72

بابے ( بابی )

نعمت اللہ ہروی مے اس کا شجرہ نسب بابے بن غرغشت بن قیس عبدالرشید دیا ہے ۔ جو کہ بابی بھی کہلاتا ہے ۔ اس کلمہ کہ اصل بابا ہے ۔ یعنی مقدس ، لاہوتی ۔ جو قدیم ترکی کلمہ باکا بمعنی خدا سے نکلا ہے ۔ ترکی میں اس کی بہت سی شکلیں ہیں ۔ مثلاً بیگ ، بیک ، بک ، بے اور بائے وغیرہ ہیں جو ترکی میں خطابات میں استعمال ہوتے رہے ہیں ۔ اس کلمہ کو سریانی کلمہ باب جس کے معنی دروازہ کے سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔

یہ عہد قدیم سے مختلف شکلوں میں ترکی کے علاوہ افغانستان ، ایران اور برصغیر میں استعمال ہوتا رہا ہے ۔ بابک جو ایران و افغانستان میں آتش کدوں اور مندروں کے پجاریوں کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے ۔ ساسانی خاندان کا بانی بابکان تھا جسے اردشیر بابکان کہتے ہیں ۔ اس کے باپ کا نام بابک اور دادا کا نام ساسان تھا جو اضطخر کے ایک مندر کا پجاری تھا ۔ نویں صدی عیسویں میں ایران کی مذہبی تحریک جو مسلمانوں کے خلاف بغاوت تھی ۔ اس تحریک کی قیادت بابک خرمی نے کی تھے ۔ بابک خرمی نے مسلسل اکیس سال تک مزہمت کی اور ماموں و معتصم کے متعدد دستوں کو شکست دی ۔ بالاآخر معتصم باللہ کے سالار افشین نے بابک خرمی زیر کرکے گرفتار کیا ۔ معتصم باللہ نے اسے سولی پر لٹکادیا ۔    

اسلام سے پہلے ترکوں میں جو مذہبی تحریکیں اتھیں ان کے رہنما بابا کہلاتے تھے ۔ تیرویں صدی میں ایشیا کوچک میں مذہبی تحریک کا بانی بھی بابا کہلاتا تھا ۔ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا ۔ ایران میں انیسویں صدی میں محمد علی باب نے نبوت کادعویٰ کیا تھا اور اس کے پیرو بابی کہلاتے ہیں ۔

 برصغیر میں میواڑ کے سوریا یا سورج بنسی خاندان کے مورث اعلیٰ کا نام بابا تھا ۔ برصغیر میں کلمہ بابا غالباً ترک لائے تھے ۔ وہ اسے بزرگ اور قابل احترام ہستیوں کے لئے استعمال کرتے تھے ۔ بعد میں یہ کلمہ ہندوؤں اور سکھوں نے بھی اپنے روحانی و مذہبی پیشواؤں و رہنماؤں کے لئے احتراماً نام ککی جگہ استعمال کرنے لگے ۔ اس کا معرب بابو ہے جس کے معنی معزز کے ہیں ۔ اس کی ایک شکل باپو ہے یعنی قابل احترام ۔ گاندھی جی کو احتراماً باپو کہتے تھے ۔ احمد شاہ ابدالی کو بھی احتراماً بابا کہا جاتا ہے ۔ افغانستان میں ایک سلسلہ ہندو کش کوہ بابا کہلاتا ہے جس کو ہیروڈوٹس پارومیس لکھتا ہے ۔

بابی بھی غالباً مقامی پرہتوں یا پجاریوں کا طبقہ ہوگا جو اپنے تقدس کی وجہ سے بابک کہلاتے ہوں گے اور انہوں نے بعد میں اسلام قبول کرلیا تو ان کی اصلیت محو ہوگئی اور بعد میں شجرہ نسب میں مورث اعلیٰ تصور کرتے ہوئے اس کو غرغشت کا لڑکا بتایا ہے ۔ اس کی تصدیق اس طرح بھی ہوتی ہے کہ نعمت اللہ ہروی لکھتا ہے ، کہ بابی نے اپنے چاروں لڑکوں کے نام چار مقرب فرشتوں کے نام پر جبرئیل ، میکائیل ، اسرافیل ،اور اسرافیل رکھے تھے ۔ مگر افغانوں کے اعتراض پر ان کے نام بدل دیئے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں