91

بدخشاں

اس علاقے کا ذکر سب سے پہلے خشاریہ کے کتبہ میں ملتا ہے اور اس کا نام اکوفہ Akofa آیا ہے جو کہ ہخامنشیوں کے قبضے میں تھا ۔ سکندرکے حملے کے بعد غالباََ یہ آزاد ہوگیا تھا ، کیوں کہ بعد میں اس کا ذکر نہیں ملتا ہے ۔ مگر یقیناََ کشن سلطنت میں شامل تھا کیوں کشن مملکت کی حدودیں پامیر کے پار تک تھیں ۔
بدخشاں ایک پہاڑی علاقہ ہے کیوں کہ یہ دریائے سیحوں ، زیادہ صحیح الفاظ میںاس دریا کے منبع یعنی پتچ کے بالائی حصوں میں اس کے بائیں کنارے پر واقع ہے ۔ پانچویں صدی عیسویں میں یہ علاقے ہنوں کے قبضے میں تھا ۔ چھٹی صدی عیسوی میں ترکوں نے ہنوںکی مملکت کا خاتمہ کردیا تھا ۔ جیسا کے عربی اور چینی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عربوں کی یلغار کے وقت تخارستان (زیادہ وسیع معنوں میں) کے فرمانرواکا ترکی لقب یبغو (عربی جیغوبہ) تھا اور دوسرے ممالک جن میں جن میں بدخشاں بھی شامل تھا اس کا باجگزار تھا ۔  
عربوںنے بدخشاں کب فتح کیا اور وہاں اسلام کی اشاعت کیسے ہوئی پوری معلومات نہیں ہیں ۔ طبری کے ہاں اس کا ذکر صرف ایک دفعہ آیا ہے کہ ’جیغوبہ کی مملکت میںکشمیر اور اس سے بھی دور دراز مقامات جنگیں ہوئیں‘ ۔ یعقوب کے نذدیک اس کا شہر جروم اسلامی سرحد پر تبت (براستہ دخان) کی تجارتی شاہراہ پر واقع تھا ۔ الاصطخری کا کہنا ہے کہ یہ بدخشاں ابولفتح کی مملکت میں ہے ۔ یہاں اشارہ بلاشبہ ابوافتح یقتلی کی طرف ہے ۔ چھٹی صدی عیسوی سے بارویں صدی عیسوی تک یہ تخارستاں میں شامل تھا ۔ بعد میں یہ خاندان غوری کی بامیان شاخ کے زیر حکومت آگیا ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں