81

برہمن

برہمن اگرچہ پروہت ہیں مگر اکا دکا برہمن جابجا ہر کام کرتے ہیں ۔ عجیب ہے کہ یہ قوم گو سب سے عمدہ ہے لیکن دوسرے قبائل کی نسبت ذات پات کی کم قائل ہیں ۔ کشمیر کا علاقہ خاص براہمنوں کا وطن ہے ، تاہم وہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے ۔ لیکن شکل و صورت اور روایتوں سے معلوم ہوتا کہ یہ پہلے برہمن تھے اور بعد میں مسلمان ہوئے ہیں ۔ لیکن اب بھی بہت سے ایسے برہمن ایسے ہیں جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا ہے ۔ اسے سے بخوبی اندزاہ لگایا جاسکتا ہے ہے کہ کاشتکار اور پست لوگوں نے بادشاہوں کی ہدایت اور ترغیب سے اسلام قبول کیا ۔

گزشتہ دور میں رئیسوں اور حکمرانوں کے اہلکار ہندو یا برہمن تھے ۔ اب بھی اکثر برہمن ہیں اور یہ چست و چالاک اور محنت سے گھبراتے ہیں ۔ انہیں اختیار حاصل ہوجائے تو دوسروں پر ظلم و ستم کرنے سے گریز نہیں کرتے ہیں ۔ یہ شکل و صورت میں خوبصورت ہیں اور ان میں میل بالکل نہیں ہوا ہے ۔ یہ افغانوں سے کہیں زیادہ بہتر ہیں لیکن کم زور ، ناک زرہ اور طوطے کی مانند ہے لیکن یہودیوں جیسی نہیں ہے ۔ یہ جنگ و جدل سے گھبراتے ہیں ۔ حیرت یہ ہے کشمیر صدیوں تک افغانوں کے تابع رہا ۔ اس کے باوجود یہاں کے باشندے اس قدر خالص ہیں ۔ 

ہندو کشمیری برہمنوں کو کم مانتے ہیں اور انہیں نہ پانچ گوڑ میں اور نہ پانچ دراودھ میں شامل کرتے ہیں ۔ میری رائے میں ابتدا میں تمام برہمن ایسے تھے اور تمام برہمن اور ہندو کاشیوپا کو جس سے آبادی اور کشمیر کا نام پڑا ہے پیشوا ہفت رکھی مانتے ہیں اور یہاں تک کہ بمبئی تک کے برہمن اپنے کو کاشیوپا کی اولاد بتاتے ہیں ۔

کشمیری پنڈت تمام ہندوستان میں ہوشیار اور محنتی اہلکار مشہور و معروف ہیں ۔ ان میں راجہ دینا ناتھ دیوان مہاراجہ رنجیت سنگھ کا اور شنبوناتھ پنڈت جج ہائی کورٹ کے قابل ذکر ہیں ۔ کشمیری زبان ہندی زبان سے الگ ہے ۔ کشمیریوں کے لباس ، رسوم و رواج ہندوستان سے بالکل جدا ہیں ۔

کوہستان کشمیر اور پنجاب کے درمیان بہت سے برہمن آباد ہیں ۔ یہ کشمیریوں کی نسبت پنجابیوں سے زیادہ مشابہ ہیں ۔ اب ان میں سے بہت سے مسلمان یا سکھ ہوگئے ہیں ۔ دریائے جہلم کے آگے کوہستان کی دادیوں میں ایک قبیلہ مسلمان بمبہ آباد ہے ۔ یہ پہلے برہمن تھے اور بعد میں مسلمان ہوگئے ہیں ۔ جہلم کے نیچے کے بہت سے برہمن سکھ ہوگئے ہیں یا سکھوں کے مذہب پر بخوبی عمل کرتے ہیں ۔ یہ اچھے سپاہی اور ملازمت پیشہ ہیں ۔ ان کی شادی وغیرہ اور دوسری رسوم ، نیوتا اور مبادلہ وغیرہ برہمن انجام دیتے ہیں ۔

عام دستور ہے کہ کسی قدیم قبیلہ کی کوئی شاخ میں کسی قسم کی تبدیلی ہوگئی تو ان کے نام میں خفیف سی تبدیل ہوجاتی ہے ۔ مثلاً جو بھیل اب مہذب ہوگئے ہیں وہ بھیلیہ کہلاتے ۔ مسلمان راجپوت رانگڑ اور بعض پست برہمن جو بنارس کے پاس ملتے ہیں بامن یا بہمن کہلاتے ہیں ۔

میرے خیال میں جو برہمن کوہستان کی حدود میں رہتے ہیں وہ تمام کشمیریوں سے زیادہ خوبصورت ہیں بلکہ دنیا میں لاثانی ہیں ۔ پنجاب کے میدانوں میں کاشتکار برہمن کم ہیں ۔ ہاں سیالکوٹ اور گوداس پور میں برہمنوں کے کئی گاؤں تھے ۔

کوچ کا نشان اس بات کی نشادہی کرتا ہے کہ برہمن کشمیر سے روانہ ہوکے پنجاب کی جانب نہیں گئے بلکہ دریائے سرسوتی و میدان گلچیتر یعنی تھانسیر سے بیس کوس انبالہ کے جنوبی جانب گئے تھے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تھانسیر میں برہمن بڑی تعداد میں نہیں ہیں ۔ لیکن سرسوتی کے کنارے پر ایسے آثار ہیں جن ظاہر ہوتا ہے کہ جٹوں اور راجپوتوں کی آمد سے قبل یہ علاقہ برہمنوں کا تھا ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ تمام ہند میں صرف ایک مندر برہما کا ہے جہاں برہما کی عبادت کی جاتی ہے اور وہ مندر پوکھر مقام پر ہے ۔ شہر پلی بھی برہمنوں کا مرکز معلوم ہوتا ہے ۔ چنانچہ ایک فرقہ برہمنوں کا تجارت پیشہ ہے جس کو پلیوال کہتے ہیں ۔

جو برہمن سندھ میں آباد ہیں اسی صنف کے ہیں اور لیکن گوشت کھاتے ہیں ۔ لیکن دیگر برہمن ان کو کم مانتے ہیں ۔ روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اگلے وقتوں میں برہمن ملک ہند میں ایک مدت تک سرسوتی کے کنارے پر آباد رہے اور قدیم اقوام کے ساتھ مل جل گئے اور آج بھی سرسوتی کے کنارے پر برہمن اس طور پر ہیں ۔

کشیری برہمن دوسرے لوگوں سے میل جول رکھنے والے سادہ مزاج اور کاشتکار پیشہ ہیں ۔ دریائے سرسوتی کا حال عجیب ہے ۔ اب تک کوہ ہمالیہ تا دریا سندھ تک سرسوتی کے بہاؤ کے نشانات واضح ہیں ۔ حالانکہ یہ اب بالکل خشک اور جنگل کے درمیان واقع ہے ۔ شاید ابتدا میں دریائے جمنا سرسوتی کی جگہ بہتا تھا ۔ جب اس کا رخ بدلا تو برہمن اوتہ کی طرف ہند و بنگال میں منتشر ہوگئے اور ویدی مذہب چھوڑ کر متفرق رسوم اور پنتھ شروع کردیئے ۔

جو برہمن دہلی کے آس پاس آباد ہیں وہ نہایت مہذب اور نیک نیت ہیں ۔ ان میں کچھ توگا یا گوڑ توگا کہلاتے ہیں ۔ معلوم نہیں انہیں گوڑ کا نام کیسے دیا گیا ۔ شہر گوڑ بہت دور بنگال میں ہے اور درمیان میں کنوجیا اور دیگر برہمن بستے ہیں ۔ غالباً گوڑ شاید گھاگھرہ یا گھگر کی تصفیر ہے ۔ یعنی یہ سرسوتی برہمن ہیں اور گھگر سرسوتی کی شاخ ہے ۔

روہیل کھنڈ ، میرٹہ ، آگرہ و اودھ اضلاع میں مشرقی برہمن ہیں ۔ جو ضرورت پرنے پر ہر ایک پیشہ اختیار کرلیتے ہیں ۔ دو آب زیریں ، اودھ اور پورب وغیرہ جو آج کل ہندوستانی برہمن کا خاص مقام ہے ۔ قنوج جو پہلے ایک دارسلطنت تھا اب صرف گاؤں رہ گیا ہے ۔ اب اکثر برہمن اس سے دور ضلع کانپور و فتح پور میں کثیر تعداد میں آباد ہیں ۔

ٍ یہ بات قابل ذکر ہے کہ سارے ہند میں صرف یہی ایک صوبہ ہے جس میں برہمن نہایت دور یعنی بمبئی کے پاس آباد ہیں ۔ یہاںکے برہمنوں کا کہنا ہے کہ ہم کانپور کے علاقہ سے آئے ہیں ۔ ان کی روایت کے مطابق پرسرام نے ہم کو کالبی کے گھاٹ لایا اور سمندر کو ہٹا کے کوہستان گھاٹ پچھمی کے نیچے آباد کیا تھا ۔ بہت سے برہمن جو خانپور کے آس پاس رہتے ہیں سپاہی پیشہ ہیں اور اس علاقہ میں راجپوت کی نسبت برہمن کثیر تعداد میں ہیں ۔
بنارس اور بہار میں اکثر زمیندار اور راجہ بھی بامن یا بہامن ہیں ۔ یہ قوم اصل میں برہمن ہیں اور دیگر اقوام کے اختلاط سے وجود میں آئی ہے ۔ دلچسپ بات یہ المورا کی بہاشا بنگالی سے مشابہ ہے ۔ اس لیے ہوسکتا ہے کہ شاید بنگال میں رہنے والوں کے اسلاف کوہستان کشمیر یا کشمیر تا نیپال کے ہوں گے ۔
ہندوستانی برہمن سے بنگالی برہن بہت الگ ہیں اور دیگر بنگالی اقوام سے بھی الگ ہیں ۔ دیگر بنگالیوں کی نسبت شکل و قد میں اچھے ہیں ۔ بنگالی برہمن ہندوستانی برہمن نسبت ذی وقار ، عالم اور سرکاری ملازمت کرتے ہیں ۔ سوائے کائسیتوں کے کوئی ان کی برابری نہیں کرسکتا ہے مگر کچھ کچھ بزدل ہیں ۔ بنگال سے پورب کی طرف برہمن کم ہیں اور مسلمان بکثرت ہیں ۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ بعض برہمن دریائے برہم پتر عبور نہیں کرتے ہیں ۔ اڑیسہ کے علاقہ میں برہمن بہت ہیں ۔ ان سب پیشہ کاشکاری اور دستکاری ہے ۔
اب کچھ ذکر بمبئی ، گجرات کے علاقہ کے برہمنوں کا ہوجائے ۔ اس علاقہ میں برہمن آباد ہیں اور ان کے درمیان جین فرقہ کے لوگ بھی رہتے ہیں ۔ سب سے مشہور مرہٹی برہمن ہیں اور یہ نہایت عقیل اور چالاک ہیں ۔ اس علاقہ میں دوسری قواموں مثلاً راجپوت اور جٹوں کی نسبت برہمنوں کا اثر رسوخ زیادہ ہے ۔ چنانچہ جہاں مرہٹوں کے زیر اثر علاقہ تھا ۔ یہاں تک کہ کار علم اور سلطنت مرہٹہ کے برہمنوں کے ہاتھ میں تھی ۔ بلکہ اگر برہمن نہ ہوتے تو مرہٹوں کی حکمرانی ہرگز قائم نہ ہوتی ۔ ان کا خاص وطن کانکان کا علاقہ بمبئی کے جنوب کی جانب ہے ۔ ان کا گورا رنگ اور خاکی آنکھ انہیں مقامی لوگوں سے الگ کرتی ہے ۔ اس لیے میرا گمان ہے کہ کسی بیرونی ملک سے یہاں آئے ہیں ۔ یا شاید براہ سرسوتی اور سندھ سے ہند آئے ہیں ۔ کانکان میں اب بھی کچھ برہمنوں کو کانشا مستلہ یا سرسوتی کہتے ہیں ۔
مہاراشتر کے قریب تلگانہ کا علاقہ ہے وہاں بھی برہمن آباد ہیں ۔ ان کے بارے میں ہمیں کم معلومات ہیں ۔ ساحلی علاقہ یعنی میسور وغیرہ میں پٹواری وغیرہ کہ انجاشانبوک کہلاتے ہیں ، یہ اکثر برہمن ہیں ۔ مگر مہاراشتر کی نسبت ان کا اثر و رسوخ وہاں کم ہے ۔ کیوں کہ وہاں باشندے کا تعلق لنگایت فرقہ سے ہے جو برہمنوں کو کم مانتے ہیں ۔ البتہ ضلع کے شمالی حصہ میں بہت سے کاشتکار برہمن ہیں ۔ یہ معتبر محنتی اور حسین ہیں خصوصاً پان کی کاشت کرتے ہیں اور ان کو ہیگا برہمن کہا جاتا ہے ۔ وہاں سے راس کماری تک برہمنوں کی آبادیاں ہیں ۔ اگرچہ یہاں دوسرے لوگوں کا اثر و رسوخ ہے ۔ یہاں ان کی ایک مشہور گوت نمبیری ہے اور یہ منشی گیری کرتے ہیں ۔ مثلاً ملایا اور تلاوہ میں قوم نیر ۔
خاص مدراس کا علاقہ جہاں تامل مروج ہے ۔ وہاں بھی برہمن ہیں اور شاید بہ نسبت ساحلی علاقہ کے یہاں زیادہ معتبر ہیں ۔ کیوں کہ وہاں لنگاہ فرقہ کے لوگوں تعداد قلیل تر ہے
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں