78

ایران کے بلوچ قبائل

ایرانی بلوچستان میں بلوچوں کے بڑے قبیلوں کے فرقوں کی تعداد زیادہ نہیں ۔ ایسے قبائلیوں میں بنت ، برانزئی ، گورگیچ ، ، گمشاد زئی ، دشتیاری ، کوچی ، اسمعیل زئی ، لاشاری ، مگسی ، ناروئی ، ریکی ، سببی ، سوران ، فانوج ، ہنپ اور احمد زئی ہیں ۔  

کرمان (ایران کے جنوب میں) بلوچوں کے مشرقی قبائل میں سے ایک قبیلہ بھی نہیں ہے ۔ یہاں ایرانی ، ترکوں اور بلوچوں خانہ بدوش کے چھوٹے قبائل ہیں ۔ ان کے بشتر نام ان مقامات کے نام پر جہاں پر رہتے موسوم ہیں ۔ مثلاً کارلیگی ، سنگی ، تختی ، خاچہ ، کوہی وغیرہ ۔ وہ اس علاقہ کے قدیمی قبائل ہیں ۔ یہ موسم سرما میں اور کرامان کے مشرقی علاقوں جیروفیتی اور رونیاری میں رہتے  ہیں اور گرمیوں میں پہاڑوں کے دروں میں مثلاً کلانی ، سنگی ، خاجہ کوہی ، تختی وغیرہ ہیں نقل مکانی کرچاتی ہیں ۔

مغربی مکران میں سرباز کے جنوب میں سے بحیرہ عرب کے کنارے تک دشتاری (سرباز) کی ذرخیز وادیوں میں سرباز ِ باہوکلات ، میر بازار اور اس طرح کی دوسری جگہوں پر ناروئی ، ہوت ، لاشاری ، کاازری (کورائی) رئیس اور بلیدی ، دشتیاری ، دکرزئی ، زینو قدیں ، لوئی ، فانوج ، ہنپ آباد ہیں ۔

بلوچوں کے کچھ قبیلے جو مغربی مکران کے جنوبی وادیوں میں میر بازار ، دشتیاری ، کیچ وغیر میں آباد ہیں انہیں اپنی روایات کا علم نہیں ہیں کہ یہ ماضی میں کس قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ مشترکہ علاقہ اور مشترکہ مفاد کی بنیاد پر ان میں اتحاد آپس میں اتحاد قائم ہے ۔ ان کے نام اب جہاں رہتے وہاں وادیوں اور دریاؤں کے طاسوں مثلاً دشتیار ، ہنپ اور فانوج وغیرہ ) کے نام سے پہچانے جاتے ہیں ۔ مکران کے قدیم باشندے یعنی مید وغیر جنوب میں بحیرہ عرب کے کنارے اب وہ ماہی گیری کرتے ہیں ۔

ایرانی بلوچستان کے مرکز پمبور اور ساراوان میں بلوچ پمبور اور ایرندگان کے دریاؤں کے پاس بڑی وادیوں میں بلوچوں کے بڑے قبائل ناروئی ، لاشاری اور ہوز کے فرقہ اسر اسس کے علاوہ چھوٹے قبیلے مثلاً عبداللحی ، بامری ، دامنی ، میر ، بلوچ زئی وغیرہ رہتے ہیں ۔

ساروان میں جہاں بہت سی وادیاں ہیں ، بلوچوں کے بڑے قبیلوں کی کچھ خانہ بدوش شاخیں مثلاًً آسکانی ، ہمیر زئی ، کلیگی ، مگسی ، ناروئی ، ، نوشیروانی ، رند ، ریگی ، سورانی ، پیدوج وغیرہ اور دوسرے بلوچ بھی آباد ہیں اور بشتر رہائشی مقامات کے نام سے وہ آباد ہیں ، مثلاً کلا گان ، کوہک ، پمپوٹ شت وغیرہ رہتے ہیں ۔

ایرانی بلوچستان کے مرکزی حصہ میں ان بلوچوں کی اکثریت ہے جو زیادہ تر کاشت کاری کرتے ہیں ۔ ایسی وادیوں میں مثلاً چالک اور خاش میں ذرخیز زمینوں اور پانی لگانے کے لیے پانی کی موجودگی زمانہ قدیم سے ہی آباد کاشت کاری کی وسیع پیمانے پر مدد کرتی رہی ہے ۔

سرحد ( ایرانی بلوچستان ) کا علاقہ جو سیستان کی سرحد پر ہے قدیم زمانے سے کوچی بلوچوں کے بڑے قبائل یعنی اسمعیل زئی اور یار احمد زئی اس علاقہ آباد ہیں ۔ اسی علاقہ میں بلوچوں قبیلے گورگیچ ، نارؤئی اور رند کے چھوٹے خانہ بدوش طائفہ بھی آباد ہیں ۔ اس طرح گمشاد زئی بھی اسی علاقہ میں نقل مکانی کرتے ہیں اور ان کا آباد حصہ سروان میں رہتا ہے ۔

ایرانی بلوچستان میں گزشتہ صدی کے آخر میں کچھ آریائی قبیلے شامدان ، لاویزی ، تامینی ، خاشی وغیرہ دیکھے تھے ۔ بعد کی معلومات کے مطابق اب قبیلوں کی تعداد اب دو رہ گئی ہے ۔ یعنی تامینی اور خاشی اور اب وہ بھی فارسی نہیں بلکہ بلوچی بولتے ہیں اور خود کو بلوچ کہتے ہیں ۔

اس دوران بڑے قبائل کے ساتھ چھوٹے قبیلوں کے مل جانے کا عمل جاری رہا ۔ جمشید زئی اور رحمان زئی اب احمد زئی کے ساتھ مل گئے ہیں اور ایک ہوگئے ہیں ۔ ریگی قبیلہ میں بالو زئی ، ہاشم زئی اوور برد گوئی قبائل کے الگ الگ فرقہ شامل ہوگئے ہیں ۔ بعد میں میر اور ملا زئی قبائل کے یکجا ہونے کے نتیجہ میں بزرگری کے نام سے نیا قبیلہ وجود میں آیا ہے ۔ جس کا ذکر علحیدہ قبیلہ کی حثیت سے نہیں ہوا تھا ۔

قبائل کے یکجا ہونے کے عمل کے دوران باکو زئی ، ہوواری اور میر زئی قبائل میں سے ایک نیا قبیلہ میر ہزار زئی تشکیل پایا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں