77

بلوچستان کے پست قبائل

ہمارے ملک میں کچھ قبائل یا برادریاں پست سمجھی جاتی ہیں ، اس کی بنیادی وجہ ان کا محنت کش یا ایسے پیشوں سے ان کا تعلق ہے جس کو عام لوگ اپنانا پسند نہیں کرتے ہیں ۔ بلوچستان میں ان قبائل کو پست سمجھا جاتا ہے جو کہ بلوچ ، براہوی اور پشتون ماخذ سے تعلق نہیں رکھتے ہیں اور مختلف کام کرتے ہیں ۔ ان میں زیادہ تر زراعت پیشہ ہیں یا دوسرے مختلف کام کرتے ہیں ۔ ان قبائل کا یہاں ذکر کیا جاتا ہے ۔  

گولہ

گولہ کو بلیدی کا ایک طائفہ بتایا جاتا ہے ، یہ نصیر کے علاقہ میں آباد ہیں ۔ گولوں کے نو حصے ہیں ، پندرانی کرمیانی ، ست مانی ، جولیانی ، جارانی ، کاشانی ، رکھیانی اور شمانی ہیں ۔ اس کے علاوہ کلیانی ، کلوانی ، کہہ گولا ، وسوانی ، چھٹیا یا شیرخانی اور چزیانی بھی منسلک ہیں ۔ ان قبائل کا دعویٰ ہے ان کے آباء عیب خان اور موسیٰ خان میر چاکر کے ساتھ بطور سکاؤٹ یا رہنما آئے تھے ۔ جنہیں سندھی میں گولاؤ کہا جاتا ہے اور یہی نام ان کا ماخذ ہے ۔ تاہم یہ بلیدیوں کے مورث پر میرعلی بھی کہلاتے ہیں ۔

 ہیوگزبلر کا کہنا ہے کہ وہ زیادہ تر ان عناصر پر مشتمل ہیں جو کہ بلوچوں سے منسلک ہوئے اور بعد ازاں اپنا تشخص قائم کر گئے اور اپنا ماخذ بھول گئے ۔ اب گولوں نے حال ہی میں بلوچ ماخذ کا دعویٰ کیا ہے ۔ گو وہ بلیدیوں میں شمار کئے گئے ، تاہم دیگر بلوچ سماجی مراتب میں انہیں پست درجہ دیتے ہیں ۔ عام روایت انہیں غلام ماخذ سے منسوب کرتی ہے اور چونکہ سندھی میں گولہ کا مطلب غلام ہے ۔ لہذا یہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے ۔

ببر

بّبر لس بیلہ کے پست ترین قبائل میں سے ہیں ۔ یہ زیادہ تر گور کن اور گھریلو ملازم ہیں اور لس بیلہ میں آباد ہیں ، ان کی جلدیں قدر سیاہ ، بال گھنگریالے اور ناک چپٹی ہیں ۔ لیکن آخر الذکر دونوں حبشی کی طرح نمایاں نہیں ہے ۔ اپنی شادی پر بّبر اب بھی اپنی دلہن کو بھگا کر لے جانے کا مظاہرہ کرتے ہیں ۔

گدرا

لس بیلہ میں آباد گدرا غلاموں کی اولاد ہیں ۔ ان کے حبشی خدو خال اظہر من الشمس ہیں اور اس میں کسی کو شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ وہ ان غلاموں کی اولاد ہیں جنہیں سومیانی کے میمن یا خوجے ماضی میں درآمد کرتے تھے ۔ لیکن آزاد ہونے کے باجود وہ اپنے سابقہ آقا کے مخصوص گروہ سے ایک نسبت ضرور رکھتے ہیں ۔

گدرا اپنے وطن کی زبان بھول چکے ہیں اور اب جگدالی یا جدگالی بولتے ہیں ۔ خادم گولو اور خادمہ گولی کہلاتی ہے ۔ تاہم یہ اب بھی اپنے آقاؤں کے ساتھ رہنا پسند کرتے تھے اور ان کے آقا بھی ان سے بہت کم بدسلوکی کرتے تھے ۔ اب زیادہ تر گدرائوں نے مختلف پیشے اپنا رکھے ہیں ۔ 

مید

مید عام طور پر مہانا یعنی ماہی گیر کہلاتے ہیں اور اوماڑا میں رہنے والے مغربی بلوچی بولتے ہیں ۔ ہیوگزبلر مکران گزٹتر میں لکھتا ہے کہ مید درمیانہ قد و قدامت سے بالا ہیں ، ان کے سر چوڑے ، چہرے بیضوی اور ناک لمبی اور چہرے کی وجہ سے نمایاں ہے ۔ ان کی جلدیں بھوری اور آنکھیں بادانی رنگ ہیں ، وہ مظبوط اور کسرتی اور قوی ہیں ۔ سمندر میں طاقت کے حیرت انگیز کارنامے انجام دے سکتے ہیں اور بے حد تحمل کے مالک ہیں ۔ وہ تمام سمندری نسلوں کے لابالی پن اصراف پسندی اسر خطرہ آزمائی جیسی صفات کے مظہر ہیں لیکن لاپروہ ہیں ۔

مید ماہی خوروں کی آرین کی بیان کردہ اکثر خصوصیات کے مالک ہیں ۔ گوادر کے کتبات اور ہم عصر قبائل کی بیان کردہ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ قبیلہ کا مرکزہ گنداوہ (کچھی) سے آیا تھا ۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ مید قدیم میدوں کی اولاد ہیں ۔ جو بحیرہ خضر کے ساحل پر میلان کے صوبہ میں رہتے تھے ۔ ان کے بیضوئی چہرے خالص ایرانی وضع قطع کے مظہر ہیں اور ایران کے شمالی حصہ کے نیم عرب و نیم ایرانی بلوچ سے مختلف ہیں ۔ ان کے سر چوڑے اور ناک زیادہ تیکھے ہیں اور یہ افریقی و ہندی نسلوں کے ممکنہ اختلاط کے باوجود ہے ۔

ٍ لوہڑی
یہ عجیب وغریب لوگ پورے علاقہ میں پھیلے ہوئے ہیں اور ان میں سے کئی ہر قبیلہ اور قبائلی گروہ سے منسلک ہیں ۔ یہ سرمستاری بھی کہلاتے ہیں ، کیوں کہ یہ سرمست کو اپنا مورث بتاتے ہیں جو ان کے مطابق احمد زئی براہویوں کے مورث کا بھائی تھا ۔ لیکن دیگر قبائلی ان کے دعویٰ کو بالکل لغو قرار دیتے ہیں ۔ یہ بلوچستان کا واحد قبیلہ تھا جو صنعت و حرف سے منسلک تھا ۔ یہ دستکار ہیں ، جیسے ترکھان ، لوہار اور سنار یا موسیقار اور گائک ہیں ۔ جو سرکردہ قبائلی خاندانوں میں شادی و مرگ پر منظوم قصے گاتے ہیں اور ان مہمان خانوں میں ضروری خدمات بجالاتے ہیں ۔ وہ اپنے مربی قبیلوں اور طایفوں کی خصوصی حفاظت میں ہیں اور اپنی مراعات و حقوق کے معاملے میں بہت حساس ہیں ۔
جو لوہڑی آباد نہیں بلکہ خانہ بدوش ہیں ، مذکور بالا پیشوں کے علاوہ بازی گری بھی کرتے ہیں اور ان کی عورتیں ہاتھ دیکھنے اور قسمت کا حال بنانے میں ماہر سمجھی جاتی ہیں ۔ لوہڑی غنڈے اور آوارہ بھی سمجھے جاتے ہیں اور ان کی چھوٹی چھوٹی چوریاں ضرب المثل ہیں ۔
کسی لوہڑی سے پوچھا جائے کہ وہ کون ہے ؟ تو وہ خود کو لوہڑی نہیں کہے گا ، بلکہ بتائے گا کہ وہ سرمستاری ۔ یہ ایک ایسا جواب ہے جو سب لوہڑیوں نے اپنا لیا ہے یا ایک استاد ۔ آخر الذکر نام دستکاروں یا ٹھٹھیروں کے پیشے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور سب لوہڑی اپنی میں منہک رہتے ہیں ۔ ان کی خصوصیت ان کی ایک خفیہ بولی ہے جو کہ مختلف زبانوں مثلاً بلوچی ، اردو ، پنجابی ، پشتو وٖغیرہ کے الفاظوں کو الٹ کر ترتیب دی گئی ہے اور آپس اکثر بات جیت کرتے ہیں ۔
قلات کے دہوار
روایت کے مطابق احمد زئیوں کا قلات پر قبضہ دیہواروں کی مدد کا مرحون منت ہے ۔ انہوں نے گورنر مندو کو مار کر میر ابراہیم میرواڑیوں کو مسند نشینی کی دعوت دی ۔ جس نے اپنے پوتے میر حسن کو بھیج دیا ۔ ماضی میں قریباً تمام دہوار خان کے مزارع تھے اور انتظامی مقاصد کے لیے وہ براہویوں کے برعکس خالص سرکاری رعایا سمجھے جاتے تھے ۔ دہوار خان کی تمام خدمات بلاتنخوا بجا لاتے تھے اور اس کے علاوہ مہمانوں کی ضروریات از قسم ایندھن ، چارہ اور ایلچی مہیا کرتے تھے ۔
دہوار محنت اور بے ضرور لوگ ہیں ۔ وہ دہیہ یا گاؤں میں رہنے کی وجہ سے دیہوار کہلاتے ہیں ۔ وہ براہویوں میں رہنے کے باوجود ان کی طرح میدانوں میں سالانہ ہجرت نہیں کرتے ہیں ۔ وہ ماضی میں خان کو فوجی دستہ بھی مہیا نہیں کرتے تھے لیکن براہویوں کی ماتحتی گوارہ تھی ۔ یہ قبیلہ تاجک ماخذ ہے اور انہی کی طرح فارسی بولتا ہے ۔ قلاتی دہواروں کے پانچ ٹھکر ڑوڈکی ، رئیس طوق ، ٹونسٹی ، علی زئی اور مغلزئی ہیں ۔ جب کہ مستونگی دہوار اپنے علاقوں کے نام سے مشہور ہیں ۔ جیسے مستونگی دہوار ، پڑنگی آبادی دہوار اور تیرچی ، مستونگی خواجہ خیل ، شیخ ، سارنگ ، ہوتیزئی ، سولانی ، آبیزئی ، زرخیل اور دادیزئی اور کئی چھوٹی اکائیاں اور بہت سے بے گانے بھی ان میں شامل ہیں ۔
جاٹ
جاٹوں کا مرکزہ اس علاقے کے قدیم باشندوں میں معلوم ہوتا ہے اور اغلب یہ ہندؤں کی اولاد ہیں اور مسلمانوں کی فتوحات کے بعد دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ۔ لیکن یہ اب ایسے مسلمانوں گروہوں کا مجموعہ معلوم ہوتا ہے جو افغان ، بلوچ ، سیّد اور براہوئی نہیںہیں یا ان نسلوں کی باقیات ہیں جو قصر ذلت میں گر گئیں ہیں اور اپنی قومیت کھو بیٹھی ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں آرائیں اور گوجر ہمسایہ صوبوں میں علحیدہ زاتیں ہیں ۔ بہت سے لوہری ہیں جو یہاں نوارد ہیں اور دیگر کئی نسلی پاڑے جاٹ کی اصلاحی کوزے میں بند کردئے جاتے ہیں ۔ یہ آمزیش قدرتی اور مصنوعی دونوں قسم کی وجوہات کا نتیجہ ہیں ۔ کیوں کہ اعداد شمار بتاتے ہیں ان تمام لوگوں کو جاٹ میں شمار کرنے کا رجحان عام ہے جن کا ماخذ مشکوک تھا یا جن کے متعلق معلومات کا فقدان تھا ۔
مقامی جاٹوں سب سے زیادہ تعداد ابرا کی ہے ، اس کے علاوہ یہاں ماچھی ، سُمرا ، بمان ، چھُکڑا ، بُرا ، باہنی ، بوہڑا ، مستوئی ، ڈنڈور ، کلوار ، اٹاریہ ، دریع ، مہیا ، بارا ، رہواجہ ، اور بانو شامل ہیں ۔ سندھ اور پنجاب سے آنے والوں میں بھٹی ، سیال ، کھوکر ، ارائیں ، جویا ، رِد ، گجر ، اعوان ، کالا ، ڈھنیڈو ، کرل اور ڈھیڑ شامل ہیں ۔ دیگر طائفوں میں کٹ پار ، جنگر ، ٹونیہ یا تنجیہ ، منجھو ، پیجھو ، چاچڑ ، ایری ، کڑاڑ ، ساہتو ، ڈیتھا ، سیاپوست ، دھرپال ، سپر برہیجا ، بلال ، جٹائی ، واجہ ، مہین ، اوٹران ، کوری یا جولاہے ، بہی ، گگرا یا خاکورب ، سیانج اور مانا قابل ذکر ہیں ۔ یہ سندھی جاٹ ہیں اور سندھ سے آئے ہیں ۔
مندرجہ ذیل طائفہ بلوچ ماخذ کے بتائے جاتے ہیں ، لیکن اب جاٹوں میں شمار ہوتے ہیں ، کہر ، بھنڈ ، رستی ، گولا ، اور ہڈکری کے علاوہ لوہری کا شمار جاٹوں میں ہوتا ہے ۔
ہیوگز بلر کا کہنا کہ جاٹوں میں بھی اندرونی تمیز ہے بلوچ ، شتربانوں اور چرواہوں کو جاٹ قبیلہ کے اندر جت طائفہ سے پکارا جاتا ہے ۔ یہ شتر بان دیگر جاٹوں سے مختلف زبان بولتے ہیں اور ان کی کئی رسمیں دیگر جاٹوں بھی الگ ہیں ۔ ماخذ کے لحاظ سے وہ جاٹوں سے علحیدہ ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ بلوچوں کے ساتھ ان کے چرواہوں کی حثیت سے آئے تھے ۔ ان کے بڑے طائفہ میر جت ، لاشاری ، مجیدانی ، بَھنڈ ، لجوانی ، بّبر ، سوانی اور بلادی ہیں ۔
ماضی میں جاٹ براہویوں اور بلوچوں کے محکوم تھے اور وہ کاشت کار ہیں اور اپنی پیداوار کا ایک حصہ اپنے آقاؤں کو دیتے ہیں ، قبائل انہیں اپنے سے کمتر سمجھتے ہیں اور خود جاٹ بھی اس حثیت کو تسلیم کرتے ہیں ۔
لانگو
لانگو ساروانی قبائل میں سب سے کثیر التعداد ہیں ۔ لانگو منگوچر وادی میں کاشت کرتے ہیں اور زیادہ تر خان ، رئیسانی ، اور محمد شاہیوں کہ مزارحین کی حثیت سے رہتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مستونگ ، گرگینہ ، اسپنچی اور دشت بیدولت کے علاوہ دشت گوران ، ماما ناوا ، نال اور وڈھ میں ملتی ہے ۔ قبیلہ کا مرکزہ حاجی خان کی اولاد ہے ، جو میر چاکر کا وفادار تھا اور نان کے قریب گریشہ میں رہتا تھا ، اس کی ایک بیٹی تھی جو میر قیصر والی قلات سے بیاہی گئی تھی ۔
لانگو کا طائفہ بلکہ ہر خاندان میں بے گانے بروک ہیں ، جس میں حب کے نوتانی ، چھٹہ ، لسبیلہ کے لمریا ، خاران کے رخشانی ، قندھار کے افغان ، جھلان کے سناری اور محمد حسنی ، بنہ اور پشین کے کاکڑ ، کوئٹہ کے کاسی ، کولواہ کے میرواڑی ،نوشکی کے ذگر مینگل ، کچھی کے ڈومبکی ، ہارونی ، قلندرانی ، مینگل ، بنگلرانی شامل ہیں ۔ حلانکہ لانگو ایک ماتحت نسل سمجھی جاتی ہے ۔ ان کا سردار دیگر ساروانی سرداروں کے ہم پلہ نہیں ہے ۔ ان کا بڑا پیشہ زراعت ہے ۔ پرانی رسم کے مطابق قبیلہ کو خان کی زمینیں کاشت کرنی پرتی ہیں ۔
قلات میں براہوئی انہیں ایک گھٹیا نسل سمجھ کر حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں لیکن نوشکی میں ایسا نہیں ہے جہاں وہ کبھی کبھار دیگر قبائل سے رشتہ ناطہ کرتے ہیں ۔
لسبیلہ میں لنگاہ تھوڑی تعداد میں مختلف قبائل میں ملتے ہیں اور شادی ، مرگ اور خطنہ پر عطیات پر گزارہ کرتے ہیں ۔ وہ یہاں زیادہ تر گھریلو ملازم ہیں ۔
جد گال
مکران کی قدیم آبادی کے بارے میں آرین لکھتا ہے کہ اندورنی آبادی اورطائی اور جدروشیہ یا جدرسیہ یا گدروشیہ کی ہے ۔ جب کہ مکران گزیٹیر اور اسمتھ نے گدرشیہ کی شناخت گدرو سے کرتے ہیں ۔ جس میں سے کچھ لس بیلہ میں رہتے ہیں اور ریاست کی جدگالی آبادی کا حصہ ہیں ۔
لس بیلہ گزیٹیر میں گدرا کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ غلاموں کی اولاد ہیں ۔ ان کے نقوش حبشی النسل ہیں اور ماضی میں انہیں کھوجے در آمد کیا کرتے تھے ۔ اس سے یہ نتیجہ بخوبی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ گدرا یونانیوں کے گد روشیہ یا جدروشیہ نہیں ہوسکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یونانیوں کے بیانات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کثیر تعداد میں اور اور وسیع علاقہ میں آباد تھے ۔ کیوں کہ یونانیوں کے بیان کے مطابق نے لس بیلہ سے مکران تک ان کی آبادی کا ذکر کیا ہے ۔ اس لیے یہاں سوال اٹھتا ہے کہ یہ قبیلہ کہاں گیا ؟ اگر موجود ہے تو اس کی موجودہ شکل کیا ہے ؟ اس جواب کے لیے اس پر ایک تفصیلی بحث کی ضرورت ہے ۔
بلوچستان گزٹیر کے مطابق جاٹ یہاں کے قدیم باشندے ہیں اور یہ اب جدگال کی شکل میں موجود ہیں ، نیز اس کے علاوہ جٹ ، جت ، جتک ، جتوئی کے علاہ اور دوسری شکلوں میں بھی ملتے ہیں اور آبادی کا بڑا حصہ ان پر مشتمل ہے ۔ اس کلمہ کا ابتدائی حصہ ’جد ‘ یونانیوں کے ’جد’ کی ہم آواز ہے جو کہ جاٹ سے مشتق ہے ۔ جب کہ گال یا گل مجموعہ کے معنی دیتا ہے ، اس طرح اس کے معنی جاٹوں کا قبیلہ کہ ہیں ۔ یہاں یونانیوں نے کلمہ گال کی جگہ روسئی یا روشیہ استعمال کیا ہے اور یہ کلمہ بھی نسبتی ہے اور یونانیوں نے یہ نسبتی کلمہ بہت سی قوموں کے لیے استعمال کیا ہے اور اس کے معنی جد گالوں کے قبیلہ کہ ہیں ۔
جاٹ یا جٹ سیتھی النسل قبائل ہیں اور یہ عادات و اطووار میں قدیم سیتھیوں سے بہت قریب ہیں ۔ یہ سیتھوں کی طرح وسیع المشروب ہیں اور اس طرح کی دوسری خصوصیات ان میں اب بھی موجود ہیں ۔ اس لیے مورخین نے سیتھیوں کو جاٹ کے اخلاف بتایا ہے ۔
دارا نے سیتھی قبائل کو ان کی شورش پسندی کی بناء پر انہیں اپنی سلطنت کی مشرقی حصہ یعنی بلوچستان میں جلاالوطن کردیا تھا ۔ مگر یونانیوں نے سیتھیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے ۔ اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ سکندر کے زمانے تک سیتھی قبائل اپنی اصلیت بھلا کر یہاں کے ماحول سے پوری طرح ہم آہنگ ہو گئے تھے ۔ اس لیے یونانی مورخین نے ان قبائل کا ذکر جدروشیہ یا جدرسیہ یا گدروشیہ کے نام سے کیا ہے ۔
تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں