54

بے روزگاری

بیسویں صدی کی تیسری دہائی تک معاشین کا خیال تھا کہ عام بے روزگاری Unemplyment ناممکنات میں سے ہے ۔ کلاسکی معاشین (جن میں ریکاڈو Reecado ، مارشل Marshal ، جان اسٹوارٹ مل John Stewart Mil اور ان کے پیشرو شامل ہیں) اس مسئلہ کو نظر انداز کرتے رہے کہ ملک میں روزگارکی سطح کا تعین کس طرح ہوتا ہے ۔ اگرچہ انہوں نے چند جگہوں پر بے روز گاری Unemplymentکے امکانات کو تسلیم کیا ہے ، مگر اس خوش فہمی کے ساتھ کہ عام کسادبازاری اور نتیجے کے طور پر عام بے روزگاری Unemplyment ایک ناممکن واقعہ ہے ۔ 
۱۹۳۱؁ء میں لاڑد جے ایم کینزKeynes  J Mکی کتاب ’روزگار اور سود اور زر کا عام نظریہ‘ A Greral Theory of Empleyment شائع ہوئی ۔ جس نے اس میں قدیم معاشین کی خوش فہمی کی تردید کی اور یہ ثابت کیا کہ عام بے روزگاریUnemplyment  منطقی اعتبار سے ناممکن نہیں ہے بلکہ قطعی ممکن وقوع ہے ۔ کینزKeynes کے خیال میں مکمل بے روزگارکا وجود ایک حد فاضل ہے ، جس طرح مکمل مسابقت ایک حد فاضل ہے ۔ جس کے اندر مختلف درجوں کی اجارداری اور غیر ممکن مسابقت کا وجود ہوتا ہے ۔ اس طرح مکمل روزگار کا بھی ایک حد فاضل ہے ۔ جس میں توازن کی مختلف حالتوں میں مختلف درجے کی بے روزگاریUnemplyment  کا وجود ہوتا ہے ۔ 
اس سلسلے میں اہم قدیم معاشین نے جو نتیجہ اخذ کیا وہ ‘سے Say‘ کا بازاروں کا قانون Say Law of Markets ہے ۔ یہی وہ نام نہاد قانون ہے جس نے اس خیال کو پختگی بخشی کہ عام کساد بازاری اور نتیجے کے طور پر عام بے روزگاری Unemplyment ایک ناممکن وقوعہ ہے ۔ جے بی سےJ B Say ایک فرانسیسی مفکر تھا ۔ اس نے اپنی کتاب Traite Deconmie Politique میں تاجروں اور کاروباری افرادسے اپنے اختلاف خیال کی وجوہات بیان کیں ، جو یہ سمجھتے تھے کہ عام کساد بازاری اور بے روزگاریUnemplyment  ممکنہ صورتیں ہیں ۔ اس کے قانون کا لب لباب یہ ہے کہ ’کہ رسد خود اپنی طلب کی تخلیق کرتی ہے‘ ۔ اگرچہ وہ یہ تسلیم کرتا ہے کہ کسی ایک صنعت میں آجر کے غلط فیصلے کے نتیجے میں وقتی طور پر رسد و طلب کی مقدار زیادہ ہو سکتی ہے ، مگر اس کے خیال میں عام کساد بازاری ناممکن ہے ۔ 
سے Sayکے قانون کوبیشتر انگریز معاشین نے قبول کیا اور اپنی تحریروں میں اسے بنیاد کے طور پر استعمال کیا ۔ چنانچہ جیمزاسٹوارٹ ملJamis Stewart Mil لکھتا ہے کہ ’پیدا وار اور صرف بقائے باہمی کی نسبت ہے‘ ۔ وہ مزید لکھتا ہے کہ ’پیداوار ہی طلب کی اصل و جہ ہے ۔ پیداوار رسد کو طلب کے بغیر مہیا نہیں کرتی ہے ، بلکہ دونوں کو بیک وقت مساوی مقدار میں مہیا کرتی ہے‘ ۔ جیمزاسٹوارٹ مل Jamis Stewart Mil کا دعویٰ ہے کہ ’سالانہ پیداوار خواہ کچھ بھی ہو وہ سالانہ طلب سے تجاور کبھی نہیں ہو سکتی ہے ۔ حتیٰ کہ ریکاڈو Reecado نے مالتھس Malthes سے خط وکتابت کے دوران یہ تسلیم کیا کہ ’ایک ملک کی حد تک رسدکبھی طلب سے تجاور نہیں ہوسکتی ہے‘ ۔ 
جان اسٹوراٹ مل John Stewart Mil جو جیمزاسٹوارٹ ملJamis Stewart Mil کا لڑکا تھا نے اس خیال کی تردید کی اس کا کہنا ہے کہ ’کیا یہ ممکن ہے کہ وسائل ادائیگی کی وجہ سے یک وقت تمام اشیاء کی پیدا وار کم رہ جائے ؟ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں وہ غالباً نہیں جانتے کہ اشیاء کی ادائیگی کا وسیلہ کیا ہے ؟ یہ وسیلہ بذات خود اشیاء ہیں ۔ ہر فرد کے پاس دوسرے افراد کی پیداوار کو خریدنے کا جو ذریعہ ہوتاہے وہ اشیاء ہی تو ہیں جو اس کے قبضے میں ہوتی ہیں ۔ تمام فرد بذات خود خریدار ہیں ۔ اگر ہم اچانک ملک کی پیدا وار کو دوگنا کرسکیں تو ہم بازار میں اشیاء کی قیمت دوگنی کردیں گے اور اسی لمحے قوت خرید دوگنی ہوجائے گی ۔ کیوں کہ ہر فرد دوگنی رسد اور طلب کا حامل ہوگا ، ہر فرد دوگنی خریداری کرسکے گا ۔ کیوں کہ ہر فرد کے پاس تبادلہ میں دینے کو (اشیاء کی مقدار) دوگنی مقدار ہو گی ۔۔۔ یہ سوچنا لغو ہے کہ تمام اشیاء کی قدر میں تخفیف ہوجائے گی اور نتیجے کے طور ہر آجر کو کم معاوضہ ملے گا‘۔ 
بعد کی تحریروں میں اس سے زیادہ صریحی دعویٰ تو نہیںکئے گئے ، مگریہ خیال کہ طلب کل رسد سے کم ہو سکتی ہے اور عام کسادبازاری کا سبب بن سکتی ہے بعد میں بھی لغو تصور کیا جاتا رہا ۔
سے Sayکے قانون سے ابتدائی دور میں بھی اس اختلاف کا اظہار ہوتا رہا ۔ بقول کینز keyns ’مالتھس Malthes نے ریکارڈ Reecado کو اس پر قائل کرنے کی جان توڑ کوشش کی کہ موثر طلب کم ہو سکتی ہے ، مگر اسے کامیابی نہیں ہوئی ۔ کیوں کہ مالتھس نہ صرف وضاحت کے ساتھ سمجھانے میں ناکام رہا کہ موثر طلب کس طرح کم ہوسکتی ہے ، بلکہ وہ ایک متبادل تصور پیش کرنے میںناکام رہا اور یوں ریکاڈو Reecadoکو فتح حاصل ہو گئی ۔ اس طرح ریکاڈو Reecado کا نظریہ نہ صرف شہریوں ، سیاست دانوں اور علماٗنے قبول کرلیا ۔ بلکہ اس سلسلے میں یہ بحث ختم ہوگئی اور دوسرا نقطہ نظر (مالتھس Malthesکا) مکمل طور پر فنا ہوگیا ۔۔ اور یوں موثر طلب کا معمہ جس سے مارشل Marshal نے سخت نبر آزمائی کی تھی معاشی ادب سے روپوش ہوگیا ۔
جان اسٹوڑاٹ مل John Stewart Milاور اس جیسے دوسرے معاشین کے نزدیک کسی چیز (الف کی) طلب وہی چیز ہے جو دوسری اشیاء (ب) اور (ج) کی رسد ۔ لہذا تمام اشیاء کی کل طلب تمام کل رسد کے برابر ہیں ۔ چنانچہ فاضل پیداوار کا امکان خار ج از بحث ہے ۔ اگر چہ اس نے یہ اعتراف کیا کہ عارضی طور پر ان کی طلب رسد تجاوز ہو سکتی ہے ، لیکن مگر ان سب کی مشترکہ رسد ان کی مشترکہ طلب سے تجاوز ہونا ایک منطقی تضاد ہے ۔ حتیٰ کہ کسی انفرادی شے کی فاضل پیداوار کلاسکی ماہرین کے خیال میں محض اس لیے واقع ہو سکتی ہے کہ اس کی قیمت بڑھ گئی ہو ۔ یعنی اس شے کی متوازن قیمت سے اونچی قیمت پر اس کی رسد طلب سے تجاوز ہونے کا امکان ہے ۔ لیکن جیسے ہی اس شے کی قیمت متوازن ہو فاضل رسد کا وجود ختم ہو جاتا ہے ۔ اس تجزیہ سے جو نتیجہ اخذ کیا وہ یہ ہے کہ اگر کسی شے کی قیمت دوسری اشیاء کی نسبت زیادہ ہو اور اس کی رسد فاضل مقدار میں ہو تو اس کا حل یہ ہے کہ متعلقہ میں مصارف پیداوار کم کرنے کی کوشش کی جائے ۔ 
ان حالات میں کلاسیکی معاشین نے یہ حل تجویز کیا کہ ایسی صنعت میں جو کسادبازاری کا شکار ہو مزدوروں کی اجرتیںگٹھادی جائیں ۔ اس طرح متعلقہ شے کی قیمت کم ہوجائے گی ۔ کیوں کہ جزوی تجزیہ میں فرض کیا جاتا ہے کہ کسادبازاری کا شکارہونے والی صنعت معیشت کا ایک معمولی جز ہے ۔ اس لیے اجرتوں میں تخفیف سے سابقہ حالت برقرار رہتی ہے اور اور طلب میں اضافہ ہو جانے سے رسد کے ہم آہنگ ہوجاتی ہے ۔
یہ تجزیہ اس حد تک تو صحیح ہے کہ واحد صنعت کی کساد بازاری کا مسئلہ ہو ، لیکن کلاسکی معاشین نے تمام معیشت پر اس کا اطلاق کیا اور ان کا کہنا ہے کہ بے روزگاری اور فاضل پیداوار کے مسئلہ کا حل اجرتوں میں عام تخفیف ہے ۔ لیکن عام کساد بازاری کے مسائل کا مطالعہ جزوی توازن کے تجزیئے کی مدد سے کرنا موزوں نہیں ہے اور اجرتوں میں عام تخفیف عملی طور پر ایک غیر صحت مندانہ اقدام ہے ۔ عام بے روزگاریUnemplyment  کے دور میں اجرتوں میں عام تخفیف طلب کو متاشر کئے بغیر نہیں رہ سکتی ہے ۔ کیوں کہ طلب جزوی طور پر اجرتوں کو خرچ کرنے پر مبنی ہوتی ہے ۔ لہذا اجرتوں میں کمی سے عام بیروزگاریUnemplyment  ہوجائے گی ۔ 
عام بے روزگاریUnemplyment  میں اجرتوں میں عام تخفیف کرکے دور نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ اجرتوں میں تخفیف کرنا خود ایک مسئلہ ہے ، کیوںکہ زر کے متعلق یہ خیال پایاجاتا ہے کہ زر اشیاء کی نسبت ایک معین قوت رکھتا ہے اور عام خیال یہ ہے کہ روپیہ روپیہ ہے ۔ گویا زر کی قوت مستحکم ہے ۔ زر کے اس غلط تصور کی بناء پر اگر عام بے روزگاریUnemplyment کی وجہ واقعی یہ ہے کہ اجرتیں زیادہ ہیں تو زیاہ بہتر ہوگا کہ ان کی اجرتوں میں حقیقی تخفیف کی جائے ۔ بقول کینز keyns کہ ’’مزدور اجرتوں میں تخفیف ہونے پر لڑ سکتے ہیں لیکن ان کے لئے یہ ناممکن ہے کہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہونے سے مزدوری سے انکار کردیں‘‘۔ یہ ضرور ہوتا ہے کہ مصارف زندگی کے اضافہ ہونے سے مزدوروں میں بے چینی پھیل جاتی ہے ۔ لیکن زر کی تخفیف ہونے سے جو بے چینی پھیلے گی اس کے اثرات اجرتوں میں تخفیف ہونے سے کم سنگین ہوں گے ۔ کیوںکہ مزدور یہ سمجھتے ہیں کہ اگرچہ قیمتوں میں اضافہ ہونے سے ان کی اجرتوں میں کمی ہورہی ہے لیکن اس کی تخفیف کا شکار تمام لوگ ہورہے ہیں ۔ اس لئے وہ زیادہ فکرمند نہیں ہوتے ہیں ۔
ایک معیشت میں روزگار کا انحصار صرف اور سرمایاکاری پر خرچ کی جانے والی مقدار پر خرچ کی جانے والی مقدار زر پر ہوتا ہے ۔ ان صنعتوں کے آجروں کو اشیاء کے عوض زر حاصل ہوگا ، تبھی وہ محنت کو طلب کریں گے ۔
کینتھ کے کیوری ہارا Kennnth k Kurihara اپنی کتاب ’کینز کی بعد کی اقتصادیات‘ Past Keynes Economics کے ایک مضمون Distribution, Employment and Seeular Growth تقسیم دولت ، روزگار اور صنعتی طورپر بالغ ملکوں کی ترقی ‘میں لکھتا ہے کہ اس بحث سے بہت قریب صنعتی طور پر بالغ ملکوں کی ترقی سے جو مسئلہ ہے ۔ وہ قدیم معاشین اور کینز Keynes کے مابین تقسیم آمدنی اور اجتماع سرمایا Capital Accumutation کے باہمی تعلق کا متنازع فیہ مسئلہ ہے ۔ یہ مسئلہ کینزKeynes کے نظریہ گیر سودی معاشرے کے گرد گردش کرتا نظر آئے گا ۔ مصنف کی رائے میں پروفیسر ہن سن Frof Hansen کے پیش کردہ نظریہ ’اجرت کثیر ، منافع قلیل‘ کی بہ نسبت یہ نظریہ زیادہ بنیادی ہے ۔ ہم آگے چل کے دیکھیں گے کہ یہ دونوں نظریات ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ ایک دوسرے کے امدادی ہیں‘۔  
ان بیانات کی روشنی میں یہ واضح ہوتا ہے کہ جہاں تک اقتصادی ترقی کی حد سے آگے مدو جزر کو روکنے کی خاطر صنعتی طور پر بالغ ممالک کی ترقی کا سوال ہے پروفیسر ہن سن اور کینتھ کے کیوی ہارا دونوں ہی ’اجرت کثیر منافع قلیل‘ کی معیشت پرمتفق نظر آتے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک کی حکومتیں زیادہ اجرتوں کی خاطر ٹریڈ یونینوں کا سرمایاکاروں سے اجتماعی طور پر اجرتیں طے کرانے کے حق تسلیم کرا کے اجرتوں کو اونچا رکھنے میں مدد کرتی ہیں اور ساتھ ساتھ وہ کم اجرت اور معاشرتی تحفظ کے قوانین اخراجات صرف کو اونچی سطح پر رکھنے کی خاطر پاس کرتی ہیں ۔ وہ کساد بازاری اور بے روزگاریUnemplyment  کے متوقع خطرات کے پیش نظر تعمیرات عامہ کے پروگرام تیاررکھتی ہیں تاکہ قوم کے اخراجات صرف میں کمی نہ ہونے پائے ۔

تہذیب و تدوین
(عبدالمعین انصاری)

اس تحریر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں