80

بنیا

آزادی سے پہلے پنجاب میں کھتریوں کا کردار بہت اہم تھا اور کسی گاؤں کا کام ان کے بغیر ہو نہیں سکتا ہے ۔ ایسی اہمیت ہندوستان میں بنیا کو حاصل تھی ۔ یہ کھتریوں کے برعکس متفرق کام اور نوکری وغیرہ کم کرتے ہیں اور دولت مند ہونے کی وجہ سے معزز سمجھے جاتے ہیں ۔ یہ مذہب کے مطابق ملایمت و کم مشقت دلاوری و شجاعت سے دور رہتے ہیں ۔ قد ان کے میانہ ، شکل فربہ اور رنگ گورا ۔ انہوں نے انگریزی دور میں بہت فائدہ اٹھایا ۔ بہت سے زمیندار جو ان کے ظلم سے اپنی زمین سے بے دخل ہوگئے تھے ۔ انگریزی سرکار کو یہ طعنہ دیتے ہیں کہ بنیا کا راج ہے ۔

ماڑواری بنیے یعنی جو مارواڑ کے علاقہ سے آئے ہیں زیادہ مشہور ہیں ۔ یہ انگیزی دور میں لال پگڑی پہنتے اور کلکتہ میں افیوم کا بیوپار اور بمبئی میں سرکاری کاغذات کا لین دین کرنے والے ماڑواری بنیے تھے ۔ ہندوستان میں بنیوں کی ایک مشہور گوت اگروال ہے ۔ وہ بنیے جو جین مت پر ہیں ان کو سراوگ کہتے ہیں اور یہ پہلے نہایت مشہور تھے ۔ بلکہ وسطہ ہند جہاں اکثر جنگلی رہتے ہیں وہاں ایک فرقہ بورا آباد تھا ۔ جنوب میں ایک بنیوں کی گوت جسوال ہے اور انہوں نے دہرم شاستر کو چھوڑ کر اب بیواؤں کی شادی کرنے لگے ہیں ۔

بنیوں نے بنگال کے علاقہ کو اپنا وطن کبھی نہیں بنایا ۔ میرے خیال میں اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بنگال باشندے تجارت اور دیگر کاموں میں بہ نسبت ہند کے دوسرے باشندوں نسبت کم کوشش کرتے ہیں ۔ البتہ وہ امور جو دیگر جگہوں پر بنیوں کے ہاتھ ہے وہ بنگال کے اضلاع میں برہمنوں ، سناروں ، ساہو یعنی مے فروشوں ، مودی یعنی گندم فروشوں وغیرہ کے ہاتھ میں ہے ۔ گجرات کے علاقہ  میں بنیا کا تلفظ وانیا ہے ۔

بمبئی کے بانیا نہایت محنتی و منچلے ہیں ۔ بلکہ عرب و فارس کے ساحل تک ان کا کاروبار پھیلا ہوا تھا ۔ مرہٹوں کے علاقہ میں بڑے بڑے مہاجن مارواڑی بنیے تھے اور پٹواری وغیرہ اس علاقہ میں وانیا ہیں ۔ جنوبی حصہ یا ساحلی علاقہ میں تجارت ان کے ہی ہاتھ میں تھی ۔

شاید ہی کوئی اور ذات بنیوں کی طرح مذہب پابندی کرتی ہو ۔ اگرچہ کچھ چند بنیے جین مت ہیں اور یہ کسی کی جان ضائع کرنے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ آج کل یہ گو لنگ پرست ہیں ۔ لیکن پہلے اس علاقہ میں جین مت مروج تھا ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں