66

بنگیش

نعمت اللہ ہروی نے اس قبیلے کا ذکر نہیں کیا ہے ۔ شیر محمد گنڈا پور کا کہنا ہے کہ روایات کے مطابق انہیں سنبانی (غور النسل) میں شمار کیا جاتا ہے اور ان کا دعویٰ ہے کہ یہ حضرت خالدؓ بن ولید کے لڑکے عبداللہ کی اولاد میں ہیں اور عبداللہ کی دسویں پشت پر اسمعیل المعروف بنگیش تھا جس کی یہ اولاد ہیں ۔ مفتی ولی اللہ فرح آبادی کا کہنا ہے کہ کہا جاتا ہے کہ کڑرانی سیّد زادہ تھا اس لئے بنگیش خود کو سیّد میں شمار کرتے ہیں ۔ حضرت خالدؓ بن ولید کی روایات میں کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ کیوں کہ اسماء ورجال ، شرح ستہ صحابہ کی کتابوں میں اس کا کوئی ذکر نہیں ہے ۔ بنگیش کہلانے کی وجہ یہ ہے کہ بنگیش ایک پہاڑ کا نام ہے ۔ جہاں سروانی رہائش پزیر تھے اور اسی نسبت سے بنگیش کہلاتے تھے ۔

اس کلمہ کا پہلا جزو بنگ افغانوں کے شجرہ نسب میں بنگاہ ، بنگی اور بنگ کی شکل میں ملتا ہے ۔ جب کہ بنگلزئی بلوچ اور بروہیوں کا بنگلانی قبیلہ ہے ۔ اس کے علاوہ بھی بلوچوں اور برہویوںمیں مختلف شاخوں کے نام میں یہ کلمہ آیا ہے ۔ تاریخ بھٹی میں مترراج کھوکر کے رئیس پیلی بنگا کا ذکر ملتا ہے ۔ جیمز ٹاد کا کہنا ہے یہ علاقہ گھکر کے علاقہ میں تھا ۔ راجپوتانہ میں رانی بنگ کالی بنگ کے علاقوں کے نام ملتے ہیں ۔ بنگال کا نام بھی بنگال ایک غیر آریائی قوم بنگ کے نام پر پڑا ہے ۔ یہ کلمہ جو برصغیر میں عام ملتا ہے اس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے اور اس کو اپنانے والی آریائی اور غیر آریائی قومیں ہیں ۔    

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں