79

بون مت

تبتیوں کا قدیم مذہب روحیت پرستی یعنی مٖظاہر قدرت کی پوجا تھا وہ بے شمار دیوتاؤں اور ان کی اولادوں کو پوجتے ہیں ۔ وہ اپنے تحفظ کے لیے دریاؤں ، پہاڑوں ، چشموں اور ہواؤں کی روحوں کی عبادت کرتے تھے اور ان کو خوش کرنے کے لیے ان پر جانور بھینٹ چڑھاتے تھے ۔ یہ مذہب جو کہ بون مذہب کہلاتا ہے اور کچھ تبدیلوں کے ساتھ حکومتی مذہب بھی رہا ہے ۔ اس مذہب کے پرہتوں اور کاہنوں کا تبت میں بہت اثر و رسوخ رہا ہے ۔

بون یا پون کے معنی پاک ہیں ۔ ان کے اکثر عقائد اکثر ٹاؤازم Telishism سے ملتے جلتے ہیں ۔ ان میں بد شکل بتوں کی پوجا شامل ہے ۔ اس کے پجاری انسانی و جانوروں کی ہڈیوں کے قرنا استعمال میں لاتے تھے ۔ اس میں انسانی قربانی ، بے رحمیانہ ، غیر مہذبانہ ، بدوضعی ، نفس پرستی اور تمسخرانہ حرکتیںشامل ہیں ۔ یہ مذہب درست معنوں میں شیطان پرستی ہے ۔ تبت کے قدیم باشندے تہذیب و شائستگی سے دور اور مردم خور و غارت گر مشہور تھے ۔

بون پا جو بدھوں کے بھی بیشتر کے ہیں اور پورے تبت میں پھیلے ہوئے ہیں ۔ مغربی ممالک میں یہ وویاس کہلاتے اور لوگ ان سے بہت ڈرتے تھے ۔ یہ مان سروور اور کیلاش کے پرکرما (طواف) الٹی اور اوم مانی پدم ہنگ الٹا چیپتے ہیں ۔ مغربی تبت میں یہ ساحر مشہور تھے اور بہت سے لوگوں کا عقیدہ تھا کہ ان کو بہت سی چیزوں پر قدرت حاصل تھی ، وہ بیٹھے غائب ہوجاتے تھے اور ہوا میں اڑتے تھے اوریہاں آکر انسانی قربانیاں اور مردم خواری جو بون مت میں رائج تھیں ۔

تہذیب و تدوین
عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں