62

بے بسی و بے کسی

بہت سے لوگ مجھے ریٹائر پروفیسر سمجھتے ہیں ۔ مگر اس کے برعکس میں ایک معمولی کلرک تھا اور میرے والد بھی ایک معمولی نیم سرکاری ادارے میں ملازم تھے ۔ جو اپنا ذاتی مکان بھی بناسکے اور ساری زندگی کرائے کے مکانوں میں گزاری ۔ اس لیے میری رسمی تعلیم میں بہت رکاوٹیں پیش آئیں ۔ تاہم پڑھنے کا شوق بچپن سے رہا ۔ یہ شوق مجھے وراثت میں ملا ہے ۔ میرے والدین کو بھی مطالعہ کا شوق تھا اور میرے والد اچھے شاعر بھی تھے ۔ جب کہ میری والدہ کی اردو بہت اچھی بولتی تھیں اور میں بچپن میں ان کے ساتھ کبھی خریداری کے لیے جاتا تھا ۔ کئی دفعہ دوکانداروں نے میری والدہ سے کہتے تھے آپ کی اردو بہت اچھی ہے اور وہ اپنی گفتگو میں اکثر ضرب المثال بہت استعمال کرتی تھیں ۔ ہمارے گھر میں اخبار اور کئی رسالے آتے تھے ۔ لہذا مجھے مطالعہ شوق ورثہ میں ملا ۔ مجھے مطالعہ کا اس قدر شوق تھا کہ لڑکپن سے ہی جب مجھ کہیں پیدل جانا ہوتا تھا تو میں پیدل چلتے ہوئے کتاب پڑھتا تھا ۔ مگر مجھے کتابیں بہت کم دستیاب ہوتیں تھیں ۔ اس کی وجہ عدم وسائل اور عدم دستیابی دونوں تھیں ۔ لہذا جو ملتا تھا پڑھا کرتا تھا ۔ اب بھی میں باہر نکلتا تھا تو میرے ہاتھ میں کتاب ضرور ہوتی تھی اور وقت ملنے پر مطالعہ کرنے لگتا تھا ۔ اب میں باہر نکلتے وقت اپنے پاس ٹیبلٹ رکھتا ہوں ۔ جس میں سیکڑوں پی ڈی ایف کتابیں لوڈ ہوتی ہیں ۔ 
شادی ہوئی تو بیگم بھی اعلیٰ ادبی ذوق رکھتی تھی اور انہیں بھی سیکڑوں اشعار یاد تھے ۔ میں معمول کلرک تھا اس لیے ساری زندگی کرائے کے مکانوں میں رہا اور برے حالات میں بھی اس نے شکوہ نہیں کیا اور وہ ہر گام پر میری مدگار رہی ۔ اولاد صرف ایک بیٹی ہوئی اور میری ریٹائر میٹ سے کچھ عرصہ پہلے وہ کینسر میں مبتلا ہوکر اپنی اکلوتی بیٹی کی شادی کی حسرت لیے مجھے چھوڑ کر اس دنیا سے چلی گئی ۔  
مجھے کئی بیماریاں ہوئیں مگر میں نے کبھی ان پرواہ نہ کی اور اسے زندگی کا حصہ سمجھا ۔ ان میں سب سے زیادہ تکلیف دہ آر اے فیکڑ ہے ۔ جس کی وجہ سے ہاتھ پیروں میں حرکت کرنے سخت تک تکلیف ہوتی ہے ۔ جس کم کرنے کے لیے مجھے کئی پین کلر کھانی پڑتی ہیں ۔ ریٹائزمنٹ چند ماہ پہلے اٹیک ہوا اور اینجو گرافی کرانے پر پتہ چلا کہ تین وینیں بند ہیں ۔ بائی پاس کرانے کے لیے گیا تو ڈاکٹر نے میرا ایکو ٹیسٹ کروایا اور دیکھ کر آپریشن سے منع کردیا ۔ مگر میں نے کبھی بھی بیماریوں کی پرواہ نہیں کی اور اب بھی نہیں کرتا ہوں ۔ میری کمزوری یہ ہے کہ میں فارغ بیٹھ نہیں سکتا ہوں اور کچھ نہ کچھ کرتا رہتا ہوں ۔ میں نے بہت سے کام کیے ہیں اور ہر کام خود کرنے کی کوشش کرتا تھا ۔
 اگر لوگوں کو شکایت ہوتی ہے کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہوتا ہے ۔ حالانکہ وہ فارغ بیٹھے باتیں یا کسی اور صورت میں وقت ضائع کرتے رہتے ہیں ۔ جب کہ میرا اور میری بیگم کا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ ہم وقت کو پوری طرح استعمال نہیں کرتے ہیں ۔ مگر میں زندگی سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ضرور کوشش کرتا ہوں اور میں کبھی بھی موت سے نہیں ڈرا ۔ دکھ ، تکلیف اور بیماریوں کو زندگی کا حصہ سمجھتا رہا ہوں ۔ لہذا میں نے ریٹائر مینٹ کے بعد میں نے لکھنے کا کام شروع کیا جس کا نتیجہ آپ کے سامنے ہے ۔
    لطف سے باغ جہاں صورت شبنم رہے
    ایک ہی شب رہے لیکن گلوں میں ہم رہے
    شیرین
(2) محرومیاں
کل میں ایک مضمون میں اپنی زندگی کی کچھ باتیں شیر کی تھیں ۔ اس سے لوگ بہت متاثر ہوئے اور بہت سے لوگوں نے مجھ سے اکاونٹ نمبر مانگا اور مالی مدد کی پیش کش کی ۔ جس پر میں نے معذرت کرلی کے مجھے مالی معاونت کی ضرورت نہیں ۔ 
اگر ہم حقیقت نگاری سے دیکھیں تو میرے مسائل کوئی انوکھے نہیں ہیں اور زندگی میں ہر شخص ان سے گزرتا ہے ۔ حقیقت میں اپنی زندگی سے ہمیشہ مطمعن رہا ہوں ۔ کیوں کہ میں نے یہ کبھی نہیں دیکھا کہ میرے پاس کیا نہیں ، بلکہ میں یہ دیکھتا ہوں کہ میرے پاس کیا ہے ۔ لہذا اگرچہ کچھ پریشانیاں ضرور آتی رہیں ہیں مگر میں کبھی محرومی کا شکوہ کرنے کے بجائے بجائے جو کچھ میرے پاس تھا اسی سے کام لیا ہے اس لیے میری تعمیری سوچ کے بجائے ایک کامیاب زندگی رہی ہے ۔ مثلاً میں ہر کام کرنے کی کوشش کرتا میرے گھر کی کوئی چیز بھی خراب ہوجاتی تھی اسے خود درست (ماسوائے الیکٹرونک کی اشیاء کے علاوہ) خود کرتا تھا ۔ میں یہ سوچتا تھا کہ جو کرتے ہیں وہ آسمان سے تھوڑی اترے ہیں ۔ پھر میں میں خود کیوں نہیں کرسکتا ہوں ۔ میں نے جو کام کیے ان میں سنگ تراشی ، مصوری ، کارمیکنگ ، لکڑیوں کی المایاں ، رنگ و روغن ، الیکٹرک وائرنگ اور وائنڈنگ وغیرہ ۔ غرض یہ لسٹ بہت طویل ہے ۔ اس طرح آفس میں بھی ایک ایسی زندگی گزاری جو دوسروں کے لیے ایک مثال رہی ہے ۔ لیکن میں پیسے کہ پیچھے نہیں بھاگا ۔ خاص کر ناجائز پیسوں سے دور رہا ۔ مگر اس کا نقصان یہ ہوا کہ جائز بہت سا پیسہ میرے تقریباً چھ سے زائد انکریمنت لگ نہیں سکے ۔ اب بھی کوشش کروں تو بہت کچھ حاصل کرسکتا ہوں ۔ اس طرح میری ازواجی زندگی بھی لوگوں لوگوں کے لیے ایک مثال رہی ہے جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں ۔ میں اگر اپنی محرومیوں کو روتا تو میں کبھی اس مقام پر نہیں پہنچتا ۔ ہر چیز کی کوئی قیمت ہوتی ہے اس اس کی ادائیگی کے بغیر یہ چیز آپ حاصل نہیں کرسکتے ہیں اور میں نے قسمت ادا کی ہے ۔ بیماریاں ، موت وغیرہ سب زندگی کا حصہ ہیں ان سے گھبرا کر میں اپنا مقصد نہیں چھوڑ سکتا ہوں ۔ اگر میری ایک بیٹی ہے تو بہت سے لوگوں کی اولاد ہی نہیں ہوتی ہے ۔ ایک اچھا جواری جہاں بہت سے بازیاں جیتتا ہے تو کچھ بازیاں ہارتا بھی ہے ۔ دیکھا جائے تو میں اگر کچھ ہارا ہوں تو میں نے بہت سی بازیاں جیتی بھی ہیں اور میرے جیتی بازیاں بہت سے لوگوں کے لیے قابل رشک اور مثال ہیں ۔ لہذا ان کے آگے میری محرومیاں کوئی حثیت نہیں رکھتی ہیں ۔     

عبدالمعین انصاری

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں