108

برصغیر میں طباعت کی ابتدا

سولویں صدی کی ابتدا میں یورپ میں عربی ٹائپ کی چھپائی کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔ کیوں کہ وہاں مشرقی زبانوں کے مطالع کا شوق پیدا ہوگیا تھا ۔ جسے رفتہ رفتہ تمام عربی ممالک نے بلا پش و پیش قبول کرلیا تھا ۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی عربی ٹائپ خط کوفی سے بہت ملتا جلتا تھا ۔ اس لیے اس کی عرب ممالک میں ٹائپ پزیرائی ہوئی ۔ غالباً اسی عربی ٹائپ کی کتاب کو انگریزی سفیر نے اکبر کی خدمت میں پیش کی تھی جسے اکبر نے ناپسند کیا تھا ۔ غالبا اس چھپائی میں وہ خوشنویسی اور خوبصورتی نہیں تھیں جو ہاتھ سے لکھے ہوے دلکش اور مرضع مسودے ہوتی ہے ۔ اس لیے اسے قبول نہیں کیا گیا ۔ اس طرح برصغیر میں جہالت ، پستی اور تعصب کی وجہ سے علم کی ترقی و ترویح کا ایک آسان ذریعہ رائج نہیں ہوا ۔    
برصغیر میں کمپنی کی حکومت میں اس وقت فارسی ، ہندوستانی اور بنگالہ ایسی زبانیں تھیں جنہیں کمپنی کے عہدے داروں کا سیکھنا ضروری سمجھا جاتا تھا ۔ اس لیے ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنے ملازمین کے لیے ان زبانوں کی کتابیں ابتدا میں رومن زبانوں میں شائع کی تھیں ۔ جس میں اردو کی کتابیں بھی تھیں ۔ یہ رومن اردو میں چھپی ہوئی کتابیں اردو کی ابتدائی طبع شدہ کتابیں ہیں ۔  
1750ء میں چاریس ولکنس انگلستان سے عین جوانی میں ہندوستان پہنچا ۔ وہ اس وقت مشرقی زبانیں نہیں جانتا تھا ۔ اس نے مالوہ میں انگریزی فیکٹری میں فارسی زبان سیکھی جو اس وقت درباری زبان تھی ۔ اس کے بعد بنگلہ میں دسترس حاصل کی ۔ اس کے بعد سنسکرت کا مطالع کیا ۔ ان زبانوں کے ٹائپ نہ ہونے کی سے اس وقت ان زبانوں کی کتابیں یہ رومن میں چھپتی تھیں ۔ ولکینس ایسٹ انڈیا کی سول سروس کا ایک علم دوست شخص تھا ۔ وہ مقامی زبانوں میں ماہر ہونا چاہتا تھا ۔ مگر ان زبانوں کی کتابیں رومن میں چھپی ہوئی تھیں ۔ جن کی وجہ سے ان کے تلفظ کی ادائیگی درست طریقہ سے ادا نہیں ہوتی تھی اور اس مقامی باشندوں سے ان کے بارے میں بحث کرنے میں دقت و پریشانی ہوتی تھی ۔ اس لیے اس نے مقامی زبانوں کے ٹائپ تیار کرنے کا بیڑا اٹھایا کہ ان کتابوں کو مقامی زبانوں چھاپا جاسکے ۔ ولکنس نے اس کا ذکر گورنر جنرل وارن ہیسٹنگر سے کیا ۔ اس نے اس تجویز کو پسند کیا اور اس سے کہا کہ جلد سے جلد اس کام کو عملی جامہ پہنچائے ۔  
ولکنس کو ٹائپ تیار کرنے کا نہ کوئی تجربہ تھا اور نہ ہی اسے معلومات تھیں کہ ٹائپ کیسے تیار کیا جاتا ۔ دوسری مشکل یہ پیش آئی ہندوستان میں کوئی ان امور سے واقف تھا نہ ہی وہ یورپین ٹیکنالوجی سے واقف تھے ۔ اس لیے اسے تمام کاموں کا بار خود اٹھانا پڑا ۔ جس میں دھات کو گلانے ، صاف کرنے ، کھودنے ، ڈھالنے اور چھاپنے تک تمام امور شامل تھے ۔ آخر ولکنس نے تجربات کرکے تمام مشکلات اور رکاوٹوں پر غالب آگیا اور اس نے تن تنہا کوشش کرکے اپنے کام کو مکمل کیا ۔ اس نے سب سے پہلے بنگلہ کا ٹائپ تیار کیا اور اس کی تکمیل کے بعد خود اپنے ہاتھ سے چھاپائی کا کام کیا ۔ اس کے بعد اس نے فارسی اور سنسکرت کے ٹائپ تیار کئے ۔ یہ غالباً 1778ء سے پہلے تیار ہو گیا تھا ۔ کیوں کہ اسی سال سنسکرت گرامر ٹائپ میں ہگلی میں چھپی تھی ۔ 
ولکنس کا فارسی ٹائپ اور اردو زبان کا پہلا نمونہ تھا اور ہندوستان میں اٹھارویں صدی کے اختتام اور انیسویں صدی کے آغاز میں چھپائی کا کام ہی شروع ہوگیا تھا ۔ عبداللہ یوسف علی کی تحقیات کے مطابق اردو ٹائپ پر سب سے پہلے کلکتہ گزٹ کا پہلا نمبر ۴ مارچ کو 1784ء کو چھپا ۔ اس میں ایک کالم فارسی ٹائپ کا تھا ۔ یہ غالباً ہندوستان میں پہلی فارسی ٹائپ کی چھپائی تھی ۔ اس ٹائپ میں قران کریم عبدالقادر دہلوی کا شریف کا اردو ترجمہ مع متن عربی ٹائپ اور اردو ٹائپ میں 1829ء چھپا تھا ۔ اسی ٹائپ یا ایسے ٹائپ جو بعد میں اسی نمونے پر بنائے گئے تھے کلکتہ اور بنگال میں استعمال ہوتے رہے تھے ۔ ان پر نہ صرف سرکاری قوانین اور ضوابط چھاپے گئے بلکہ کلکتہ کے ولیم فورٹ کالج اور انگلستان کے ہیلی بری کالج کی اردو کتابیں اسی ٹائپ میں چھاپی گئیں ۔ نیز سید احمد بریلوی اور مولوی کرامت علی کی کتابیں 1820ء تا 1837۱ء اسی ٹائپ میں چھپیں ۔ 
سنسکرت بنگالی اور دیگر زبانوں میں ٹائپ کی چھائی ہو رہی تھیں ۔ کیوں کہ سنسکرت یا ناگری کی چھپائی کے لیے ٹائپ زیادہ موزوں تھا ۔ اس لیے ناگری میں کتابیں کثرت سے چھپیں ۔ اس سے دوسری دیسی زبانوں میں ٹائپ کا راستہ صاف ہوگیا ۔ 1787ء کے لگ بھگ جب ولکنس نے ناگری ٹائپ ڈھالا تو وہ اس وقت تک سنسکرت زبان کا مستند عالم بن چکا تھا ۔ اس نے بھگوت گیتا کا انگریزی ترجمہ کیا ۔ جس کی وادن ہیسٹنگر نے بڑی تعریف کی اور کمپنی کے ڈائکٹروں سے سفارش کی کہ اسے انگلیند میں شائع کریں ۔ چنانچہ 1787ء میں یہ انگلینڈ میں شائع ہوا اور اس کی بدولت انگریزوں کی پہلی بار سنسکرت کے مضامین سے مستفید ہونے کا موقع ملا ۔ 1836ء ولکنس انگلستان واپس چلا گیا ۔ وہ وہاں بھی مشرقی علوم کی نشر و اشاعت میں سرگرمی سے حصہ لیا اور بعد میں اسے سر کا خطاب ملا ۔ 
ٹائپ کی ایجاد کے تین سو سال بعد 1796ء لیتھو یعنی پتھر کی چھپائی ایجاد ہوئی ، صرف چالیس سال بعد ہندوستان پہنچ گئی اور پورے ہندوستان میں اردو کی چھپائی کے لیے مقبولیت حاصل کرلی ۔ اگرچہ ٹائپ کی چھپائی سستی ہوتی تھی اور اس کی غلطیاں درست کرنا آسان تھا ۔ لیکن بدقسمتی سے اردو داں طبقہ نے ٹائپ کی طباعت سہولت کے بجائے اردو کی چھپائی کے لیے خوشنویسی کی وجہ سے لیھتو یعنی پتھر کی چھپائی کو اختیار کیا ۔ جو کہ مہنگی ہوتی تھی اور اس میں غلطیاں زیادہ ہوتی تھیں ۔ لیتھو میں کاتب پتھروں کی سلوں پر الٹی لکھائی لکھتا تھا ۔ جس کی غلطیاں چھپنے کے بعد نظر ٓآتی تھیں ۔ اس کے باوجود ٹائپ کی چھپائی کی بھلا دیا گیا ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں