45

اہورا

زرتشت کے مطابق کائنات کا ایک خدا ہے ، جس کا ذاتی نام اہورا ہے ۔ چونکہ یہ بری عظمت والا ہے اس لئے اسے اہورا مزدہ یعنی خدائے متعان یا دانا سرور کہنا چاہیے ۔ ارواح مجرد اور فرشتگان اس کی مخلوق ہیں ، وہ قادر و علیم ہے ، وہ خیر کا چشمہ ہے ، وہ تقویٰ اور پاکیزگی راستی اور سخاوت کا منشاء اور معدد ہے ۔ اہورا کی ہر صفت کے ساتھ یزدان وابستہ ہیں ۔ یہ اہورا کی مخصوص صفت جس سے یزدان وابستہ ہیں پھیلاتے ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں تاریکی دور کر تے ہیں ۔ جبکہ یزدان کے مد مقابل ہرمن کے ساتھی ہیں جو دیوا کہلاتے ہیں ۔

گاتھا میں یسنا ۴۳ ، ۴۴ میں وہ مناجاتیں ہیں جو انہوں نے آتش بہرام (آذر مقدس) کے سامنے کھڑے ہو کر پڑھیں ہیں ۔ اس میں توحیدی خیالات ہیں ۔ اس میں اہورا مزد کو واحد خدا اور فرشتوں ، چاند ، سورج اور دنیا کا خالق کہا گیا ہے اور خداؤں کے اس مجموعہ کو  انہوں نے اہورا مرزدا بھی کہا ۔ اگرچہ ایک طاقت کا نام بھی مزدانہو جمع کے صیفہ میں استعمال ہوا ہے اور یہ توحید کے منافی ہے ۔ لہذا زرتشت نے اہورا محض صفت قرار دے کر مزد اس ہستی کا نام قرار دیا ہے ۔ زرتشت نے اسے اہورا امزدا (ہرمزد) کا نام دیا ۔ یعنی وہ اہورا جو مزد (یعنی خالق کل) ہے ۔ یہی لفظ پہلو بدل کر پہلوی میں یزدان ہوگیا ۔  

زرتشت اس سے زیادہ اور آگے بڑھ کر کہتا ہے کہ خود ہرمزد میں ان دونوں طاقتوں کا دخل ہے ۔ غالباً اس وجہ سے کہ وہ خالق الکل اور مالک الکل ہے اور ایسی صورت میں ان ان دونوں میں طاقتوں تفریق کرکے وہومانو (بہمن) یعنی روشنی اور اکیم مانو (اہرمن) قرار دیا نہیں جاسکتا ہے ۔ بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ فی الاصل اہرمن کوئی ایسی طاقت نہیں ہے جو ہرمزد کے خلاف ہو ۔ چنانچہ وہ ذات مطلق اپنی دو طاقتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ میری دو طاقتوں میں سے ایک طاقت روشنی یا پاکیزگی کی وغیرہ (یسنا ۹۔۱۹) اور (شروش یشت ۵۷) میں شروش کی حمد بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وہ سروش جو دو خالقوں کی عبادت کرتا ہے جس سے تمام چیزیں ہست سے وجود میں آئیں ۔ غرض یہیں آکر یہ مسلہ عیسائیوں کی تثلث کی طرح کچھ بھان متی کا پٹارہ بن جاتا ہے ۔ لیکن اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گاتھا میں کہیں بھی اہرمن کا نام نہیں آیا ہے اور نہ اس کو ہرمزد کی مخالف طاقت مانا گیا ہے ۔ کیا یہ تفریق بعد کے زمانہ میں داخل کی گئی ہے ؟ البتہ بدی یا برائیاں جس کے ہرمزد اور نیک بندے مخالف ہیں انہیں درخش کے لفظ سے تعبیر کیے گئے ہیں ۔ جس کے معنی جھوٹ اور فنا کے ہیں اور اگر زرا غور کیا جائے تو یہ لفظ دیو کا مترادف ہے ۔

پھر اسی میں ہرمزد یا صرف مزد کو نور کہا ہے جو جملہ انوار کی اصل ہے ، عقل و علم کا بانی ہے ، تمام نیکیوں اور نیک چیزوں کا مالک ہے ، دنیا عقبہ ، ہستی و پاکی ، نیکی و حقانیت ، دنیا و مافہیا کی خوفیاں اسی اکیلے کے قبضہ میں ہیں ۔ (یسنا ۴۷ ۔ ا) وہ تمام خوبیاں وہ ان نیک مردوں کو عطا کرتا ہے ، جو اپنے اقوال و افعال و خیالات کے رو سے پاک ہیں اور چونکہ وہ تمام اشیاء پر حادی اور ان کا مالک و حاکم ہے ۔ لہذا وہ صرف نیکیوں کا بدلہ دینے پر ہی قادر نہیں ہے بلکہ وہ بدی کو بھی سزا دینے پر قادر ہے ۔ خوش قسمتی و بدقسمتی ، نیک یا بد سب کچھ اسی کا پیدا کردہ ہے ۔ (یسنا ۴۸۔۴) اس آخری فقرہ سے معلوم ہوتا ہے خالق شر یعنی ایک ایسی طاقت جو ہرمزد کی بالکل مخالف ہے زرتشت کے نذدیک کوئی وجود نہیں تھا اور اس کا پتہ البتہ وندیداد سے ضرور لگتا ہے ۔

بعض شواہد سے معلوم ہوتا ہے ہخامنشی اہورا مزد کو خالق کائنات مانتے تھے اور اپنے اقتدار اور حکومت کو وہ اہورا مزد کی عنایت سمجھتے تھے ۔ دارا نے اپنی فتحوحات کے کارناموں کی سرگزشت جو کتبوں کندہ کرائی ہے اس میں اس نے بات بات پر اہورا مزد کا احسان مانا ہے ۔ قدیم ایرانیوں کے نذدیک اہورا مزد کا تصور انسانی فہم سے بالا تھا اس لیے وہ آگ کو مظہر خدا وندی سمجھتے اور اس کی پرستش کرتے تھے ۔ اس غرض سے اہم مقامات پر آتش کدے بنائے تھے اور ان کے اخراجات کے لیے جاگیریں مختص کیں تھیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں