55

بدھ مت

گوتم بدھ
گوتم کپل وستو میں ہمالیہ کی ایک ریاست میں پیدا ہوا تھا ۔ جہاں آریائی قبیلہ ساکیہ یا شاکہہ آباد تھا ، اس کے سردار یا راجہ شدودھن کا لڑکا تھا ۔ گوتم کی ماں کا نام مایا یا مہامایا تھا ۔ گوتم کے سال ولادت میں سخت اختلاف ہے ۔ عام طور پر ۵۶۳ ق م بتایا جاتا ہے ۔ نیز یہ مسلئہ تنازعہ فیہ ہے کہ گوتم کا اصل نام کیا تھا ۔ بعض لوگوں نے سدارتھ پہلا نام اور گوتم قبائیلی نام بتایا ہے ۔ مگر جدید تحقیق کے مطابق ان کا اصل نام گوتم تھا اور سدارتھ ، ساکیہ منی ، ساکھیہ سہنا ، جن بھاگوا ، لوک ناتھ اور دھن راج وغیرہ ان کے القاب تھے جو ان کے متعقدین نے انہیں دیے تھے ۔
گوتم کے بچپن کے حالات مستند کتابوں میں نہیں ملتے ہیں اور جو ملتے ہیں وہ عقدت مندوں کی عقیدت سے اس طرح متاثر ہوئے ہیں کہ تاریخی معیار پر پورے نہیں اترتے ہیں ۔ بہرحال اتنا پتہ چلتاہے کہ انہوں نے رواج کے مطابق علوم و فنون اور سپہ گری میں مہارت پیدا کی اور کمسنی میں ان کی شادی یشودھرا سے کردی گئی ۔
آخر بعض روایات کے مطابق گوتم کی عمر جب تیس کی ہوئی تو ان میں ذہنی تبدیلی ہوئی اور کچھ طبعی رجحان اور کچھ زندگی کے تلخ واقعات نے گوتم کو مجبور کیا کہ وہ ابدی سکون و مسرت حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اس کے حصول کا طریقہ معلوم کرنے کی کوشش کریں ۔ اس ذہنی خلفشار کے زمانے میں ان کا ایک بیٹا پیدا ہوگیا تو وہ بول بڑے مجھے یہ نیا رشتہ توڑ نا پڑے گا ۔ 
آخر بعض روایات کے مطابق گوتم اسی شب گھر کو چھوڑ کر جنگل نکل گئے ۔ جہاں انہوں نے چھ سال تک مختلف ریاضتوں میں گزارے ۔ جس میں گھاس بھونس پر گزارہ ، بالوں کے کپڑوں کا پہنا ، گھنٹوں کھڑے رہنا ، کانٹوں میں لیٹ جانا ، جسم پر خاک ملنا ، سر اور ڈارھی کے بال نوچنا ۔ اس طرح کے سخت مجاہدات میں مشغول رہے ۔ آخر ان پر یہ حقیقت عیاں ہوئی کہ جسم کی آزادی اور اس طرح کے مجاہدات سے تسکین ناممکن ہے اور یہ طریقہ مسائل حل کرنے سے قاصرہیں ۔ چنانچہ انہوں نے باقیدہ کھانا پینا شروع کردیا اور اپنے چیلوں سے یہ کہا کہ ریاضت کے یہ تمام طریقہ غلط ہیں ۔ چنانچہ وہ انہیں چھوڑ کر چلے گئے ۔ 
نروان 
چیلوں کے چلے جانے کے بعد گوتم سخت ہیجان میں مبتلا ہوگئے ۔ آخر وہ بدھ گیا میں جو اس وقت غیر آباد علاقہ تھا ، وہاں ایک درخت کے نیچے بہٹھ گئے ۔ اس واقع کے بعد انہوں نے تہیہ کرلیا ، کہ جب تک ان پر حقائق ظاپر نہ ہوئیں گے وہ اسی طرح مراقب رہیں گے ۔ دفعتاً غروب آفتاب کے وقت ان کے ذہن میں ایک چمک پیدا ہوئی اور ان پر یہ حقائق منکشف ہوئے کہ ’’ صفائے باطن اور محبت خلق ‘‘ میں ہی فلاح ابدی کا راز مضمر ہے اور تکلیف سے رہائی کے یہی دو طریقہ ہیں ۔ انہوں نے حیات کے چشمہ موت اور زندگی کا ایک لامتناہی سلسلہ دیکھا ۔ ہر حیات کو موت سے اور موت کو حیات وابستہ پایا ۔ ہر سکون اور ہر خوشی کو نئی خواہش نئی مایوسی اور نئے غم کے دوش بدوش پایا ۔ زندگی کو موت سے ملاقاتی ہوتے پھر اپنے کرم کے مطابق جنم لیتے دیکھا ۔ اس نوری کفیت اور انکشاف کے بعد وہ بدھ یعنی روشن ضمیر ہوگئے اور انہیں یقین ہوگیا کہ وہ غلطی اور جہالت کے دھندلکوں سے آزاد ہوچکے ہیں ۔ ان کی زندگی خواہشوں اور الائشوں سے آزاد ہوچکی ہے اور انہیں تناسخ کے چکر سے نجات مل چکی ہے ۔ 
انسانی مصاحبوں کے علاج جان لینے کے بعد وہ بنارس آئے اور وہاں ایک مقام مگادیہ میں قیام کیا ۔ ان کے چیلے جو انہیں چھوڑ گئے یہاں آن ملے ۔ چنانچہ انہوں نے اپنے چیلوں کو اپنی تعلیمات سے روشناس کرایا اور زندگی و موت کے حقائق انہیں سمجھائے ۔ آخر وہ ان سے متاثر ہوکر ان کے دین میں داخل ہوگئے ، پھر انہوں نے اپنی دعوت کو عام کیا اور تین ماہ یہاں قیام کیا ۔ ان کی بزرگی و علم کا شہرہ دور دور تک پھیل گیا اور بہت سے لوگ ان کی کرامتوں کو دیکھ کر ان کے مذہب میں داخل ہوگئے ۔ 
یہاں سے گوتم راج گڑھ گئے ۔ اس وقت مگدھ کا راجہ بمبارا تھا ۔ اس نے گوتم کا خیر مقدم کیا اور ایک باغ ان کے قیام کے لئے وقف کردیا ۔ یہاں گوتم نے کئی سال گزارے ۔ وہ ہر سال گرمی اور جاڑے میں تبلغ کے لئے نکلتے اور برسات میں واپس آجاتے ۔ بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ راجہ بہار ادر اجات سترہ نے گوتم سے ملاقاتیں کیں اور انہوں نے بدھ مذہب قبول کرلیا تھا ۔ الغرض چند سال کے اندر گوتم کا مذہب تیزی سے پھیل گیا ۔ پھر کپل وستو میں باپ کے بلانے پر آئے اور گھر والوں سے ملاقاتیں کیں ، مگر راج گڑھ واپس آگئے اور تقریباً چوالیس سال تک گوتم اپنے مذہب کی تبلخ کرتے رہے اور اس سلسلے میں ہندوستان کے مختلف مقامات پر گئے ۔ ان کی حیات میں ان کا مذہب تیزی سے مقبول ہوگیا اور دور دور تک ان کے مبلغین ہندوستان کے ہر حصہ میں پہنچ گئے اور لوگوں کو اس نئے مذہب سے روشناس کرایا ۔ عام روایات کے مطابق گوتم نے ۸۰ سال کی عمر میں ۴۸۳ ق م میں وفات پائی ۔ ہندو رسم کے مطابق ان کی لاش نظر آتش کردی گئی ۔ 
تعلیمات 
گوتم کے زمانے میں لکھنے پڑھنے کا رواج بہت کم تھا ۔ اس لئے ایک عرصہ تک ان کی تعلیمات زبانی منتقل ہوتی رہیں ۔ تقریباً تین سو سال کے بعد ۲۵۲ ق م میں اشوک کے عہد میں پہلی مرتبہ انہیں ضبط تحریر میں لانے کی کوشش کی گئی ۔ یہ کتابیں تری پٹک یعنی تین ٹوکریوں کے نام سے منسوب ہوئیں ۔ مگر حقیقت میں یہ تین سے زائد ہیں ، یعنی ہر کتاب کئی کتابوں پر مشتمل ہیں ۔ یہ اشوک کے عہد میں بہار کی زبان پالی Pali میں قلمبند کی گئیں تھیں ۔ مگر اصل جلدیں بہت جلد ناپید ہوگئیں ۔ ان کی نقل مہند لنکا لے گیا تھا ۔ وہاں ان کا ترجمہ سنگھالی زبان میں ہوا ۔ وہ نقل بھی اصل کی طرح معدم ہوگئیں ۔ مگر سنگھالی زبان کا ترجمہ رہے گیا ، جسے ۱۴۳۰ء؁ میں ایک گیا کے راہب گھوش نے اصلی تسلیم کرتے ہوئے اس کا پالی میں ترجمہ کیا ۔ پاک وہند میں اب یہی تری پٹک سے مستند اور قدیم سمجھی جاتی ہیں ۔ حافظہ کی کمزوری اور ترجمہ کے ہیر پھیر کے بعد گوتم کی تعلیمات کہاں تک پہنچی یہ بتانا مشکل ہے ۔ 
بدھ مذہب کی کتابیں دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک بانی مذہب کی طرح نہیں بلکہ ایک مصلح یا فلسفی کی حثیت سے اپنی تعلیمات کا سارا زور اخلاق و اعمال پر پیش کیا گیا ہے اور ان  بنیادی عقائد کو نظر انداز کردیا ہے ، جن پر ایک مذہب کی تعمیر ہوتی ہے ۔ گوتم نے نہ تو خدا کے وجود پر کوئی بات صاف کہی ہے اور نہ کائنات کی تخلیق کے اسباب پر روشنی ڈالی ہے اور نہ ہی روح کی وضاحت کی ہے ، بلکہ اسے مادہ کا جز کہے کر خاموشی اختیار کی ہے ۔ جنت و جہنم ، حشر ونشر اور آخرت و قیامت جیسے مسائل کو انہوں نے پس پشت دال دیا ہے اور آواگون کے ہندو عقیدے کو اہمیت دے کر راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ عالم کی چیزیں اسباب کے تحت وجود میں آتی ہیں اور ہر لمہ غیر محسوس طریقہ سے بدلتی رہتی ہیں اور انہی اسباب کے تحت فناء ہوتی ہیں ۔ گویا پوری کائنات میکانکی طور پر وجود میں آئی ہے اور اسی طور پر چل رہی ہے ۔ اس میں کوئی شعور اور ارادہ کارفرما نہیں ہے ۔
گوتم نے ان تمام مسائل کی وضاحت اور تشریح کے بغیر اخلاقی احکام کی تلفین کی ہے ، جس کے ذریعے نروان حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ علاوہ ازیں گوتم نے والدین ، اولاد ، استاد و شاگرد ، خادم و آقا اور شوہر و بیوی کے فرائض ، حقوق اور ذمہ داریاں بتائیں ہیں ۔ انہوں نے والدین کو حکم دیا ہے کہ وہ بچوں کی تعلیم کی طرف توجہ دیں اور انہیں برائی سے بچائیں ، نیز ان کے لئے ترکے کی شکل میں معاش مہیا کریں ۔ اولاد کو حکم دیا کہ وہ والدین کی اطاعت اور احترام کریں ۔ اس طرح دوسرے لوگوں کو شفقت ، محبت ، ہمدردی ، احترام ، وفاداری ، ہنرمندی ، مساوات ، حسن سلوک ، ادب اور تعظیم کی ہدایت کی ہے ۔ گویا ایک فلسفی کی موجودات کے اجزاء ترکیبی سے بحث کی ہے ۔ پھر انسان کی خصوصیات اور صفات و روپ پر ایک تفصیلی بحث کی ہے ، جس سے ایک مذہب کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی ہے ۔ گوتم مذہب کے تمام فطری مسائل کو حل کرنے سے قاصر رہے ۔ یہی وجہ ہے بدھ مذہب ان لوگوں کے درمیان تو پھیل سکا ، جو بت پرست اور اوہام پرست تھے ۔ مگر اہل مذہب کے مقابلے میں قطعی ناکام رہا اور وہ جہاں پھیلا اس میں مقامی عقائد بھی شامل کردیئے گئے ۔
سنگھ
بدھ مذہب کا آغاز ترک دنیا سے ہوا تھا ۔ اس لئے جیسے جیسے مقتعدین کا حلقہ بڑھتا چلا گیا تو راہبوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا ۔ مگر جلد ہی گوتم نے محسوس کرلیا کہ ہر شخص تارک الدنیا نہیں ہوسکتاہے اور مذہب کو محض راہبوں تک محدود درست نہیں ہے ۔ لہذا اپنے پیروکاروں کو دو حصوں ، راہبوں اور دنیا داروں میں تقسیم کردیا ۔ راہبوں کی ایک انجمن بنائی گئی جو سنگھ کے نام سے موسوم ہے ۔ سنگھ کے ممبروں کو بھکشو کا خطاب دیا گیا اور ان کے لئے اہم شرائط و احکام وضع کئے گئے ۔ اوائل میں سنگھ کے تمام ممبر سمجھے جاتے تھے ۔ پھر ان میں عہدہ دار ابھرنے لگے اور ان کا صدر مذہبی پیشوا بن گیا ۔
سنگھ کی مجالس 
عام روایات کے مطابق سنگھ کی پہلی مجلس گوتم کی موت کے فوراً بعد راج گڑھ میں منعقد ہوئی تھی اور دوسری مجلس سو سال کے بعد وسیالی میں بلائی گئی تھی اور اس میں نزاعی مسائل زیر بحث آئے تھے ۔ مگر ان دونوں مجالس کے انعقاد کی مستند ذرائع سے تصدیق نہیں ہوتی ہے ، اس لئے تین سو سال کے بعد اشوک کے عہد کے میں جو مجالس بلائی گئی ، وہی پہلی مجلس سمجھی جاتی ہے ۔ اس میں تقریباً ایک ہزار راہبوں نے شرکت کی تھی اور اس میں اختلافی مسائل کو سلجھانے کی کوشش کی گئی تھی ۔ جیسا کہ بالاالذکر کیا گیا تھا کہ گوتم کی تعلیمات کو تین کتابوں میں جمع کی گئیں ، نیز تبلغ کے لئے دور دراز مبلغ بھیجے گئے ۔ سنگھ کی دوسری مجلس کنشک کی سرپرستی میں سری نگر کے قریب تقریباً ۱۴۵ء؁ میں منعقد ہوئی جس میں اختلافات ختم کرنے کی آخری کوشش کی گئی ۔ نیز بدھ کی تعلیمات پر صخیم کتاب لکھی گئی ، جس کو تانبے پر کندہ کرا کر ایک خاص استوپہ میں رکھیں گئیں ۔ 
فرقے
بدھ مذہب میں اختلافات گوتم کی زندگی میں ہی پیدا ہوگئے تھے ۔ ایک بھنگی کو سنگھ میں داخل کرنے پر اعلیٰ ذات کے ممبروں نے برہمی کا اظہار کیا تھا ۔ ذات کے علاوہ اور بہت سے مسائل نزاع کا باعث بن گئے تھے ۔ مگر پھر بھی گوتم کی زندگی میں انہیں ابھرنے کا موقع نہیں ملا اور گوتم کی موت کے بعد انہوں نے شدد اختیار کرلی اور بہت جلد بدھ کے متعبین اٹھارہ گروہوں میں تقسیم ہوگئے ۔ اشوک اور کنشک کی سرپرستی میں جو مجالس منعقد ہوئیں ، ان میں اختلافات کو دور کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی مگر دور نہ ہو سکے اور بالاآخر بدھ مذہب دو فرقوں میں تقسیم ہوگیا ۔ جو ہنیان اور مہایان کے نام سے موسوم ہیں ۔ اول الذکر مرکب اضغر Lesser Wehicle اور ثانی الذکر مرکب اکبر Great Wehicle بھی کہتے ہیں ۔ ان دونوں فرقوں میں سے ہر ایک متعدد ذیلی فرقوں میں تقسیم ہے ۔ 
ہنیان فرقہ جزویات کو چھوڑ کر کلیات میں قدیم مذہب پر کاربند ہے ۔ یہ گوتم کی تعلیمات کے مطابق روح اور خدائی کا قائل نہیں ہے ، نیز گوتم کو ہادی مانتا ہے ۔ مہایان اس کے برعکس گوتم کو ماقوق الانسان سمجھتا ہے اور اس کی مورت کو بحثیت دیوتا پوجا کرتا ہے ۔ یہ گوتم کے علاوہ دوسرے دیوتاؤں کا قائل ہے اور ان کی پرستش بھی کرتا ہے ۔ اس فرقے کی اشاعت کنشک کے دور میں زور شور سے ہوئی ، اس لئے منگولیا ، چین ، جاپان اور تبت میں اسی کو غلبہ حاصل ہوا ۔ مگر لنکا ، برما ، سیام اور مشرقی جزائر میں ہنیان نے پامردی سے مقابلہ کیا ، لیکن بالاآخر اسے وہاں مغلوب کرلیا گیا ۔ دلچپ بات یہ ہے منگولیا ، چین ، جاپان اور تبت میں بدھ مت کو بدھ کے ساتھ مقامی دیوتا عقائد روایات وہاں کی ضرورتوں کے تابع کرلیا ۔
ترقی کا سبب  
بدھ مت کی ترقی و مقبولیت کا راز اس کے بانی کی بے داغ زندگی میں تھا ۔ اس کے علاوہ بدھ مت کے اصول نہایت سادہ تھے ۔ مذہبی و راہبانہ جماعت سنگھ نے اس کی اشاعت میں نہایت اہم کردار ادا کیا ۔ ابتدا میں راجاؤں اور سرداروں نے بھی اس کی سرپرستی کی ۔ عام رواداری اور محبت کا پیغام عوام کے لئے جو برہمنی نظام کی قیود میں بندھے ہوئے تھے ۔ بدھ مذہب کو ابتدا میں نیچی زات کے لوگوں اور ویشوں نے اختیار کیا تھا ۔ پھر سرحدی ریاستوں کے راجاؤں نے اختیار کیا ۔ جب اشوک نے بھی بدھ مت کا پیرو ہوکر اسے اپنی سلطنت کے سرکاری مذہب کا درجہ دیا ، تو اس کی شہرت دور دور تک پھیل گیا ۔ یہ مذہب وادی سندھ سے افغانستان اور وسط ایشاء میں داخل ہوا اور براہ چین کے راستے کوریا تک پہنچ گیا ۔ اس طرح لنکا ، برما ، تبت ، سیام ، نیپال اور ملایا کے لوگوں نے اسے خوشی خوشی قبول کرلیا ۔ اشوک کے مبلغ یا بھکشو گاؤں گاؤں پھرتے اور اہنسا کا پرچار کرتے اور لوگوں کو جانوروں کی قربانی سے منع کرتے ۔ رفتہ رفتہ ان بھکشوؤں کے لئے وہار اور استوپے تعمیر ہونے لگے اور یہ جگہیں تعلیم اور عبادت کامرکز بن گئیں ۔ ان میں سب سے بڑا مرکز ٹیکسلہ تھا ۔ ٹیکسلہ کی پاٹ شالائیں جو وید کے بھجنوں اور اپنشدکے اشلوکوں سے گونجتی تھیں ، بدھ مت کی درستگاہوں میں تبدیل ہوگئیں ۔ 
موریا سلطنت کے ذوال کے بعد باختر کے یونانیوں نے ٹیکسلہ کو پایہ تخت بنایا تو انہوں نے بھی بدھ مذہب قبول کرلیا ۔ اشوک کے عہد میں بہت سے یونانیوں نے بدھ مذہب قبول کرلیا تھا ۔ چنانچہ مشہور بھکشو دھرم راجیکا جس سے ٹیکسلہ کا ایک اسٹوپہ منسوب ہے یونانی تھا ۔ اشوک نے اسے یونانی نوآبادیوں میں تبلیغ کے لئے بھیجا تھا ۔ منیانڈر نے پٹنہ تسخیر کرلیا ، مگر وہاں سے آکر اشوک کی طرح جنگ و جدل سے تائب ہو کر بدھ مت اختیار کرلیا اور آخر عمر میں راج پاٹ سے کنارہ کشی کرکے بھکشو بن گیا ۔ منیانڈر کے دربار میں بدھ مذہباور ہندو پنڈتوں میں بحث مباحثے ہوتے رہتے تھے ۔ بدھ مت کے سنتوں میں منیانڈرر کا درجہ بہت اونچا ہے ۔ اس کے گرو ناگا سین نے منیانڈر کے جو مکالمات اور اقوال ’ملندا شا‘ کے نام سے مرتب کئے وہ آج بھی لنکا ، برما اور تھائی لینڈ میں گوتم بدھ کا سب سے مقدس صحیفہ سمجھے جاتے ہیں ۔ 
جب کشن قوم کے راجہ کنشک نے اپنی سلطنت قائم کی تو اسنے بھی بدھ مت قبول کرلیا ۔ اس نے اس کی ترقی و ترویح کے لئے بحت سے اقدامات کئے ۔ جن میں بدھ مت کے فرقوں کے اختلافات ختم کرانے کے لئے مجلس کا انعقاد اور اپنے دارلحکومت پرش پورہ ( پشاور ) میں ایک اسٹوپا کی تعمیر شامل ہے ۔ اس طرح وردھن خاندان کے راجہ ہریش نے بھی بدھ مت قبول کرلیا تھا ۔ 
 وادی سندھ میں بدھ مت کی مقبولیت کا اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے ، کہ مشہور چینی سیاح ہیونگ سانگ یہاں سے گزرا تو فقط سندھ میں کئی سو سنگھران موجود تھے اور بھکشوؤں کی تعداد بھی دس ہزار سے زائد تھی ۔ حالانکہ اس وقت بدھ مت کو ذوال آچکا تھا اور ہندو مذہب دوبارہ حاوی ہو تاجا رہا تھا ۔
بدھ مت کا ذوال 
بدھ مت پانچ سو سال تک برابر ترقی کرتا رہا اور رفتہ رفتہ ہندوستان کے علاوہ افغانستان ، چین ، برما ، سیام ، اور مشرقی جزائر میں پھیل گیا ۔ گو ایشیا کے ایک بڑے حصہ پر قابض ہوگیا تھا ۔ اس کے بعد اس کی ترقی رک گئی اور اس کا ذوال شروع ہوگیا ۔ ہندوستان میں اس کے پیرؤں کی تعداد دن بدن گھٹی گئی ، آخر نویں صدی عیسویں آخر تک ہندستان میں یہ بالکل ناپید ہوگیا ۔ 
برصغیر میں بدھ مت کا ذوال کا اہم سبب برہمنوں کی مخالفت تھی ۔ وہ یہ جانتے تھے کہ اس مذہب کی ترقی میں ان کی موت پوشیدہ ہے ، اس لئے وہ اسے ہر قیمت پر مٹانا چاہتے تھے ۔ چنانچہ ایک طرف گوتم کو شیوکا اوتار تسلیم کرکے اس مذہب کی انفرادیت ختم کرنے کی کوشش کی اور دوسری طرف لوگوں کو تشدد پر اکسایا ۔ کمارل بھٹ اور شنکر اچاریہ جیسے پرجوش ہندو مبلغین نے باضابطہ بدھوں کے خلاف مہم چلائی اور اپنی تقریروں سے لوگوں کے دلوں میں اس کے خلاف نفرت اور دشمنی کا جذبہ پیدا کیا ۔ نتیجہ یہ ہوا اس کے خلاف اکثر مقامات پر بلوے ہوئے اور بڑی بے دردی سے بدھوں کا قتل عام کیا گیا ۔ بلاآخر بدھ مت اس سرزمین سے ناپید کردیا گیا ۔
گوتم نے جن بنیادی عقائد پر ایک مذہب کی عمارت کھڑی ہو سکتی ہے ، نظر انداز کردیا اور نہ ہی وجود اللہ تعالیٰ کے بارے میں کچھ بتایا اور نہ ہی آخرت کا خوف لوگوں کے دلوں میں بٹھایا ، بلکہ روح کے وجود سے انکار کرکے اخلاقی احکامات کی تمام بندشوں کو ڈھیلا کردیا ۔ اس بنیادی کمزوری کی وجہ سے یہ مذہب علم کے لوگوں میں مقبول نہیں ہوسکا ۔ انہوں نے اسے ایک اصلاحی تحریک سے زیادہ اہمیت نہ دی ۔ نیزمسائل محتاج تشریح کی رہنے کی وجہ سے اس کے متعبین میں وہ شدت پیدا نہیں ہوسکی جو ہونی چاہیے تھے ۔ 
اس مذہب کی دوسری کمزوری یہ تھی کہ اس نے رہبانیت اور ترک دنیا پر زور دیا تھا ۔ حلانکہ یہ تعلیم چند افرد کے لئے مناسب ہے ، لیکن عام لوگوں کے لئے ناقابل قبول اور ناممکن عمل ہے ۔ یہ نقص اس مذہب کو ہمہ گیر بنانے میں سخت حائل رہا ۔ علاوہ ازیں اس سے ایک طرح بدھوں کے اندر مختلف سفینہ حیات کو ترقی دینے اور منوانے کے جذبہ کو مردہ کردیا ۔ دوسری طرف راجاؤں کی سرپرستی ان کے اخلاقی انحاد کا باعث بنی ۔ راہبانہ زندگی میں راجاؤں کی قربت اور نواشات ان کی اخلاقی طاقتوں کے لئے صبر آزما ثابت ہوئی ۔ فطرتی کمزوریاں انہیں آرام طلب عیش پسند اور حریض بنے سے نہیں روک سکیں اور کچھ دنوں کے اندر ان کے سنگھ برائیوں کے مرکز بن گئے ۔ 
اس مذہب کے اندر ایک اہم نقص عدم تشدد کی تعلیم تھی ۔ جو اس کے ذوال کا اہم سبب بنی ۔ یہ تعلیم ممکن ہے راہبیانہ زندگی کے لئے اہمیت رکھتی ہو ، مگر اجتماعی زندگی میں بہت تباہ کن اور مہلک چابت ہوئی ۔ بدھوں نے اس اصول پر ان لوگوں کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی جو کرشن کے عدم تشدد کے قائل تھے اور انہوں نے تشدد کے لفظ کو بے معنی بنا دیا تھا ۔ ایسی حالت مین جب کرشن کے ماننے والے ان کے خلاف آرستہ ہوئے ، تو بچاؤ کی کوئی صورت پیدا ہو نہ سکی اور وہ تباہ ہوگئے ۔ 
اسٹوپے   
مشرقی ہند میں قبریں گول ہوتی تھیں اور استوپ کہلاتی تھیں ۔ گوتم بدھ سے پہلے قبروں کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔ مگر گوتم کے مرنے کے بعد اس کی راکھ کے مدفن کی حثیت سے استوپ کو اہمیت اور مذہبی علامت دی جانے لگی اور اس کو اتنی زیادہ دینی حثیت حاصل ہوگئی کہ گوتم اور دوسرے بدھ متی بزرگوں کے آثار کے لیے استوپ بنانا بڑے ثواب کا کام سمجھا جانے لگا ۔ عموماً ہر استوپ کے ساتھ بھکشوؤں کے رہنے کے لیے دھار ( خانقاء ) اور ان کے اجتماع کے لیے ایک چیتا ( عبادت گاہ ) بنوائی جاتی تھی ۔ شروع میں استوپ نیم دائرے کی شکل کا ٹھوس گنبد ہوتا تھا ، جو قبر کی طرح بغیر کرسی کے بنایا جاتا تھا اور اس کے بیچ میں تابوت کی جگہ وہ آثار رکھے جاتے تھے جن کی پرستش مقصود ہوتی تھی ۔ استوپ کی چوٹی پر ایک چوکور جنگلہ ہوتا تھا اور اس کے اوپر ایک چتر ۔ چونکہ بدھوں میں جس چیز کا احترام کیا جاتا تھا اس کے گرد طواف کیا جاتا تھا اس لیے استوپ کے گرد ایک گول چبوترا بنادیا جاتا تھا ۔ بعد میں استوپ کے مزید احترام کے خیال سے ایک جنگلے کے ذریعے اس کی احاطہ بندی کی جانے لگی ۔ اس جنگلے کے چاروں طرف سمتوں کے لحاظ سے دروازے ہوتے تھے ۔ دھار کا نقشہ وہی ہوتا تھا جو استوپوں کا ہوتا تھا ۔ یعنی بیچ میں صحن اور اس کے چاروں طرف کمرے اور کوٹھریاں جو صحن میں کھلتی تھیں ۔ صرف یہ ترمیم کردی گئی کہ تین طرف کمرے اور ایک طرف ٹہلنے کے لیے لان رکھا گیا تھا ۔      
اسٹوپا کو بدھ کی قبر بھی کہا جاتا ہے ۔ بدھ کی خاک آٹھ اسٹوپوں میں محفوظ کی گئی تھی ۔ اشوک ان آثار کو نکال کر سلطنت کے تمام بڑے شہروں اور صوبوں میں بھجوا دیا اور حکم دیا کہ وہاں شاندار اسٹوپے تعمیر کرا کر انہیں دفن کیا جائے ۔ یوں یہ خاک چوراسی ہزار اسٹوپوں میں محفوظ ہوئی ۔ چنانچہ اسٹوپوں کو بدھ کی قبر بھی کہا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ بدھ کے پیروکاروں اور بزرگ کو بھی دفن کیا جاتا تھا اور بدھ کے تبرکات پر بھی اسٹوپے تعمیر کیئے گئے ۔ چنانچہ فاہیان ایک اسٹوپے کا ذکر کرتا ہے جو کہ بدھ کے کشکول پر بنایا گیا تھا ۔ اس طرح شکرانے کے طور پر امیر آدمی بھی اسٹوپے تعمیر کراتے تھے ۔ زائرین اسٹوپے کے گرد طواف کرتے تھے اور اس کے ساتھ اسٹوپے کی گولائی پر نظر رکھتے تھے اور اس پر آویزاں مجسموں کو دیکھتے جاتے تھے ، جن میں مہاتمہ بدھ کی زندگی کے مختلف ادوار بیان کئے جاتے تھے ۔ یہ اسٹوپے مہاتمہ بدھ کی زندگی کے بارے میں پتھریلی کتاب تھے ۔ اسٹوپے کے گنبد پر ہمیشہ سات چھتریاں ہوتی تھیں جو سات آسمانوں کو ظاہر کرتی تھیں ۔ اشوک کے دور میں بدھ مت نے عروج پایا ۔ اس نے بدھ مت قبول کرلیا تھا اور اس نے اپنی سلطنت کے آٹھ مقامات پر بڑے اسٹوپے تعمیر کرائے تھے اور ہر اسٹوپے میں گوتم بدھ کے تھورے تھورے تبرکات محفوظ کئے تھے ۔ ٹیکسلہ کا دھرم راجیکا ان میں سب سے بڑا تھا ۔ شاہی اسٹوپوں کی دیکھ بھال کے لئے بھشکو مقرر تھے ۔ ان کے رہنے کے لئے دہار بنا دیئے گئے اور آس پاس کی زمین اس کے لئے وقف کردی گئی ۔
پہلے ان اسٹوپوں پر گوتم بدھ کی مورتیاں کندہ ہوتی تھیں ۔ یونانیوں نے جب بدمت قبول کیا تو وہ مے کے پیالوں کی جگہ کنول کے پھول تراشے اور ان میں یونانی دیوتاؤں کی جگہ گوتم کی مورتیاں بنائیں اور رفتہ رفتہ ان اسٹوپوں پر گوتم کی زندگی واقعات کو بیان کیا جانے لگا ۔ عموماََ گوتم بدھ کی زندگی کے واقعات خاص کر کپل وستو کی زندگی کے واقعات کی منظرکشی کی جاتی تھی ۔ مثلاََ ایک جگہ گوتم بدھ کی کپل وستو سے اپنے خادم کے ہمراہ روانگی کا منظر ۔ دوسری جگہ گوتم بدھکا گھوڑا اکن نہکا آقا سے رخصت ہوتے وقت جھک کر ان کے قدم چوم رہا ہے اور بدھ کے تین چیلے دائیں بائیں کھڑے ہیں ۔ کشنوںکے دور میں سنگ تراشی کی جگہ مٹی اور چونے کی ابھرواں موتیاں اور نقش و نگار بنانے لگے ۔ چنانچہ گندھارا آرٹ کا سب سے حسین شاہکار گوتم بدھ کی وہ مورتی ہے جو کالواں اسٹوپا سے دریافت ہوئی تھی ، اس منظر میں گوتم اپنے منڈوا میں پالتی مارے بیٹھا ہے دو چیلے اس کے دائیں بائیں کھڑے ہیں ۔ یہ کچی مٹی کے ہیں لیکن سر پکی مٹی کا ہے اور دھر کچی مٹی کا بنا ہوا ہے ۔ جب ہنوںے اس اسٹوپا کو آگ لگائی تو سر پک گیا تھا ۔
اشوک نے بے شمار اسٹوپہ بنوائے اس کے اسٹوپوں کا ذکر مشہور چینی سیاحوں فاہیان اور ہیونگ سانگ نے ذکر کیا ہے ۔ اشوک کے بعد یونانیوں نے بدھ مت قبول کرلیا ۔ انہوں نے وادی گندھارا میں بہت سے اسٹوپے بنوائے ۔ مشہور کشن فرمانراو کنشک نے بھی بدھ مت قبول کرلیا تھا اس کے دارلحکومت پشاور اور متھرا تھے ۔ پشاور کا مشہور اسٹوپا کنشک نے بنایا تھا ۔ اس کے علاوہ بہت سے اسٹوپے پشاور ، کشمیر اور برصغیر کے مختلف مقامات پر بنوائے تھے ۔ اس کے بعد اس سرزمیں پر بدھ مت کو ذوال آگیا پہلے ہنوں نے ان کے وہا اور اسٹوپوں کو تباہ اور بھکشوؤں کو قتل کیا ۔ راجہ ہریش وردھن خاندان کا راجہ آخری مشہور فرمان روا بدھ مت اختیار کرلیا تھا اس سے کچھ جان پیدا ہوئی مگر اس کے بعد اس سرزمین پر سے بدھ مت فنا ہوگیا ۔ رہی سہی کسر مسلمانوں نے پوری کردی ۔ مشہور اسٹوپوں میں کالواں اسٹوپا مانکوالیا اسٹوپہ ، دھرم راجیکا وادی گندھارا ، سانچی ، گیا اور مالندا کے اسٹوپے زیادہ مشہور ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں