41

ایرانی تورانی لڑائیاں

فراسیاب کے قتل کے بعد ترکستان اور ایران کا نزاع ختم ہوچکا تھا ۔ لہراسپ نے ترکوں کے ساتھ مروت اور روادری کا سلوک کیا تھا ۔ بقول فردوسی کے ارجاسپ جو چین و توران کا بادشاہ تھا اور گشتاسپ پر اس لیے حملہ کیا تھا کہ اس نے اپنا آبائی مذہب چھوڑ کر ایک نیا مذہب اختیار کرلیا تھا ۔ ارجاسپ کا پایا تخت خلخ تھا جو کہ جیحوں کے پار واقع تھا اور خلخ کی تفصیل اوستا یا پہلوی کتابوں میں تفصیل نہیں ملتی ہے ۔ پہلوی روایت کے مطابق ارجاسپ نے دو حملے کیے اور یہ لڑائیاں سترہ سال تک جاری رہیں اور دونوں میں کامیابی ایران کو ملی ۔

 زرتشتی تصانیف کے مطابق پہلی لڑائی گشتاسپ کی تبدیلی مذہب کے سترہ سال بعد ہوئی تھی ۔ زات سپارم کے مطابق تیسویں برس تورانی ایران پر حملہ آور ہوئے تھے اور اس زمانے میں زرتشت کا بڑھاپا تھا ۔ یادگار زریران کے مطابق اس لڑائی کے لیے یہ بہانہ بنایا گیا کہ گشتاسپ کا باج سے انکار تھا اور اصل وجہ ایران کا زرتشت مذہب کو قبول کرلینا تھا ۔ شاہنامہ اور دین کرت خراج اور مذہب دونوں وجہ بتاتے ہیں ۔ اگر ہم زرتشتی روایات کو مانیں تو زرتشت کے ایما پر ایران نے توران کو باج دینے سے انکار کردیا گیا تھا اور اس لڑائی کی بنیادی وجہ یہی تھی ۔ زرتشتی روایات کے مطابق گشتاسپ نے مذہب زرتشت کو قبول کرلیا تو ایک شخص آیشم جسے دین کرت میں اہرمن کا گرگا اور فردوسی نے دیو کہا ہے ارجاسپ کے پاس توران پہنچا ۔ ارجاسپ کے متعلق کہا گیا ہے کہ یہ نہایت طاقتور اور ظالم و سفاک بادشاہ تھا اور اسے آپشم ایران پر حملے کے لیے آمادہ کیا ۔ اس نے خود بھی ایک فوج کے ساتھ ساتھ دینے کا وعدہ کیا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آیشم خود بھی کسی ریاست کا حکمران تھا اور یہ زرتشت کو پسند نہیں کرتا تھا اور یہ ارجاسپ کے ساتھ ایران پر حملہ آور بھی ہوا تھا ۔ ارجاسپ نے بہتر سمجھا کہ حملے سے پہلے گشتاسپ کے نام خراج اور زتشت سے دور رہنے کا اور دوسری صورت میں حملے کی دھمکی دی جائے ۔ لہذا ایک خط دو قاصدوں ذریعے ہاتھ گشتاسپ کو بھیجوایا اور قاصدوں کو کہا کہ یہ خط خود گشتاسپ کے ہاتھ میں دینا اور وہاں کسی کو سلام نہ کرنا ۔    

گشتاسپ کو ارجاسپ کا دھمکی آمیز خط ملا اور اسے جب دربار میں سنایا گیا تو گستاسپ بھڑک اٹھا اور زریر اور اسفندیار نے تلواریں کھنچ لیں اور کہا جو کوئی زرتشت کو پیغمبر کو نہیں مانے گا اور ان پر ایمان نہ لائے گا ہم اس کا سر اتار دیں گے اور اسی وقت زریر سے اس خط کا جواب نہایت درشت اور سخت الفاظ میں لکھوایا اور قاصدوں کیا اور کہا اگر ایلچیوں کا قتل جائز ہوتا ہم تم دونوں کو گستاخی کے بدلے زندہ نہیں بھیجتے ۔

شاہنامہ کے مطابق زرتشتی دین کی تبلغ نے تورانیون کو پھڑبھرکا دیا ۔ ارجاسپ Arejaaspa نے گشتاسپ کو بذریعہ مراسلات کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ نئے مذہب کی ترویح روک دے اور قدیم مذہب کو قائم رہنے دے ۔ ورنہ بزور اسے طاقت کے ذریعے مجبور کیا جائے گا ۔ گشتاسپ نے اس کی بات کو ٹھکرا دیا تو ارجاسپ نے ایک بڑی فوج کے ساتھ ایران پر حملہ آور ہوا ۔

گویا یہ اعلان جنگ تھا اور طرفین نے لڑائی کی تیاریاں شروع کردیں ۔ دین کرت کے مطابق ارجاسپ شاہ توران قہر کا شیطان کی صورت میں شاہ گشتاسپ پر حملہ کرنے اور زرتشت کو مارنے کے لیے آرہا تھا ۔ پہلوی کتابوں میں تورانی فوج کو اہرمن کی فوج بھی کہا گیا ہے ۔ بروے یادگار زریران میں تورانی فوج ایک لاکھ اکتیس ہزار اور شاہنامہ میں تین لاکھ سے زیادہ تعداد تھی ۔ یادگار زریران میں ایرانی فوج کی تعداد ایک لاکھ چوالیس ہزار تھی ۔ یادگار زریزان کے مطابق میدان جنگ مرو تھا ۔ گشتاسپ نے میدان جنگ پہنچ کر جاماسپ جسے علم غیب حاصل تھا اس سے اس لڑائی کا انجام پوچھنا چاہا مگر جاماسپ نے ٹال دیا ۔ مگر جب گشتاسپ نے زیادہ ہی زور دیا تو جاماسپ نے ساری لڑائی کا نقشہ بتا دیا کہ فلاں فلاں شاہزادہ اور سپاہی اس طرح مارا جائے گا مگر آخر میں فتح ایران کو حاصل ہوگی ۔ بادشاہ کو یہ جان کر سخت رنج ہوا اور اسے اسی رنج سے رات بھر نیند نہ آئی ۔ علی الصبح گشتاسپ کو یہ خبر ملی کے توران کی فوج قریب پہنچ چکی ہے ۔ 

ادھر ارجاسپ نے بھی فوج کو ترتیب دیا ۔ ہراول پر یا مقدمہ الحبیش پر خشاش کو مقرر کیا اور ایک ایک لاکھ کی تعداد کے تین دستے بنائے ۔ گرگسار اور بیدرفش کو دائیں اور بائیں طرف اور بائیں طرف اور درمیان نامخواست کو مقرر کیا اور خود بھی ایک لاکھ فوج لے کر پیچھے کمک کے لیے ٹہرا ۔ ویسار جن کی تعداد تیس ہزار سوار تھی اپنے دو بھائیوں کہرام اور اندیران کے سپرد کی گئی ۔ خود ارجاسپ قلب میں اور میمنہ اور میسرہ کی نگرانی کرنے اور انہیں کمک پہنچانے کی ذمہ داری خود لے لی ۔

یہ سن کر گشتاسپ نے اپنی فوج کو ترتیب دی ور زریر کو سپہ سالار بنایا اور اسفند یار کو و گرامی یمین ویسار میں پچاس بچاس ہزار سوار دے کر مقرر کیا ۔ شید سپ کو فوج خاصہ کے ساتھ قلب پر مقرر کیا اور نستور کو ساقہ پر مقرر کیا ہے ْ

سورج نمودار ہوا تو اس کے ساتھ ہی لڑائی شروع ہوئی بہادوں اور دلاوروں نے اپنی مہارت اور بہادری کے جوہر دیکھانے شروع کردیے اور یہ جنگ دو ہفتے تک مسلسل جاری رہی ۔ جس میں ایران کے بڑے بڑے دلاور اور شاہزادے جاماسپ کی پیشن گوئی کے مطابق مارے گئے اور فردوسی نے بھی ان کا مرثیہ لکھا ہے ۔ زریر سپہ سالار ایران کو جوش آگیا اور وہ خود میدان جنگ میں نکل گیا اور اس نے تورانیوں کا اس قدر خون بہایا کہ ان کی ہمتیں ٹوٹ گئیں ۔ زیریر کی بہادری اور دلاوری دیکھ کر ارجاسپ کو تشویش ہوئی اور اس نے اپنی فوج کو جوش و خروش پیدا کرنے کی کوشش اور زریر کو قتل کرنے والے سے اپنی بیٹی ماہوش کی شادی کرنے کا اعلان کردیا ۔ ادھر زریر تورانیوں کے پرے کے پرے صاف کرنے میں مصروف تھا اور موت خوشی کے مارے رقص کر رہی تھی ۔ صورت حال ایسی ہوگئی تھی کہ ارجاسپ کے اوسان خطا ہوگئے اور اس نے زریر کو قتل کرنے والے کو اپنی بیٹی کے علاوہ اپنا خزانہ بھی دینے کا اعلان کردیا ۔ ایک تورانی بہادر بیدر فش ارجاسب پاس گیا اور نے زریر کو مارنے کا عہد کیا کہ وہ زریر کو ہلاک کرے گا ۔ بیدر فش کی زریر پر سامنے سے وار کرنے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی ۔ اس لیے وہ زریر کی پشت پر گیا اور پشت پر ایسا وار کیا زریر گرا اور دم توڑ گیا ۔ بیدرفش نے زریر کے ہتھیار کھولے اور ارجاسپ کے سامنے پیش کیے ۔

گہرام نے زریر کے مرنے کی خبر گشتاسپ کو پہنچائی اور اسے جب بھائی کے مرنے کی خبر ملی تو اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ، اس نے کپڑے پھاڑ ڈالے اور تاج پر خاک ڈالی اور یہ سوچنے لگا کہ اب اپنے بوڑھے باپ کو کیا منہ دیکھاؤں گا ؟ رعایا کو کیا جواب دوں گا ؟ زریر جیسے دلاور بہادر کی موت کے بعد دشمن کو شکست کیسے دوں گا ؟ آخر جاماسپ کے سمجھانے پر اسے کچھ تسلی ہوئی اور اس نے زریر کی موت کے انتقام لینے کا حکم جاری کیا ۔ لیکن ایرانی فوج میں بدلی پھیل چکی تھی اور وہ تورانی فوج سے مرعوب ہوچکی تھی اور ایرانیوں کا حوصلہ ٹوٹ چکا تھا ۔ گشتاسپ اس صورت حال کو دیکھ کر اس نے زریر کے قاتل کو قتل کرنے والے کی شادی اپنی پری جمال بیٹی ہما سے کرنے کا اعلان کر دیا ۔ مگر ایرانیوں میں دشمنوں سے لڑنے کا حوصلہ نہ رہا تھا اور زریر کا بدلہ کون لیتا ۔

اسفندیار کو جب چچا کے مارے جانے کی خبر تو اسے سخت صدمہ پہنچا مگر اس کے کیانی خون نے جوش مارا ۔ اس نے فوج کی مرنے اور مارنے پر کمر بندھائی اور گشتاب نے بھی سپاہ کے لیے انعامات کا اعلان کیا ۔ زریر کا بیٹا اور گشتاسپ کا بھتیجا نستور بھی باپ کے خون کا بدلہ لینے کے لیے نکلا اور بیدرفش تک پہنچ گیا ۔ دوسری طرف اسفندیار بھی بیدرفش تک پہنچ گیا اور بیدرفش نے جب اپنے کو دو بہادروں کے نرغے میں پایا تو اس کا حوصلہ جواب دے گیا زمین اس کے پیروں تلے کسک گئی اور اس نے فرار ہونے کی کوشش کی مگر اس کے قدم جواب دے چکے تھے اور وہ اسفندیار کے ہاتھوں مارا گیا ۔ بیدرفش کے مارے جانے سے تورانی فوج کی ہمتیں ٹوٹ گئی اور ایرانی فوج نے ان کا قتل عام کرنا شروع کیا ۔ ارجاسپ نے جب تورانی فوج کی یہ حالت دیکھی تو وہ فرار ہوگیا ۔ ارجاسپ کو فرار ہوتا دیکھ کر تورانی فوج نے اسفندیار کے سامنے ہتھیار ڈال دیے اور امان مانگی ۔

دوسرے دن جب نقصان کا اندازہ کیا گیا تو معلوم ہوا ایران کے تیس ہزار آدمی کام آئے ۔ جس میں ۱۱۶۶ ایران کے نامور بہادر افرد مارے گئے اور ۱۰۴۰ افراد زخمی ہوئے اور دشمن کے ایک لاکھ آدمی مارے گئے تھے ۔ جن میں ۸۰۰ نامور بہادر تھے اور ۳۲۰۰ افراد زخمی ہوئی اور اس خونریزی کے ساتھ پہلی جنگ کا خاتمہ ہوا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں