62

برہیچ (بروچ)

نعمت اللہ ہروی نے لکھا کہ برہیچ بن سرجنون بن سربنی بن قیس عبدالرشید شجرہ ہے ۔ عربوں کے حملے کے وقت غرجستان (سرپل اور بادغیس کے درمیانی علاقہ) میں شار یا برازہندہ حکمران تھے ۔ جو ہن یا یوچیوں کی باقیات تھے ۔ راوٹی کا کہنا ہے کہ شار غزوں کا قبیلہ تھا ۔ اس کی تائید اس طرح ہوتی ہے کہ غز جو برصغیر میں آئے تو گوجر یا گجر کہلائے ۔ گوجروں نے شمالی اور وسط ہند پر اپنی حکومتیں قائم کیں ۔ ان کی ایک ریاست جو مغرب جنوبی ساحل پر ایک ریاست بروچ قائم کی تھی اور اس کے دارلریاست کا نام بھی بروچ تھا ۔ عربوں نے اس کا ذکر بروج کے نام سے کیا ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ بروچ کا تعلق ترکی النسل قبائیل سے ہے اور یقینا ان کا تعلق شاروں سے ہے ۔ برازہندہ کا ’بر’ اور برہیچ میں مشترک ہے ۔ جس کے اوستا میں معنی بلند و بالا کے ہیں ۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ پہاڑوں پر آباد تھے ۔ جس کی وجہ سے ان کے ناموں میں بر کا کلمہ استعمال ہوا ہے ۔ افغانستان میں دو یا سہ حروفی کلمہ میں آخری رکن پر زور پرتا ہے جس سے ایک اور حروف کا اضافہ ہوجاتا ۔ یہ غالباً پہاڑوں پر رہنے کی نسبت سے بر پھر برو اور بروچ کہلائے ۔ بلوچستان میں آباد ایک ہندو قبیلہ بروچ ہے ۔

ایک اور امر جس کی طرج میں توجہ دلارہا ہوں کہ قدیم ایرانی زبانوں اوستا ، قدیم فارسی اور پہلوی میں ’ل‘ استعمال نہیں ہوتا تھا ۔ عربوں کے نفوذ کے بعد ’ل‘ کا استعمال شروع ہوا اور بہت سے ’ر‘ ‘ل‘ میں بدل گئے ۔ اگر ہم بروچ کے ’رُ کی جگہ ’ل ‘ لگائیں تو یہ کلمہ بلوچ بن جاتا ہے ۔ اگر میں غلطی پر نہیں ہوں تو بلوچ بروچ کا ہی معرب ہے اور روایتوں کے مطابق بلوچ شروع میں کرمان کے پہاڑوں پر رہتے تھے ۔ مگر اس پر تفصیلی بحث کی ضرورت ہے اور اس وقت یہاں بحث کا موقع نہیں ہے لہذا اس پر کسی اور موقع پر بحث کی جائے گی ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں