63

بشریات

 بشریاتAnthropology یا علم الانسان وہ علم ہے جس سے کسی علاقہ ، ملک کی کسی خاص قوم کا مطالعہ کیا جاتا کہ یہ لوگ کس نسل سے تعلق رکھتے ہیں اور یہ کہاں سے آئے ہیں ۔ ان کو جانچنے کے لیے کچھ امور کا خیال رکھا جاتا ہے ۔ محض ان کے دعوں اور شجرہ ناموں سے بھروسہ نہیں کیا جاتا ہے ۔ 
شجرہ نسب ۔ کسی قوم کے شجرہ نسب سے بھی مدد ملتی ہے اور اس میں ملنے والے نام اس سلسلے میں بہت مدد دیتے ۔ مثلاً کلہوڑوں کا دعویٰ ہے کہ وہ عباسی ہیں اور ان کے کئی شجرہ نسب ملتے ہیں ۔ ہر شجرہ میں کچھ نام عربی ہیں اس کے بعد اس ان میں مقامی نام آجاتے ہیں جو کہ مسلسل آتے ہیں ۔ اس سے اس بات کی نشادہی ہوتی ہے کہ یہ وضح کیا ہوا ہے اور عربی ناموں کا اضافہ بعد میں کیا گیا ہے ۔ 
نام ۔ بعض اوقات نام سے ان کی نسل کی نشادہی ہوتی ہے ۔ مثلاً چیچ نامہ کی روایت کے مطابق یہ عربوں کے حملے کے وقت سندھ پر برہمن خاندان حکومت کر رہا تھا ۔ مگر ان کے ناموں اے اس کی تصدیق نہیں ہوتی ہے ۔ راجپوت اور جاٹ اپنے نام کسی اور جاٹ یا راجپوت قوم ، یا مظاہر قدرت پر رکھتے ہیں اور راجپوت ان سے بھی آگے یعنی ایسے نام جن سے بہادری یا خوداری جھلکتی ہو اور چچ یا داہر یا چندر ناموں سے اس بات کی نشادہی ہوتی ہے کہ یہ برہمن ہر گز نہیں بلکہ راجپوت یا جاٹ تھے ۔ اس طرح کلہوڑا یا ٹالپور جسے ناموں سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ کے یہ جاٹ نسل ہیں ۔ کیوں کہ جاٹوں کی خصوصیت ہے وہ اپنے نام مختلف اشیاء پر رکھتے ہیں اور یہ نام جو کلہاڑے اور ٹال یعنی لکڑی پر رکھے گئے ہیں ۔ ان سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جاٹ النسل ہیں ۔    
ذات ۔ ذات کا نام اہم نہیں ہے ۔ کیوں کہ ذات بدلی بھی جاسکتی ہے ۔ مثلاً ہمارے ملک میں بہت سی ذاتیں ایسی ہیں جن کے سو سال پہلے کچھ اور تھے اب ان کے کچھ اور ہیں ۔ برصغیر میں نچلی اقوام کی بھی وہی ہوتی ہے جو علاقہ کی دوسری قوموں کی ۔ 
شکل و صورت ۔ شکل و صورت ذات سے زیادہ شکل و صورت اہم ہے ۔ آریا ، منگول ، دراوڑی اور حبشی ہیں جو ہمارے علاقہ میں ملتی ہیں گو ان میں ملاوٹ ہوچکی ہے ۔ ان میں سب اہم آریا ہیں جو کہ اکثر لوگوں میں ملتی ہیں ۔ ان کی ناک کھڑی ، رخسار کی ہڈیاں ابھری ہوئی ، آنکھیں بڑی اور چمدار اور بال ہلکے سے کرب ۔ دوسری منگول ہے ۔ جو ہزارہ قبائل گلگت و اسکردو کی طرف نظر آتی ہے ، یعنی بال سیدھے ، رنگ زردی مائل ، آنکھیں چھوٹی اور گہری ۔ تیسری دراوڑی جو سیاہ رنگت کے ، قد درمیانے سے کچھ کم اور تیسری حبشی صورت جو کہ خالص حالت میں ہمارے یہاں صرف شیدیوں میں ملتی ہے ۔ ان کے ہونٹ موٹے ، ناک پھیلی ہوئی ، مونچھ ڈاھاریاں کم اور بال گھنگریالے ہوتے ہیں ۔ جس طرح پنجاب کی بہت سی قوموں کا دعویٰ ہے کہ وہ عربی نسل ہیں ۔ لیکن ان کی شکل و صورت دوسرے مقامی باشدوں جیسی ہے ۔ اس کا مطلب ہے ان کا دعویٰ باطل ہے ۔ اگرچہ اب کوئی بھی نسل خالص نہیں رہی ہے اور ان میں میل ہوچکا ہے ۔
دوم زبان ۔ کسی قوم یا علاقہ کی زبان میں تغیر آجاتا ہے اور الفاظ بدل جاے ہیں ۔ لیکن بعض اشیاء کے نام بہت اہم ہیں ۔ ان میں اعداد ، اعضاء کے نام مثلاً ہاتھ ، پاؤں ، ناک وغیرہ ۔ قریبی رشتہ داروں ، سورج ، چاند ، آگ ، پانی اور ضمیریں وغیرہ شامل ہیں ۔ ان الفاظوں سے پتہ چلتا ہے کہ ان کا تعلق کسی قوم سے ہے ۔ اس طرح بعض آوازیں ایسی ہوتی ہیں کہ بعض قوم کے افراد ادا نہیں کرسکتے ہیں ۔ مثلاً بلوچوں کا کہنا ہے کہ وہ عربی نسل ہیں ۔ مگر ان کی خاص آوازیں دندانہ دار ہیں اور وہ عربوں میں نہیں ہیں اور اس طرح خالص عربی آوازیں بلوچوں میں نہیں ہیں ۔ 
رسوم و رواج ۔ کسی قوم کو پرکھنے کے لیے ان کے رواج اور رسومات کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ وہ کن قوموں سے ملتے ہیں ۔ مثلاً پٹھانوں کا دعویٰ ہے کہ وہ یہود نسل ہیں ۔ لیکن ان کی رسم و رواج اور نام وغیرہ برصغیر کی قوموں سے ملتے ہیں ۔ اس طرح ان کا دعویٰ باطل ہوجاتا ہے ۔  
روایات ۔ یہ بھی اہم نہیں ہے کیوں کہ کوئی قوم جب اپنا نسب بدلتی ہے تو اپنے دعووں کے مطابق روایات گھڑلیتی ہے ۔ ہم ان روایات کو دوسرے ماخذ سے پرکھتے ہیں ۔ اس طرح جو روایت ملتی ہیں اس میں تصاد کتنا ہے اور وہ تاریخ سے ماخذ ہیں کہ نہیں ۔ اس طریقہ سے ہم اس قوم کی حقیقت تک پہنچتے ہیں ۔ بے حال روایات سے بھی مدد ملتی ہے ۔  
تاریخی ماخذ ۔ کسی بھی قوم کا جائزہ لینے کے لیے ان کے تاریخی ماخذ کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ ان کی اصلیت کیا ہے ۔ مثلاً سومرا قوم جس نے سندھ پر حکومت کی اس قوم کے بارے میں دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ عرب نسل ہیں ۔ لیکن تاریخی ماخذ بتاتے ہیں کہ ان کے ابتدائی فرمان رواؤں کے نام ہندوانہ تھے گو یہ مسلمان ہوچکے تھے مگر ان میں ہندوانہ نام باقی تھے ۔ اس طرح ان کا نام راجپوتوں کے شجرہ ناموں میں ملتا ہے ۔ اس کے علاوہ سکھوں میں بھی سومرا ملتے ہیں ۔ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ ان کا عرب نژاد ہونے دعویٰ غلط ہے ۔ 
بالا الذکر کچھ نکات ہیں جن کی مدد سے کسی قوم یا ذات کی نسلی اصلیت تک پہنچا جاسکتا ہے ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں