63

بین الاقوامی توازن ادائیگی

انیسویں صدی سے پہلے دنیا کے مختلف ملکوں کی کرنسی کی قدروں میں تبدیلوں کی وجہ سے کسی کرنسی پر اعتماد نہیں کیا جاتا تھا ۔ ملکی کرنسی صرف اندرون ملک استعمال ہوتی تھی اور بین الا قوامی لین دین کے لیے سونے پر اعتماد کیا جاتا تھا ۔ کیوں کے دنیا نے سونے کو بین الا قوامی کرنسی تسلیم کیا جاتا تھا ۔ اس لیے بین الا قوامی لین دین میں صرف سونے کو قبول کیا جاتا تھا ۔ 
سونے کے بین الا قوامی لین دین میں استعمال ہونے کی وجہ سے دور جدید کے شروع میں ایک ملک کے سکے دوسرے ملک کے لئے بیکار تھے ۔ کیوں کے وہ دوسرے ملکوں میں استعمال نہیں ہوتے تھے ۔ اس لئے ماہرین معیشت نے کوئی ایسا طریقہ کار وضع کرنے کی کوشش کی کہ اپنا سونا باہر نہ بھیجیں بلکہ اس کے بدلے سامان تجارت بھیجیں ۔ وہ سونا اور چاندی چوں کے دنیا میں محدود تھے اس لیے وہ اس کے ذخائر محفوظ رکھنے کے خواہش مند تھے ۔ اس لئے وہ ان کی بیرونی ممالک منتقلی سے بچانے کے لئے غور و فکر کیا جانے لگا ۔
ہیوم Dived Hume نے اٹھارویں صدی میں یہ نظریہ پیش کیا کہ اگر کوئی ادائیگی زیادتی میں ہو تو اس کو دوسرے ملکوں میں منتقل کر دینا چاہیے ۔ یہ عدم پذیر کی کیفیت حرکت پذیر ملکوں میں بہنے کی صلاحیت کو (سونا چاندی ) روک لیتی ہے ۔ 
ہیوم Dived Humeنے محسوس کیا کہ بچت اور محفوظ زر ایک جیسے ہوں تو اس بہاؤکے سبب قیمتیں بلند ہوجاتی ہیں ۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ اگر قیمتیں بلند ہوں تو بین الالقوامی مارکیٹ میں ہماری تجارت ذوال پزیر ہونے لگتی ہے ۔ اس کا کہنا ہے کہ اونچی قیمتیں ملکی اشیاء کو بیرونی مارکیٹ میں کم کردیتی ہیں ۔ اس طرح ہمارے گاہگ زیادہ تر ان اشیاء کو استعمال میں فوقیت دیتے ہیں جو قیمتوں میں زیادہ نہیں ہوتی ہیں ۔ 
ہیوم Dived Hume اس نتیجے پر پہنچا کہ کم قیمتیں تجارت کو ترقی دیتی ہیں اور اگر برآمدپر نظر رکھتے ہوئے ادائیگیاں بچت سے کی جائیں تو نہ ہمیں تجارت میں نقصان ہوگا اور نہ ہی ہماری بچتوںمیں تنزلی آئے گی ۔ 
ہیوم Dived Humeنے دیکھا کہ وہ ممالک جو شروع میں محفوظ زر کو کاروبار میں لگا دیتے ہیں اور اپنی قیمتوں کو کم کرکے بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنا مقام بنالیتے ہیں وہ غلط نہیں کرتے ہیں ۔ کیوں کہ ان کی بین الا قوامی مارکیٹ برابر بڑھتی رہتی ہے اور یہاں تک کہ ادائیگیوں کا توازن ان کے حق میں ہوجاتا ہے ۔ اس کا کہنا ہے بین الاقوامی مارکیٹ میں مقام بنانے کے لیے یہی طریقہ کار ہونا چاہیے ۔
ایک خاص موقع پر جہاں قانون رسد و طلب نے اپنی اہمیت کو واضع کیاہے ، بین الاقوامی تجارت کے لئے غیر ملکی زر مبادلہ کی کرنسی کی قیمت کا نظریہ ہے ۔ جب بین التجارتی ملک کی کرنسی کا معیار سونا تھا ، تب کسی ملک کی کرنسی کی شرح مبادلہ دوسرے ملک کی کرنسی یا سکے کی مقابلے میں وہ نسبت تھی جو اس ملک میں سونے کی مقدار کو دوسرے ملک کے سکہ میں سونے کی مقدار سے (سونے کو ایک ملک سے دوسرے ملک لے جانے کے اخراجات کو مہیا کرکے) ۔ ریکاڈو Ricardo -1772) 1823) نے بین الاقوامی تجارت کا سبب ایک چیز کی مختلف ممالک میں مختلف قیمتیں ہونا بتایا اور قیمت ہاء تقابل Compartive Costs کا نظریہ قائم کیا اور بتایا کہ بین التجارتی ممالک کے درمیان شرح زرمبادلہ کے تعین کا بھی یہی نظریہ ہے ۔ کیوں کہ ریکاڈو Ricardo محنت کو ہر چیز کا مخزن سمجھتا تھا ۔ اس لئے اس کا یہ نظریہ ’’ نظریہ محنت ‘‘ Labour Cost Theory کے نام سے بھی مشہور ہے ۔
پہلی جنگ عظیم کے بعد معاشین کو معلوم ہوا کہ ریکاڈو Ricardo کا نظریہ بہت سے حقائق کی وضاحت نہیں کرسکتا ہے اس لئے انہوں نے اسے نظر اندازکر دیا گیا ۔ سوئیڈن کے اوہلن Ohlin اور امریکہ کے ٹاسگ Taussig اور انجل Angell نے اپنی اپنی تصانیف میں جو ۱۹۳۰؁ء کے لگ بھگ شائع ہوئیں ریکاڈو   Ricardoکے نظریہ کی مخالفت کی اور انہوں نے بین التجارتی ممالک کی کرنسی کی شرح مبادلہ مقرر ہونے کی یکسانی قوت خرید Purchasing Power Parity Theory بیان کی ۔ یہ کہا جاتا ہے کہ دو ملکوں کے سکوںکا تبادلہ اس نرخ پر ہونا چاہیے جس نرخ پر ایک ملک کے سکے کو دوسرے ملک کے سکے میں تبدیل کیا جائے تو وہ اس ملک میں کہ جس کے سکہ میں پہلے ملک کا سکہ تبدیل کیا گیا ہے اتنا ہی مال خرید سکے جتنا کہ یہ سکہ اپنے ملک میں خریدتا ہے ۔ ان معاشین نے یہ دلیل پیش کی کہ صرف محنت ہی عامل پیدائش نہیں ہے اور مختلف ممالک اس وجہ سے مختلف چیزیں درآمد برآمد کرتے ہیں کہ ایک قسم کی ملکی مصنوعات دیگر ممالک کی ان مصنوعات کے مقابلے میں سستی یا مہنگی ہوتی ہیں ۔ انہوں نے خیال ظاہر کیا کہ کسی ملک کے کارخانہ دار کے لئے اشیاء کی تیاری کے ذیل میں ان کا سستا ہونا خاص چیز نہیں ہے ۔ بلکہ ایک ملک میں اس تیار شدہ مال کی مانگ ہونا بھی ضروری ہے ۔
ایک اطالوی معاشین پرٹیو Pareto نے ۱۸۹۶؁ء میں اپنی کتابCourse d, Ecnomic Politique میں بین الاقومی قیمتوںمیں توازن کا نظریہ پیش کیا تھا ۔ اسی زمانے میں ایک انگریز معاشین ایجورتھ Edgegeworth نے اپنے ایک مضمون ’’بین الاقومی قیمتوں کا خالص نظریہ‘‘ میں یہ خیال ظاہر کیا کہ جیون Jevon کے نظریہ مبادلہ Theory of Exchange اور مارشل کے پیش کردہ نظریہ ’’رسد و طلب کی طاقتوں میں توازن‘‘ سے بین الاقوامی تجارت کے بنیادی اصول وضع کئے جاسکتے ہیں ۔ جو توازن کا نظریہ کہ بہت سے معاشیاتی مسائل کی تہہ میں موجود ہے ۔ توازن رسد و طلب کے اس نظریہ نے برطانوی اور امریکی معاشین کے نظریات برائے بین الاقوامی تجارت میں رسوخ حاصل کرلیا ۔ حتیٰ ۱۹۳۳؁ء میں برطانیہ کی رائل اکنامک سوسائٹی Royal Ecnomice Sosity  کے اجلاس کے میں ایڈون کینن Edwin Cannan نے اپنے صدارتی خطبہ میں کہا کہ ریکارڈو Ricardo کے وقت سے اس وقت سے اس وقت تک خاص غلطی یہ ہوئی ہے کہ وہ بین الاقوامی تجارت کے لئے جو نظریہ قائم کرتے ہیں وہ اس نظریہ سے بہت مختلف ہوتا ہے جو کوئی ملک اپنی اندرونی تجارت کے لئے اختیار کرتا ہے ۔ اس نے اس کے بعد یہ مان لیا گیا کہ شرح زرمبادلہ کا دارو مدار کسی ملک کی کرنسی کی طلب و رسد یا اس کے توازن ادائیگی Balance of Payments پر ہوتا ہے ۔ کسی ملک کی اندرونی تجارت کا نظریہ جو جیون Jevon اور مارشل نے پیش کیا تھا کہ اصول رسد و طلب یا مسابقت Competition ہی اشیاء کی قیمت کا تعین کرتا ہے ۔ ۱۹۳۳؁ء مختلف ملکوں کی کرنسیوں کے شرح مبادلہ کے لئے بھی یہی نظریہ قبول کرلیا گیا ۔ دنیا کے اقتصادی نظام میں اصول و رسد و طلب کی ایک اور بڑی فتح تھی ۔
کسی ملک کی درآمد اور برآمد اس وقت برابر ہو گی جب اس کی ملکی کرنسی بین الاقونی بازار میں اپنی قیمت آزادانہ طور پر قائم کرے ۔ کیوں کہ بیشی قیمت تجارت کو نقصان پہنچاتی ہے اور سکہ کی قیمت اصول رسد و طلب اور توازن ادائیگی ayments Balance of کے عمل سے مقرر ہونے دی جائے ۔ غیر ملکی زر ہائے مبادلہ یا غیر ملکی کرنسیوں کے روزانہ نرخ عام معاشی قوتوں کے قانون توازن کے مطابق تعین ہوتے ہیں ۔
اگر کسی ملک کو بین الاقومی بازار زر میں اپنے سکے کی اصلی قیمت مقرر کرانا منظور ہے تو اسے شرح زرمبادلہ کے زور دار ہچکولوں کو روکنے کی تدابیر اختیار کرنی ہوں گی ۔ یہ چیز حسابات ہمواری Exchange Equalistisation Account ؑتبادلہ زر کے طرز پر حساب ہمواری کے اجزاء سے حاصل ہوسکتی ہے ۔ جب کبھی غیر ملکی زرمبادلہ کا نرخ چڑھ جاتا ہے تو حسابات ہمواری تبادلہ زر بازار زر میں کود پڑتے ہیں اور مناسب حد تک اس کے نرخ کو گرادیتے ہیں  ۔ اقتصادی قوتیں خود بخود غیر ملکی زر مبادلہ کی قیمتیں حدود میں رکھتی ہیں ۔ کیوںکے غیر ملکی کرنسی کی مانگ بڑھتی ہے تو اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے اور اس کو خود فائدہ نہیں رہتا ہے ۔ تبادلہ زر اور عارضی اور فوری ضرورت کے تحت ایک چارہ کار ہیں ۔
دوسری جنگ عظیم میں محاربہ ممالک نے جنگ کی تیاری کی وجہ سے پیداشدہ توازن ادائیگی Balance of Payments کی غیر متوازنیت کے مد نظر غیر ملکی زرمبادلہ پر کنٹرول نافذ کردیا تھا اور وہ اپنے اپنے ملک کی شرح مبادلہ زر مقرر کرنے پر مجبور ہوگئے تھے اور یہ کنٹرول اس وقت تک جاری رہا جب تک ان ممالک کی تعمیر نو اور ترقی حاصل نہیں کرلی اور محاربہ ممالک کے توازن ہاء ادائیگی موافق یا متوازن Payments Balance of  نہیں ہوئے ہیں ۔ شرح مبادکہ میں استحکام پیدا کرنے اور مبادلہ زر کے کنٹرول کو ختم کرنے کی غرض سے ۱۹۴۵؁ء میں جنگ ختم ہونے کے بعد ایک بین الاقوامی ادارہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈInternational Monetary Fund کے نام سے قائم کیاگیا ۔ اس بات کااحساس ہوا کہ مختلف کرنسیوں کا آزادانہ تبادلہ ڈالر کی قلت کی وجہ سے نہیں ہوسکتا ہے اور ڈالر کی قلت اس وقت تک دور نہیں ہو سکتی ۔ تا وقتیکہ امریکہ میں محصول درآمد کی گراں شرح کو کم کیا جائے ۔ دوسرے ممالک امریکی ڈالر زیادہ مقدار میں اس وجہ سے حاصل نہیں کرسکتے ہیں کہ امریکی حکومت نے سامان درآمد پر بھاری محصول لگا رکھا تھا اور یہ ان کے مال کی برآمد میں جس سے وہ ڈالر حاصل کرنے میں بڑی رکاوٹ تھی ۔ امریکی حکومت نے اس ذیل میں ایک کمیشن مقرر کیا اور امریکی صدر آئرن ہاور کے سامنے کچھ تجاویز پیش کیں ۔ جن پر امریکی حکومت دیگر ممالک کو ڈالر حاصل کرنے میں سہولتیں مہیا کرسکے ۔ کمیشن نے مارچ ۱۹۵۴؁ء میں اپنی تجاویز پیش کیں ۔ 
محصولات درآمد و تجارت کا عام معاہدہGeneral Agreemenet on Tariffs and Trad - ( GATT ) کے معاہدہ عام کا اجلاس جینوا میں منقد ہوا تھا ۔ اس اجلاس سے دنیا کے مختلف ممالک کی کرنسی کے آزادانہ تبادلہ کو مزید تقویت پہنچی ۔ گیٹ کے صدر ولگریسس Wilgracess نے یہ خیال ظاہر کیا کہ ہم ان ممالک کی کرنسیوں کے آزاادانہ تبادلہ کو مستقبل قریب میں دیکھ لیں گے ، جو ممالک دنیا کی تجارت میں حصہ لیتے ہیں اور کرنسیوں کے آزادانہ تبادلے سے کثیر النوع تجارت اور ادائیگی زر کے راستے صاف ہوجائیں گے ۔ پھر درآمدی پابندیوں کی ضرورت نہیں رہے گی ، جو ہم لڑائی کے زمانے سے برداشت کررہے ہیں ۔ 
کینزKwynes بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی اپنی تجویز میں قرض خواہ ملک کے واجب الوصول قرض پر ایک فیصدی کا سالانہ جرمانہ لگانا چاہتا تھا ۔ کیوں کہ بین الاقوامی تجارت کے بگاڑنے میں وہ قرض خواہ ملک کو بھی اتنا ہی ذمہ دار سمجھتا تھا کہ جتنا کہ قرض لینے والے ملک کو ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قرض خواہ ملک محصول درآمد میں اضافہ کرکے مقروض ملک کا سامان تجارت روک سکتا ہے اور اگر جرمانے کی شق لگی ہو توممکن ہے اپنے محصولات درآمد میں تخفیف کردے اور اس طرح بین الاقوامی تجارت میں رخنہ نہ پڑے   ۔ 
جنگ کے بعد ڈالر کی کمی دور کرنے کی دور کرنے کے لیے 1944ء میں امریکہ کہ شہر برٹن وڈ میں ایک کانفرنس منقد کی گئی ۔ جس میں تیس ملک شریک ہوئے اور وہاں دنیا کہ مالیات کے متلق کئی اہم فیصلے کئے گئے اور     (I M F) International Montry Fundکی بنیاد رکھی گئی ۔ ابتدا میں اس کے رکن شریک ممالک تھے ۔ مگر اگلے سال اس کی رکنیت عام ملکوں کے لئے کھول دی گئی ۔ آج کل اس ممبر کے ممالک کی تعددا 200 سے زیادہ ہے ۔  .IMFکی رکنیت کے لئے ہر رکن اس کے فنڈ میں اپنا حصہ ادا کرتا ہے ۔ یہ حصہ ڈالر اور دوسری بین الاقوامی کرنسیوں کی شکل میں ہوتا ہے ۔ یہ جمع شدہ فنڈIMF  کے فنڈ میں ایک جز کے طور پر حصہ لیتا ہے ۔ جس کا رائے شماری کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ یہ آبادی معیشت اور دوسرے اہم منصوبوں میں لگایا جاتا ہے ۔
بین الاقومی مالیاتی فنڈ کاایک خاص مقصد یہ ہے کہ ممبر ملکوں کی کرنسی میں استقلال پیدا کر نے میں معاون ثابت ہو ۔IMF  زرمبادلہ کی کمی کا شکار ممالک کو رکن ممالک کا فالتو زرمبادلہ دلاتا ہے ۔ اس طرح ان کی پریشانیوں کو کم کرتا ہے ۔ مختلف ممالک جن کو ادائیگیوں کے لئے زرمبادلہ کی ضرورت ہوتی ہے وہ اپنی ادائیگیاںIMF  کی طرف کردیتے ہیں ۔ گویا وہ اپنے کوٹے کے بدلے کاغذی کرنسی دیتے ہیں ۔

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں