67

بر صغیر کی قدیم نسلیں

برضغیر میں رہنے والے قدیم قبائل مختلف کوہستانوں جنگلوں میں منتشر و پراگندہ ہیں ۔ یہ لوگ نہ یکجا رہتے ہیں ِ نہ ان کا رہن سہن یکساں ہے اور نہ یہ خالص النسل رہے ہیں ۔ یہ اس نمک کی طرح ہیں جو پانی میں گھل جاتا ہے ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ لوگ رفتہ رفتہ کچھ پہلے ہی پہاڑوں ، جنگلوں سے آکر ہموار زمینوں پر آباد ہوئے ہیں ۔ مثلاً قوم بھورا اور چیرونی کثیر علاقہ اودھ ، بنارس و بہار میں آباد ہیں ۔ نیز بھیل ، میر۱ ، کولی اور باری راجپوتانہ اور گجرات میں پہلے ذی اختیار تھے ۔

کچھ عرصہ پہلے تک بیدا یا بیدر جو غالباً ویدا یا ویدر سے نکلا ہے ۔ یہ پہلے دکن کے علاقہ میں پھیلی ہوئے تھے ۔ گونڈ وسطیٰ ہند میں آباد تھے اور یہ رفتہ یہ قبائل دوسرے قبائل میں مخلوط ہوگئے ہیں ۔ یہ قدیم قبائل اکثر اس پہاڑی علاقہ میں آباد ہیں جس کی حدود مغربی و جنوبی صوبجات بنگال ، بہار ، بنارس سے حیدرآباد ، مدراس اور کوہ مشرقی ڈھلوان سے مہذب ناگ پور کے وسیع علاقہ میں واقع ہیں ۔ اس علاقہ کے بارے میں یہ روایت ہے قدیم زمانے میں یہاں ہندو یا شیو کے ماننے والے آباد تھے اور ان جنگلی لوگوں پہچان ختم کردی گئی ۔ یہاں آج کل جابجا ہندو ملتے ہیں ۔

 جب ہم جیسے جیسے جنگل میں داخل ہوں گے اتنی ہی زیادہ ان قدیم قبائل کے آثار ملتے جائیں گے ۔ جیسا کہ اس علاقہ میں ہر جگہ ان کی خصوصی علامت موٹے ہونٹوں سے ظاہر ہوتی ہے ۔   اگرچہ کہاجا ہے کہ قوم ہوبں یا لرکاکول جو مونڈا اور سونتال کے ساتھ رہتے ہیں ، متناسب شکل و صورت کے مالک ہیں ۔ لیکن یہ کہنا زیادہ درست ہے کہ یہ قبیلہ دوسرے قبائل کی نسبت کم بدصورت ہے ۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے یہ جو قبائل شہروں میں آباد ہوگئے ہیں اور ان کا دوسری قبائل کے ساتھ میل ہوگیا ۔ مگر اس کے باوجود ان میں حبشی خال و خندال باقی رہ گئے ہیں ۔ چنانچہ راجہ گونڈ کا خاندان جو کہ ناگ پور میں کچھ پشتوں سے آباد ہے ۔ نہایت قابل ، مہذب اور مسلمان ہیں ۔ ان کا رنگ اگرچہ قدر صاف ہوگیا ہے ، لیکن ان کے موٹے موٹے ہونٹ اس کی غمازی کرتے ہیں کہ ان کا نسلی تعلق حبشیوں سے ہے ۔

ان قدیمی قبائل کی شکل و صورت کچھ یوں ہے کہ قد کوتاہ و سبک ، رنگ نہایت سیاہ ، چہرہ چوڑا چگا ، ہونٹ نہایت موٹے ہیں ، ناک بھی چوڑی اور نتھنی بڑی ، ریش کم لیکن سر کے بال بہت اور الجھے ہوئے بلکہ گھونگرویالے ہیں ۔ اس سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کی شکلوں کو اس وقت بھی پسند نہیں کیا جاتا تھا جب ہندوؤں کی پوتھیاں تصنیف ہوئیں تھیں ۔ کیوں کہ پستکوں میں انہیں راکش ، بن مانس ، سیاہ رنگ اور ٹھگنا لکھا گیا ہے ۔ یونانیوں نے بھی ان کی ایسی وضع بیان کی ہے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ لوگ اکثر ویران جگہوں پر رہنا پسند کرتے ہیں ۔

مختصر یہ ہے کہ یہ لوگ شکلوں اور زبان سے ان لوگوں کی مانند ہیں جن کو انگریزی میں یگرٹیو کہا جاتا ہے ۔ یہ لوگ جنوبی سمندر کے ٹاپو اور جزیرہ انڈمان وغیرہ میں آباد ہیں ۔ اگر ہم ان کی زبان کا جائزہ لیں تو یہ قدیم قبائل کو دو نوع کے ہیں ۔ اول وہ جس کی بولی زبان مہذب جنوبی کے متعلق ہے اور اس کو قدیم اقوام دڑاوری کہنا چاہیے ۔ کیوں کہ جنوبی ہند کی زبانیں دڑاوری کے نام سے مشہور ہیں ۔ چنانچہ قوم کارمبر تامل قبیلہ قدیم معلوم ہوتا ہے اور ملیر قبیلہ جو پہاڑ کی مشرقی ڈھلان  میں آباد ہیں اور میلاملم زبان بولتے ہیں اور بور گھرو کوتا پورانا ناریس کی شاخ ایک راموسیوی میں تلنگو مروج ہے ۔

ان تمام اقوام میں گونڈ بہت مشہور ہیں اور ان کی زبان تلنگو تامل و دڑاوری کی طرح ہیں ۔ کھونڈ بھی ان ہی میں شامل ہیں ۔ ان میں سے جو ناگپور کے علاقہ میں آباد ہیں ان کی زبان میں کچھ فرق ملتا ہے ۔ تاہم ہیں وہ بھی دڑاوری ہیں ۔

ان کے بعد راج کے پہاڑوں میں آباد باشندوں کا ذکر ضروری ہے ۔ یہ دوسرے درجہ کے قبائل ہیں اور چھوٹا ناگ پور کے آس پاس رہتے ہیں ۔ انہیں شمال کی قدیمی اقوام کہنا چاہیے ۔ یعنی لرکا ، کول ، ہوس ، بھومی منڈا ، سونتال وغیرہ شامل ہیں ۔ ان کی زبانیں دڑاوری سے اکثر علحیدہ ہیں ۔ تاہم دونوں زبانیں کچھ معملات میں یکساں ہیں ۔

اول یہ دونوں تمثیلی زبانیں ہیں ۔ اردو اور ترکی میں اسم ربط کے بعد اسم حالت لکھتے ہیں ۔ مثلاً شہر کو ، گھر میں ، گاؤں سے وغیرہ ، حالانکہ فارسی و انگریزی حروف ربط قبل از اسم لکھتے ہیں ۔ جیسا کہ در کتاب ، از شہر وغیرہ یا بتمثیل زبان یونانی و عربی و سنسکرت وغیرہ اسم خود آخر خط میں بدلتی ہیں ، جیسا کہ والدُُ ، والدِِ والدََ وغیرہ ۔

دوم قدیم زبانوں میں خواہ دڑاوری خواہ اردو ہو درمیان میں مذکر اور مونث کی تمیز میں نہیں ہوتی تھی ۔

سوم صفت مشبہ تغیر جنس و حالت تفصیل میں نہیں بدلتے ہیں ۔

چہارم اکثر زبانوں میں ضمیر جمع متکلم ہم مثل ہیں یا مشکوک ہیں کہ کبھی اس کے معنی میں اور تم اور کبھی کسی اور کے ہیں ، لیکن سب سے قدیم زبان دو ضمیر علحیدہ علحیدہ ان میں ملتی ہیں ۔

وہ قدیم زبانیں جو شمال میں ہیں زیادہ مکمل ہیں ۔ مثلاً کمیت تثنیہ رکھتی ہیں ۔ اعداد کے  ہزاروں نام ہیں ۔ حالانکہ گونڈ بولی میں صرف دس تک شمار کر سکتے تھے ۔ لیکن وہ صرف چار اور راجمالے صرف دو تک گن سکتے تھے ۔ اہم یہ بات ہے کہ شمالی قومیں یعنی کول اور سنتال وغیر اگرچہ ہزاروں تک گنتے تھے ، لیکن وہ سو نہیں گن سکتے ہیں اور ہمیشہ فلانی فلانی کوڑی گنتے ہیں ۔ سنا ہے کہ کھونڈ درجن بھر گن لیتے تھے ۔

قدیمی قبائل میں کول بہت مشہور ہے ۔ چاہے چھوٹا ناگ پور کے یا مرزا پور کے یا جے پور کے یا بمبئی کے بلکہ شملہ کے پہاڑی علاقے کے ۔ غالباً کول یا قلی یعنی مزدور ہم معنی الفاظ ہیں ۔ شاید ابتدا میں یہ لفظ کولا یا کولار تھا ۔ کیوں کہ قدیم زمانے میں ہندوؤں کو کولارا کہا جاتا تھا ۔ یہ ہوسکتا ہے کہ اس میں سے ر خارج ہوگیا تو کولا یا کولی بن گیا ہو اور ل خارج کیا تو یہ کرکوار یا کور یا کہور بن گیا جو کہ اب مشہور ہیں ۔

ہند کے جنوب میں بھی ایک لفظ اسی قسم کا مروج ہے ۔ لیکن تھوڑے سے فرق کے ساتھ اکثر اسے کلر کہتے ہیں اور چور بھی کلر کہلاتے ہیں ۔ ہوسکتا ہے کہ وہی لفظ ہوگا ۔ لیکن جب تک مکمل ثبوت  اس وقت تک ہماری کلاری سے مراد شمال کی قدیم اقوام سے ہوگی ۔ یعنی ان میں اور دڑاوری کے درمیان فرق ہے ۔

اگرچہ ان قبائل کی شکل و صورت میں زیادہ فرق نہیں ہے اور دونوں ہی بدشکل ہیں ۔ ان  میں کلاری زیادہ محنتی اور دڑاوری زیادہ لڑاکے ہیں ۔ کلاری بہت خوش مزاج اور ناچ و گانے کے شوقین ہیں ۔ ان کے مذہب کے بارے مستند معلومات نہیں ہے لیکن جو معلومات ہیں ان کے مطابق کلاری دڑاوری سے بہتر ہیں اور یہ شیطان ، لکڑی اور پتھر وغیرہ کی پوجا کرتے ہیں ۔ دڑاوری پوجا کرتے ہوئے دیوانوں کی طرح ناچتے ہیں اور انسانوں و جانوروں کی بلی چڑھاتے ہیں ۔ جب کہ کلاری قبائل سورج یا باگ ناتھ بھوت وٖغیرہ کی پوجا کرتے ہیں مگر خونریزی نہیں کرتے ہیں ۔ یہ تمام قدیم قبائل شیر کا پنجہ بطور تعویز پہنتے ہیں اور یہ رسم ہندوستانیوں میں عام مروج ہے ۔ یہ بھی ان لوگوں کی رسم ہے کہ جابجا اونچی جگہ پتھر کھڑا کر کے اس درخت کی شاخ بطور بھیٹ لٹکائی جاتی ہے ۔ یہ رسم بھی ہندوستانیوں میں عام ہے ۔

وسطہ ہند کے بعض ریاستوں میں دستور ہے کہ راجہ اگرچہ ہندو ہیں لیکن تلک راج کا ٹیکہ کول ، گوند یا بھیل اپنے خون سے لگاتا ہے ۔ یہ ان کی قدامت کی دلیل ہے ۔ 

پرایا وغیرہ کوئی قبیلہ نہیں ہے بلکہ میسور میں اس مراد وہ لوگ ہیں جو بدنام ہیں ۔ ان میں بیدر زیادہ مشہور ہیں ۔ وہ پہلے چور تھے ۔ لیکن اب اس میں دول اور بہت سے پالی گر شامل ہیں ۔

شاید باداگرا اور کوتا جو بپای کوہ نیلگری میں آباد ہیں قدیم قبائل سے ہیں ۔ کیوں کہ وہ یہاں کچھ عرصہ سے آباد ہیں ۔ جب کہ یہاں کے اصلی باشندے کارمنبر ہیں ۔

ایک قوم ہے تودا خاص نیل گڑی کی پہاڑ پر آباد ہے یہ ہندوؤں سے الگ تھلک ہیں ۔ مگر ان کی شکل حبشیوں جیسی نہیں ہے ۔ اس علاقہ میں تمام پہاڑیوں کو لیے ملیاسر کہا جاتا ہے ۔ کارمنرو اردلر و پولیار اور پدامن جنگلی قبائل ہیں اور جنگل میں رہتے ہیں ۔ ان کا قد کوتا ، پریشان کن و منہ درخت کے نیچے یا غار میں بود و باش رکھتے ہیں ۔ جنگلی پھل ان کی خوراک ہے اور پھیڑیں بھی چراتے ہیں ، لیکن کاشت کاری کم جانتے ہیں ۔ کوہ تا عقل ہیں اور ان کا مذہب محض جادو ہے ۔ مشرقی دھلان میں مدراس کے قریب چبچیوارہ میں دریائے سنا و پلکات کے قریب چینڈور اور ویندی رہتے ہیں ۔ شاید یہ وہی چیڑر اور ناگووی ہیں جو کہ مالبار کے علاقہ میں ٖغلام تھے ۔

وسط دکن میں وہیر و راموس آباد ہیں ۔ لیکن لوگوں میں گھل مل چکے ہیں ۔ ان قدیم قبائل کا اصل وطن دریائے گووادری کے شمالی جانب واقع ہے جو پہاڑی علاقہ میں گودآوری و مہان ندیوں کے درمیان واقع ہے ۔

اس علاقہ میں مغربی جانب وحشی کھونڈ رہتے ہیں جو انسانوں کی قربانی کرتے ہیں ۔ مشرق کی جانب پہاڑی علاقہ کے درمیان میں وحشی گونڈ زیادہ مشہو نہیں ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کھونڈوں میں ہندوؤں کا میل ہے ۔ کیوں کے ان کی شکل بہتر ہے ۔ گونڈ بستر کے جنگل اور دریا وین گنگا کے پاس آباد ہیں اور اس میں شک نہیں ہے کہ یہ وحشی ہیں اور سیاہ رنگت بدشکل و فسادی ہیں ۔ ان کو ماری بھی کہا جاتا ہے ۔ یہ گونڈ اور وہاں سے شمالی جانب دور تک پھیلے ہوئے ہیں اور جس قدر شمالی جانب آباد ہیں اتنے ہی ہیں وحشی تھے  ۔ سنبل پور کا درہ گونڈوں اور شمالی قبائل کے درمیانی سرحد ہے ۔ پورب کی جانب گونڈوں کا ایک اور قبیلہ گور اددھپور سرگوجہ تک رہائش پزیر ہے ۔ یہ اپنی زبان بھول چکے ہیں اور ان کی زبان ہندوؤں سے مشابہ ہوچکی ہے ۔

راجہ سرگوجہ کا دعویٰ ہے وہ راجپوت ہے لیکن وہ یقینا وہ گوند ہیں ۔ یہ سرگوجہ سے سوتپورہ کے تمام کوہستان میں آباد ہیں ۔ ایک مرتبہ یعنی کچھ عرصہ پہلے تک یعنی مرہٹوں کے عروج سے پہلے یہ اس علاقہ بلکہ ناگپور ، رائے پور ، جبل پور کے ارد گر شاید الچپور اور دریائے گوداوری کے خبوپے کنارے تک یہ حکمران تھے اور دیو گڑھ ان کا دارالحکومت تھا ۔ مرہٹوں نے ان کو میدانوں سے بیدخل کردیا لیکن پہاڑی علاقہ بدستور ان کی حکمرانی ہے ۔ جوڑیس قبائل ضلع ساگر اور قریب کے دوسرے اضلاع میں آباد ہیں ۔ اگرچہ لبھنی خود کو راجپوت کہتے ہیں اور لخصبی مسلمان ہوچکے ہیں ۔ لیکن یہ سب گونڈ قبیلے سے تعلق رکحتے ہیں ۔

گونڈوں کے بعد اوراون قبیلہ قابل ذکر ہے ۔ یہ اگرچہ دڑاوری ہیں لیکن کولاری قبائل کے درمیان سکونت رکھتے ہیں ۔ یہ اودیپور ، سرگوجہ اور جے پور کے مغربی کی جانب پہاڑی علاقہ میں رہتے ہیں ۔

چھوٹا ناگپور کے مرتفع کے درمیانی علاقہ کے درمیان میں مونداون منتشر حالت میں ملتے ہیں ۔ اس سے بخوبی اندزاہ ہوتا ہے کہ وہ پہلے طاقت ور تھے ، مگر اب وہ کمزور ہوچکے ہیں ۔ مونداون کولاریوں کی طرح محنتی ہیں اور بنگال میں ان کی بڑی تعداد مزدوری کرتی ہے ۔ کلکتہ میں جیسے کلی ہیں ویسے ہی انہیں دہنگر کہا جاتا ہے اور کلکتہ میں تمام قدیم قبائل کے لیے یہ کلمہ مشہور تھا ۔

ان سے کچھ فاصلے پر راجمحالی ملتے ہیں جو کہ دڑاوری ہیں ۔ اگرچہ ان کے درمیان دڑاوری کے مختلف قبیلے ، کولاری ، ہندوستانی اور بنگالی رہتے ہیں ۔ کبھی کبھی ان کو مالیر کہا جاتا ہے اور اس کے معنی دڑاوری میں پہاڑی کے ہیں ۔ یہ وہی لوگ ہیں جن کی تربیت کے لیے ٹی کلیولینڈ صاحب نے بڑی کوشش کی ۔ پہلے وہ ماہر چور تھے اور اس لیے ان کی جاگیریں گھاٹ والی بہاگلپور و بیر بھوم کے ضلع میں پہاڑ کی دونوں طرف واقع ہیں ۔ وہ زمینیں اس لیے انہیں دی گئی تھیں کہ گھاٹیوں اور پہاڑیوں پر چوریاں روکیں ۔ انگریزی حکومت نے ان پر مشتل ایک پلٹن مرتب کی ۔ لیکن یہ سنتالوں کے مقابلے میں اچھے لڑاکے نہیں ہیں ، اس لیے پلٹن ختم کردی گئی ۔

اب کولاری قبائل کا کچھ ذکر ہوجائے ۔ ان میں سے جو الگ اور مہذب ہیں اور کلکتہ کے مغربی جانب ایک سو پچاس کوس دور رہتے ہیں ۔ ان کے نام متفرق ہیں ، مثلاً موند ، بھومی ، سونتال  اور ہویس ، لیکن ان سب کی زبان و رسومات اکثر ایک سی ہیں ۔ یہ چھوٹا ناگپور ، سبگھوم ، مانوبھوم اور کوہستان بھاگلپور میں علاوہ راحمجالی پہاڑ پر ، بردوان علاقوں مغربی ، مدنہ پور اور کٹک میں آباد ہیں ۔ یہ سادہ نیک چلن اور راست گو قبائل ہیں ۔ ان کا علاقہ خوبصورت ہے لیکن یہاں قدیمی قبائل روز بروز کم ہوتے جارہے ہیں میں ۔ یہ اور مزدور پیشہ ہیں ۔ یہ لوگ سڑک ریل اور اس کے علاوہ نیل کے فارموں اور آسام میں کام کرتے تھے ۔ لیکن آسام میں یہ جلد بیمار ہوجاتے تھے ۔ کیوں کے آسام مرطوب علاقہ ہے اور ان کا آبائی علاقہ اونچا اور خشک ہے ۔ 

چھوٹا ناگپور میں مونڈوں نے اتنا سیکھ لیا تھا کہ گاؤں میں آباد ہوگئے تھے ۔ تاہم قدیم قبائل کی طرح مشترکہ رہتے رہتے تھے اور معمولی بات پر یہ کام کو چھوڑ دیتے تھے ۔

ہوس و بھومی جو سبگھوم اور مانبھوم کے جنوب کے پرگنے میں آباد اور کم وحشی ہیں ۔ لیکن سنتل لوگ اگرچہ میدان کے پاس رہتے ہیں سب زیادہ نڈر ہیں ۔ اس کوہستان کی آخر میں ایک قبیلہ دوغلہ ہے جن کا پیشہ لوٹ مار تھا اور ان کی ذات بھی کھاٹ والی کہلاتی تھی ۔

جو قبائل راجپوری پہاڑ بسوی کے شمال اور سرگوجہ کے درمیان اور پالا مو آباد ہیں ، ان میں ایک قوم کہورپواہ کی زبان کولاریوں کی زبان سے ملتی جلتی ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ان کا تعلق ایک ہی نسل سے ہے ۔ لیکن یہ بالکل جنگلی تھے اور ان کا سر اور قد بھی چھوٹا ہے ۔ ان کی شکل بہ نسبت اور ان ڈراودیوں سے بہتر ہے ۔ منہ پریشان حال اور ہلکی ڈارھی رکھتے ہیں ۔

چھوٹی ناگپور کے علاقہ میں جو قبیلے آباد ہیں ، ان میں کہیریا ، بنیدگر ، برہور ، بھوہر یا بویر وغیرہ کے علاوہ نام کرکی ، وجامگوا ، سور یا سورہ قبیلے بھی بستے ہیں ۔ لیکن ان کی تفصیلات مشکوک ہے ۔ بعض قدیم قبائل جن کا ذکر اب تک نہ ہوا ۔ یہ ضلع پالامو ، مرزا پور کے پہاٖڑی علاقہ ، ریواہ ، بنارس اور بہار میں آباد ہیں ۔ ان کے بارے میں کچھ بتانا مشکل ہے ۔ کیوں کہ یہ اب ہندی بولتی ہیں اور میں ان کی قدیمی زبان معلوم نہیں کرسکا ۔ ان میں سے گھرور یا گھراور مشہور ہیں ۔ اس کے علاوہ راجور اور بھوگتہ بھی آباد ہیں ۔ غالباً ان قبائل کا چیرو یا بھر سے تعلق ہے ۔ سنگرولی و جپور کے دونوں راجہ گرور ہیں اور دوسرے قدیم قبائل کی طرح یہ بھی برن یقین نہیں رکھتے ہیں اور ہر چیز کھالیتے ہیں ۔

بنگالہ و اوڑیسہ و بہار کی سنگم پر بھویا قبیلہ آباد ہے ۔ کور اور بھویا قبائل میں کور قبائل محنتی ہیں اور مہذب بھی ہیں ۔ ان کا دعویٰ ہے یہ ان کوروں کی اولاد ہیں جو پانڈوں ساتھ لڑے تھے ۔ چنانچہ مہادیو کو مانتے ہیں اور ہندی بولتے ہیں ۔ تاہم ان کی شکل قدیم قبائل کی طرح ہے ۔ یہ مرغی بھی کھالیتے ہیں اور اپنے مردوں کو دفن کرتے ہیں نیز برہمنوں کو حقیر سمجھتے ہیں ۔ یہ دلیلیں ہیں کہ کا تعلق ہندوؤں سے نہیں ہے ۔

اس قبیلہ سے مغرب کی جانب دو تین سو کوس تک کوئی قدیم قبیلہ کولاریوں کا نہیں آباد ہے ۔ لیکن کوہ سوتپورا مغربی حصہ میں کاؤ لگہر کے قریب اور وہاں سے اندور کی جانب کور یا کورکوس قبیلہ آباد ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے ان کی زبان کولاری ہے ۔ ان کے بعد بمبئی کا علاقہ شروع ہوتا ہے ۔ اس علاقہ میں اور دوسرے جنگلی قبائل ذات مہار ، نامگ اور راموس بستے ہیں ۔ لیکن ان میں مشہور صرف دو قبیلے کولی اور بھیل ہیں ۔ شاید کولی کولاری ہی ہیں ۔ شبہ ہے کہ شاید بھیل دراوڑی ہیں اور ان کے درمیان فرق کم ہے اور بعض الفاظ مشترک ہیں ۔ مثلاً یہ سر کو بھورو کہتی ہیں اور ہاجن کی لغت کے مطابق دیگر کولاری قبائل مثلاً کول سونتال ، بہومی ، مونڈا سر کو بو یا بوہو کہتی ہیں ۔ یہ نام داوڑی براہی سر سے بالکل جدا ہے ۔

گجرات کے علاقہ میں کولی بکثرت سے آباد ہیں اور وہاں کے کوہستان کو کولوان کہتے ہیں ۔ یہ قبائل شمال تا سندھ اور جنوب کی جانب گوا تک کے علاقہ میں آباد ہیں ۔ ان کا قد اکثر پانچ فٹ تین انچ تک ہوتا ہے ، کومیان کے نذدیک مشرقی جانب ، کوہستان سوتپورہ اور دندیا سے راجپوتانہ تک علاقہ بھیل قبیلہ آباد ہیں ۔ یہ لوگ قبیلہ کولیوں کی طرح ہے ۔

لیکن زیادہ جنگلی پہرادا ولی پہاڑ اجمیر کے پاس قوم میر یا مہیر قبیلہ آباد ہے ۔ ان کی اصلیت مشکوک ہے ۔ کہتے ہیں کہ کہ مہیر کے معنی پہاڑ کے ہی ۔ غالباً مہیر مخلوط قبیلہ ہے ۔

ایک اور بڑا قبیلہ مینا راجپوتانہ میں آباد ہے ۔ جن کا پیشہ قزاقی تھا اور یہ خصوصاً جے پور میں اپنے علاقہ سے باہر اکثر قزاقی کرتی تھے اور جسیم ہیں ۔ غالباً ان کا تعلق بھی قدیم قبائیل سے ہے

 دریائے نربدا کے پاس نام شریا اور اودھے پور میں نیکر آسنا آباد ہیں ۔ کوہستان ہمالیہ میں قدیم قبائل کم آباد ہیں ۔ شملہ میں کولی اور کماؤں کے ڈوم ہندوؤں کی پست ذاتیں ہیں ۔ غالبا یہی کماؤں اور نیپال قصبوں میں بن مانس سے مشہور ہوگئی ہیں ۔ کیوں کہ کسی نے بھی ان بن مانسوں کو دیکھا نہیں ہے ۔ معلوم نہیں یہ خرافات کیوں مشہور ہوگئیں ہیں ۔ حقیقت میں ہندوؤں کی آمد سے قبل قدیم قبائل یہاں کے باسی تھے ۔

ہمالیہ کی ترائی میں ایک قبیلہ بوبسہ آباد ہے ۔ ان کا قد پستہ ہے اور ان کی شکل چینیوں سی  ملتی ہے ، ڈارھی مونچھیں بھی کم ہیں اور رنگ میں ہندوؤں سا سیاہ نہیں ہے ۔ ہر چیز کھالیتے ہیں ۔ مگر ہرگز جنگل سے باہر نہیں جاتے ہیں ۔ جہاں لوگ گرمی سے مرجاتے ہیں وہ وہاں یہ خوش رہتے ہیں ۔

اودھ کی ترائی میں ایک اور قبیلہ اسی نوعیت کا آباد ہے جس کو تہارو کہتے ہیں ۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ تہارو ہندو نسل ہیں یا تبتی ہیں ۔ میں نے سنا ہے کہ ان کے علاقہ اور سنتل مرگیا میں یعنی ضلع بھاگلپور شہر اور دیہاتوں کے نام جیسے ہیں ۔ ان کے زرا ہٹ کر میچی یا بودو قبیلہ رہتا ہے ۔ ان کی شکل زیادہ تر چینیوں سے مشابہ ہے اور ان کے علاوہ تھاوہ بھی آباد ہے ۔ دریائے برہم پتر کے کنارہ پر مختلف قبائل آباد ہیں ۔ ان میں غالباً نصف چینی نسل ہیں ۔ ان میں سے ایک قبیلہ گارو آباد ہے ۔ شاید یہ خالص قدیم ہندی قبیلہ ہے ۔

ایک قوم بسیار ذی بال یعنی بھویہ ہے ۔ یہ عجیب بات ہے کہ ملک بنگال کے مغربی اور مشرقی سمت پھویہ رہائش پریر ہیں ۔ لیکن خاص بنگال کے بیچ میں بالکل آباد نہیں ہیں ۔ یہ نام غالباً بھومیا سے بنا ہے ۔ لیکن ہوسکتا ہے یہ غلط ہو ۔ کیوںکہ بھومی کے معنی جہاں کے ہیں ۔ غالباً یہ بہویہ وہی ہیں جو دکن میں بوی کہلاتے ہیں ۔ اس لیے اس علاقہ میں انگریز اپنے نوکروں کو بائی سے مخاطت کرتے تھے ۔ یہ عجیب بات ہے کہ اگر کوئی شخص پالکی میں سوار ہوکر ناگپور سے ہندوستان کی طرف سفر کرتا تھا تو اسے پہلے بوی کہار ملتے تھے اور پالکی کو جبل پور تک لیجاتے تھے ۔ اگر وہی شخص بنگال کی طرف سفر کرے تو بوی سے گوالا کہار ملیں گے ۔ یہ بات عجیب ہے کیوں کہ ہندوستان میں گوالا کبھی کہار کا کام نہیں کرتا ہے ۔ بنگال میں گوالے بے شمار ہیں ۔ ہوسکتا ہے یہ گوالے دراصل بھویہ ہوں ۔ یعنی قدیمی باشندے ہیں جن کا نام بعد میں ہندوانا ہوگیا ہو ۔ شاید یہ چین سے آئے ہوں گے ۔ کیوں کہ پالکی کا رواج خاص چین کا رواج ہے ۔

بلوچستان کے علاقہ میں براہوئی قبیلہ ہے ۔ کالڈو کا کہنا ہے کہ براہوئی اور دڑاوری زبانیں باہم مشترک ہیں ۔ لہذا براہوی اور جنوب کے دڑاوری مشترک نسل بھی مشترک ہوں گے ۔ براہیوئی زبان میں آمیزش پنجابی کی ہے ۔ لیکن محض زبان کی بنا پر براہویوں کو دڑاویوں کا ہم نسل نہیں کہا جاسکتا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں