74

برصغیر میں سنگ تراشی

کہا جاتا ہے برصغیر میں سنگ تراشی کو رائج کیا اور چنانچہ روایت ہے کہ یونان سے چند مجسمہ سازوں کو بلوایا گیا تاکہ وہ مقامی مجسمہ سازوں کو اپنے طریق سے آگاہ کرسکیں ۔ کہا جاتا ہے کہ گندھارا کا مہاتما بدھ کا مجسمہ دراصل اپالو دیوتا کی کاپی ہے ، لیکن اپالو کے مجسمے میں وہ پوتراور امن منقود ہے جو گندھارا کے تراشیدہ مجسموں میں پایا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ گندھارا کا بت تراش تفصیل میں جاتا ہے ، وہ ناخن کے برابر پھتر سے ایک شاہکار تخلیق کرلیتا ہے ، جب کہ یونانی بڑے بڑے مجسمے بنانے پر یقین رکھتے تھے ۔ یہ نہیں گندھارا میں بڑے بڑے مجسمے نہیں بنائے گئے ، بامیان کے عظیم مجسمے اس دور کی یادگار ہیں ۔ ٹیکسلہ کے دھرم راجیکا کے اسٹوپے میں ایک مجسمے کی بلندی چالیس فٹ کے قریب تھی ۔ اس لیے کچھ ماہرین کیا خیال ہے مقامی فن تعمیر پر ایرانی اور یونانی اور رومی اثرات ہیں خاص کر اشوک کی تعمیرات اور سیاحوں نے ان تعمیرات کا ذکر کیا ہے اس سے ایرانی اثر کی تصدیق ہوتی ہے خاص کر اشوک کی لاٹھ اور اس کے تعمیر کر دیا اسٹوپہ ، اس لیے بعض کا کہنا ہے یہ ان فن کاروں کا کام ہے جنہوں نے اکتبانہ پر تخت جمشید موجودہ رے میں دارا کی تعمیرات کی نقل معلوم ہوتی ہے ، برصغیر میں موریا عہد سے گپتا خاندان کے زمانے میں فن سنگ تراشی نئے دبستان وجود میں آئے ۔ ان میں باریت و بدھ گیا ، متھرا اور گندھارا قابل ذکر ہیں ۔ متھرا کے مجسموں کی یہ خصوصیت بتائی جاتی ہے کہ یہاں سب سے پہلے گوتم بدھ کو انسانی شکل (مجسمہ) میں پیش کیا گیا اور بعد میں یہ مدت تک مقبول رہا ۔ اس فن میں گندھارا اسکول نے سب سے زیادہ ترقی کی ۔ چنانچہ بر صغیر کے اکثر علاقوں پر گندھارا آرٹ کے اثرات پائے جاتے ہیں ۔ اس کے نمونے پاکستان کے شمالی علاقوں اور افغانستان کے بعض مقامات پر ملتے ہیں ۔ اس سلسلے میں ٹیکسلہ سب سے نمایاں حثیت رکھتا ہے ۔ یہ تمام نمونے گوتم بدھ کی زندگی یا مذہب کی روایات پر مشتمل ہیں ۔ ان مجسموں میں تفصیلات پر بہت زور دیا گیا ہے ، تاکہ انسانی جسم کی حالت سے بالکل مشابہہ ہوں ۔ مثلاََ پٹھوں تک کو دیکھلانے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس طرح لباس کی ترتیب کو بہت اہمیت حاصل ہوگئی ۔ خاص گندھارا آرٹ پر یونانی اور رومی اثرات بھی ہیں ، بلکہ بعض نے اس کو بجائے گندھارا کے ہندی یونانی آرٹ بھی کہا ہے ۔ بہرحال اس میں یہ کوئی شک نہیں ہے کہ باخترکے یونانی حکمرانوں کے زمانے میں اس علاقے میں یہ اثرات ضرور قبول کئے ہیں ۔ لیکن اس امر کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس اسکول کے جو نمونے دستیاب ہوئے ہیں ، ان میں بدھ مت کی روایات یا گوتم بدھ کے مجسمے ہیں اور اس فن کے سب سے قابل تعریف مجسمے ہم کو گوتم بدھ یا بدہستوا کے مجسموں میں ملتے ہیں ۔ گندھارا آرٹ نے کشن حکمرانوں کی سرپرستی میں ترقی کی ۔ یہی سبب ہے یہ چینی ترکستان کے راستے چین اور جاپان ہی نہیں بلکہ مشرقی بعید تک پہنچ گیا اور ان علاقوں کے آرٹ پر ہمیں گندھارا آرٹ کے اثرات صاف نظر آتے ہیں ۔ برصغیر میں تراشی کے جتنے دلکش نمونے ملے وہ آٹھویں صدی صدی سے چودھویں یا پندرویویں کے ہیں ، ان اجنتا الورا اجنتا کے زمین میں اور غار پہاڑ کو تراش کر سنگ تراشی کے خوبصورت نمونے ملتے ، ان میں ابتدائی تعمیرات بدھوں اور جینوں اور اس کے ہندوؤں کے مندرئوں کی تعمیرات کی ، جسا کہ اوپر لکھ چکا ہوں ، برصغیر میں یونانیوں اور رومیوں کے برعکس تفصلات میں زیادہ جاتے اور ان کوشش ہوتی تھی کسی خاص کر بیرونی دیوار کے کسیی گوشہ کو خالی نہیں چھوڑا جائے اور اس قدر تفصیل میں جاتا ہے کہ ہم ایک دیوار یا ستون اگر ان کا مطالعہ کریں تو بہت باریک بینی سے مطالعہ کر نا پڑتا ہے ، 
یونانی اور اس کی پیروی میں رومیوں نے بدن کے خال نمایاں کرنے پر زیادہ زور دیا ، اس لیے اکثر برہنہ مجسمے بناتے تھے ، مگر اس معاملے ہندو بہت آگے بڑھ گئے اور انہوں نے برہنگی سے بڑھ کر پونوگرافی تک پہنچ گئے ، اگرچہ ہندو مت جنسیات سے عبارت ہے اور بے شمار مندروں میں جینسی اعضا کی پوجا ہوتی ہے ، ان مین شیو کے لنگ (عضو تناصل) اور کالی کی یونی (نہم اندانی) خاص طور پر شامل ہیں ، مگر بھارت میں اسی کے قریب مندر ایسے ہیں جس کی بیرونی دیواروں جینسی مناظر دیکھائے گئے ہیں ۔ موجووہ دور کی نیویڈ فلمیں اس سے بڑھ کر نہیں بنائی جاسکتی ہیں ، ان میں کھجورا کے مندر عالمی شہرت رکھتے ہیں ، یہاں پچیس ایسے مندر ہیں جن کو دیکھنے کے لیے ہر سال بیرون اور اندرون ملک سے لاکھوں سیاح آتے ہیں ،  اس کے علاوہ جین اپنے دیوتاؤں کے برہنہ بت بناتے ہیں ،
برصغیر کے سنگ تراشی میں ایک خصوصیت ان کا چہروں کے نقوش پر توجہ نہیں دیتے ہیں ، ان میں مردوں اور نسوانی چہروں میں فرق نہیں کرتے ہیں ، بلکہ مردوں کے چہروں میں بھی نسوانیت ہوتی ہے ، اس لیے وہ عورتوں کو نمایاں کرنے کے لیے ان کی چھاتیاں اور کولھوں کو نمایاں کرتے ہیں ، بھارت کے بہتر نقاشی ، سنگ تراشی کے کام ایلوورا ، اجنتا ، نالندہ ، متھرا ، کچھورا ، کنارک ، ہمپی ، چتور ، راجپوتانہ اوریسہ میں دلکش نمونے ملتے ہیں ۔
تہذب و تدوین 
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں