bare-sager-k-deveta 81

برصغیر کے قدیم قبائل کے دیوتا

ہندوستان کے اکثر علاقوں میں قدیم قبائل رہائش پزیر ہیں ۔ مغربی گھاٹ کے کتھکاری یا بہار کے منرط اور ارون قوم کے لوگ اب بھی نظر آتے ہیں ۔ یہ بمشکل ہی اس منزل ارتقاء سے آگے قدم نکال سکے ہیں ۔ جب کہ انسان تلاش کرکے اپنی غذا حاصل و جمع کرتا تھا ۔ زندگی کے آخری کنارے پر کھڑے ہوئے یہ قبائلی لوگ بیماری ، شراب خوری ، جنگلوں کے غائب ہوجانے اور تہذیب کے ترقی پانے نیز ساہوکاری کی وجہ سے مٹتے جارہے ہیں ۔ اگر یہ لوگ کاشت کریں تو بدلتے ہوئے قطعات پر ایسی ہوتی ہے گویا درخت گرائے اور جلا ڈالے ۔
یہ لوگ ان غریب ترین کسانوںکے ساتھ جن کے پاس باقیدہ زمین ہے ۔ بے قاعدہ مزدوروں کی حثیت سے کام کریں تو ان کو کم مزدوری ملتی ہے اور عموماً وہ بھی نقد نہیں جنس کی صورت میں ۔ اضولاً ان کو فضل کی کٹائی کے بعد بالی جمع کرنے کا بھی حق حاصل ہوتا ہے ۔ خواہ انہوں نے کام میں مدد کی ہو یا نہ کی ہو ۔ بعض شکار اور شکار اور غذا کے مکوڑے ، گھونس اور چوہے ، دیہاتی کھتی باڑی کا ناکارہ فضلہ اور بھوسہ ، سانپ کور ، بندر تک اپنی خوراک کی کمی پورا کرنے کے یہ لوگ کھا جاتے ہیں ۔ (جن تصور بھی دوسرے بشتر ہندوستانیوں کے لیے خوفناک ہے) یہ لوگ اب بھی دیہاتیوں کی بہ نسبت کہیں زیادہ مہلک پیمانے پر جادو ٹونے کا استعمال کرتے ہیں ۔ کم از کم اخباروں سے تو یہی معلوم ہوتا ہے ۔ جو چند سالوں کے وقفوں سے ایسی کوئی نہ کوئی خبر شائع کرتے رہتے ہیں کہ قبائلی مرد عورتوں کے گروہ مذہبی قبل (انسانی قربانی) کے شبہ میں گرفتار اور زیر مقدمہ ہیں ۔ ان کے قدیم و پست تر درجے کے دیہی دیوتاؤں کے ساتھ کچھ مشترک خصوصیات رکھتے ہیں ۔ بعض اوقات یہ لوگ گاؤں کے دیوتاؤں کو پوجتے ہیں اور گاؤں والے ان کے دیوتاؤں کو مانتے ہیں ۔ گاؤں کے تہواروں یا میلوں کے متعلق جن میں سے بہت سے دیہاتی کافی فاصلہ سے آتے ہیں ۔ یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ ان میں سے اکثر کی شروعات کسی نہ کسی قدیم قبیلے سے ہوئیں ۔ خود اس قبیلے کا اب نام و نشان بھی باقی نہ ہو ۔ گاؤں کے مقامی مذہبی فرقوں کے نام بھی ایسے ہی قدیم آغاز کو ثابت کرتے ہیں ۔ دیہاتیوں کی ایک ذات کا نام بھی اکثر وہی ہوتا جو اس حلقے کے کسی قدیم قبیلے کا ہوتا ہے ۔ یہ دو گروہ اب آپس میں شادی نہیں کرتے ہیں ۔ کیوں کہ دیہاتی ایک بلند ترین ہستی بن جاتا ہے ۔ حقیقت یہ کہ غذا کی فراہمی کا فرق نیز زیادہ اور باقاعدہ خوراک چند میں ہی جسمانی ترکیب و ساخت بلکہ خود چہرے کے نقشے کو تبدیل کردیتی ہے ۔ بایں ہمہ مشترک اصل کے کچھ نہ کچھ نشانات باقی رہ جاتے ہیں اور تسلیم بھی کئے جاتے ہیں جس کا اظہار بعض اوقات اس طرح ہوتا ہے کہ ایک مشترکہ سالانہ پوجا خصوصاً ماتا دیویوں کی پوجا کی جاتی ہے ۔ جس کے عجیب و غریب و مخصوص نام ایسے ہوتے ہیں کہ وہ دوسرے دیہات میں کسی کو بھی معلوم نہیں ہوتے ۔ لیکن دیہاتی دیگر بلند تر دیوتاؤں کو بھی پوجتا ہے جو مقامی دیوتاؤں سے ایک درجہ اوپر ہوتے ہیں ۔ وہاں ایک کھیتوں کا محافظ بھی ہوتا ہے ۔ یہ محافظ عموماً محنت کارانہ نقش کی صورت مین ناگ ہوتا ہے ْ جس کو ایک دیوتا کا الوہی درجہ حاصل ہے ۔ بزرگوں کی یادگار پتھر کی ایک لمبی سل کے ذریعے قائم کی جاتی ہے ۔ جس پر ایک انسانی جوڑے کا ابھرا ہوا نقش ہوتا ہے ۔ ان کی پوجا عام طور پر ان قطعہ زمین کے ایک گوشہ میں کی جاتی ہے ۔ جو اس جوڑے کی حقیقی اولاد در اولاد کے قبضے میں نسلوں سے چلا جارہا ہے ۔ بھنسا (مہاسوبا) پورے علاقوں کا عام دیوتا ہے ۔ اگرچہ ہر کسان اس کی ایک مختلف مورتی رکھتا ہے ۔ دوسرے جھوٹے دیوتاؤں کو ہل چلانے ، بیج بونے ، فضل کاٹنے اور غلہ گاہنے کے ایام میں خوش کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ ونتال ایک بوسگال دیو یعنی خبیث روحوں کا راجہ ہے لیکن عمدہ بھی ہوتا ہے ۔ ان سے اور اوپر کے درجے میں برہمنوں کے دیوتا شیو ، وشنو اور وشنو کے اوتار جیسے رام ، کشن اور ان کی بیویوں کا شمار ہوتا ہے ۔ کہیں کہیں کسی مقامی دیوتا یا دیوی کو اور برہمنی ادب میں پائے جانے والے دیوتا کو ایک مانا جاتا ہے ۔ قدیم تر مقامی دیوتاؤں کو ختم نہیں کیا بلکہ ان کو اسی شکل میں قبول کرلیا گیا یا حسب موقع بنالیا گیا ۔ س طرح برہمنیت نے اس چیز میں کچھ اتحاد یکجہتی کی کیفیت پیدا کردی جو ایک مشترک رشتے کے بغیر محض منتشر سماجی ٹکرے بن کر رہ جاتی ۔
یہ معلوم نہیں کہ سب سے ابتدائی دور کے مویشی پالنے والے قبائل مشرق سے کچھ رکھتے تھے یا نہیں ۔ ان کے راستے جنوب کی بڑی بڑی دریائی وادیوں کے نشیب و فراز پر جزیرہ نما کے ادھر ادھر تک جاتے ہیں ۔ امواج کی شکل میں بڑھنے والے لوگوں کی آخری جماعتوں نے حجرات کلاں والے لوگوں کی پرستش گاہوں کی پوجا کرتے ہیں ۔ لیکن ان چوپانی (گوالی) لوگوں نے جو موجودہ دیوتاؤں کو لائے تھے ۔ اصل حجرات کلاں کو نہیں بنایا تھا بلکہ حجرات کلاں کے عہد کے سامان کو منقش چٹانوں کے ساتھ اپنی مذہبی رسوم کی ادائیگی کے لیے یا مردوں کی سنگی قبریں بنانے کے لیے دوبارہ استعمال کیا ۔ ان کا دیوتا نر دیو جس کا بعد مین مہا سوبا یا اس کا کوئی مترادف ہوگیا ۔ شروع میں کوئی بیوی نہیں رکھتا تھا اور کچھ مدت تک غذا اکھٹا کرنے والوں کی قدیم ترماتا دیوی سے برسر پیکار رہا تھا ۔ لیکن دونوں گروہ جلد ہی باہم ضم ہوگئے اور اس لیے دیوی دیوتا کی شادی ہوگئی ۔ اگر کسی بھدے مندر میں یہ دیوی بھنسا مہا سوبا کو روندتی نظر آتی ہے تو صرف چار سو میٹر کے فاصلے پر یہ منظر بھی سامنے آتا ہے کہ اس کی اسی مہاسوبا سے ذرا سی تبدیلی نام کے بعد شادی ہورہی ہے ۔ برہمنی تصور میں اس چیز کی نمائندگی شیو کی بیوی کی حثیت سے اس کی بیوی پاوتی کرتی ہے ۔ لیکن وہ مہیش اسر کو کچلتی نظر آتی ہے اور شیو کو بھی روندتی ہے (درگاکی شکل میں شکتی کا روپ) ۔ یہ بات معنی خیز ہے کہ ایک مہر پر شیر کی تین چہروں والی اصل شبیہہ میں سر کے لباس کا ایک حصہ بھنسے کے سینگ بھی ہیں ۔
ڈھنگ کے دیوتاؤں میں دو دیوتا (بروبا اور کھنڈوبا) کی قدامت ماضی میں چوتھی صدی عیسوی کے کافی قبل پہنچتی ہے ۔ اگرچہ ان کے خاص پرستاروں کا تعلق اب وہ دوسری ہندو ذاتوں سے ہے ۔ سالانہ پوجا کے ایک خاص مقام (ویر) پر انسانی قربانی کی نمایاں یادگاریں موجود ہیں ۔ یہ قربانی غالباًً ابتدائی عیسوی صدیوں میں اس وقت پیش کی گئیں تھی جب اس بستی کی بنیاد رکھی گئی اور دیوتا کی پرستش میں یا بستی کے بانی کی پرستش میں پیش کی گئی تھی ۔ موجودہ بستی کے دہقان ڈھنگر نہیں ہیں ۔ کیون کہ زراعت کا پیشہ اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی ذات بھی بدل لی ۔ ایک مضبوط اور غیر متنازعہ روایت کے مطابق اصل موسس اور دیوتا کا سب سے بڑا بجاری ایک ڈھنگر ہی تھا ۔
دیہی دیوتاؤں کی زیادہ تر مورتیاں محض سادہ پتھر کے ٹکڑے ہیں جن پر لال روغن چڑھا ہے یا تیل ، سیندور ، گیرو ، مٹی ہا اس سے بھی سستا کوئی تیز رنگ پوت دیا جاتا ہے ۔ یہ رنگ اصل میں خون کی جگہ استعمال ہوتا تھا ۔ اب بھی بعض موقعوں پر ان میں سے بشتر دیوتاؤں اور دیویوں کے سامنے خون کی قربانیاں ہوتی ہیں ، جب گاؤں میں زراعت مقبول ہونے کی وجہ سے گاؤں متمول ہوجاتی ہے تو برہمن پروہت وہاں قدم رکھتا ہے ۔ یہ پوجائیں چند معیاری دیوتاؤں کی پرستش کا لباہ پہن لیتی ہے ۔ مثلاً ہندو دیوتا ہنومان ، ہاتھی کے سروالا گنیش یا ناپاک ارواح کا راجہ دیتال ۔ تب ان دیوتاؤں کی نمائندیگی کے پتھر کی مورتیاں رکھ دی جاتی ہیں ۔ جن کے قدیم ابتدائی خد و خال تو کبھی مکمل طور پر نہیں مٹے ہیں ۔ لیکن آخر کار اپنے مراتب میں بلند ہوجاتے ہیں ۔ جن سے ان کا سرخ رنگ اور خونی قربانی ختم ہوجاتی ہے ۔ تہذیب کے اس عمل کی نشاندہی قدم بہ قدم آسانی سے ہوسکتی ہے ۔ بعض مقامات پر قبل تاریخی (زیادہ تر دیوی) کی پوجا جب بھی اس مقام پر یا اسی کے نذدیک ہوتی ۔ جہاں قدیم زمانے میں ہوتی تھی ۔ اگرچہ یہ بتانے کا کوئی دریعہ نہیں کہ نام بغیر تبدیلی کے باقی رہا ہے یا نہیں ۔ اس سلسلے میں ایک نمایاں استثنا بدھ کی جنم بھومی ہے جہاں ۲۵۰۰۰ سال سے زیادہ دیوی کا وہی نام (ممنی رمنی) ابھی تک قائم ہے ۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ جز کے مقام پر من مودی دیوی اس زمانے سے موجود تھی ۔ جب سن عیسوی کے شروع میں بدھ گپھائیں تراشی گئیں اور ایک ہزار سال بعد جب بدھ مت غائب ہوگیا تو یہ دیوی نام کی تبدیلی کے بغیر واپس آگئی ۔ بسا اوقات جب کسی قدیم دیوتا کی پوجا وسیع پیمانے پر مقبول ہوجاتی ہے تو اس کو شیو یا وشنو کو روپ دے دیا جاتا ہے اور قدیم دیوی پاربتی ، لکشمی یا اس قسم کی دوسری قرار دے دیا جاتا ہے ۔ جس کو برہمنیت نے اپنا لیا ہو ۔ سب سے دلچسپ وہ دیویاں ہیں جو جن کی پرستش کا ایک مظبوط اور حد درجہ مقامی نظام موجود ہے ۔ لیکن ان کے نام کی کوئی وجہ تسمیہ معلوم نہیں ۔ مثلاً منگائی ، ماند ہرائی ، سونگچائی ، اولائی ، کم جھچھا م جھنجھائی وغیرہ ۔ کے نام کے آخری حصے میں آئی کے معنی ماں کے ہیں ۔ اور یہ ایسے غائب شدہ قبیلے یا جرگوں کے نمائندے ہوتے ہیں ۔ پرنم کے قریب دیوی بولہاتی ایک قبل تاریخی سنگ کلاں (میگا لیتھ) اب بھی پوجا جاتا ہے ۔ اگرچہ گئگواٹ لوگوں کے جاگیردارانہ دور کے شاہی خاندان نے ایک میل کے فاصلے پر ایک نفیس مندر بنادیا اور اس کے لیے جائیداد وقف کردی گئی اور اس طرح قدیم (سنگ کلاں) سے متعلق ایک اچھے تاریخی مقام کو تباہ کردیا گیا ۔ بارویں صدیمیں بھی دیوی کا یہ پرانا نام تھا اور ممکن ہے یہ لفظ کنڑ (کناری) زبان کا ہو ۔ بہر حال ایک ہمہ گیر دیوی ماتا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے ۔ اگر مقامی مسلک پرستش پھیل جاتا ہے تو عام طور پر اس کی توسیع کا تعلق لوگوں کے تبدیل وطن کے ساتھ دریافت کرنا ممکن ہوتا ہے ۔ پھر بولہائی دیوی کے اعلیٰ پجاری ساٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر ایک ہی گاؤں میں رہتے ہیں ان سب کے نام کے آخری حصہ واجی (گھوڑا) ہوتا ہے ۔ یہ مانا جاتا ہے کہ دیوی کچھ قزاقوں (کورا) کے ساتھ چلی گئی تھی ۔ جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ وہ لمبی مدت تک جنگلی سرکش کی مربی رہی تھی ۔ اس علاقے کی آبادی میں اس قدر نقل و حرکت اور تبدیلیاں ہوئی ہیں کہ اس دیوی کے مخصوص سنگ کلاں کا مسلسل طور پر زیر پرستش رہنا ضروری نہیں ہے ۔ یہ یاد ہمیشہ ذہن میں باقی رہتی تھی کہ بعض خاص قسم کے مقامات اور پتھر مافوق الفطرت ہستیوں یعنیٰ دیوتاؤں یا اسروں (شیطانوں) سے منسوب تھے ۔ حفاظت کے لیے دیوتاؤں کی بھی پوجا ہوتی ہے اور اسروں کی بھی ۔ اکثر جو کچھ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کوئی کسان ایک خواب دیکھتا ہے اس میں ایک دیوی (یا کبھی کبھی ویتال اسر) یا کسی مرے ہوئے رشتہ دار کا بھوت نمودار ہوتا ہے ۔ اگر اس خاص روح یا دیوتا کا کوئی معبد پہلے سے موجود ہے ۔ خواب دیکھنے والا بالعموم کوئی قربانی ناریک ، مرغی یا ایک بکری پیش کرتا ہے تاکہ پھر وہ دوبارہ اس قسم کا بھیانک خواب پھر نہ دیکھے ۔ کبھی بھوت کو مزید خوش کرنے کے لیے قبر کا تعویز بنادیا جاتا ہے ۔ لیکن بعض اوقات دیوی خواب میں کسی نئے مقام پر نظر آتی ہے ۔ اگر اس سال فضل غیر معمولی طور پر عمدہ ہوئی ہے تو اس مقام پر پوجا شروع ہوجاتی ہے ۔ اور کسان کا کنبہ اسے جاری رکھتا ہے ۔ مورتی اکثر محض ایک سادہ پتھر (ٹانڈلا) ہوتا ہے ۔ جس پر لال روغن چڑھا ہوتا ہے ۔ یا وہاں سے ایک بھدی سی منبت پتھر کی مورتی رکھ دی جاتی ہے ۔ جو اپنی جعلی ساخت میں پانچ ہزار سال پرانی نظر آتی ہے ۔ بعد میں یہ کنبہ اس پوجا کو قائم رکھتا ہے ۔ جو سارے گاؤں کی پوجا بھی بن سکتی ہے ۔ اگر دیوی کسی خطرے ، قحط یا وبا کے زمانے میں پورے فرقے کو تباہی سے بچالیتی ہے ۔ خاص طور پر قابل ذکر بات یہ کہ اس طرح کی نئی پوجائیں کسی قبل تاریخی سابقہ پوجا کے مقام پر قائم ہوتی ہیں ۔ جہاں حجرات خورد یا حجرات کلاں کے دور منبت کاری موجود ہوتی ہے ۔ ایک عدم توجہی کا شکار حجر کلاں فوراً ہی خود اپنے خصوصی طریقہ پر پھول اور سرخ روغن چڑھا کر اس مردہ پوجا کو زندہ کردیتے ہیں ۔ جو چوبیس سے تیس صدیوں تک مدت سے بھی زیادہ تک مکمل طور پر بے نام و نشان رہ چکی تھی ۔ اب یہ پوجا فروغ پزیر ہے اور منقش پتھر کی شکل میں شیوجی کے بیل قیاسی مشابہت پاکر آج کل اس کا نام نندی ہوگیا ۔
غیر قوموں کو جذب کرنے کے لیے یہ نظام خاصہ دلچسپ ہے ، نہ صرف کرشن بلکہ بدھ اور چند قدیم قبائلی نشانات والے دیوتا بھی جس میں قدیمی مچھلی ، کچھوے اور مور شامل ہیں ۔ وشنو نارائن کے اوتار بنادیئے گئے ۔ بوزمہ ہنومان زراعت پیشہ لوگوں میں اس قدر مقبول ہے کہ کسانوں کا ایک خصوصی دیوتا ہوگیا ۔ جس کی پوجا سب سے جداگانہ آزادنہ ہوتی ہے ۔ وہ وشنو کے ایک اور اوتار کا خادم اور خدمت گار ساتھی بن جاتا ہے ، زمین کو سر پر اٹھانے والے عظیم ناگ لو وشنو نارائن سمندر پر سوتے وقت اپنے چھتر دھاری بستر کے طور پر استعمال کرتا ہے ۔ اس کے ساتھ یہ ناگ شیو کا ہار اور گنیش کا ہتھیار ہے ۔ ہاتھی کے سر والا گنیش شیو یا شیو کی بیوی کا بیٹا ہے ۔ خود شیو بھوتوں اور دیوؤں کا حاکم اعلیٰ ہے ۔ اس میں دتیال جسیے بہت سے جن کا جداگانہ اور بہت قدیمی دیوتا شامل ہیں ۔ ابھی تک دیہات میں ان کی پوجا بہت عام ہے ۔ شیو کا سانڈ نندی جنوبی ہند میں جدید حجری دور میں پوجا جاتا تھا ۔ لیکن اس پر سواری کرنے والا کوئی انسانی یا فوق البشر مالک نہیں تھا ۔ سندھی تہذیب کی لاتعداد مہروں پر وہ اکیلا موجود ہے ۔ ان نئے جذب کردہ قدیم دیوتاؤں کی پرستش باہمی ثقافت پزیری کے نظام کا ایک حصہ تھی ۔ یعنی صاف طور پر لین دین ۔ اول یہ کہ مثال کے طور پر جب ناگ کے سابقہ پرستار شیو کے سامنے سر جھکاتے تھے تو ساتھ ہی ناگ کی پوجا بھی ہوجاتی ہے اور شیو کے پیروکار اپنی پوجا پاٹ میں بیک وقت ناک کو بھی خراج احترام پیش کردیتے تھے ۔ بہت سے لوگ ناگ پوجا کا خاص دن ہر سال مناتے تھے ۔ جب کہ زمین کھودی نہیں جاتی تھی اور سانپوں کے لیے خوراک باہر رکھی جاتی تھی ۔ مادری برتری اقتدار کا اصول ماننے والے عناصر کو اسی طرح تسخیر کرلیا گیا تھا کہ دیوی ماتا کو کسی دیوتا کی بیوی مان لیا جاتا تھا ۔ مثلاً درگا ، پاروتی (جس کے کئی مقامی نام ہوسکتے ہیں جیسے نکائی یا کالو بائی) شیو کی بیوی تھی اور لکشمی وشنو کی ، مخلوط و مرکب دیوتائی خاندانوں نے مختلف مذہبی فرقوں کو ایک مرکز پر لانے کا عمل جاری رکھا ۔ سکندھ اور گنیش شیو کہ بیٹے ہوگئے ۔ جاگیرداری دور میں تمام دیوتاؤں کی شادیاں ظاہر کرتی ہیں کہ انسانی شادی ایک مسلمہ رواج بن چکا تھا ۔ نیز یہ کہ ان دیوتاؤں کے پرستار جو پہلے الگ الگ ہی نہیں ایک دوسرے کے دشمن بھی تھے اب ایک ہی سماج میں ضم ہوچکے تھے ۔ کیوں کہ اس کے بغیر یہ دیوتائی شادیاں ناممکن ہوتیں ۔ نئی ذاتوں (جاتی) کو وہ مرتبہ ملا جو مشترکہ سماج میں ان کی اقتصادی حثیت کے مطابق تھا ۔ انہوں نے اپنے فرقے کے اندر شادی کرنے اور ایک ساتھ مل کر کھانا کھانے کے طریقے جو سابقہ قبائلی زندگی کے متعلق تھے ۔ کسی تبدیلی کے بغیر قائم رکھے ۔ ان کی حثیت کے تحفظ کی ضمانت وہ احترام تھا جو ان کے دیوتاؤں کو مجموعی طور پر پورے سماج میں حاصل تھا ۔ جب کہ وہ خود بھی اپنے بدلے ہوئے دیوتاؤں کے ساتھ دوسرے دیوتاؤں کی پوجا کرکے اس سماج کا ایک اہم ترکیبی جزو بن گئے تھے ۔
اعلیٰ ترین دیوتاؤں کی ایک سے زیادہ بیویاں اور بچے بھی ہوتے ہیں ۔ جو بعض اوقات گنیش کی طرح نصف جانور اور خدمت گار بھی ہوتے ہیں ۔ جو شیطانی ارواح بھی ہوسکتی ہیں ۔ یہ دیوتا مختلف جانوروں اور پرندوں پر سواری کرتے ہیں کو کسی زمانے میں قبائلی مخصوص علامت ہوتے تھے ۔ یہ دیوتائہ خاندان اور حواشی ایک تاریخی حقیقت کے مظہر ہیں جو کہ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مختلف قبائلی عناصر میں جو پہلے متحد نہیں تھے ایک متحد معاشرہ ظہور میں آیا ۔ اس طرح کے اتحاد کے جواز کے لیے کتابوں میں من گھڑت افسانے پیش کئے گئے ہیں ۔ یہ کتابیں پران ہیں جن کے باب میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ ابتدائی آفریش سے چلے آتے ہیں ۔ لیکن دراصل چھی صدی عیسویں اور باریں صدی عیسویں کے درمیان لکھے گئے یا حسب منشا دوبارہ لکھے گئے ہیں ۔ اس بعد عمیق دینیات اور دیوتاؤں کے جاگیردارانہ دربار کی ایک بلند منزل آتی ہے ۔ پھریہ منزل بھی گزر جاتی ہے اور بعد میں کچھ فلسفہ طرازی ، تصوف ہا باطنیت اور شاید معاشری اصلاح اس کی جگہ لے لیتی ہے ۔ یہ ہندوستانی مذہبی فکر کے بڑے بڑے مدارج ۔ بد قسمتی سے اس قسم کا تفکر میں مسلسل اور منطقیت کا عنصر بے حد کامیاب ہے ۔ جو کبھی بھی حقیقت سے آنکھیں چار نہیں کرتا اور سادہ حقائق کی واضح تالیف پیش کرتا ہے ۔ اس لحاظ سے دیوتاؤں کو ایک کر دینے کا عمل مسلسل نہیں ۔ جیسے جیسے مختلف مقامی مذہبی مسلک اپنے پیروکاروں کے ساتھ باہم جذب ہوتے گئے ۔ یہ عمل متوازی دائروں کی شکل میں دہرایا جاتا رہا ہے ۔ دیوتاؤں کی تعظیم قدرے ناقص طور سے ہم عصر انسانی معاشرے کے نقوش قدم پر عمل میں آئی ہے ۔ جو لوگ مختلف مذہبی مسلکوں کے ساتھ معاشرے میں جذب کرلیے انہوں نے اپنی انفرادیت اور کسی حد تک سابقہ جرگہ دارانہ علحیدیگی کو برقرار رکھا ۔ اس چیز کی تکمیل ذات پات نے کردی اور بیکار برہمنوں نے اس کی حوصلہ افزائی کی جو کہ اس صورت میں ہر گروہ کے پروہت بن گئے ۔ ایک ذات والے نے عام حالات میں دوسری ذات کے لوگوں کے ساتھ یا ان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھانا نہیں کھاتے تھے اور نہ ان کے ساتھ شادی بیاہ کرتے تھے ۔ حقیقت میں بعض اوقات رشتہ داری کو روٹیون اور بیٹیوں کا مبادلہ کا تعلق (روٹی ، بیٹی ، کاربار) کہا جاتا ہے ۔
بہت سی ذاتوں کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ کون سی قبائلی نسل ہیں ۔ مثلاً بہار اور بنگال میں کیورتا بمعنی ماہی گیر اور مہارشٹر میں بھوانی قدیم قبائلی مخصوص علامت (ٹوٹم) بھی اس سے ظاہر ہوتی ہے ۔ دیہاتوں میں ایسے گاؤں موجود ہیں جہاں ہر باشندے کے نام کا آخر جزو ایک ہی ہے ۔ اس سلسلے میں مگر (مگر مچھ) لانڈے گے (پھیڑیا) مور اور پمپلے (پیل کا مقدس درخت ) اپنی داستان آپ ہی ہے خواہ ان لوگوں کی نسل کچھ بھی ہو کچھ خاص قدیم قبائلی رسمین اب بھی باقی ہیں ۔ مثلاً مور قوم کے لوگ مور کا گوشت نہیں کھاتے ہیں پہپلے قوم کے لوگ پیپل کے پتوں میں کھانا نہیں کھاتے ہیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں