71

برصغیر کے قدیم باشندے

اس وقت جو قدیم قومیں بڑی تعداد میں آباد ہیں وہ ڈاروڈی اور کولاری ہیں ۔ ڈاروڈی غالباً شمال مغربی دروں جہاں سے آریا بعد میں آئے تھے اور برصغیر میں پھیل گئے ۔ ان کی اکثریت جنوبی ہندوستان میں آباد ہے ۔ براہوی زبان کے مطالعہ سے پتہ چلا ہے کہ ان کی زبان کا ماخذ دراوڈی تھا ۔ کولاری شمال یا شمال مشرق سے ڈاروڈیوں کے بعد ہندوستان میں داخل ہوئے تھے ۔ مگر ڈاروڈیوں نے کولاریوں کو آگے بڑھنے سے روکا اور وہ آسام اور بنگال یا پہاڑوں کی پیچ دار وادیوں پر آباد ہوگئے ۔ دونوں کا مذہب بھوت پرستی ، آبا و اجداد اور روحوں کا پرستش تھا ۔ یہ جن بھوت پریتوں کی پرستش کرتے تھے وہ پہاڑوں ، جنگلوں ، ندی اور کنویں کے بھوت تھے ۔ ان میں ذات پات کا رواج نہیں تھا ۔ تاہم کولاریوں کا مذہب وحشیانہ نہیں ہے ۔ مگر ڈاراویڈیوں کا مذہب زیادہ وحشانہ تھا ۔ ان کے کھونڈ اور گونڈ قبیلوں میں انسانی قربانیاں برطانوی عہد میں ۱۸۳۵ء تک جاری رہیں ۔ 
یہ سال میں دو مرتبہ یعنی کاشت اور فضل کاٹنے کے زمانے میں بھینٹ چڑہایا کرتے تھے ۔ کسی بدنصیب کو خرید کر یا پکڑ کر اسے زمین کی دیوی کی بھینٹ پر چڑہایا جاتا تھا اور بعض اوقات کسی خاص موقع پر یا وبا یا مصیبت سے بچنے لیے اس کو خوش کرنے کے یہ بھینٹ دیا کرتے تھے ۔ ہندو اگرچہ اس رسم سے نفرت کرتے تھے لیکن بعد ازاں یہ رسم کالی اور شیو کی پرستش کرنے والوں میں رائج ہوگئی تھی ۔ وید کے بعد کے میں خاص کر برہمنی دھرم کے عہد میں یہ رسم قبیح خیال کی جاتی تھی اور آریائی ہندوؤں کو رسم مذکور سے اس قدر نفرت تھی کہ وہ قدیم باشندوں کو مردم خور دیو ، بھوت اور جادوگر خیال کرنے لگے تھے ، جو مافوق الاانسانی قوتیں رکھتے تھے ، ہوا میں اڑ سکتے تھے اور حسب مرضی مختلف شکلیں اختیار کرسکتے تھے ۔ یعنی انہوں نے ویدوں کے بادلوں کے بھوتوں کی جملہ خصوصیات کو ان اقوام میں منتقل کردیا اور انہیں راکش کہتے تھے ۔ جن کی ہولناک شکلیں اور خباثت مماثل ہیں ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ راکش قربانیوں میں ناپاکی پیدا کرتے تھے ، کنواری لڑکیوں کو لے بھاگتے تھے اور مکر و فریب سے یا طاقت کے زور سے دیوتاؤں کے دوستوں (آریاؤں) کی پیش قدمی روکتے تھے ۔ جو سوما کشید کرتے اور آگ کی پوجا کرتے تھے ۔   
    شیش ناگ
جس کا اثر آریا اور نیم آریاؤں پر پڑا اور ان کے دیوتاؤں کو زندگی بخشنے والا اور قائم رکھنے والا خیال کرنے لگے اور سانپ کو زمین کی خاص نشانی کے پرستش کرتے ہیں ۔ سانپ دیوتا یا سانپوں کا بادشاہ شش ہے ۔ جس کے نام سے رگ وید کا ایک معمہ حل ہوگیا ۔ رگ وید کے شعرا نے مختلف مقامات پر اپنے دشمنوں یعنی داسیوں کو ہزاروں گالیاں دی ہیں اور ان کو حقارت سے ششن دیو کے نام سے بھی یاد کیا کرتے ہیں ۔ یعنی شیش یا ششن ناگ کے پوجنے والے ۔ اس استنباط سے یہ بھی خیال کیا جاتا ہے ۔ کہ رگ وید میں اندر اور آہی (سانپ) کی لڑائی کا اکثر ذکر آیا ہے ۔ جس میں اندر کو جو آریاؤں کا حامی تھا بالآخر فتح ہوتی ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اس سے ہمیشہ ایک فطری افسانے سے مراد اور سانپ بادل کا سانپ پوجنے والوں کے دیوتا سے ہے اور آریاؤں کے حامی دیوتا اندر اور داسیو کے سانپ دیوتا کی جنگ شاعرانہ زبان میں اس مسلسل جنگ کی مراد ہے جو دونوں قوموں میں عرصہ تک جاری رہی ۔ جس طرح کلمہ داسیوں سے ابتدا صرف تاریکی ، خشک سالی اور جاڑے کے بھوتوں سے مراد لی جاتی تھی ۔ جن سے نور کے دیوتا لڑے تھے ۔ مگر اب معلوم ہوا ہے کہ اس لفظ سے مراد دنیاوی دشمنوں سے مراد ہے ۔ اس طرح ممکن ہے کہ افسانوں کے بادلوں سانپ سے مراد ہو اور ان کے دشمنوں کے مذہب کی نشانی ہے ۔ 

آریا سانپوں کی پرستش سے متفر ضرور تھے مگر اس سے متاثر ضرور ہوئے اور رفتہ رفتہ انہوں نے خود اپنے لیے ایک سانپ بنالیا اور بعد کی قدیم شاعری میں ناگاؤں (سانپ یا افعی نما آدمی نیم انسان جو انسانوں سے زیادہ عقلمند ہوتے تھے) کا جو خاص احترام تھا اس سے بھی اس اثر کی تصدیق ہوتی ہے ۔ موجودہ دور میں ہندو مذہب میں بھی سانپوں کا خاص اعزاز ہوتا ہے اور ناگ پنجمی کا سالانہ تہوار اس کے اعزاز میں ہوتا ہے ۔ ہندوستان میں ہر سال سیکڑوں جانیں سانپوں کی نذر ہوتی ہیں ۔ اس کے باوجود کوئی ان سے تنفر معلوم ہوتا ہے ۔ ناگ پنجمی کا تہوار جولائی کے آخر میں سانپوں کو خوش کرنے کے لیے بنایا جاتا ہے ۔ لوگ ناگوں کے مندر میں جوق جوق جاتے ہیں اور سپیرے اپنے سانپوں کو لے کر شہر پہنچتے ہیں ۔ سانپ دودھ کے کونڈوں میں ادھر ادھر پھرتے ہیں اور لوگ خوشی سے انہیں دیکھتے ہیں ۔
سانپوں کے مندر شمالی ہند میں بالکل نہیں ہیں ۔ ان مندروں کے پجاری برہمن نہیں ہوتے ہیں ۔ بلکہ نیچی ذات کے لوگ ہیں اور اونچی ذاتوں سانپوں سے نفرت اب بھی قائم ہے ۔ سانپ کا سامنے آنے بدشگون مانا جاتا ہے ۔ اگر کوئی برہمن صبح سانپ دیکھ لے تو وہ اس روز کا کام چھوڑ دیتا ہے ۔ یہ شیش ناگ بعد میں دیوتاؤں کے ساتھ دیکھایا گیا ہے اور اس طرح قدیم باشندوں کو پوجنے کی دعوت دی ۔
تمدن
اس میں شک نہیں ہے کہ انگریزوں کے دور تک ان قدیم قبائل میں بہت سے قبائل کی وہی حالت تھی جو کہ ویدک دور میں ۔ بقول ہنٹر کے اس عجیب و غریب ملک میں نسل انسانی کے اس قدر مختلف نمونے موجود ہیں جیسے نباتات و حیوانات کے یعنی ان لوگوں کے دوش بدوش جو تمدن اور روحانیت کی اعلیٰ منازل کو پہنچ گئے ہیں ۔ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو جانوروں کی طرح چھ فٹ چوڑے اور آٹھ فٹ چوڑے چھونپڑوں میں رہتے ہیں اور ستر پوشی کے لیے بجائے کپڑوں کے پتے باندھتے تھے ۔ یہ اڑیسہ میں آباد پتے پہنے والے لوگ کہلاتے تھے ۔ انگریزی احکام نے انہیں کپڑے دیئے مگر وہ انہیں پسند نہیں آئے تھے اور پتوں سے اپنی ستر پوشی کرتے تھے ۔ اس طرح کے قبائل آسام کے پہاڑی علاقہ ، مدراس کے پہاڑی علاقہ میں آباد تھے ۔ یہ لوگ مستقل مکانات نہیں بناتے تھے پہاڑوں کی کھو میں رہتے تھے اور ضرورت پر چھپر بنا لیا ۔ جڑی بوٹیاں ، چوہے اور اس قسم کے جانور کھایا کرتے تھے اور شیاطین کی پوجا کرتے تھے ۔ آسام کی بعض قوموں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ وحشی ، سیاہ فام ، پستہ قد اور قحط زدہ ہیں اور لوٹ کھسوٹ کر زندگی بسر کرتے تھے ۔ ان کے نام اس کا ثبوت ہیں ، مثلا ہزار مکانوں کے کھا جانے والے یا روئی کے کھیت میں چھپے چور وغیرہ ۔
برصغیر کے باشندے تین ہزار سال سے لکڑی کاٹنے اور کوئلہ بنانے کے لیے کلہاڑیوں سے ان جنگلوں کا صاف کرنے میں لگے رہے ۔ انہوں نے ان جنگلوں کو بالکل تباہ کردیا ۔ ان جنگلوں کے سب سے بے رحم دشمن قدیم خانہ بدوش تھے ۔ جن کے تمدن پر انگریزوں کے آنے کے بعد اس کا اثر پڑا اور کچھ عرصہ پہلے تک جنگلوں اور پہاڑوں میں اسی طرح زندگی بسر کرتے تھے ۔ جیسا کہ اس زمانے میں آریا وادی سندھ میں ہوئے تھے ۔
یہ خانہ بدوش قوموں عادت کے مطابق آوارہ گردی کرتے اور بادیہ پیمائی کرتے کرتے کچھ دنوں کے لیے کسی جنگل میں مقیم ہوجاتے اور چاول ، رائی یا باجرے کی ایک یا تینوں فضلیں تیار کرتے ۔ ان کی کاشت کا طریقہ وہی تھا جو بنی نوع انسان نے ابتدائی زمانے میں اختیار کیا تھا ۔ یعنی وہ جنگل کے ایک ٹکڑے کو جلادیتے ہیں اور درختوں کی عمر و بلندی کا بالکل لحاظ نہیں کرتے ۔ چونکہ ان کو درختوں کے ضائع ہونے سے کوئی سروکار نہیں تھا اس لیے وہ آگ کو روکتے نہیں تھے ۔ اس لیے ایسا بھی ہوتا تھا کہ کئی مربع میل کے ٹکڑے میں جنگل جل جاتا ۔ اس کے علاوہ انہیں زمین کاشت کرنے کی ضرورت ہوتی تھی ، اس کے بعد زمین کو توڑنے کی ضرورت ہوتی ۔ اس کے لیے جو اوزار ان کے ہاتھوں میں آجائیں اس سے کام لیتے تھے ۔ صرف کچھ قبیلے ہی ایسے تھے جن کے پاس قدیم وضع کے ہل موجود تھے ۔ مگر اکثر کھرپی یا معمولی کانٹے سے کام نکالتے تھے ۔ کیوں کہ ان کا مقصد صرف زمین کو زرا کھرچ دیں اور اس کھرچی ہوئی زمین میں بیج ڈال دیتے تھے ۔ کبھی ان کو چھپا دیا جاتا تھا اور کبھی نہیں ۔ اس کے بعد فضل کے انتظار میں بیٹھ جاتے ۔ چونکہ زمین بالکل نئی ہوتی تھے اور تازہ راکھ کی کھاد اس میں پڑ جاتی تھی اور بارش بھی کافی ہوتی تھی اس لیے پیداوار تیس سے پچاس گنا تک ہوتی تھی ۔ اکثر اوقات یکے بعد دیگر ایک ہی ٹکڑے میں کئی فضلوں کی کاشت ہوتی تھی ۔ جس کا طریقہ ایک ہی وقت میں چاول ، جوار باجرہ ، تل اور رائی کھیت میں ڈال دی جاتی تھی اور فضلیں یکے بعد دیگر کاٹ لی جاتی تھیں ۔ یہ خانہ بدوش اس آسان طریقہ کو باقاعدہ زارعت پر ترجیع دیتے تھے ۔ خصوصاً ایسی زمینوں میں جن کی قوت ایک حد تک سلب ہوچکی ہے اور ان پر سخت محنت کرنی پڑتی ہے ۔ اس لیے وہ اس آسان طریقے کو پسند کرتے تھے ۔
معمہ
برصغیر میں حملہ آوروں نے جن قدیم باشندوں یا داسیوں کو پایا اور محکوم کیا یا انہیں ممالک مفتوحہ علاقہ سے نکال دیا ۔ ان میں تو بعض کی یقینا ایسی حالت تھی ۔ مگر اکثر باشندے بہت ترقی یافتہ تھے ۔ جنہوں نے ایک عظیم تہذیب وادی سندھ کی تہذیب کی بنیاد رکھی تھی ۔ آریاؤں کی آمد کے وقت اس تہذیب کو ذوال آچکا تھا ۔ مگر اس کے باوجود ایسی طاقت ور قبائل کی نشادہی ہوتی ہے جس کو مختلف آریا قبائل میں اپنا حلیف بنایا تھا ۔ جس پر ہم آگے چل کر بحث کریں گے ۔ تاہم سوریا اور اوشاس کا فسانہ اور طوفان باد و باران کا فسانہ کو محقیقین نے اس معمے کی کلید قرار دیا ۔ جس میں قومیت ، مذہب ، زبان اور شاعری کی گتھیاں تھی اور انہوں نے اس معمے کو حل کرنے کی کوششیں کیں ۔ یہاں تک کہ دیوتاؤں اور بھوتوں کی ایک دنیا کھڑی ہوگئی ، جس میں سوائے پجاریوں اور پرستش کرنے والے کے دوسرے انسانوں کا گزر نہ تھا ۔ ہر ایک راجہ سوریا یا اندر کا مجسمہ ہوگیا ۔ ہر ایک دوشیزہ اوشاس ہوگئی ۔ دشمن تاریکی اور خشک سالی بھوت ہوگئے اور رگ وید میں جتنے نام تھے ان کی تعبیر افسانوں سے کی گئی اور تاریخ کو قدم رکھنے کا موقع نہ دیا گیا ۔ مگر بعد کے محقیقین کے انکشافات سے معلوم ہوا کہ ویدوں کے بعض بھجن تاریخی حثیت رکھتے ہیں ۔ جن میں واقعات بیان کیے گئے ہیں اور سربرآوردہ لوگوں کے نام موجود ہیں ۔ یہ بھی ظاہر ہوتا ے کہ بعض نام جن کو بھوتوں اور فوق الانسانی ہستیوں سے منسوب کیا جاتا ہے قبائل ، اقوام اور آدمیوں کے نام ہیں اور جن لڑائیوں کرہ زمہریر سے منسوب کیا جاتا ہے وہ گوشت و پوست والے انسانوں کی لڑائیاں ہیں ۔
درختوں کی پوجا
ہندو قدیم زمانے سے پیپل (اشوت) اور برگد کو مقدس خیال کرتے ۔ ان میں پیپل کو مقدس خیال کیا جاتا تھا ۔ یہ دونوں درخت الگ جنس کے ہیں مگر ان کو ایک ہی جگہ لگایا جاتا تھا کہ ان کی آپس میں شاخیں اور پتے مل جائیں اور یہ بیاہ کی نشانی سمجھے جاتے تھے ۔ یہ درخت پھیل کر بہت بڑے رقبہ کو گھیر لیتے تھے ۔ ان میں پیپل کا درخت جو ڈیل ڈول میں برگد سے جھوٹا ہوتا ہے ۔ مگر پھیل کر کسی عماررت یا درخت کو اپنے گھیرے میں لے لیتا ہے اور اس کی ریشہ دار شاخیں زمین پر گرتیں اور رفتہ رفتہ سخت ہو کر ان کے تنے بن جاتے ۔
برگد کا درخت ڈیل ڈول میں بہت بڑا ہوتا اور اور اس کی شاخیں پھیلنے کے علاوہ اس کی بھی جڑیں زمین میں اتر کر سخت تنے بن جاتے ۔ جس کے بیچ کے تنے کا قطر پچیس فٹ سے زیادہ ہوتا اور یہ اتنے بڑے علاقہ میں میںپھیل جاتے تھے کہ اس کے نیچے چھ سات ہزار افراد آرام کرتے تھے ۔
ان دونوں درختوں کو کاٹنا یا نقصان پہنچانا جرم سمجھا جاتا تھا ۔ ان درختوں کے نیچے دیوتاؤں کی مورتیاں رکھی جاتیں اور قربان گاہ بنائی جاتی تھیں ۔ جہاں قربانیاں دی جاتی تھی اور ان درختوں کی پرتش بھی کی جاتی تھی ۔
تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں