71

برہما

پیدائش کے لیے مستعمل لفظ سے مشتق ۔ برہما ’غیر شخصی‘ کائنات کا وہ اعلیٰ ترین اور ناقابل اصول ہے جس کی رو سے ہر چیز کا ظہور ہوا اور جس میں سب کچھ واپس لوٹ جاتا ہے ۔ اس کا کوئی جسم نہیں ، غیر مادی اور ابدی ہے ۔ اس کا کبھی آغاز نہیں ہوا اور نہ ہی کبھی انجام ہوگا ۔ مادہ اور شعور ہر دو کا جوہر اسی سے اٹھتا ہے ۔ مسبب الاسباب اور کائنات کا پس منظر ہے ۔ ’برہما کبھی آرام نہیں کرتا غیر متعیر ہے‘ کبھی غیر موجود نہیں ہوتا ہے ، اگرچہ اس کا مقام وجود نہیں بتایا جاسکتا ہے ۔ شعور اور روح کے بنیادی کائناتی سرچشمہ ہونے کے باعث برہما بنیادی یا کائناتی ذات ہے جو فرد کے روحانی باطن کا سورج بن سکتا ہے ۔ چنانچہ کائنات سے لے کر ایٹم تک ہر شے یا وجود کی ذات کا اصل جوہر خود برہما ہے ۔ 
(تذکیر و تانیث سے ماورا) ’محیط کل بالذات قوت‘ ۔ برہما کے مصدر برہما ’برہ‘ کا لغوی مطلب  افزائش یا نشو و نما‘ ہے ۔ اگرچہ رگ وید میں پروہت کے لیے مستمل براہمن مذکر استعمال ہوا ہے ۔ لیکن برہما نہ مذکر اور نہ ہی لاصنف کے طور پر مذکور ہے ۔ بعد کے ادب میں برہما کائناتی وحدت کے مساوی قرار پایا ۔ برہما کے متعلق تصور کی جڑیں بھی نامعلوم زمانوں سے چلے آنے والے مسئلے سے ہے کہ انسان کا اپنے گرد و پیش اور پھر اور بالائے ارضی کائنات سے کیا تعلق ہے ۔
کائناتی وحدت کے تصور کی تشکیل کو واضح اور ادوار میں بانٹا جاسکتا ہے ۔ پہلے ویدی دور کا تعلق برہما کی اس تعبیر سے ہے جو اپنشد میں ملتی ہے ۔ جب کہ دوسرے دور کا تعلق ویدانت کے تشکیلی دور سے ہے ۔ پہلے دور کا آغاز اوئل ویدک عہد سے ہوا جب فطرت کی بالائے فم قوتوں کا مقابلہ کرنے کی غرض سے مساوی قوت کا جادو پیدا کیا جارہا تھا ۔ 
جس طرح ہندوؤں کی مذہبی زندگی وحدت کے تصور نے نفوذ کیا ، بلکل وہی اثر برہما کے متعلق آتما پر ماتما کے تصور پر ہوا ۔ وشنو اور شیو کی دو الگ معبوتوں کے حوالوں سے تفریق کم ہونے لگی ار وہ ایشور یعنی عالم کل کے مالک کی صورت میں متحد ہوگئے ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں