37

برہسپتی سے برہما

 علاوہ ازیں اندر کا رفیق نہ وشنو نہ سوما نہ اگنی (اپنی قدرتی یعنی آگ کی شکل میں) ہے برہسپتی یا برہنسپتی یعنی آگ اپنی اعلیٰ ترین قربانی اور پرستش کی شکل میں جو دعا کا دیوتا ، بھجنوں کو شروع کرنے والا اور پرستش اور رسوم کا قائم کرنے والا ہوتا اور پروہت ، انسان اور دیوتاؤں کا پجاری ۔ اس کا نام انگیراس بھی ہے ۔ وہ نو انگیراؤں کا سرخیل ہے اور برہما (دعا میں مقدس گیت یا مقدس کلمات) یعنی مقدس منتروں کا مجسمہ ہے ۔ اسے پارتھی کرت یعنی راستہ تیار کرنے ولا بھی کہتے ہیں ۔ یہ وہی راستہ ہے جسے پرانے رشیوں نے تیار کیا تھا ، جس پر سراما دیوتاؤں کو لے گئی تھی ۔ یعنی وہ آسمانی فراخ اور قدیم راستہ جس کی منزل مقصود قربانی ہے ۔ جن بھجنوں میں اس دیوتا کو مخاطب کیا گیا ہے ان میں اندر اور دوسرے فطرت کے دیوتاؤں کے کارنامے اسی پجاری دیوتا کے ساتھ منسوب کیے گئے ہیں ۔ ان کی بالادستی اس پر منتقل ہوجاتی ہے اور قدیم تر بھجنوں میں بھی مختصر عبارتیں داخل کر دیئے گئے ہیں ۔ جو بالکل بے محل معلوم ہوتی ہیں ، واقعہ یہ ہے کہ اس دیوتا کی ذات خالص ویدک مذہب اور برہمن دھرم کو ملاتی ہے ۔ کیوں کہ نہ صرف برہمنوں کے ہاتھ برہما (دعا) کا زور تھا بلکہ اس دیوتا کے وجود میں آنے سے پجاریوں کی جماعتوں میں (جو بہت جلد ایک ذات ہوگئی) مجرد تخیلات کا سلسلہ شروع ہوگیا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ زمانہ قدیم کی فطرت پرستی ختم ہوگئی اور برمھ رفتہ رفتہ ایک جوہر ہوگیا جو ہر چیز میں اور ہر جگہ موجود تھا اور یہی برہما سب سے بڑا دیوتا اور خالق ہوگیا جو برہمنوں کی تثلیث کا سرخیل ہے ۔
برہما ایک مادے سے ماخوذ ہے جس کہ معنی گھس جانے یا اثر کرنے کے ہیں اور برہسپتی کا بھی وہی مادہ ہے ۔ لاطینی پجاریوں کا اعلیٰ ترین خطاب پانٹی فیکس (پل بنانے والا) کا ہم معنی ہے ۔ پانس اور پائنٹس کے معنی پل کے نہیں بلکہ راستہ ہیں ۔ کیوں کہ پل بھی ایک راستہ ہے جو ندی پر ہوتا ہے ۔ سلاوی اور ٹیوشن زبانوں میں اصل معنی اب تک برقرار ہے ۔ 
بیان کیا گیا ہے کہ جن دیوتاؤں کے نام میں لفظ پتی (مالک) سے مشتق ہے ۔ ان کو جدید خیال کرنا چاہیے ۔ کیوں کہ ان وجود فکر کا نتیجہ ہے ۔ پر اس امر کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ درجہ دوم کی افسانی ہستیاں ضرور پرانے فطرتی دیوتاؤں سے پیدا ہوئیں ہوں گیں اور رگ وید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کس طرح وجود میں آئے ۔ بھجنوں میں برہمنسپتی بطور اگنی کے ایک لقب کے اکثر آتا ہے ۔ مگر اس سے یہ نتیجہ نہیں نکالنا چاہیے کہ جب لقب اصلی نام سے جدا ہوکر ایک علحیدہ ہستی ہوجائے تو علحیدہ ہستی اختیار کرنے پر جدید ہستی کی ایک نئی زندگی اور سلسلہ اور ارتقاء شروع ہوجاتا ہے ۔ لیکن دونوں میں جو اصلی تعلق رہتا ہے وہ ہمیشہ آشکار رہتا ہے ۔ مثلاً برہسپتی اور قربانی کی آگ کا تعلق ۔ علاوہ ازیں سوتیار ، سوما اور اندر کو یکے بعد دیگرے پرجاپتی (اولاد یا مخلوقات کا دیوتا) کا لقب دیا جاتا ہے ۔ مگر ویدک مذہب کے آخر عہد میں پرجاپتی کی پرستش بطور ایک علحیدہ دیوتا کے ہونے لگی اور ویدوں کے بعد کے برہمن دھرم میں اس کا اعزاز بڑھ گیا ۔ یعنی وہ برہما کی ذات سے متحدہ ہوگیا ۔ یہ بھی دونوں سلسلوں کو ملانے والی ایک کڑی ہے ۔ جو عہد انقلاب سے اس کا بھی تعلق ہے ۔ وش وَکَرمَن (عالم کو بنانے والا) بھی اسی قبیل کا دیوتا ہے جو ابتدا میں ابتدا میں اندر ، سوریا اور دوسرے دیوتاؤں کا لقب تھا اور پھر ایک علحیدہ دیوتا ہوکر مخصوص ویدی طریقے پر دوسرے دیوتاؤں کے خصائل ، فرائض اور اعزاز اسے منسوب ہوتے گئے ۔ دو بھجنوں میں اس کا ذکر (رگ وید دہم ۸۱ ،۸۲) میں بیان کیا گیا ہے ۔
’’وہی ایک دیوتا ہے جس کے ہر طرف آنکھیں ، چہرے ، بازو اور پاؤں ہیں ۔ جب وہ آسمان اور زمین پیدا کرتا ہے تو ان کی شکلیں اپنے بازوؤں اور پروں سے بناتا ہے ۔۔۔ وہ ہمارا باپ ، خالق اور بنانے والا ہے ۔ وہ ہر مقام اور ہر مخلوق کو جانتا ہے ، وہی اکیلا دیوؤں کو ان کے نام دیا ہے ۔ سب مخلوق اسی کے پاس جاتے ہیں اور اس مانگتے ہیں’’۔
اکثر جگہ برہما کا تصور کائنات کے سیاق و سباق میں پیش کیا گیا ہے اور آتما کا تصور نفسیات اورعلمیات کے تناظر میں بیان کیا گیا ہے ۔ آتما سے مراد روح نہیں بلکہ نفس یا ذات یا خودی تھا ۔ (ذات سے مراد خود یا خودی ہے نہ کہ ذات پات) انسان کی ذات جسم یا حواس خمسہ یا قوت حیات یا نفسیانی توانائی سے عبارت نہ تھی بلکہ یہ علم اور تجربہ کا حقیقی ترین موضع تھا ۔ بلکہ یہ ٹھوس بے درزو شگاف حقیقت تھی ذات وقوف حاصل کرنے والی اور تجربہ کرنے والی ہستی بنہیں تھی بلکہ یہ وہ ہست تھی جس کو علم و تجربہ پیش کیئے جاتے ہیں ۔ ذات انسان کی یہ تعریف اس کی حسیات ، احساسات ، تصورات اور ذہنی مدرکات کو متعین و محدود اور معروضی اشیا کو پس پشت ڈالتی ہے اور ذات کو علم میں ابدیت کے طور پر دیکھتی ہے ۔ یہاں آکر یہ موقف سراسر عینی ہوجاتا ہے ۔ اس بحث کا آغاز کائنات کے مظاہر جملہ کے جوہر کو حقیقت واحد قرار دینے سے ہوا تھا ۔ جو مادی موقف کے قریب ترین ہے اور اس بحث کا اختتام اس عینی ہدایت پر ہوتا ہے ۔ یہ سارا عمل طویل عرصہ (دو سو سال) میں ہوا ہوگا اور اسی اعتبار سے قابل فہم ہے ۔

تہذیب و تدوین
ّْْ(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں