55

بنو سامہ

ملتان پر عربوں نے پہلی صدی ہجری میں قبضہ کرلیا تھا اور یہ اس وقت تک خلافت کے زیر اثر رہا جب تک مرکزی حکومت مظبوط رہی ۔ مگر خلافت عباسیہ کی کمزوری سے دور دراز کے علاقے خود مختیار ہوگئے ، وہاں ملتان بھی خود مختیار ہوگیا ۔ یہ اگرچہ ابتدا میں منصورہ کے ماتحت رہا ، مگر تیسری صدی ہجری کے وسط میں ملتان سندھ سے علحیدہ ہو کر ایک خود مختیار ریاست بن گیا ۔ 
مسعودی کا بیان ہے وہ ۳۰۳ھ میں ملتان پہنچا تو ملتان کا حکمران سامہ بن لوی کی نسل سے تھا ۔ اس نے قریب وجوار کے بہت سے علاقے فتح کرلئے تھے ۔ جس میں سندھ و قنوج کے علاقہ بھی تھے ۔ میں نے ملتان اور ہا ابو الہباب المتہ بن اسد قریشی کی مملکت تیسری صدی ہجری کے بعد دیکھی تھی ۔ 
بنو سامہ عمان میں حکمران نے ابو طاہر قرمطی نے عمان سے ان کی حکومت ۳۱۷ھ میں ختم کردی تھی ۔ مگر معلوم یہ ہوتا ہے کہ یہ خاندان اس سے پہلے ملتان میں اپنی حکومت قائم کرچکا تھا ۔ جیسا کہ ابن رستہ ۲۹۰ھ میں ذکر کرتا ہے کہ ملتان میں ایک قوم رہتی ہے ۔ جو کہ سامہ بن لوی کے خاندان سے ہے اور لوگ انہیں بنومنبہ بھی کہتے ہیں اور وہی یہاں کے حکمران ہیں اور امیر المومنین کا خطبہ پڑھتے ہیں ۔ مسعودی جو ابن رستہ کے دس سال کے بعد ۳۰۰ھ میں ملتان آیا تھا ۔ وہ لکھتا ہے کہ یہاں سامہ بن لوی کی حکومت تھی ۔ اضطخری جو مسعودی کے چالیس سال کے بعد ۳۴۰ھ میں ملتان میں آیا ۔ وہ لکھتا ے کہ یہاں کا بادشاہ نسلاً قریشی ہے اور سامہ بن لوی کی نسل سے ہے ۔ وہ منصورہ یا کسی اور امیر کے تابع نہیں ہے اور صرف خلیفہ کے نام کا خطبہ پڑھتا ہے ۔ اصطخری کے چھالیس سال کے بعد ۳۶۷ھ میں ابن حوقل ملتان آتا ہے ۔ وہ بھی ایسا کوئی تذکرہ نہیں کیاہے کہ جس سے معلوم ہو کہ یہاں اسمعلیوں کی حکومت ہے ۔ یہاں تک کہ مورخوں اور جغرافیہ دانوں کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ ملتان میں سامہ بن لوی کی حکومت ہے جو قریشی النسل اور سنی ہیں اور عباسی خلفاء کا خطبہ پڑھتے تھے ۔
ابن حوقل کے آٹھ سال کے بعد ۳۷۵ھ میں بشاری المقدسی ملتان آتا ہے ۔ اس کا بیان ہے کہ ملتان کے لوگ شیعہ ہیں اور اذان میں ’حئی علی خیر العمل‘ کہتے ہیں ۔ ملتان میں اسمعیلی حکومت ۳۶۷ ھ تا ۳۷۵ ھ کے درمیان قائم ہوئی تھی ۔ اب یہ امر حل طلب ہے کہ یہ وہی بنو سامہ کا خاندان تھا اور سنی سے اسمعیلی ہوگئے تھے یا کوئی اور خاندان تھا ۔ پہلے اسمعیلی حکمران کا نام جلم بن شبان بتایا جاتا ہے یہ کون تھا ؟ اور اس جواب میں ملتان کے اسمعیلی میں دوں گا ۔

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں