86

بنوچی

نعمت اللہ ہروی اس قبیلے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ شیر محمد گنڈاپور مے لکھا ہے کہ بنو زوجہ شیتک کی اولاد بنوچی ہے ۔ شیک نے بانو سے نکاح کیا تھا اور اس کے دو فرزند کیوی اور سورانی اپنے نام کی نسبت بنوچی کہلائے اور بنو زئی گروہ کے آباد ہونے کی وجہ سے اس ملک کا نام بنو پڑھ گیا ۔ 

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ گروہ ہند بن حام کی نسل سے ہے اور بانہ ، سیتو ، گہیو اور شہیو چار بھائی ہندو نسب تھے اور بانہ کی اولاد شہرت حاصل کرکے بانوچی مشہور ہوگئی اور یہ بانو معہ اپنی اولاد کے ملک بنو کی مالک تھی ۔ آخر اس نے خود کو افغانوں کے گروہ میں سے ظاہر کرنا شروع کردیا اور ان کی اولاد کڑلان کی اولاد میں شمار ہونے لگی ۔ مگر یہ قول صحیح نہیں ہے بیان کرتے ہیں کہ اس ملک کو ڑاڈ ہنڈ یعنی نشیب ۔ بنوں کے بڑھوں کے قول کے مطابق دولت اسلام کے ظہور سے پہلے کوئی راجہ سترام ہندو نسب اور ہندو مذہب ملک بنوں کا مالک تھا اور اس کی لڑکی کا نام بانو تھا ۔ سترام نے اپنی لڑکی بانو کو اپنے ملازم دھنی سے بیاہ دیا تھا ۔ اس بیچاری نے اس توہین کے سبب یہ بدعا کی اور یہ قبول ہوگئی ۔ قہر الہی شدید بارش اور ژالہ کی صورت میں ظاہر ہوا اور یہ ملک اور اس کے رہنے والے ہلاک ہوگئے ۔ اس سبب یہ ملک اس لڑکی کے نام سے منسوب ہو گیا ۔ واللہ علم بالصواب ۔

یہ سب تاویلات بعد کی ہیں اور بنو صوبہ پختون خواہ میں واقعہ ہے پہلے اسے بنیان کہلاتا تھا ۔ اس شہر کی ایک مشہور شخصیت ملک القضاۃ صدر جہاں فیض اللہ بن زین العابدین بن حسان بنیانی ہیں ۔ جو کہ محمود شاہ بیگڑہ بادشاہ گجرات کے دربار میں تھے ۔ ملا زرمی نے اسے بنہ اور فخر مدبر مبارک شاہ نے اسے بنو لکھا ہے ۔

کلمہ بنوں بن سے بنا ہے جو کہ ہند آریائی کلمہ ہے جس کے معنی جنگل کے ہیں ۔ بنیان اور بنوں دونوں کے کے معنی ایک ہی ہیں ، یعنی جنگل کے متعلق ۔ غالباً یہاں قدیم زمانے میں جنگل تھا جس کی نسبت یہ علاقہ بنوں کہلایا ۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ یہاں کے باشندے جو پہلے ہندو تھے اور بعد میں قبول اسلام کے بعد اس علاقے کی نسبت سے بنوچی کہلائے اور رفتہ رفتہ ان کا شمار کڑرانی گروہ میں ہونے لگا ۔     

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں