69

ایسٹر

مسیحوں کا بڑا تہوار ایسٹر والا تہور قدیم فریجائی دیوتا اتیس کی یاد گار ہے جو اس کے دوبارہ زندہ ہونے کی یادگار کے طور پر منایاجاتا تھا والے اس تہوار کے مطابق کردیا ۔ جو اعتدالال ربیعی پر منایا جاتا تھا ۔ اتیس کی موت اور دوبارہ زندہ ہونے کے تہوار کو پہلے روم میں سرکاری طور پر چوبیس اور پچیس مارچ کو منائے جاتے تھے ۔ ابتدا میں مسیح کی وفات کو بھی پچیس مارچ منسوب کردی گئی ہے تاکہ اسے قدیم بت پرستوں کے تہوار سے ہم آہنگ کیا جاسکے ۔ یہ قدیم دیوتا جو سردیوں میں مردہ رہتا تھا اور بہار کی آمد کے اعلان سے زندہ ہوتا تھا اور یہ تہوار گال ، کپادیشا اور فریجہ اور روم میں بھی منایا جاتا تھا اور سولیویں صدی کے ایک فرانسی مصنف کا کہنا ہے اسے نجات دہندہ کا دن قرار وے دیا گیا جو ایک قدیم عقیدے کے مطابق تکوین عالم کا دن تھا اور یہ قدیم دیوتا اتیس کا نیا جنم دن کا تہوار تھا اور اس کی ذات میں مقدس باپ اور مقدس بیٹے دونون کے اوصاف جمع تھے ۔ روم میں یہ دن سرکاری طور منایا جاتا تھا اور اپریل میں بت پرستوں کے قدیم تہوار پاریلیا کی جگہ سینٹ جارج کے عرس نے لے لی تھی ۔ جب کہ یہ تہوار بت پرستوں کے وسط گرما کے آبی تہوار کی یادگار ہے ۔ اگست میں ڈائنا کا تہوار منایا جاتا تھا اس نے عید استقبال مریم نے کی جگہ لے لی ۔ نومبر میں مقدس روحوں کا تہوار بھی قدیم بت پرستوں کے کے تہوار مرنے والوں کی تہوار کی جگہ لے لی ۔ جس طرح میلاد مسیح کو دسمبر میں راس الجدی سے اس لیے منسوب کردیا گیا کہ وہ میلاد شمس سے تعبیر کیا جاسکتا تھا ۔

مسیح کی تاریخ وفات کی تاریخ پچیس مارچ پائی تھی تو مسیحی روایت کے مطابق ان کا نیا جنم دن ستائس تاریخ کو ہونا چاہیے تھا ۔ جو جولیسی تقویم کی رو سے اعتدال ربیعی اور احیائے اتیس سے دو دن بعد پڑتی ہے ۔ بت پرستیانہ تہواروں سے مسیحی تہوہاروں کی تطبیق میں دو دن کا ایسا ہی فرق سینٹ جارج کے عرس اور عید استقبال مریم میں واقع ہوتا ہے ۔ تاہم ایک مسیحی عقیدے کی رو سے جس پر لیکٹانئیس (ایک افریقی مسیحی مصنف جو مسیحی سسرو کہلاتا ہے ) اور شاید گال کا کلسیا کاربند تھا مسیح کی وفات وفات کی تاریخ تئیس اور نئے جنم کی تاریخ پچیس مارچ قرار پائی تھی ۔ اگر یہی بات یہی تھی تو احیائے مسیح احیائے اتیس کے ساتھ ساتھ واقع ہوا تھا ۔

چوتھی صدی عیسوی کے ایک گم نام مسیحی مصنف کی شہادت ہے کہ نصاریٰ اور کفار اپنے معبودوں کی اور نئے جنم دن کے اس عجیب و غریب اتحاد پر حیران تھا یہ اتفاق ان دونوں مخالف مذہبوں کے پیرووَں کے درمیان بڑی تلخ بحثوں کا موضع بنا ہوا تھا ۔ کافروں کا دعویٰ تھا کہ احیائے مسیح اتیس کے جنم کی جھوٹی نقل ہے اور نصرانی یہ کہتے تھے کہ اتیس کا جنم احیائے مسیح کی شیطانی نقل ہے ۔ ان مناظروں کو دیکھنے والوں کو اتیس کے پیرووَں کا بھاری نظر آتا ہوگا ۔ جن کی دلیل یہ تھی کہ ہمارا دیوتا قدیم تر ہے ۔ لیکن مسیح بڑی چالاکی سے ترتیب فطرت کو الٹ کر اپنے کمال و فخر سے مسیح کے حقیقی تقدم کو ثابت کرکے دیکھاتے تھے ۔

یہ بات کچھ عجیب ضرور ہے کہ نصرانیوں اور کافروں کے معبودوں کی موت اور نئے جنم کے تہوار بالا اختلاف مقامات ایک ہی مقات ایک مقامات میں ساتھ ساتھ آتے رہتے تھے ۔ چنانچہ اعتدال ربیعی کے زمانے میں جن مقامات پر وفات مسیحی کی یاد منائی جاتی تھی وہ فریجائی گال اور بظاہر روم تھے اور یہ وہی خطہ تھے جہاں اتیس کی پرستش کی طرح پڑی یا اس نے سب سے زیادہ جڑ پکڑی ۔ اس توافق کو محض اتفاق سمجھنا مشکل ہے ۔ اگر اعتدال ربعی یعنی اس موسم کو جب منطقہ معتدلہ میں روئے فطرت جوش حیات کا آئینہ دار ہوتا ہے ۔ قدیم سے ایسا زمانہ سمجھا جاتا تھا جب کسی دیوتا کی نئی زندگی میں ہر سال عالم کی ازسر نو تخلیق ہوتی رہتی ہو تو یہ بالکل قدرتی بات تھی کہ نئے معبود (مسیح) کی حیات نو کا جشن بھی سال کے اسی اہم زمانے میں قرار پاتا ۔

برستوں کے ساتھ مسیحی تہوار اس قدر مطابقت اور اس کی اس قدر صورتیں رکھتے ہیں کہ یہ امر اتفاقی نہیں ہوسکتا ہے ۔ وہ اس امر کی مفاہمت ہیں جو مسیحی کلسیا بت پرستوں سے کرنے پر مجبور ہوا ۔ ابتدائی کلسیا کے مبلغوں کی سخت اصول پرستی اور کفر پر ان کی شعلہ فشانی کی جگہ کلسیا کے مدبر عہدےداروں کی لچک دار پالیسی نے لے لی تھی ۔ جنہوں نے دیکھ لیا تھا کہ مسیحت کو صرف اسی صورت میں فتح ہوسکتی ہے کہ نجات کے بات کو وسیع کیا جائے اور اس کے اصول کی شدت کو کم کیا جائے ۔ مسیح اور بدھ مت دونوں کے بانی بنیادی طور پر کریم نسفی اور رحم دلی نے جنم لیا تھا ۔ یہ دونوں ابدی نجات کے اصول جو ان کی نظر میں اعلیٰ ہے ۔ یہ دونوں کو اگر دنیا میں پھیلانا تھا تو اس میں ایسی لازمی ترمیم یا تبدیل کرنا ضروری تھا کہ وہ کسی نہ کس طرح عوام کو راغب کرنے کی ان کے خیالات اور جذبات اور توہمات سے ہم آہنگ ہوسکے ۔ تبدیلی کا یہ عمل بعد میں ان کے پیرووَں نے انجام دیا ہے ۔ جو اپنے مذہب اور لوگوں کے درمیان قابل قبول بنا دیا ۔ اس طرح جیسے جسیے یہ مذہب مقبول ہوتے گئے وہ دوسرے مذہبی و سفلی عناصر کو زیادہ سے زیادہ اپنے اندر جذب کرتے چلے گئے ۔

تہذیب و تر تیب

(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں