86

باختر (باختریا)

کوہ بابا یعنی ہندو کش کے شمال میں دریائے جیحون تک جو علاقہ چلا گیا ہے اس کو قدیم زمانے میں باخترBectar کہا جاتا تھا ، اب اس کو ترکستان کہا جاتا ہے ۔ اس کے موجودہ انتظامی مراکز مزار شریف ، تاش کرگان اور میمنہ ہیں ۔
باختر یا باختریا & Bectaria Bectar جس کو دارا کے کتبے میں باختریش Bectarishکہا گیا ہے اور ہیروڈوٹس Herodatieis نے اس کا پختولیس Paktolies کے نام سے تذکرہ کیا ہے ۔ تاہم بعد کے یونانی ماخذوں میں اس کا تذکرہ باکترا Baktra کے نام سے ملتا ہے اور اس کے لئے رگ وید Reg Veda میں پکھتا اور پکتھ اور اوستا Avesta میں اس کا نام بختہ اور بخت آیا ہے ۔ (دیکھئے پختون)
باختر وسط ایشیاء سے آنے والے قبائل کا پہلا پڑاؤ تھا ۔ اس کا سب سے پہلا تذکرہ دارا اولDaruess 1th کے کتبہ بہستون Behistun میں باختریش کے نام سے ملتا ہے ۔ یہاں ہخامنشHakhamaniess کی دوسری شاخ حکمران تھی اور خورس Cyrus کے زمانے میں دارا اول کا باپ ھستاسب یا گستاسب Hystaspes or Gastaspes حکمران تھا ۔ یہ کوئی آزاد حکومت نہیں تھی بلکہ ہخامنشیوں کی بزرگ شاخ کی زیر دست تھی اور اس نے خورس اور میدی کشمکش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی آزادی کا اعلان کردیا ۔ مگر جلد ہی خورس نے اسے اپنی حکومت میں ضم کرلیا ۔ 
ہخامنشیوں سے یہ علاقہ سکندر نے چھینا ۔ سکندر کے جانشین سلوکیوں Seleucidses کے دور میں یہاں آزاد یونانی قائم ہوئی ۔ جب سیتھیوں کو یوچیوں نے دریائے سیحوں اور جیحوں کے درمیانی علاقے سے نکالا تو وہ باخترسے یونانیوں کو نکال کر باختر پر قابض ہوگئے ۔ جب یوچیوں کودریائے سیحون اور جیحوں کے درمیانی علاقے سے نکلنا پڑا تو وہ باختر آگئے اور انہوں نے باختر سے سیھتیوں کونکال دیا ۔ اور باختر پانچ سو سال کے لئے یوچیوں کے قبضے میں آگیا ۔ یوچیوں کو ہنوں نے نکلنے پر مجبور کردیا ۔ مگر جلد ہی ساسانیوںنے ترکوں کی مدد سے ہنوںکو شکست دے دی ۔ مگر پھر اس علاقے پر ترک چھاگئے ۔
باختر زرتشتوں کا مقدس مقام تھا ۔ بعض روایات کے مطابق یہاں زرتشت کی پیدائش ہوئی تھی اور یہاں کے حکمران گشتاسب نے سب سے پہلے دین زرتشتی قبول کیا تھا اور یہاں ہی توران کے بادشاہ نے ایک آتش کدے میں داخل ہوکر زرتشت کو قتل کیا تھا ۔ 
باختر کا دالحکومت بلخ تھا ۔ تاہم سکندرکی مہموں میں اس کا تذکرہ نہیں ملتا ہے ۔ سب سے پہلے اس کا یونانی نوآبادی کی حثیت سے بختاپا Boxtapaکی شکل میں ملتا ہے ۔ بالالذکر ہوچکا ہے یہ زرتشتیوں کا مقدس مقام تھا ، لیکن بعد میں یہاں بدھ مذہب چھاگیا ۔ ہیونگ سانگ جب یہاں آیا تو بدھوں ایک سو عبادت گاہیں تھیں اور عربوں کی آمد کے وقت یہ شہر بدھ مذہب کا مرکز تھا ۔ یہاں آنے والے اکثر قبائل نے بدھ مذہب قبول کرلیا تھا ۔ بعد میں اس شہر نے اس شہر نے متواتر ترقی کی ، مگر آہستہ آہستہ یہ شہر ویران ہوتا چلا گیا اور آبادی کا بیشتر حصہ مزار شریف منتقل ہوگیا جو اب اس صوبے کا صدر مقام ہے ۔ اب یہ ایک قبصبہ کی شکل اختیار کرچکا ہے مگر وسیع و عریض کھنڈرات اس کی ماضی شان و شوکت اور قدامت کی نشاندہی کرتے ہیں ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں