40

ایران میں زرتشیت

یہ سب زرتشتی روایتیں ہیں اور اس میں شک نہیں ہے زرتشتی مذہب کو ایران کی سرزمین میں خاطر خواہ مقبولیت حاصل ہوئی ۔ مگر یقین سے نہیں کہا جاسکتا ہے کہ ہخامنشی فرمانروا اس مذہب کے ماننے والے تھے اور نہ ہی اشکانیوں کے بارے میں یقین سے یہ کہا جاسکتا ہے ۔ البتہ ایسے شواہد ملتے ہیں کہ وہ اپنے قدیم مذہب پر اردان دوم کے عہد تک قائم تھے اور بلاش اول کے دور میں اشکانیوں نے زرتشتی مذہب قبول کیا تھا ۔ اسی زمانے اوستاکی تدوین کی گئی اور اس کی تفسیریں لکھی گئیں ۔ البتہ ساسانی عہد میں ہی باضابطہ زرتشتی کو شاہی مذہب کو تسلیم کیا تھا اور اس کی اشاعت و تبلیغ کی طرف توجہ دی تھی ۔ اردشیر اربکان کے عہد میں اوستا اور ژند کی تدوین کی گئی اور آتش کدے تعمیر کیے گئے ۔ دوسرے ساسانی بادشاہوں نے بھی مختلف شہروں میں بڑے بڑے آتش کدے بنوائے تھے اور ان کے اخراجات کے لئے جاگیریں وقف کیں تھیں ۔ ساسانی عہد میں آخیر تک دین زرتشتی کو سرکاری حثیت حاصل رہی تھی ۔

اریارامن کے ایک نوشتے اور دارا اول کے کتبے اہورا مزدہ کا ضرور نام آیا ہے مگر اس سے ثابت نہیں ہوتا ہے کہ یہ زرتشتی تھے ۔ کیوں کہ اہورا دین زرتشتی کا واحد معبود نہیں تھا اور اس سے ہم زیادہ سے زیادہ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہخامنشی اہورا مزد کو مانتے تھے ۔ کیوں کہ زرتشتیی مذہب جو عہد اسلامی کے بعد ہمارے سامنے موجودہ صورت میں آیا تھا ۔ شہادتوں سے معلوم ہوا ہے کہ ہخامنشی اور اشکارنی آریائی معبودوں کے علاوہ اپنے آباد اجداد کی پرستش کرتے تھے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں