religions of iran 98

ایرانی مذاہب

قدیم ایران میں انہی دیوتاؤں کی پوجا کی جاتی جن کی برصغیر میں ہوتی تھی ۔ مثلاً ویدی دیوتا ورانا جس کا لقب آسورہ تھا ، یہ ایرانیوں کا متھرا ہے ، جو اوستا میں مشرہ آیا ہے اور فارسی میں مہر بن گیا اور ایرانی اسے چشم فلک کہتے تھے ۔ دیوا قدیم آریائی دیوتا ہے اور وید میں یہ دیاؤہ آیا ہے ۔ شاید یہ دیوتا بعد میں دیوتا شیوا بن گیا ۔ اوستا میں دیو برائیوں کا دیوتا بتایا گیا ہے اور اسے اہورا سے سرپیکار بتایا جاتا ہے ۔ فارسی میں اسے شیطان بتایا گیا ہے ۔

بعد کے دور میں ایران میں خیر و شر کی دو طاقتوں کا تصور پیدا ہوگیا ، جس نے ان کے مذہبی عقائد پر گہرا اثر ڈالا ۔ انگرامنو یا ہر من بدی کا دیوتا اور ہورا کے ساتھ ایک صفت مزدہ بمعنی عاقل کا اضافہ ہوا ۔ اس کے بعد ایرانیوں کے مذہبی تصورات انہی دو خداؤں یعنی خداون خیر و شر کے گرد چکر کھانے لگے اور ایران کے ہر مذہب کا بنیادی فلسفہ خیر و شر کے خداؤں کے بارے میں ہے ۔ 

زرتشت کا فلسفہ شر ہے ، مگر حقیقتاً یہ فلسفہ اضداد ہے اور زرتشت نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ اہورا کی ایجابی صفات اس کی سلبی صفات سے متصادم ہیں ۔ زرتشت کے مطابق کائنات کے خدا کا ذاتی نام اہورا ہے ۔ چونکہ یہ بری عظمت والا ہے ، اس لئے اسے اہورا مزدہ یعنی خدائے متعان یا دانا سرور کہنا چاہیے ۔ زرتشت کے مذہب میں کوئی نئی بات نہیں تھی بلکہ قدیم ایرانی تصورات دو خداؤں یعنی خداون خیر و شر کے مطابق ہے ۔

اگرچہ یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ زرتشت کے دور میں ہی اس مذہب نے ایران میں مقبولیت حاصل کرلی تھی ۔ لیکن ہخامنشی دور تک اس کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے ۔ ان کے بادشاہوں کے مدفن اس کی نفی کرتے ہیں ۔ اس طرح پارتھیوں کے بارے یہ معلوم ہے کہ وہ اپنی لاشوں کو جلاتے تھے ۔ جب کہ زرتشتی تعلیمات میں عناصر کو پاک رکھنے کا حکم دیا ہے ۔ اس لیے وہ لاشوں کو دفن کرنے یا جلانے کے بجائے کسی بلند مقامات پر ڈال دیتے ہیں کہ شکاری پرندے کھا جائیں ۔ اس مذہب کو مقبولیت ساسانی دور میں حاصل ہوئی اور یہ مذہب پورے ایران کا مذہب بن گیا ۔

ایرانی مذاہب میں زرتشت کے بعد جس مذہب نے مقبولیت حاصل کی وہ مانی تھا ۔ اس مذہب ایران کے علاوہ ترکستان و چین اور افغانستان میں پھیلا ۔ یہ مغرب میں شام و مصر سے ہوتا ہوا قرطاجنہ و مراکش پہنچا ، پھر وہاں سے اسپین ، اطالیہ اور فرانس میں داخل ہوا اور اپنے بنیادی فلسفے نور و ظمت یا خیر و شر سے اس نے مشرق و مغرب کے تمام ادیان کو متاثر کیا ۔

مانی کی کتب نقش و نگار اور حسین تصاویر سے آرستہ تھیں ، اس لئے مانی کی شہرت رسول کے بجائے نقاش و مصور سے زیادہ ہوئی ۔ یہ کتب مسلم دور تک باقی رہیں ۔ البیرونی نے ان کا مطالعہ کیا تھا ۔ مانی کادعویٰ ہے وہ فارقلیط جس کے ّآنے کی بشارت حضرت عیسیٰؑ نے دی تھی ۔ وہ گوتم بدھ اور زرتشت کی رسالت کا قائل تھا ۔ مانی کے مذہب کے تصورات زرتشت اور حضرت عیسیٰ کے مذاہب سے ماخذ ہیں ۔ مگر جہان زرتشت نے اس ازلی تضاد کو ایک ہی ذات بتایاہے ، وہاں مانی نے مستقل طور پر دو متعضاد ہستیوں کو تسلیم کرکے اپنے مذہب کو ثنویت کی بنیادوں پر رکھا ہے ۔

ایران میں آنے والا تیسرا بڑا مذہب اپنے پیغمبر مزدوک کے نام سے مزدوکیت مشہور ہوا ۔ مزدوک نظری عقائد مانویت سے ماخوذ ہیں ۔ یہ بھی نور و ظلمت دو خداؤں کا مبلغ تھا اور دونوں کو ازلی مانتا تھا اور ان کی آویزش کو بلا ارادہ اور اتفاقی بتاتا تھا ۔ اس کی تعلیم کے مطابق خیر کا خالق و صانع یزدان اور شر کا اہریمن تھا ۔ اپنی اخلاقی تعلیمات میں مزروک نے تقویٰ ، پاکی ، زہد اور ترک شہوات پر زور دیا ہے نیز ، جانداروں کو ستانے اور گوشت کھانے سے منع کیا ہے ۔ اس کے عقیدے کے مطابق یہ دنیا تین عناصر آب ، خاک اور آتش سے بنی ہے ۔ اس لئے اس نے تینوں کو پاک رکھنے کا حکم دیا ہے ۔

  مزدوک کی تعلیم کا سب سے اہم حصہ اشتراکیت اور اشتمالیت سے متعلق ہے ۔ اس کا خیال ہے کہ تمام دنیا ناہمواری ، ظلم و کینہ و حرض و حسد اور جنگ وجدل اہریمن کی طرف سے ہے اور اس کے پیدا ہونے کا سبب عورت اور دولت ہے ، جس ہر انسان مالکانہ قبضہ رکھتا ہے اور ملکیت کا تصور ہی برُا ہے اور یہ تمام فتنہ و شر کے پھلنے کا سبب ہے ۔ نیز یہ عدل کے خلاف ہے اس لئے دونوں کو ذاتی تصرف سے آزاد کیا جائے اور ان پر تمام لوگوں کا مساوی حق تسلیم کیا جائے اور ان سے فائدہ اٹھانے کا یکساں موقع دیا جائے ۔ یہ طریقہ اہریمن کی طاقت کو توڑے گا اور یزدان کے ہاتھ مظبوط کرے گا ۔ کیوں کہ یزدان مساوات اور عدل کا خواہاں ہے ۔ مزدوک کا خیال تھا جو اس طریقہ کو پسند نہیں کرتا ہے وہ اہریمن کا موید ہے ۔ اس کا کہنا کہ یہ یزدان کے عین منشاء کے مطابق ہے اور اہریمن کے شر کو روکنے کا ایک مفید طریقہ ہے ۔ مزدوکیت اور موجودہ اشتراکیت میں فرق یہ ہے کہ مزدوکیت مذہب پر اور اشراکیت دہریت اور الحاد پر مبنیٰ ہے ۔ 

ہم جب ایرانی مذہب کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم پر واضح ہوتا ہے کہ قدیم ایرانی تصور یعنی دو خداؤں سے کوئی بھی ایرانی مذہب باہر نکل نہیں سکا اور آنے والے مذہب نے اگرچہ اس کو مختلف صورتوں میں پیش کیا ۔ مگر یہ سب ثنویت کے گرد گھومتے ہیں یہاں تک ہے ۔ اسلام نے اس کو سرنگوں ہونے پر مجبور کردیا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں