63

بہاء الدین

دروزی مذہب کا ایک بڑا رہنما 
دروزی مذہب کی اشاعت حمزہ کے ایک شاگرد نے اس کی مسند سنبھال لی ۔ یہ شخص اصل کے اعتبار سے سریانی مسیحی تھا اور اس کا نام امقننی بہاء الدین تھا ۔ (وفات 1044ء) کے بعد کچھ مدت تک رپوش رہا ۔ لیکن یہ معلوم نہ ہوسکا کہ اس نے یہ وقت مصر میں گزارا یا شام تک ۔ اس نے تمام پیرووں یا متوقع پیرووں کو خطوط بھیجے ، جن کا دائرہ بزنطین سے ہندوستان تک پھیلا ہوا تھا ۔ دروزی اب بھی اس کے خطوط بڑے شوق سے پڑھتے ہیں ۔ ان خطوط میں ایک کا نام القسطینطنیہ تھا جو شہنشاہ کانسٹائن (1025ء تا 1028ء) کے نام بھیجا گیا تھا ۔ ایک کا نام المسیحیہ ہے جس میں مسیحوں سے خطاب کیا گیا ہے ۔ دروزیوں کی چار مقدس کتابیں اس سے منسوب ہیں اور دینی مصنفوں میں وہ سب سے بڑا مانا جاتا تھا ۔ اس کے آخری شارحین میں عبداللہ التنوخی تھا ۔ وفات (1480ء) یہ السید کہلاتا تھا اور اس کی قبر عابیہ (لبنان) میں ہے ۔ وہاں ہر سال ہزاروں دروزی تحفے اور نذریں لے کر جاتے ہیں ۔ 
بہاءالدین نے زندگی کے آخری دور میں نئی پالیسی کو جاری کی ۔ اس نے کہا کہ الحاکم کی غیبت میں اس کے مذہب کی کوئی چیز ظاہر نہ کی جائے اور نہ اس پر عمل ہو ۔ یہ پالیسی بلاشبہ حفاظت کا نتیجہ تھی اور جو جداگانہ طبقہ سنیوں ، شیعوں اور نصیریوں جیسی حریف جماعتوں میں رہتا ہے ۔ اس لیے حفاظت کا کوئی اور ذریعہ بھی نہ تھا ۔ بہاء الدین کا کہنا تھا کہ نئے مذہب کے لیے جو انعامات ہیں دنیا اس کی اہل ثابت نہیں ہوئی ۔ لہذا دروازہ بند کردیا گیا اور کسی کو داخل ہونے یا باہر نکلنے کی اجازت نہیں ۔ مقدس کتابیں مخطوطوں کی شکل میں موجود تھیں ۔ عام دروزیوں کو بھی ان کو پڑھنے کی اجازت نہ تھی ۔

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں