے مراد ہے عالم بالا کی روشنی سے روح کی ترقی سے اس کا عالم عقلی جاپہنچنا ۔ مہلت کا مطلب ہے طبعی موت کے وقت قوتوں کا باقی رہنا اور برے خیال سے روح کا مادی اشیا کی طرف میلان مراد ہے ۔ اہورا اور اہرمن رمز ہیں ، اہورا نور ہے جو وجود ہے اور اہرمن ظلمت ہے جو کہ عدم ہے اور اہرمن اہورا کا مخالف ہے وہ اسی کا اشارہ ہے ۔

یہاں بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں مثلاً اعتدال سے کیا مراد ہے ؟ اور اعتدال میں اچھائیوں اور برائیوں کے بین بین چلنا ہے تو طریقت یا سلوک یا رہبانیت سے کیا مراد ہے ؟ اور اگر یہ سب رمز ہیں اور اہرمن بھی رمز ہے تو ایسی صورت میں اہورا کی ہستی بھی رمز ٹہرائے جائے گی تو پھر خالق کی ہستی کہاں ہے ؟ کیوں کہ اگر سب بری چیزیں اور برائیاں اہرمن کی پیدا کی ہوئی ہیں تو اہورا کسی طرح بھی اہرمن سے برتر نہیں ہوا ؟ کیوں دنیا میں بری خطرناک اور نقصان رساں چیزیں زیادہ ہیں اور اس کا مطلب کیا اہرمن اہورا سے زیادہ طاقت ور نہیں ہوا ؟ اس صورت میں اہورا مزد کی قدرت ، قادریت اور خالق محدود نہیں ہیں ؟ جب یہ کہا جاتا ہے کہ برائیاں طبعیت عنصری کی پیداوار ہیں تو کیا انسانی بدن کا خالق اہرمن اور روح کا خالق اہورا ہے ایسی صورت میں اہورا مزد کو انسان پر بھی دسترس حاصل نہیں رہی ہے اور اہورا نے انسانوں کو تلفین کی ہے کہ وہ اچھائیاں کو اپنائے اور اس سے اسے طاقت حاصل کرکے وہ اہرمن کو مغلوب کرسکتا ہے اور اس کے اس پہلو کو زرتشت نے اپنے مذہب کے پرچار کے لیے ایک دلیل کے لیے استعمال کیا تھا اور ایک مذہب کی بنیاد رکھی ۔ یہ تاویلات خود سوال کھڑا کر رہی ہیں کہ اس طرح اہورا اور اہرمن کی جدا ہستی تو نہیں ہیں وہ پھر کیا وہ متضاد کفیت کا نام ہیں ؟ 

یہ وہ تفصیلات ہیں جو بعد کی پہلوی اور فارسی کتابوں میں درج ہیں ۔ مگر قدیم زروانیت میں آفرنیش کا فسانہ مختلف اور اہرمن کی پیدائش کی وجہ اور اہورا مزد سے اس کی آمزیش بھی مختلف بیان کی گئی ہے جو کہ ہم نے آفریش اور زروانیت میں بیان کیں ہیں ۔ تاہم اسے اندازہ ہوتا ہے یہ عقائد بعد کے پیداوار ہیں جن انہوں نے زروان کی ہستی کو غائب کردیا اور اہورا کے مقابلے میں اہرمن کو لا کھڑا کیا ۔ مگر یہاں سوال یہ ہے کہ اہرمن کا ذکر اوستا میں بھی ملتا ہے مگر یہ کوئی طاقت ور ہستی نہیں تھی اور ساسانیوں کے بعد اس کردار نے اس قدر طاقت کیسے حاصل کرلی جس کی وجہ سے یہ مذہب ثنوی کہلایا ۔

اہرمن کا ذکر اگرچہ اوستا اور زروانی عقیدے میں بھی ملتا ہے ۔ بلکہ یہ کہا جائے کہ زروانی عقیدہ اوستا کے اثرات کا نتیجہ ہے اور زروانیت عقیدے کی مقبولیت کے ساتھ اس پر مانوی اور مزدوک کی تعلیمات کا اثر بھی ہے ۔ کیوں کہ ان مذاہب نے اہورا کے مقابلے میں  اہرمن کو ایک طاقت ور ہستی کو متعارف کرایا ۔

مانی نے اپنے مذہب کی بنیاد فلسفہ اضداد پر رکھی ہے ۔ مگر جہاں زرتشت نے اس ازلی تصاد کو ایک ہی ذات کے متعلق بتانے کی کوشش کی ہے وہاں مانی نے مستقل طور پر دو متضاد ہستیوں کو تسلیم کرکے اپنے مذہب کو ثنویت Dudlism کی بنیادوں پر قائم کیا تھا ۔ تضاد کے اس کردار کو زرتشتیوں نے بھی مان لیا کہ کائنات کی تکوین دو متضاد اصولوں پر قائم ہوئی ہے ۔ جو نور و ظلمت کے نام سے موسوم ہیں ۔ یہ دونوں پہلے علحیدہ تھے پھر ایک دوسرے سے مخلوط ہوگئے اور یہ اختلاط کا باعث بنا ۔ اس طرح نور و ظلمت میں سے ہر ایک خالق کی حثیت رکھتا ہے ۔ روح خیر اور روح شر اس طرح انسان ان دونوں سے مرکب ہے ۔ ان کے متضاد افکار سے دو متضاد قسم کے افعال ظہور ہوتے ہیں ۔ اعمال خیر انسان کو نور کی طرف لے جاتے ہیں اور اعمال شر اس کی طلمات کی طرف رہنمائی کرتی ہے ۔ کائنات کے اندر ظلمت کا سب سے بڑا مظہر شیطان ہے جو مونث ہے اور ہر طرف شر پہنچاتا ہے ۔ مزدک کی تعلیم بنیاد طور پر مانی سے تعلق رکھتی ہے وہ بھی نور ظلمت دو خداؤں کو ازلی اور ان کی آوزش کا اتفاقی اور بلا ارادہ بتاتا ہے ۔ اس کے مطابق خیر کا خالق و صنانع یزداں اور شر کو اہریمن پیدا کیا ہے ۔ زرتشتی مذہب نے اس اثر کو قبول کے زروانیت کے عقیدے کو فنا کرکے اپنے آپ ثنویت کے عقیدے پر ڈھالا ہے ۔ 

اس کے باوجود ان مذاہب کو مٹانے کے لیے پارسی موبدان نے بھرپور کوششیں کیں اور قتل و غارت اور تشدد کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کیں ۔ مگر ان مذاہب کے خیالات زرتشتی مذہب کے برعکس بہت طاقت ور تھے اور یہ مذہب مٹ گئے مگر زرتشتی مذہب ان کے خیالات و اثرات سے متاثر ہوا ۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ مذاہب بھی ثنویت کا عقیدہ رکھتے تھے ۔ مگر اس کے باوجود زرتشتی ان کو مٹانے کے درپے ہوئے ۔ اس کے لیے ایک تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔

آتش پرستوں کے یہاں نیک و بد موجودات (یعنی ہرمزد اور اہرمن) کی جداگانہ اقلیموں میں ہر ایک بجائے خود روحانی جز اور مادی جز پر مشتمل ہے ۔ نہ صرف امشپند اور فرشتے ہیں بلکہ عناصر مادی جملہ حیوانات و نباتات جو لوگوں کے لیے مفید ہیں ۔ نیز وہ لوگ جو دین زرتشت کو سرمایا ایمان سمجھتے تھے تو اہرمزد کی طرف سے اہرمن کے لشکر دیو (خوفسقر) یعنی موذی حیوانات ، ساحروں ، شعبدے بازوں بدعقیدہ لوگوں اور بدعتیوں سے لڑے ۔ زرتشتی مذہب میں اگرچہ روحانی عہدہ داروں کا ایک باضابطہ و دقیق نظام قائم ہوگیا تھا ۔ لیکن وہ حقیقی مادی مذہب ہے ۔ وہ اپنے معتقدوں کو توالد و تکاثر اور زمین کو معمور کرنے کی تاکید کرتا ہے اور تخم ریزی اور فضلیں حاصل کرنے میں جانفشانی کا حکم دیتا ہے ۔ برخلاف اس کے مانی کی تعلیم نور و ظلمت کی آمزش جس نے عالم مادی کو پیدا کیا سرے سے بری چیز تھی اور محض قوائے ظلمت کا نتیجہ عمل تھا ۔ آمیزش کو اگر اچھا کہہ سکتے ہیں تو اس اعتبار سے کہ اس میں نور کے ان اجزا کے لیے جو ظلمت میں اٹک کر رہ گئے اپنے مناسب مقام کی طرف واپسی اور نجات حاصل کرنے کے زرائع موجود ہیں ۔ جب ان اجزا کو حتمی الامکان نجات حاصل ہوجائے گی ۔ تو وہ فرشتے جن پر زمین و آسمان قائم ہیں اپنی گرفت کو ڈھیلا کردیں گے اور عالم مادی درہم و برہم ہوجائے گا ، آخر کار کائنات جل کر خاک ہوجائے گی ۔ تب لافانی اور ناقابل تسخیر ظلمت سے نور کی علحیدیکی اور اس کی نجات کا آخری وقت آئے گا ۔ قبل اس کے یہ حالت رونما ہو ۔ عمود السبح یعنی پرہیز گاروں کی نماز و تسبیح تقدس اور اعمال صحالحہ سے جو آسمان کی طرف چڑھتے ہیں اور کہکشاں بن کر صاف نظر آتے ہیں کے ذریعے نور کے ٹکڑے ظلمت کی قید سے آزاد ہوکر اوپر بلند ہوتے ہیں اور بالآخر آفتاب و مہتاب کی کشتیوں میں سوار ہوکر جنان الفور میں جو ان کا اصل مقام ہے پہنچ جاتے ہیں ۔ لہذا مانویوں کے نذدیک ہر وہ فعل جو اس نور و ظلمت کی آمزیش کا معاون ہو ۔ مثلاً مناکحت و تناسل مذموم اور قابل گرفت ہے ۔ ہم سمجھ سکتے ہیں کہ کہ ہرمز کا ان الفاظ سے اس شخص نے تخریب عالم کی لوگوں کو دعوت دی ہے ۔ کیا مطلب تھا ؟ الغرض زرتشتی میں عصبیت اور جنگ جوئی مادیت اور شہنشاہی   Imperalismاقتدار و تسلط کی تعلیم ہے ۔ مانویت میں عدم عصبیت ، تسلیم و رضا اور زہد و بے نفسی کی ہدایت کرتا ہے ۔ اصولاً دونوں فرقین بعد المشرقین ہے ۔ باوجود ظاہر مماثلت کے جسے اسپیگل نے تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ در حقیقت دونوں میں لزوماً اور اصولاً تصاد موجود ہے ۔ یہودی مذہب اور روایتی Orthodox عیسائیت و اسلام سے بھی مانی کی تعلیم اس قدر متضاد موجود ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں