83

بینک

ملکی معیشت میں ترقی زر مالیات اور قیمتوں کا تعلق بنکاری کے نظام سے ہوتا ہے ۔ کیوں کہ صنعتی و زرعی ترقی اور سرمایا کاری کے لیے سرمایا کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کا انحصار بینکوں سے آسان شرائط پر سرمایا کی دستیابی پر ہوتا ہے ۔ اس کے لیے ملک میں بینکاری کا نظام اور مضبوط مالیاتی اداروں کا کافی تعداد میں ہونا ضروری ہے ۔ جب صورت حال اس کے برعکس ہوجاتی ہے تو معاشی ترقی کا خواب نامکمل رہتا ہے اور ملک قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے ۔ چنانچہ مرکزی بینک عام بینکوں کی مدد سے پیدائش زر کرتا رہتا ہے ، تاکہ ملک میں اشیاء کی پیداوار اور صنعت و تجارت میں ترقی و روزگار میں وسعت اور قیمتوں میں استحکام کے لیے بچت و سرمایا کاری کے لیے توازن قائم رکھے ۔ 
بالااذکر ہوچکا ہے کہ زر کی گرتی قدر کی وجہ سے لوگ مجبور ہیں کہ اپنی بچتیں کسی کاروبار یا صنعت میں لگائیں یا مختلف اشیا کی خریداری کریں یا بینک میں جمع کرائیں گے ۔ لیکن بینک ان بچتوں کے لیے پرکشش اسکیمیں پیش کرے تو لوگ اپنی بچتیں ان اشیاء کی خریداری میں لگا دیتے ہیں جو کہ غیر مالیاتی بچتیں کہلاتی ہیں ۔ مثلأٔ زیور یا جائیداد کی خریداری ۔ جو کہ معاشی ترقی میں کسی طرح کا حصہ نہیں لیتی ہیں ، اس وجہ سے بچت کی اسکیموں کو پرکشش بنایا جاتا ہے ۔ اس لیے ملکی معیشت میں شرح سود نہایت اہم ہوتی ہے ۔ یہ شرح سود بچتوں اور سرمایا کاری کے توازن کے لیے تجویز کی جاتی ہے ، تاکہ لوگ اپنی بچتیں بینک میں جمع کروائیں اور اس سے سرمایا کاری کے وسائل مہیا ہوسکیں ۔ اس سے نہ صرف افراط زر میں تخفیف ہوتی ہے ، بلکہ روزگار میں ترقی اور خود انحصاری میں مدد ملتی ہے اور ادائیگیوں کا توازن درست ہوتا ہے ۔   
ترقی یافتہ ملکوں بچتوں پر شرح سود کم ہوتی ہے ۔ کیوں افراط زر وہاں نہایت کم ہوتا ہے اور بچت کی عادت بھی ہوتی ہے ، جس کی وجہ سے وافر مقدار میں سرمایا میسر ہوجاتا ہے ۔ یہ مالک ترقی کی انتہائی بلندیوں پر پہنچ چکے ہوتے ہیں اس لیے نئی سرمایا کاری محدود بھی ہوتی ہے ۔ جبکہ غریب اور ترقی پذیر ملکوں میں اس کے برعکس ہوتا ہے ۔ 
جب کوئی ملک روزگار Emplyment میں ترقی کے لیے خسارے کی سرمایا کاری کرتا ہے تو بازار میں زر کی رسد بڑھا دیتا ہے ، اس کی وجہ سے افراط زر پیدا ہوجاتا ہے ۔ حکومت افراط زر کو کنٹرول کرنے کیلیے جو مالیاتی اقدامات کرتی ہے ان میں سے ایک شرح سود میں اضافہ بھی شامل ہے ، تاکہ لوگ زیادہ سے زیادہ اپنی بچتیںبینکوں میں جمع کر وائیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے بلند شرح سود ہی روپیہ جمع کرانے والوں کے لیے کشش کا باعث ہوتی ہے ۔
پاکستان میں تجارتی بینک Camarcil Bank اپنی جمع شدہ رقوم میں لازمی 30 فیصد جس پر شرح سود مارکیٹ سے نصف ہوتی ہے حکومت کو قرض دیتا ہے ۔ جب کہ پانچ فیصد روز مرہ کے لین دین کے لیے استعمال کرتا ہے اور باقی رقوم قرضوں اور سرمایا کاری کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ جسے وہ حکومتی پالیسی کے مطابق صنعتی یونٹوں ،زرعی اور نجی شعبے میں سرمایا کاری کے لیے استعمال کرتا ہے ، جس پر شرائط کے مطابق سود لیا جاتا ہے ۔ 
تجارتی بینک نہ Camarcil Bank صرف عام گاہکوں کے لین دین کا حساب رکھتے ہیں بلکہ دولت رکھنے کے لیے ایک محفوظ مقام ہوتے ہیں ۔ اس طرح ملک میں سرمایا کاری کے لیے فروغ اور انحطاط کا باعث بھی ہوتے ہیں ۔ یہ نہ صرف تجارتی میدان میں اہم خدمات انجام دیتے ہیں ، بلکہ روپیہ کو گردش میں رکھ کر زندگی کے بہت شعبوں کو رواں دواں رکھتے ہیں ۔ 

تہذیب و تدوین
عبدلمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں